Main Icon

باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 523

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:قَدْ اَفْلَحَ مَنْ اَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًاوَقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاهُ.

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما:ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:قد افلح من اسلم ورزق كفافاوقنعه الله بما آتاه.

حدیث ترجمہ

حضر ت عبداللہبن عَمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’وہ شخص کامیاب ہوا جو اِسلام لے آیا،اور اسے بقدرِ کفایت رِزق دیا گیا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّنے جو کچھ عطا فرمایااُس پرقناعت کی توفیق عطا فرمائی۔‘‘

شرح حدیث

كفايت كر نے والا رِزق کیا ہے ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیمذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں:’’وہ کامیاب ہو گیا جو اِسلام لایا،آگ سے نجات اور جنت میں داخلے کی وجہ سےجیساکہاللہ عَزَّوَجَلَّنےاِرشادفرمایا: (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ-) ∞(پ۴، آل عمران:۱۸۵)( ترجمۂ کنزالایمان:جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مُراد کو پہنچا۔)”اِسے بقدرِ کفایت رِزق دیا گیا۔“یعنی وہ رِزق جو قناعت کے ساتھ سوال کرنے سے روک دے اور حاجت سے زائد بھی نہ ہو۔حضرت سَیِّدُنَاسعید بن عبد العزیزرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے کسی نے پوچھا :’’کفایت کرنے والا رزق کیاہے؟‘‘فرمایا:’’ایک دن کھانا اور ایک دن بھوکا رہنا۔‘‘ علامہ قرطبیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’کفایت کرنے والا رزق وہ ہے جو حاجت اور ضروریات کو پورا کردےاور خوش حال لوگوں سے نہ ملائے ۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّپرتوکُّل کرنے کااَجر:حضرت سَیِّدُنَا وہب بن منبہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کاایک عابد بقدر کفایت رزقِ حلال کماتا اور باقی وقتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں گزارتاتھا۔ایک مرتبہ مسلسل کئی روز تک اسے کہیں بھی مزدوری نہ ملی اورفاقوں تک نوبت پہنچ گئی، کئی روز تک گھر میں چولہا نہ جلا۔ وہ خود بھی بھوکا رہا اور اہل وعیال بھی بھوک کی مشقت برداشت کرتے رہے ۔جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو اس نے اپنی زوجہ سے کہا : ’’کل میں مزدوری کے لیے جاؤں گا، تم دعا کرنا،اللہ عَزَّ وَجَلَّتمام مخلوق کو رزق دینے والا ہے وہ ہمیں بھی محروم نہ رکھے گا۔‘‘ اس کی زوجہ نے بھی یہی مشورہ دیا کہ تم یقین کامل کے ساتھ رزق کی تلاش میں نکلواللہ عَزَّوَجَلَّضرور کوئی راہ نکالے گا۔صبح سویرے وہ عابداللہ عَزَّ وَجَلَّکا نام لے کر مزدوری کی تلاش میں نکلا اور وہ بھی دوسرے مزدوروں کے ساتھ بیٹھ گیا کہ جس کو ضرورت ہو گی وہ مجھے مزدوری کے لیے لے جائے گا۔ یکے بعد دیگرے تمام مزدوروں کو کوئی نہ کوئی اُجرت پر کام کروانے کے لیے لے گیا لیکن اس کے پاس کوئی نہ آیا۔جب اس عابد نے یہ صورت حال دیکھی تو کہنے لگا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں آج مالکِ حقیقیعَزَّ وَجَلَّکی مزدوری (یعنی عبادت)کروں گا۔چنانچہ وہ دریا پر آیا اور وضو کر کے نوافل پڑھنے لگا اور سارا دن اسی طرح رکوع و سجود میں گزار دیا۔ شام کو جب گھر پہنچا تو اس کی زوجہ نے پوچھا:’’کیا کسی کے ہاں تمہیں مزدوری ملی؟‘‘ اس نے جو اب دیا:’’میں نے آج بہت کریم مالک کے ہاں مزدوری کی ہے، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے اس مزدوری کا بہت اچھا بدلہ دے گا۔‘‘دوسری صبح دوبارہ یہ عابد مزدوروں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔ سب کو کوئی نہ کوئی اپنے ہاں کام پر لے گیا لیکن اس کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔ اس نے دل میں کہا:’’خداعَزَّوَجَلَّکی قسم! آج پھر میں مالک حقیقیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مزدوری کروں گا۔‘‘وہ پھر دریا پر آیا، وضو کیا اور خوب خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کرنے لگا۔ سارا دن اسی طرح رکوع وسجود میں گزر گیا۔ شام کو جب وہ گھر پہنچا اور اس کی زوجہ نے اسے خالی ہاتھ دیکھا تو کہنے لگی:’’آج کیا ہوا ؟‘‘اس نے جواباًکہا: ’’آج پھر میں نے اسی مالک کے ہاں مزدوری کی ہے، وہ بڑا کریم ہے، اس نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ مجھے اس مزدوری کا اچھا بدلہ دے گا،میری اُجرت اس مالک کے پاس جمع ہو رہی ہے۔‘‘ فاقوں کی ماری زوجہ نے جب یہ بات سنی تو شوہر سے جھگڑنے لگی کہ یہاں کئی دن سے فاقے ہو رہے ہیں ،بچوں کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ دیکھی نہیں جاتی۔ ہم میں سے کسی نے بھی کئی دنوں سے ایک لقمہ تک نہیں کھایا اور تم جس مالک کے ہاں مزدوری کر رہے ہو اس نے تمہیں آج بھی تمہاری اُجرت نہیں دی، اس طرح کیسے گزارہ ہو گا؟اس پروہ عابد بہت پریشان ہوا اور اس نے ساری رات کروٹیں بدلتے ہوئے گزار دی۔ بچے بھوک کی وجہ سے بلبلا رہے تھے۔ اس کی اپنی بھی حالت قابلِ رحم تھی، بالآخر صبح وہ پھر بازار گیا اور مزدورں کی صف میں کھڑا ہو گیا ۔آج پھر اس کے علاوہ سب کو مزدوری مل گئی لیکن اسے کوئی بھی اپنے ساتھ نہ لے گیا ۔
وہ عابد بھی اپنے پاک پروردگار
عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے مایوس ہونے والا نہیں تھا۔ دریا پر پہنچااوروضو کرنے کے بعد اپنے دل میں کہا:’’میں آج پھر اپنے مالک حقیقیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مزدوری کروں گا، وہ ضرور مجھے اس کا بدلہ عطا فرمائے گا۔ ‘‘چنانچہ آج پھر اس نے سارا دن عبادت میں گزار دیالیکن شام تک اسے کہیں سے بھی رزق کا بندوبست ہوتا ہوا نظر نہ آیا۔ اب وہ سوچنے لگا کہ میں گھر جا کر بچوں اور بیوی کو کیا جواب دوں گا ؟ پھر اس کے یقین نے اس کی ڈھارَس بندھائی کہ جس پاک پروردگارعَزَّ وَجَلَّکی تو عبادت کرتا ہے وہ تجھے مایوس نہ کرےگا۔ اس کی ذات پر کامل یقین رکھ ،وہ ضرور رزق عطا فرمائے گا۔ بالآخر وہ گھر کی طرف روانہ ہوا۔ جب دروازے کے قریب پہنچا تو اسے گھر کے اندر سے کھانا پکنے کی خوشبو آئی اور ایسا محسوس ہواجیسے اَندر بہت خوشی کا سماں ہے، سارے گھر والے خوشی سے باتیں کر رہے ہیں ۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں سچ مچ اپنے گھر میں خوشی کا سماں محسوس کر رہا ہوں اور میرے گھر سے کھانے کی خوشبو آرہی ہے۔بہر حال اس نے دروازہ کھٹکھٹایاتو اس کی زوجہ نے دروازہ کھولا۔وہ بہت خوش تھی،اپنے شوہر کو دیکھتے ہی کہنے لگی:’’جس مالک کے ہاں تم نے مزدوری کی ہے، وہ تو واقعی بہت کریم ہے،آج تمہارے جانے کے بعداس کا قاصد آیا تھا،اس نے ہمیں بہت سارے درہم ودینار اورعمدہ کپڑے دیئے ،آٹااور گوشت وغیرہ بھی کافی مقدار میں دیا۔‘‘اور کہا:’’جب تمہارا شوہر آجائے تواسے سلام کہنا اور کہنا کہ تیرے مالک نے تیرا عمل قبول کر لیا ہے،اور وہ تیرے اس عمل سے راضی ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو تو نے عمل کیا تھا اگر تو زیادہ عمل کرتا تو تیرا اجر بھی بڑھا دیا جاتا۔‘‘مغفرت کر بروزِ قیامت ……… تو کرم کر عطا کر عنایت
خلد میں قُربِ خیر الوریٰ کی ……… میرے مولیٰ تو خیرات دے دے
مدنی گلدستہ’’زُہد ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) مسلمان ہونا ہی انسان کی حقیقی کامیابی ہے بلکہ دُنیوی واُخروی تمام کامیابیوں کا دارومدار بھی اسی پر ہے اورجنت میں داخلہ و جہنم سے نجات بھی اسی کے ذریعے ممکن ہے ۔
(2) وہ شخص کامیاب ہوا جسے
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بقدرِ ضرورت رِزق پر صبر کی توفیق عطا فرما ئی۔
(3) بندے کے لیے کفایت کرنے والا رِزق وہ ہے جو قناعت کے ساتھ سوال کرنے سے روک دے اور حاجت سے زائد بھی نہ ہو۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے دیے گئے رِزق پر صبر وشکرکی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 523