- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- حدیث نمبر 523
باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 523
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:قَدْ اَفْلَحَ مَنْ اَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًاوَقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاهُ.
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما:ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:قد افلح من اسلم ورزق كفافاوقنعه الله بما آتاه.
حدیث ترجمہ
حضر ت عبداللہبن عَمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’وہ شخص کامیاب ہوا جو اِسلام لے آیا،اور اسے بقدرِ کفایت رِزق دیا گیا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّنے جو کچھ عطا فرمایااُس پرقناعت کی توفیق عطا فرمائی۔‘‘
شرح حدیث
كفايت كر نے والا رِزق کیا ہے ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیمذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں:’’وہ کامیاب ہو گیا جو اِسلام لایا،آگ سے نجات اور جنت میں داخلے کی وجہ سےجیساکہاللہ عَزَّوَجَلَّنےاِرشادفرمایا: (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ-) ∞(پ۴، آل عمران:۱۸۵)( ترجمۂ کنزالایمان:جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مُراد کو پہنچا۔)”اِسے بقدرِ کفایت رِزق دیا گیا۔“یعنی وہ رِزق جو قناعت کے ساتھ سوال کرنے سے روک دے اور حاجت سے زائد بھی نہ ہو۔حضرت سَیِّدُنَاسعید بن عبد العزیزرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے کسی نے پوچھا :’’کفایت کرنے والا رزق کیاہے؟‘‘فرمایا:’’ایک دن کھانا اور ایک دن بھوکا رہنا۔‘‘ علامہ قرطبیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’کفایت کرنے والا رزق وہ ہے جو حاجت اور ضروریات کو پورا کردےاور خوش حال لوگوں سے نہ ملائے ۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّپرتوکُّل کرنے کااَجر:حضرت سَیِّدُنَا وہب بن منبہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کاایک عابد بقدر کفایت رزقِ حلال کماتا اور باقی وقتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں گزارتاتھا۔ایک مرتبہ مسلسل کئی روز تک اسے کہیں بھی مزدوری نہ ملی اورفاقوں تک نوبت پہنچ گئی، کئی روز تک گھر میں چولہا نہ جلا۔ وہ خود بھی بھوکا رہا اور اہل وعیال بھی بھوک کی مشقت برداشت کرتے رہے ۔جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو اس نے اپنی زوجہ سے کہا : ’’کل میں مزدوری کے لیے جاؤں گا، تم دعا کرنا،اللہ عَزَّ وَجَلَّتمام مخلوق کو رزق دینے والا ہے وہ ہمیں بھی محروم نہ رکھے گا۔‘‘ اس کی زوجہ نے بھی یہی مشورہ دیا کہ تم یقین کامل کے ساتھ رزق کی تلاش میں نکلواللہ عَزَّوَجَلَّضرور کوئی راہ نکالے گا۔صبح سویرے وہ عابداللہ عَزَّ وَجَلَّکا نام لے کر مزدوری کی تلاش میں نکلا اور وہ بھی دوسرے مزدوروں کے ساتھ بیٹھ گیا کہ جس کو ضرورت ہو گی وہ مجھے مزدوری کے لیے لے جائے گا۔ یکے بعد دیگرے تمام مزدوروں کو کوئی نہ کوئی اُجرت پر کام کروانے کے لیے لے گیا لیکن اس کے پاس کوئی نہ آیا۔جب اس عابد نے یہ صورت حال دیکھی تو کہنے لگا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں آج مالکِ حقیقیعَزَّ وَجَلَّکی مزدوری (یعنی عبادت)کروں گا۔چنانچہ وہ دریا پر آیا اور وضو کر کے نوافل پڑھنے لگا اور سارا دن اسی طرح رکوع و سجود میں گزار دیا۔ شام کو جب گھر پہنچا تو اس کی زوجہ نے پوچھا:’’کیا کسی کے ہاں تمہیں مزدوری ملی؟‘‘ اس نے جو اب دیا:’’میں نے آج بہت کریم مالک کے ہاں مزدوری کی ہے، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے اس مزدوری کا بہت اچھا بدلہ دے گا۔‘‘دوسری صبح دوبارہ یہ عابد مزدوروں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔ سب کو کوئی نہ کوئی اپنے ہاں کام پر لے گیا لیکن اس کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔ اس نے دل میں کہا:’’خداعَزَّوَجَلَّکی قسم! آج پھر میں مالک حقیقیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مزدوری کروں گا۔‘‘وہ پھر دریا پر آیا، وضو کیا اور خوب خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کرنے لگا۔ سارا دن اسی طرح رکوع وسجود میں گزر گیا۔ شام کو جب وہ گھر پہنچا اور اس کی زوجہ نے اسے خالی ہاتھ دیکھا تو کہنے لگی:’’آج کیا ہوا ؟‘‘اس نے جواباًکہا: ’’آج پھر میں نے اسی مالک کے ہاں مزدوری کی ہے، وہ بڑا کریم ہے، اس نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ مجھے اس مزدوری کا اچھا بدلہ دے گا،میری اُجرت اس مالک کے پاس جمع ہو رہی ہے۔‘‘ فاقوں کی ماری زوجہ نے جب یہ بات سنی تو شوہر سے جھگڑنے لگی کہ یہاں کئی دن سے فاقے ہو رہے ہیں ،بچوں کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ دیکھی نہیں جاتی۔ ہم میں سے کسی نے بھی کئی دنوں سے ایک لقمہ تک نہیں کھایا اور تم جس مالک کے ہاں مزدوری کر رہے ہو اس نے تمہیں آج بھی تمہاری اُجرت نہیں دی، اس طرح کیسے گزارہ ہو گا؟اس پروہ عابد بہت پریشان ہوا اور اس نے ساری رات کروٹیں بدلتے ہوئے گزار دی۔ بچے بھوک کی وجہ سے بلبلا رہے تھے۔ اس کی اپنی بھی حالت قابلِ رحم تھی، بالآخر صبح وہ پھر بازار گیا اور مزدورں کی صف میں کھڑا ہو گیا ۔آج پھر اس کے علاوہ سب کو مزدوری مل گئی لیکن اسے کوئی بھی اپنے ساتھ نہ لے گیا ۔
وہ عابد بھی اپنے پاک پروردگارعَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے مایوس ہونے والا نہیں تھا۔ دریا پر پہنچااوروضو کرنے کے بعد اپنے دل میں کہا:’’میں آج پھر اپنے مالک حقیقیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مزدوری کروں گا، وہ ضرور مجھے اس کا بدلہ عطا فرمائے گا۔ ‘‘چنانچہ آج پھر اس نے سارا دن عبادت میں گزار دیالیکن شام تک اسے کہیں سے بھی رزق کا بندوبست ہوتا ہوا نظر نہ آیا۔ اب وہ سوچنے لگا کہ میں گھر جا کر بچوں اور بیوی کو کیا جواب دوں گا ؟ پھر اس کے یقین نے اس کی ڈھارَس بندھائی کہ جس پاک پروردگارعَزَّ وَجَلَّکی تو عبادت کرتا ہے وہ تجھے مایوس نہ کرےگا۔ اس کی ذات پر کامل یقین رکھ ،وہ ضرور رزق عطا فرمائے گا۔ بالآخر وہ گھر کی طرف روانہ ہوا۔ جب دروازے کے قریب پہنچا تو اسے گھر کے اندر سے کھانا پکنے کی خوشبو آئی اور ایسا محسوس ہواجیسے اَندر بہت خوشی کا سماں ہے، سارے گھر والے خوشی سے باتیں کر رہے ہیں ۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں سچ مچ اپنے گھر میں خوشی کا سماں محسوس کر رہا ہوں اور میرے گھر سے کھانے کی خوشبو آرہی ہے۔بہر حال اس نے دروازہ کھٹکھٹایاتو اس کی زوجہ نے دروازہ کھولا۔وہ بہت خوش تھی،اپنے شوہر کو دیکھتے ہی کہنے لگی:’’جس مالک کے ہاں تم نے مزدوری کی ہے، وہ تو واقعی بہت کریم ہے،آج تمہارے جانے کے بعداس کا قاصد آیا تھا،اس نے ہمیں بہت سارے درہم ودینار اورعمدہ کپڑے دیئے ،آٹااور گوشت وغیرہ بھی کافی مقدار میں دیا۔‘‘اور کہا:’’جب تمہارا شوہر آجائے تواسے سلام کہنا اور کہنا کہ تیرے مالک نے تیرا عمل قبول کر لیا ہے،اور وہ تیرے اس عمل سے راضی ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو تو نے عمل کیا تھا اگر تو زیادہ عمل کرتا تو تیرا اجر بھی بڑھا دیا جاتا۔‘‘مغفرت کر بروزِ قیامت ……… تو کرم کر عطا کر عنایت
خلد میں قُربِ خیر الوریٰ کی ……… میرے مولیٰ تو خیرات دے دےمدنی گلدستہ’’زُہد ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) مسلمان ہونا ہی انسان کی حقیقی کامیابی ہے بلکہ دُنیوی واُخروی تمام کامیابیوں کا دارومدار بھی اسی پر ہے اورجنت میں داخلہ و جہنم سے نجات بھی اسی کے ذریعے ممکن ہے ۔
(2) وہ شخص کامیاب ہوا جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے بقدرِ ضرورت رِزق پر صبر کی توفیق عطا فرما ئی۔
(3) بندے کے لیے کفایت کرنے والا رِزق وہ ہے جو قناعت کے ساتھ سوال کرنے سے روک دے اور حاجت سے زائد بھی نہ ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے دیے گئے رِزق پر صبر وشکرکی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 523