- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’مال داری مال کی کثرت سے نہیں بلکہ مال داری دل کاغنی ہوناہے۔‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:لَيْسَ الْغِنٰى عَنْ كَثرَةِ الْعَرَضِ وَ لَكِنَّ الْغِنٰى غِنَى النَّفْسِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 522 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضر ت عبداللہبن عَمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’وہ شخص کامیاب ہوا جو اِسلام لے آیا،اور اسے بقدرِ کفایت رِزق دیا گیا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّنے جو کچھ عطا فرمایااُس پرقناعت کی توفیق عطا فرمائی۔‘‘
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:قَدْ اَفْلَحَ مَنْ اَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًاوَقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 523 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاحکیم بن حزامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کچھ مانگا توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمجھے عطا فرمایا۔میں نے پھر مانگا، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر عطا فرمایا۔میں نے پھر مانگا، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر عطا فرمایا۔پھر ارشاد فرمایا :’’اے حکیم!یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے جو اسے بغیر لالچ کے لے گا اسے اس مال میں برکت ہوگی اور جو اسے نفسانی طمع سے لے گا اُسے اِس میں برکت نہ ہوگی اور وہ اُس آدمی کی طرح ہوگا جو کھائے اور سیر نہ ہواوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘سَیِّدُنَاحکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :’’میں نے عرض کی کہیارسولَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اُس ذات کی قسم جس نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد مرتےدَم تک کسی سے کچھ نہیں لوں گا۔ حضرت سَیِّدُنَا ابو بکرصدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سَیِّدُنَاحکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو عطیہ دینے کے لیے بلایا لیکن انہوں نے کچھ لینے سے انکار کر دیا ۔پھر حضرت سَیِّدُنَاعمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں کچھ عطا کرنے کے لیے بلایا لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔حضرت سَیِّدُنَاعمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:’’اے مسلمانوں کی جماعت !میں تمہیں حکیم بن حزامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُپر گواہ بناتا ہوں، میں اُن پر اُن کا وہ حق پیش کرتا ہوں جواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُن کے لیے مال ِ غنیمت میں رکھا، وہ لینے سے انکار کرتے ہیں۔‘‘بہرحال حضرت سَیِّدُنَاحکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنےرسولُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ لیا۔
عَنْ حَكِيمِ بِنْ حِزَامٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ:سَاَلْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَاَعْطَانِي ثُمَّ سَاَلْتُهُ فَاَعْطَانِي ثُمَّ سَاَلْتُهُ فَاَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ: يَا حَكِيمُ! اِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ فَمَنْ اَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُوْرِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ اَخَذَهُ باِشْرافِ نَفسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيْهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَاْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى قَالَ حكيمٌ: فَقُلْتُ:يَا رَسُوْلَ الله! وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا اَرْزَاُ اَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتّٰى اُفَارِقَ الدُّنْيَا فَكَانَ اَبُو بَكْرٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ يَدْعُوْ حَكِيمْاً لِيُعْطِيَهُ الْعَطَاءَ فَيَاْبَى اَنْ يَّقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا ثُمَّ اِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَاَبَى اَنْ يَقْبَلَهُ فقالَ:يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ! اُشْهِدُكُمْ عَلَى حَكيْمٍ اَنّي اَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قَسَمَهُ اللهُ لَهُ في هَذَا الْفَيْءِ فَيَاْبَى اَنْ يَاْخُذَهُ فَلَمْ يَرْزَاْ حَكيمٌ اَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ النَّبِيَّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم حَتَّى تُوُفِّيَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 524 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سیدنا ابوبردہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاابوموسٰی اَشعریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ہم ایک غزوہ میں حضورنبی پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ نکلےاوراس میں ہم میں سے چھ افراد کے لیے ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سوار ہوتے، اس لیے(پیدل چل چل کے) ہمارے پاؤں زخمی ہو گئے،میرا پاؤں بھی زخمی ہو گیا اور ناخن بھی جھڑ گئے، ہم نے اپنے پاؤں پر پٹیاں باندھ رکھی تھیں،اس غزوہ کوذَاتُ الرِّقَاعْ(یعنی پٹیوں والی جنگ)اسی وجہ سے کہا جاتا ہےکہ ہم نے اپنے پاؤں پر پٹیاں باندھی تھیں۔حضرت سَیِّدُنَاابو بُرْدَہْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضرت سَیِّدُنَاابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ حدیث بیان فرمائی، پھر اس کا بیان کرنا نا پسند کیا اور فرمایا:’’اس حدیث کو میں کس مقصد کے لیے بیان کروں گا؟‘‘راوی کہتے ہیں:’’گویا آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے عمل کو ظاہر کرناناپسند جانا۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ:خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فِيْ غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيْرٌ نَعْتَقِبُهُ فَنَقِبَتْ اَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمِيْ وسَقَطَتْ اَظْفَارِيْ فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى اَرْجُلِنَا الْخِرَقَ فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ عَلَى اَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقَ قَالَ اَبُو بُرْدَةَ: فَحَدَّثَ اَبُوْ مُوسَى بِهٰذَا الْحَدِيثِ ثُمَّ كَرِهَ ذٰلِكَ وَقَالَ:مَا كُنْتُ اَصْنَعُ بِاَنْ اَذْكُرَهُ!قَالَ:كاَنَّهُ كَرِهَ اَنْ يَكُوْنَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ اَفْشَاهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 525 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاعَمرو بن تغلِبْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کچھ مال یا قیدی لائے گئے جن کو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تقسیم فرمایا۔بعض صحابہ کرامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْکو عطافرمایا اوربعض کو کچھ نہ دیا،پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ اطلاع ملی کہ جن کو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عطا نہ فرمایا انہوں نے ناپسندیدگی کا اِظہار کیا ہے۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد و ثناء کے بعدارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں ایک آدمی کو دیتا ہوں اور دوسرے کو چھوڑ دیتا ہوں اور جسے میں چھوڑ تا ہوں وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے جس کو میں دیتا ہوں لیکن میں کچھ لوگوں کو اس وجہ سے عطا کرتا ہوں کہ میں ان کے دلوں میں بے قراری اور شدید گھبراہٹ دیکھتا ہوں اور کچھ لوگوں کو میں اُس غَنااور بھلائی کے سپرد کر دیتا ہوں جواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُن کے دلوں میں پیدا فرمائی ان میں سے عَمرو بن تَغْلِبْ(رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ)بھی ہیں۔‘‘حضرت سَیِّدُناعَمروبن تَغْلِبْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس ارشاد کے بدلے اپنے لیے سُرخ اُونٹوں کو بھی پسند نہیں کرتا۔‘‘
عَنْ عَمْرو بْن تَغْلِبَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ:اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم اُتِيَ بِمالٍ اَوْ سَبْيٍ فَقَسَّمَهُ فَاَعْطٰى رِجَالًا وَتَرَكَ رِجَالًا فَبَلَغَهُ اَنَّ الَّذِينَ تَرَكَ عَتَبُوْا فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ اَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:اَمَّا بعْدُ فَوَاللهِ! اِنِّي لَاُعْطِيَ الرَّجُلَ وَاَدَعُ الرَّجُلَ وَالَّذِي اَدَعُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنَ الَّذِي اُعْطِيَ وَلَكِنِّي اِنَّمَا اُعْطِيَ اَقْوَامًا لِمَا اَرَى فِيْ قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالهَلَعِ وَاَكِلُ اَقْوَامًا اِلٰی مَا جَعَلَ اللهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنٰى وَالْخَيْرِ مِنْهُمْ عَمْرُو بنُ تَغْلِبَ قَالَ عَمْرُو بنُ تَغْلِبَ:فَوَاللهِ مَا اُحِبُّ اَنَّ لِيْ بِكَلِمَةِ رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم حُمْرَ النَّعَمِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 526 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاحکیم بن حِزَامْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے اور (صدقہ دینے کی) ابتدا اُن لوگوں سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہواوربہتر ین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد دیا جائےاور جو شخص سوال کرنے سے بچے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے سوال کرنے سے بچا لے گااور جو بے نیازی اختیار کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بے نیاز کر د ے گا ۔‘‘
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ النَّبيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ الله وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغنِهِ اللهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 527 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنا امیر معاویہ بن ابو سُفیانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’مانگنے میں اِصرار نہ کرو،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! تم میں سے کوئی شخص مجھ سے مانگےاور میں اسے ناپسندیدگی کے ساتھ کچھ دوں تو کیا اُس میں اُسے برکت حاصل ہوگی؟‘‘
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ اَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم:لَا تُلْحِفُوْا فِي الْمَسْاَلَةِ فَوَاللهِ لَا يَسْاَلُنِيْ اَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا فَتُخْرِجُ لَهُ مَسْاَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًاوَاَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا اَعْطَيْتُهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 528 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاابو عبد الرحمٰن عَوف بن مالِک اشجعیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم سات یا آٹھ یا نو لوگ حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر تھے کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :”کیا تماللہکے رسول کی بیعت نہیں کرتے؟‘‘جبکہ ہمیں بیعت کیے تھوڑا ہی عرصہ ہو ا تھاہم نے عرض کی:’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم تو آپ کے دست اَقدس پر شرفِ بیعت حاصل کر چکے ہیں۔پھر فرمایا :” کیااللہکے رسول کی بیعت نہیں کرتے؟‘‘ ہم نے عرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم تو آپ کے دست اَقدس پر شرفِ بیعت حاصل کر چکے ہیں ۔پھر فرمایا :” کیااللہکے رسول کی بیعت نہیں کرتے؟‘‘پس ہم نے اپنے ہاتھ پھیلائے اور عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم بیعت کر چکے ہیں، اب کس بات پر بیعت کریں۔رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اس بات پر بیعت کرو کہاللہتعالیٰ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گےاور پانچ وقت کی نماز ادا کروگے اور اطاعت کروگے۔‘‘اور ایک مختصر سی بات آہستہ آواز میں فرمائی کہ ’’کسی سے کچھ نہ مانگو گے۔‘‘(حضرت سَیِّدُنَاعَوف بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:)’’میں اُن میں سے بعض افراد کو دیکھتا ہوں کہ اگر اُن کا کَوڑا یا چابُک بھی زمین پر گر جاتا تو اسے اٹھانے کے لیے وہ کسی سے سوال نہ کرتے۔‘‘
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَوْفِ بْنِِ مَالِكِ الْاَشْجَعِيِِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم تِسْعَةً اَوْ ثَمَانِيَةً اَوْسَبْعَةً فَقَالَ:اَلَا تُبَايِعُوْنَ رَسُوْلَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم؟ وَكُنَّا حَدِيْثِيْ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ فَقُلْنَا:قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ ثُمَّ قالَ:اَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ؟ فَقُلْنَا:قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ!ثُمَّ قَالَ:اَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ؟قَالَ فَبَسَطْنَا اَ يْدِيَنَا وَقُلْنَا:قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: عَلَى اَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيْعُوْا وَاَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيْفَةً:وَلَا تَسْاَلُوا النَّاسَ شَيْئًا فَلَقَدْ رَاَيْتُ بَعْضَ اُوْلٰئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ اَحَدِهِمْ فَمَا يَسْاَلُ اَحَدًا يُنَاوِلُهُ اِيَّاهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 529 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاابنِ عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرما یا :’’تم میں سے کوئی شخص برابر سوال کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے اِس حال میں ملاقات کرےگا کہ اُس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہو گا۔‘‘
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ النَّبيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:لَا تَزَالُ الْمَسْاَلةُ باَحَدِكُمْ حَتّٰى يَلْقَى اللهَ تَعَالَى وَلَيْسَ في وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 530 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے حضور تاجدارِ رِسالتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے منبر پر تشریف فرما ہو کر صدقہ اور سوال سے بچنے کاذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے ۔‘‘
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْاَلَةِ: الْيَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَدُ العُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى هِيَ السَّائِلَةُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 531 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جوشخص مال بڑھانے کی غرض سے لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرتا ہےتو وہ انگارہ مانگتا ہے،اب چاہے کم مانگے یا زیادہ۔‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم: مَنْ سَاَلَ النَّاسَ اَمْوَالَھُمْ تَكَثُّرًا فاِنَّمَا يَسْاَلُ جَمْرًا:فَلْيَسْتَقِلَّ اَوْ لِيَسْتَكْثِرْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 532 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاسمرہ بن جندبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’سوال کرنا خراش ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو چھیلتا ہےالبتہ یہ کہ آدمی بادشاہ سے سوال کرے یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس میں سوال کے بغیر چارہ نہ ہو ۔‘‘
عَنْ سَمُرَةَ بنِِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: اِنَّ المَسْاَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ اِلَّا اَنْ يَسْاَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا اَوْ في اَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 533 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا اِبن مسعو درَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جو شخص فاقہ میں مبتلا ہو پھر اسے لوگوں کے سامنے پیش کرے تو اس کا فاقہ دور نہیں ہو گا اور جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے حضور عرض کرے تو قریب ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جلد یا بدیر رِزق عطا فرمائے۔‘‘
عَنِِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ اَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَاَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ اَنْزَلَهَا بِاللهِ فَيُوشِكُ اللهُ لَهُ بِرِزْقٍ عَاجِلٍ اَوْ آجِلٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 534 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جو شخص مجھے اِس بات کی ضمانت دے کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگے گا،تو میں اُسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“(حضرت ثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:)میں نے عرض کی:’’یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں ضمانت دیتا ہوں۔‘‘چنانچہ اس کے بعد حضرت سَیِّدُنَا ثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکسی سے کچھ نہ مانگتے تھے ۔
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ تَكَفَّلَ لِيْ اَنْ لَّا يَسْاَلَ النَّاسَ شَيْئًاوَاَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ فَقُلْتُ:اَنَا فَكَانَ لَايَسْاَلُ اَحَدًا شَيْئًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 535 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاابو بشر قبیصہ بن مخارقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے ایک مال اپنے ذمہ لیا اور اس کی ادائیگی کے لیے حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں مدد لینے حاضر ہوا،آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ٹھہرو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آجائے ہم اس میں سے تمہاری اِمداد کا حکم دیں گے۔‘‘پھر ارشاد فرمایا:’’اے قبیصہ!تین شخصوں کے علاوہ کسی کے لیے مانگنا جائز نہیں: (1)وہ شخص جس نے کوئی مال اپنے ذمہ لے لیا ہو اس کے لیے اُس وقت تک مانگنا جائزہے یہاں تک کہ اسے اتنا مال مل جائے جس کا اُس نے ذمہ لیا ہے اور پھر باز رہے۔(2)وہ شخص جس کے مال کو کسی آفت نے تباہ کر دیا ہو اس کے لیے بھی مانگنا جائز ہےیہاں تک کہ ایسی چیز مہیا ہو جائے جس سے وہ گزر بسر کرسکےاور (3) وہ شخص جو فاقہ میں مبتلا ہو جائےحتّٰی کہ اُس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہیں کہ فلاں شخص فاقہ زدہ ہے تو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اسے ایسی چیز مہیا ہو جائے جس سے وہ گزر بسر کرسکے۔ اے قبیصہ!اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، مانگنے والا حرام کھاتا ہے۔‘‘
عَنْ اَبِي بِشْرٍ قَبِيْصَةَ بْنِِ الْمُخَارِقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَاَتَيْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اَسْاَ لُهُ فِيْهَا فَقَالَ:اَقِمْ حَتَّى تَاْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَاْمُرَ لَكَ بِهَا ثُمَّ قَالَ:يَا قَبِيْصَةُ! اِنَّ الْمَسْاَلَةَ لَا تَحِلُّ اِلَّا لِاَحَدِ ثَلَاثَةٍ:رَجُلٌ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْاَلَةُ حَتّٰى يُصِيْبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٌ اَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْاَلَةُ حَتّٰى يُصِيْبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ.اَوْ قَالَ:سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ.وَرَجُلٌ اَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتّٰى يَقُولَ: ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجٰى مِنْ قَوْمِه:لَقَدْ اَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ. فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْاَلَةُ حَتَّى يُصِيْبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ اَوْ قَالَ:سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْاَلَةِ يَا قَبِيْصَةُ! سُحْتٌ يَاْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 536 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’مسکین وہ نہیں جو ایک دو لقمے یا ایک دوکھجوروں کے لیے لوگوں کے پاس جائے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اسے ان چیزوں سے بے پرواہ کر دےجن کی اسے ضرورت ہے اور نہ ہی اس کا محتاج ہونامعلوم ہوتا ہو کہ اسے صدقہ دیا جائے اور نہ ہی وہ لوگوں سے مانگنے کے لیے کھڑا ہو۔‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: لَيْسَ الْمِسْكِيْنُ الَّذِي يَطُوْفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَكِنِ الْمِسْكِيْنَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيْهِ وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَايَقُوْمُ فَيَسْاَلُ النَّاسَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 537 ، باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان