- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- حدیث نمبر 532
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم: مَنْ سَاَلَ النَّاسَ اَمْوَالَھُمْ تَكَثُّرًا فاِنَّمَا يَسْاَلُ جَمْرًا:فَلْيَسْتَقِلَّ اَوْ لِيَسْتَكْثِرْ.
عن ابي هريرةرضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سال الناس اموالھم تكثرا فانما يسال جمرا:فليستقل او ليستكثر.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جوشخص مال بڑھانے کی غرض سے لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرتا ہےتو وہ انگارہ مانگتا ہے،اب چاہے کم مانگے یا زیادہ۔‘‘
شرح حدیث
قیامت کے دن سائل کا انجام:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اس حال میں ملاقات کرےگا کہ اس کےچہرےپرگوشت کاایک ٹکڑابھی نہ ہوگا۔“اللہ عَزَّوَجَلَّسےملاقات یہ موت اور حشر سےکنایہ ہے۔حشرکی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ ایک روایت میں ہے:’’انسان برابر سوال کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک بھی ٹکڑا نہ ہو گا۔“علامہ قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:حدیث پاک کا معنیٰ یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ شخص قیامت کے دن ذلیل و خوار ہو کر اِس حال میں آئے گا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں اُس کی کوئی قدر و منزلت نہ ہو گی۔یہ بھی کہا گیا ہے یہ حدیث اپنے ظاہر پر ہے چنانچہ قیامت کے د ن اُسے اِس حال میں اُٹھا یا جائےگا کہ سزا کے طور پر اُس کے چہرے پر گوشت کا ایک بھی ٹکڑا نہ ہو گااور یہ بات اُس کے گنا ہ کی علامت ہوگی کیونکہ اُس نے چہرے کے ذریعے سوال کر کے مال طلب کیا یعنی اپنی صورت غریب ومسکین ظاہر کرکے مال جمع کیا۔یہ وعید اس شخص کے بارے میں ہے جس نے بغیر ضرورت مال بڑھانے کی غرض سے ایسا سوال کیاجس کی اسے اجازت نہیں۔‘‘وہ انگارہ مانگتا ہے ۔۔۔دلیل الفالحین میں ہے:’’جوشخص مال بڑھانے کی غرض سے سوال کرتا ہےتو وہ انگارہ مانگتا ہے۔“ علامہ قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ اسے آگ کا عذاب دیا جائے گا اور یہ بھی احتمال ہے کہ حدیث پاک کا ظاہری معنیٰ مراد ہو اس طرح کہ جو مال اس نے لیا وہ انگارہ بن جائے جس سے اس کو داغا جائےگا جیسا کہ زکوۃ نہ دینے والوں کے بارے میں یہ بات ثابت ہے کہ انہیں ان کے مال سے داغا جائے گا۔ ’’اب چاہے کم مانگے یا زیادہ۔“یعنی جب اس نے انجام کو جان لیا تو اب اسے اختیار ہے زیادہ مال مانگ کر اپنے عذاب کوبڑھائے یاکم مال مانگ کر تھوڑے عذاب میں گرفتار ہو۔مال بڑھانے کے لیے سوال کرنا:علامہ ابنِ بطالرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:” علامہ عبدالواحدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ جو شخص مال بڑھانے کے لیے مانگتا ہے اس کے چہرے کو سزا دی جائے گی چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا اوراللہتعالیٰ اس کو اس کے گناہ کی جِنس سے سزا دے گا ،کیونکہ اس کو سوال کرنے کی ضرورت نہ تھی پھر بھی اس نے اپنے منہ سے سوال کیا اور چہرے کو جھکایا۔علامہ مہلبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حدیث پاک میںمُزْعَةُکا لفظ ہے جس کا معنیٰ ہے گوشت کا ٹکڑا ،اگر کوئی اس حال میں قیامت کے دن آئے کہ اس کے چہرے پر ذرہ برابر بھی گوشت نہ ہو اس کو سورج کی تپش سے دوسروں کی بنسبت زیادہ تکلیف ہوگی۔ حدیث پاک میں ہے:”قیامت کے دن سورج اتنا قریب ہوگا کہ انسان کا پسینہ اس کے نصف کان تک پہنچ جائے گا۔“حضور نبی پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بلا ضرورت گِڑگِڑا کر سوال کرنے سے ڈرایا البتہ جس شخص نے ضرورت کی وجہ سے سوال کیا تو اس کے لیے سوال کرنا مباح ہے اور جب اُس کے لیے سوال کےعلاوہ کوئی دوسری راہ نہ ہو تو اس کو سُوال کرنے پر بھی اَجر دیا جائے گا بشرطیکہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی تقسیم پر راضی ہو۔علامہ خطابیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنےحدیث پاک کا معنیٰ یہ بیان فرمایا کہ جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے سوال کرےگا وہ قیامت کے دن ذلیل ہو کر آئے گا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک اس کی کوئی قدر و منزلت اور عزت نہ ہو گی۔‘‘بھکاری اپنی شکل سے پہچانا جائے گا:مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ’’ پیشہ ور بھکاری اور بلاضرورت لوگوں سے مانگنے کا عادی قیامت میں اِس طرح آئے گا کہ اُس کے چہرے میں صرف ہڈی اور کھال ہوگی گوشت کا نام نہ ہوگا جس سے محشر والے پہچان لیں گے کہ یہ بھکاری تھا یا یہ مطلب ہے کہ اس کے چہرے پر ذلت و خواری کے آثار ہوں گے جیسے دنیا میں بھی بھکاری کا منہ چھپا نہیں رہتا لوگ دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں کہ یہ سائل ہے۔خیال رہے کہ وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ قیامت میں ربّ تعالیٰ اُمَّت محمدی کی پردہ پوشی فرمائے گا اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ اُن کے دنیاوی چھپے عیب لوگوں پر ظاہر نہ کرے گا اور بھیک چھپا عیب نہ تھا،کھلا تھا جس پر بھکاری شرم بھی نہ کرتا تھا یا یہ مطلب ہے کہ ہمارے عیوب دوسری اُمَّتوں پر ظاہر نہ کرے گا، بھکاری کا یہ واقعہ خودمسلمانوں ہی میں ہوگا لہٰذا حدیثوں میں تعارض نہیں۔مرقات میں اس جگہ ہے کہ امام احمد ابن حنبل (رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ)یہ دعا مانگاکرتے تھے:”الٰہی جیسے تو نے میرے چہرے کو غیر کے سجدے سے بچایا ایسے ہی میرے منہ کو دوسروں سے مانگنے کی لعنت سے بچا۔‘‘سوال کرنا کس کے لیے حرام ہے ؟اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت، پروانہ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے پیشہ ور گداگروں (بھکاریوں) کے بارے میں سُوال کیا گیاتواِرشاد فرمایا:’’جو اپنی ضَروریاتِ شَرعِیَّہ کے لائق مال رکھتاہے یا اس کے کَسْب (کمانے )پر قادِر ہے اسے سُوال حرام اورجو اس مال سے آگاہ ہو اسے دینا حرام، اور لینے اور دینے والا دونوں گناہگار و مبتَلائے آثام(یعنی گناہوں میں مبتَلا ہوئے )۔‘‘صَدْرُ الشَّرِیْعَہ، بَدرُ الطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’آج کل ایک عام بَلا یہ پھیلی ہوئی ہے کہ اچھّے خاصے تَنْدُرُست چاہیں تو کما کر اَوروں کو کھلائیں، مگر انہوں نے اپنے وُجُود کو بیکار قرار دے رکھا ہے، کون محنت کرے، مُصِیبَت جھیلے،بے مُشقَّت جو مل جائے تو تکلیف کیوں برداشت کرے۔ ناجائز طور پر سُوال کرتے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اوربُہتَیرے (بہت سارے ) ایسے ہیں کہ مَزدُوری تو مَزدُوری، چھوٹی موٹی تَجارت کو ننگ و عار(شرم و ذِلّت کاکام) خیال کرتے اور بھیک مانگنا کہ حقیقۃً ایسوں کے لیے بے عزّتی و بے غیرتی ہے،مایہ عزّت جانتے ہیں اور بُہتوں نے تو بھیک مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے، گھر میں ہزاروں روپے ہیں، سُود کا لَین دین کرتے، زِراعت وغیرہ کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے، اُن سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ ہمارا پَیشہ ہے، واہ صاحِب واہ! کیا ہم اپنا پَیشہ چھوڑ دیں؟ حالانکہ ایسوں کو سُوال حرام ہے اور جسے اُن کی حالت معلوم ہو، اُسے جائز نہیں کہ ان کو دے۔‘‘مزید فرماتے ہیں:’’بعض سائل کہہ دیا کرتے ہیں کہاللہ(عَزَّ وَجَلَّ)کے لیے دو، خدا کے واسطے دو، حالانکہ اس کی بہت سخت ممانعت آئی ہے۔ ایک حدیث میں اُسے ملعون فرمایا گیا ہے اور ایک حدیث میں بدترین خلائق اور اگر کسی نے اس طرح سوال کیا تو جب تک بُری بات کا سوال نہ ہو یا خود سوال بُرا نہ ہو (جیسے مالدار یا ایسے شخص کا بھیک مانگنا جو قوی تندرست کمانے پر قادر ہو) اور یہ سوال کو بلا دِقت پورا کر سکتا ہے تو پورا کرنا ہی ادب ہے کہ کہیں بروئے ظاہر حدیث یہ بھی اُسی وعید کا مستحق نہ ہو،وہاں اگر سائلمُتَعَنَّتْہو(یعنی سوال کرنے والا خود اپنی ذلت کے درپے ہو یعنی پیشہ ور بھکاری ہو ) تو نہ دے۔ نیز یہ بھی لحاظ رہے کہ مسجد میں سوال نہ کرے، خصوصاً جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر کہ یہ حرام ہے، بلکہ بعض علما فرماتے ہیں کہ مسجد کے سائل کو اگر ایک پیسہ دیا تو ستّر پیسے اور خیرات کرے کہ اس ایک پیسہ کا کفارہ ہو۔ مولیٰ علیکَرَّمَ ا اللہ وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ایک شخص کو عرفہ کے دن عرفات میں سوال کرتے دیکھا، اُسے دُرّے لگائے اور فرمایاکہ اِس دن میں اور ایسی جگہ غیرِخدا سے سوال کرتا ہے۔ بھیک مانگنا بہت ذلّت کی بات ہے، بغیر ضرورت سوال نہ کرے اور حالت ضرورت میں بھی اِن اُمور کا لحاظ رکھے جن سے ممانعت وارد ہے اور سوال کی اگر حاجت ہی پڑ جائے تو مبالغہ ہرگز نہ کرے کہ بے لیے پیچھا نہ چھوڑے کہ اس کی بھی ممانعت آئی ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’حجر اسود ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) بھکاری قیامت کے دناللہ عَزَّ وَجَلَّسے اِس حال میں ملاقات کرےگا کہ اُس کے چہرے پرگوشت کا ایک ٹکڑا نہ ہوگا ۔
(2) قیامت کےدن لوگ بھکاری کو اس کی شکل سے پہچان ليں گے جیسے دنیا میں پہچان لیتے ہیں۔
(3) انسان مزاجاً حریص واقع ہوا ہے، کثرتِ مال کا ہروقت حریص رہتا ہے۔
(4) جو اپنی ضَروریاتِ شَرعِیَّہ کے لائق مال رکھتاہو یا اس کے کَسْب پر قادِرہو ا یسےشخص کے لیے سوال کرنا حرام ہے۔
(5) ضرورت کی وجہ سے بقدر ضرورت سوال کرنا مباح ہے مگر اس صورت میں بھی ان تمام اُمور کا لحاظ رکھے جن کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔
(6)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے دو ،خدا کے واسطے دو ،ان الفاظ سے بھیک مانگنے کی بہت سخت ممانعت آئی ہے اگر کوئی ان الفاظ سے بھیک مانگے تو اسے کچھ نہ کچھ دے دو جبکہ کوئی مانِعِ شرعی نہ ہو ۔
(7) جو شخص مال بڑھانے کی غرض سے سوال کرتا ہےتو وہ مال کی صورت میں اپنے لیے انگارہ مانگتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا و آخرت کی ذِلَّت و خواری سےبچائے، ہمیں اپنے اور اپنے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے در کا محتاج بنائےاور دوسروں کے سامنے دستِ سوال درازکرنے سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 532