- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- حدیث نمبر 529
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَوْفِ بْنِِ مَالِكِ الْاَشْجَعِيِِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم تِسْعَةً اَوْ ثَمَانِيَةً اَوْسَبْعَةً فَقَالَ:اَلَا تُبَايِعُوْنَ رَسُوْلَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم؟ وَكُنَّا حَدِيْثِيْ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ فَقُلْنَا:قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ ثُمَّ قالَ:اَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ؟ فَقُلْنَا:قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ!ثُمَّ قَالَ:اَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ؟قَالَ فَبَسَطْنَا اَ يْدِيَنَا وَقُلْنَا:قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: عَلَى اَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيْعُوْا وَاَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيْفَةً:وَلَا تَسْاَلُوا النَّاسَ شَيْئًا فَلَقَدْ رَاَيْتُ بَعْضَ اُوْلٰئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ اَحَدِهِمْ فَمَا يَسْاَلُ اَحَدًا يُنَاوِلُهُ اِيَّاهُ.
عن ابي عبد الرحمن عوف بن مالك الاشجعي رضي الله عنه قال:كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم تسعة او ثمانية اوسبعة فقال:الا تبايعون رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ وكنا حديثي عهد ببيعة فقلنا:قد بايعناك يا رسول الله ثم قال:الا تبايعون رسول الله؟ فقلنا:قد بايعناك يا رسول الله!ثم قال:الا تبايعون رسول الله؟قال فبسطنا ا يدينا وقلنا:قد بايعناك يا رسول الله فعلام نبايعك؟ قال: على ان تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا والصلوات الخمس وتطيعوا واسر كلمة خفيفة:ولا تسالوا الناس شيئا فلقد رايت بعض اولئك النفر يسقط سوط احدهم فما يسال احدا يناوله اياه.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَاابو عبد الرحمٰن عَوف بن مالِک اشجعیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم سات یا آٹھ یا نو لوگ حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر تھے کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :”کیا تماللہکے رسول کی بیعت نہیں کرتے؟‘‘جبکہ ہمیں بیعت کیے تھوڑا ہی عرصہ ہو ا تھاہم نے عرض کی:’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم تو آپ کے دست اَقدس پر شرفِ بیعت حاصل کر چکے ہیں۔پھر فرمایا :” کیااللہکے رسول کی بیعت نہیں کرتے؟‘‘ ہم نے عرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم تو آپ کے دست اَقدس پر شرفِ بیعت حاصل کر چکے ہیں ۔پھر فرمایا :” کیااللہکے رسول کی بیعت نہیں کرتے؟‘‘پس ہم نے اپنے ہاتھ پھیلائے اور عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم بیعت کر چکے ہیں، اب کس بات پر بیعت کریں۔رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اس بات پر بیعت کرو کہاللہتعالیٰ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گےاور پانچ وقت کی نماز ادا کروگے اور اطاعت کروگے۔‘‘اور ایک مختصر سی بات آہستہ آواز میں فرمائی کہ ’’کسی سے کچھ نہ مانگو گے۔‘‘(حضرت سَیِّدُنَاعَوف بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:)’’میں اُن میں سے بعض افراد کو دیکھتا ہوں کہ اگر اُن کا کَوڑا یا چابُک بھی زمین پر گر جاتا تو اسے اٹھانے کے لیے وہ کسی سے سوال نہ کرتے۔‘‘
شرح حدیث
مخلوق کے اِحسَانات اُٹھانے سے بچو:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’جب کوئی بیعت کرتا ہے اور عہد کو پختہ کرنے کے لیے قسم اٹھاتاہے تو پختگی کے لیے جس کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی ہے اس کے ہاتھ میں اپناہاتھ دیتاہے جیسا کہ بائع و مشتری(یعنی خرید و فروخت کرنے والے ) کرتے ہیں۔ ”ہم تو آپ کے دست اَقدس پر شرفِ بیعت حاصل کر چکے ہیں ۔‘‘ یہ بیعتلَیْلَۃُ الْعُقْبَہوالی بیعت تھی جو کہ ہجرت، جہاد اور اس پر صبر کی بیعت سے پہلے تھی۔ایک بار فرمانے کے بعد پھر ارشادفرمایا:’’ کیااللہ عَزَّوَجَلَّکے رسول کی بیعت نہیں کرتے؟پھر ایک مختصر سی بات آہستہ آواز میں فرمائی۔“اس بات کو آہستہ آواز میں ارشاد فرمایا جبکہ پہلی باتوں کو آہسۃ آواز میں نہ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے کی تمام باتیں وصیت عامہ تھیں جبکہ یہ بات بعض افراد کے ساتھ مختص تھی۔امام قرطبیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:”حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اچھے اخلاق کی تعلیم دی کہ مخلوق کے احسانات اٹھانے سے بچواور حاجات کی سختیوں کو برداشت کرو ،لوگوں سے اِستغناء اختیار کرو اور عزتِ نفس کا خیال کرو۔“حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام کو سوال کرنے سے منع فرمایا تھا لیکن صحابہ کرام نے اس منع کو عموم پر رکھتے ہوئے ہر قسم کے سوال سے خود کو بچایا (اسی لیے جانور پر سواری کی حالت میں ان حضرات کے ہاتھ سے اگر چابک گر جاتا تو کسی کو اٹھانے کے لیے نہ کہتے بلکہ خود اتر کر اپنا چابک اٹھاتے)جبکہ نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا منع فرمانا لوگوں سے مال نہ مانگنے کے بارے میں تھا ۔‘‘سوال نہ کرنے پرعظیم الشان اِنعام:مشہورمحدث حضرت سیدنا حسن بن سفیان نسویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِینے ایک بار اپنے دورطالب علمی کی صعوبتیں اورمشقتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ہم چند دوست حصول ِعلم دِین کیلئے مصر کی طرف روانہ ہوئے اوراس زمانے کے سب سے بڑے محدث کے پاس پہنچ گئے۔وقت گزر تا رہا یہاں تک کہ ہمارا ساتھ لایا ہوا کھانا وغیرہ ختم ہوگیاپھر زائد کپڑے اور چادریں وغیرہ فروخت کرکےکھانا وغیرہ خریدا وہ بھی ختم ہوگیا تو فاقوں کی نوبت آگئی، ہم نے تین دن اور تین راتیں بھوک کی حالت میں گزار دیں،چوتھے دن بھوک کی وجہ سے ہماری حالت بہت خراب تھی ،ہم نے سوچاکہ اب ہم ایسی حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ ہمیں سوال کرنا جائز ہے، کیوں نہ ہم لوگوں سے اپنی حاجت بیان کریں تا کہ ہمیں کچھ کھانے کو مل جائے لیکن ہماری خودداری اور عزت نفس نے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر آمادہ نہ ہونے دیا۔ہم سب قریب المرگ اور مجبور ہو گئے تھے،لوگوں سے کھانا طلب کرنے کیلئے قرعہ اندازی میں میرا نام نکلا لیکن میں عزت نفس کی وجہ سے لوگوں سے مانگنے کے لئے نہ جاسکا اور مسجد کے ایک کونے میں جا کربہت طویل دو رکعت نماز پڑھی پھراللہ عَزَّ وَجَلَّسے اس کے پاکیزہ اور بابرکت ناموں کے وسیلے سے اس پریشانی اور تکلیف سے نجات کی دعا کی، ابھی میں دعا سے فارغ بھی نہ ہوا تھا کہ مسجد میں ایک حسین وجمیل نوجوان داخل ہوا اور بولا:’’ہمارے شہر کے حاکم (ابنِ)طولون نے تمہیں سلام بھیجا ہے اور وہ اس بات پر معذرت خواہ ہے کہ تم ایسی سخت تکلیف میں ہو اوراسے معلوم ہی نہیں کہ تمہاری حالت فاقوں تک پہنچ چکی ہے، ہمارا حاکم اپنی اِس کوتاہی پر معافی کاطلبگار ہے،اس نے یہ کھانا اور سب کیلئے ایک ایک سو دیناربھجوائے ہیں۔‘‘پھر اس نوجوان نے بتایا کہ ہمارے حاکم کے خواب میں ایک شہسوار آیا اور کہنے لگا: ’’فوراً اُٹھو اور حسن بن سفیان اور اُن کے رفقاء کو تلاش کرو، وہ دِین کے طلبا ء راہِ خداعَزَّوَجَلَّکے مسافر تین دن سے بھوکے ہیں اور فلاں مسجد میں قیام فرماہیں۔‘‘حاکم نے پوچھا:’’آپ کون ہیں؟‘‘ اس نے کہا:’’ میں جنت کے فرشتو ں میں سے ایک فرشتہ ہوں اور تمہیں اُن دِین کے طلباء کی حالت سے خبردار کرنے آیا ہوں، فوراً ان کی خدمت کا انتظام کرو۔‘‘اتنا کہنے کے بعد وہ سوار نظروں سے اوجھل ہوگیا اورحاکم کی آنکھ کھل گئی۔حضرت سَیِّدُنَا حسن بن سفیانرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’اس نوجوان سے یہ باتیں سن کر ہم سب بڑے حیران ہوئے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کیا اور اس رحیم وکریم مالک کی عطا پر سربسجود ہوگئے،علمِ دِین کی راہ میں ایسی مشقتوں اور تکالیف پر صبروشکر کرنے کی وجہ سے ہم میں سے ہر ایک اپنے دور کا بہترین محدث اور ماہر فقیہہ بنا اور علمِ دِین کی بر کت سے ہمیں بارگاہ خداوندیعَزَّ وَجَلَّمیں اعلیٰ مقام عطا کیا گیا۔اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ’’سنت ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) حضور اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اچھے اخلاق کی تعلیم دی کہ مخلوق کے اِحسانات اٹھانے سے بچو، حاجات کی سختیوں کو برداشت کرو ،لوگوں سے استغناء اختیار کرو اور اپنی عزت نفس کا خیال کرو۔
(2) رسولِ پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بعض صحابہ سے اس بات پر بیعت لی کہ وہ کسی سےکچھ نہ مانگیں گے ۔
(3) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں سے بعض کسی سے کچھ نہ مانگنے میں اس قدر احتیاط فرماتے کہ اگر ان کا کَوڑا یا چابُک بھی زمین پر گر جاتا تو کسی کو اٹھانے کے لیے نہ کہتے بلکہ خود سواری سے اتر کر اٹھاتے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 529