Main Icon

باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 534

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ اَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَاَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ اَنْزَلَهَا بِاللهِ فَيُوشِكُ اللهُ لَهُ بِرِزْقٍ عَاجِلٍ اَوْ آجِلٍ.

عن ابن مسعودرضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من اصابته فاقة فانزلها بالناس لم تسد فاقته ومن انزلها بالله فيوشك الله له برزق عاجل او آجل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا اِبن مسعو درَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جو شخص فاقہ میں مبتلا ہو پھر اسے لوگوں کے سامنے پیش کرے تو اس کا فاقہ دور نہیں ہو گا اور جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے حضور عرض کرے تو قریب ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جلد یا بدیر رِزق عطا فرمائے۔‘‘

شرح حدیث

افسوس ہے تم پر !عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’فاقہ کامعنیٰ ہے حاجت یعنی جسے کوئی حاجت پیش آئے اور وہ لوگوں کے سامنے اِس لیے جھکتا ہے کہ لوگ اس کی یہ حاجت پوری کریں تو اس کی یہ حاجت پوری نہ ہوگی بلکہ یہ چیز اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کی طرف لے جائے گی اور وہ حاجت ہمیشہ رہے گی کیونکہ اس نے اپنی حاجت اپنے جیسی عاجز مخلوق کے سامنے پیش کی اور تمام مخلوق کی حاجات کو پورا کرنے والی ذات کو چھوڑ دیا حالانکہ تمام مخلوقات کی حاجات کو پورا کرنے سے اُس کی ملکیت میں ذرہ بھر کمی نہیں آتی۔ سَیِّدُنَا وَہَب بن منبہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے بادشاہوں کے پاس جانے والے ایک شخص سے کہا :افسوس ہے تم پر! تم ایسے شخص کے پاس جاتے ہو جو تمہارے لیے دروازے بند کر لیتا ہے اور اپنے غنا کو تم سے چھپاتا ہے جبکہ اُس کوچھوڑ دیتے ہو جو تمہارے لیے آدھی رات اور نصف النہار میں بھی اپنا دروازہ کھلا رکھتا ہے اور تمہارے لیے اپنا غَنا ظاہر کرتا ہے۔ اِنسان اپنا نفع حاصل کرنے اوراپنی ذات سے نقصان دُور کرنے سے عاجز ہے اور اِس میں سوائےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات کے اُس کا کوئی مددگار نہیں۔” جواللہ عَزَّ وَجَلَّکےحضور عرض کرے تو قریب ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جلد یا بدیر رزق عطا فرما ئے۔“یعنی جس نے اپنا فاقہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے حضور پیش کیا اور اس کو دُور کرنے کے لیےاللہ عَزَّوَجَلَّسے مدد طلب کی تو عنقریباللہ عَزَّ وَجَلَّاسے رزق عطا فرمائے گا یا بدیر اس کی مصیبت کو دور فرما دے گا۔‘‘بھیک مانگنے والا ہمیشہ فقیر ہی رہے گا:مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(جو) اپنی غریبی کی شکایت لوگوں سے کرتا پھرے اور بے صبری ظاہر کرے اور لوگوں کو اپنا حاجت روا جان کر اُن سے مانگنا شروع کردے تو اُس کا انجام یہ ہوگا کہ اُسے مانگنے کی عادت پڑ جائے گی جس میں برکت نہ ہوگی اور ہمیشہ فقیر ہی رہے گا۔(اور جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے حضور عرض کرے تو قریب ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جلد یا بدیر رزق عطا فرما ئےگا۔)یعنی جو اپنا فاقہ لوگوں سے چھپائے،ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعائیں مانگے اور حلال پیشہ میں کوشش کرے تو ربّ تعالیٰ اسے مانگنے کی ضرورت ڈالے گا ہی نہیں،اگر اس کے نصیب میں دولت مندی نہیں ہے تو اسے ایمان پر موت نصیب کرکے جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا اور اگر دولت مندی نصیب میں ہے تو وہ جلدی نہ سہی دیر سے ہی عطا فرمادے گا کہ اس کی کمائی میں برکت دے گا۔ہماری اس تقریر سے یہ اعتراض اٹھ گیا کہ موت سے غنا کیسے حاصل ہوتی ہے؟ کیونکہ پہلے غنا سے مراد مالداری نہیں بلکہ لوگوں سے بےنیازی ہے۔ خیال رہے کہ آدمی مرکر لوگوں کے مال سے بے نیاز ہوجاتا ہے اگرچہ اُن کے ایصال ثواب کا منتظر رہتا ہے،یہاں مالی غنا مراد ہے۔‘‘مانگنے والوں کے اَحوال:حضرت سیِّدُنا بِشرحافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِیفرماتے ہیں:فقرا کی تین قسمیں ہیں:(1)وہ فقیر جو سوال نہیں کرتا اور اگراسے دیا جائے تو لیتا نہیں،یہرُوْحَانِیِّیْنفَرشتوں کے ساتھاَعلیٰ عِلِیِّیْنمیں ہوگا۔ (2) وہ فقیر جو کسی سے مانگتا نہیں لیکن اگر کوئی دے تو لے لیتا ہے،یہ جنَّتُ الْفِرْدَوس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے مُقَرَّب بندوں کے ساتھ ہوگا۔(3) وہ فقیر جو صِرف ضرورت کے وقت سوال کرتا ہے ،یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن کے نامۂ اعمال اُن کے سیدھے ہاتھ میں دیئےجائیں گے۔ایک عابد کا امتحان:ایک عابِد کسی پہاڑ میں رہتا تھا،وہاں اَنار کا درخت تھا،ہر روز تین انار اس میں آتے، انہیں کھاتا اور عبادت کرتا ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکوامتِحان منظور ہوا، ایک روز انار نہ لگے، صبر کیا، دو روز اَوریِہی ماجرا گُزرا، تیسرے دن (بھوک سے)گھبرا کر پہاڑ سے نیچے اُترا، اُس کے نیچے ایک نصرانی(یعنی عیسائی) رہا کرتا تھا، اُس سے سُوال کیا،نَصرانی نے چار روٹیاں دیں،اس (نصرانی) کا کُتّابھونکنے لگا، عابِد نے ایک روٹی ڈال دی،کتے نے کھا کر پھر پیچھا کیا ،دوسری روٹی ڈال دی،کتّے نے وہ بھی کھا لی مگر پیچھا نہ چھوڑا، جب چاروں کھا لیں اور بھونکنے سے باز نہ آیاتو عابِد نے کہا:’’اے حریصِ ناحق کَوش(یعنی ناحق کوشِش کرنے والے لالچی)!تجھے شرم نہیں آتی کہ میں تیرے گھر سے بھیک مانگ کر روٹیا ں لایا اور تُو نے مجھ سے سب چھین لیں،اب بھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔‘‘کتے نے کہا:’’میں تجھ سے زیادہ بے شَرم نہیں کہ جس مالِک نے برسوں بے محنت و مشَقَّت ایسا نفیس رِزق تجھے کھلایا (ذرا سا امتحان لینے اور)تین روز نہ دینے پر (بھوک سے)اتنا گھبرا گیا کہ اس کے دشمن (نصرانی)کے گھر بھیک مانگنے آیا۔مدنی گلدستہ’’ جَنَّت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جسے کوئی حاجت پیش آئے اور وہ بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حاجت کیلئے لوگوں کے سامنے جھکےتو اس کی حاجت پوری نہ ہوگی بلکہ یہ چیز اسے
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کی طرف لے جائے گی جودنیا وآخرت کی تباہی وبربادی ہے۔
(2) انسان اپنا نفع حاصل کرنے اوراپنی ذات سے نقصان دور کرنے سے عاجز ہے اور اس میں سوائے
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات کے اس کا کوئی حقیقی اور ذاتی مددگار نہیں۔
(3) جس نے اپنا فاقہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حضور پیش کیا اور اس کو دور کرنے کے لیےاللہ عَزَّ وَجَلَّسے مدد طلب کی تو عنقریباللہ عَزَّ وَجَلَّاسے رِزق عطا فرمائے گا یا بدیر اس کی مصیبت کو دور فرما دے گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّتمام مسلمانو ں کو فاقہ سے محفوظ فرماکر اپنا پاکیزہ رزق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 534