- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- حدیث نمبر 528
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ اَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم:لَا تُلْحِفُوْا فِي الْمَسْاَلَةِ فَوَاللهِ لَا يَسْاَلُنِيْ اَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا فَتُخْرِجُ لَهُ مَسْاَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًاوَاَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا اَعْطَيْتُهُ.
عن ابي عبد الرحمن معاوية بن ابي سفيان رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا تلحفوا في المسالة فوالله لا يسالني احد منكم شيئا فتخرج له مسالته مني شيئاوانا له كاره فيبارك له فيما اعطيته.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا امیر معاویہ بن ابو سُفیانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’مانگنے میں اِصرار نہ کرو،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! تم میں سے کوئی شخص مجھ سے مانگےاور میں اسے ناپسندیدگی کے ساتھ کچھ دوں تو کیا اُس میں اُسے برکت حاصل ہوگی؟‘‘
شرح حدیث
مال ہونے کے باجود فاقہ غالب رہتا ہے:’’تم میں سے کوئی شخص مجھ سے مانگےاورمیں اسے ناپسندیدگی کے ساتھ کچھ دوں۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس کے تحت فرماتے ہیں:”یعنی وہ اپنی مطلوبہ چیز کو اِصرار اور حرص کی وجہ سے مجھ سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہےاور میں نا پسندیدگی کے ساتھ اس کی سخت بات سے بچنے کے لیے اسے دے دیتا ہوں تو اس میں اسے برکت حاصل نہ ہوگی۔فقہاء کرامرَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامنے فرمایا: جس نے کسی چیز کو ایسا مقصد ظاہر کر کے لیا جو واقع میں نہیں ہے تو اس چیز کے لینے پر اس سے مؤاخذہ ہوگا اوراس چیز کو استعمال میں لانا اس کے لیے باطل ہے، اسی وجہ سے بہت سے صاحبِ حیثیت لوگوں پر اِصرارکے ساتھ لوگوں سے مال نکلوانے کی وجہ سے فاقہ غالب رہتا ہے ۔‘‘مانگنا ایک عیب ہے اور اس پر اَڑنا دس گناعیب:مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’(مانگنے میں اصرار نہ کرو۔)یعنی سوال پر اَڑ نہ جاؤ کہ سامنے والا دینا نہ چاہے اور تم بغیر لیے ٹلنا نہ چاہو،مانگنا ایک عیب ہے اور اس پر اڑنا دس گنا عیب۔ربّ تعالیٰ فرماتاہے:( αلَا یَسْــٴَـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًاؕ-(∞(پ۳، البقرۃ:۲۷۳)( ترجمۂ کنزالایمان:لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑگڑانا پڑے۔)(فرمایا:تم میں سے کوئی شخص مجھ سے مانگےاور میں اسے ناپسندیدگی کے ساتھ کچھ دوں تو اُس میں اُسے برکت حاصل نہ ہوگی۔)حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ذِکر تو اپنا فرمایا مگر قانونِ کلی فرمایا کہ جو بھکاری ضد یا اَڑسے بھیک وصول کرے، دینے والا دینا نہ چاہے تو اس بھیک میں سخت بے برکتی ہوگی۔امام غزالی(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی)فرماتے ہیں:جو فقیر یہ جانتے ہوئے بھیک لے کہ دینے والا محض شرم و ندامت کی وجہ سے دے رہا ہے اس کا دل دینے کو نہ چاہتا تھا تو یہ مال بھکاری کے لیے حرام ہے۔خیال رہے کہ بھکاری کی ضد اور ہے چندہ کرنے والوں کا لحاظ کچھ اور،ضد حرام ہے لحاظ کا یہ حکم نہیں۔آج مسجدوں،مدرسوں کے چندوں میں عمومًا دیکھا گیا ہے کہ شہر کا بڑا معزز مالدار آدمی زیادہ وصول کرسکتا ہےپھر اپنے لیے مانگنے اور دینی کاموں کے لیے چندہ کرنے کے اَحکام میں بھی فرق ہے۔‘‘سوال کرنے کی تین آفات:سَیِّدُنا امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیفرماتے ہیں:’’ہم نے سوال کو اصل کے اعتبار سے اس لیے حرام قرار دیا ہے کیونکہ اس میں تین حرام باتیں ضرور پائی جاتی ہیں: (1)پہلی آفت:سوال کرنے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی شکایت کرنا پایا جاتا ہے کیونکہ سوال کرنے والا اپنے فقر کا اظہار اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کی کمی کا تذکرہ کرتا ہے۔درحقیقت یہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی شکایت ہے کہ جس طرح کسی شخص کے غلام کے سوال کرنے میں اس شخص کی بدنامی ہے اسی طرح بندگانِ خدا کے سوال کرنے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی شکایت ہے۔اسی بنا پر بلا ضرورت سوال کرنا حرام ہے جیسا کہ بلا ضرورت مردار کھانا حرام ہے۔(2)دوسری آفت:سوال کرنے والا خود کو غیراللہکے سامنے ذلیل کرتا ہے اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ خود کو ذلت پر پیش کرے بلکہ اس پر لازم ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں عاجزی اختیار کرے کہ ایسا کرنا عزت کا باعث ہے۔ یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ سوال کرنا سائل کے لیے باعث ذلت ہے کیونکہ اس کی طرح تمام لوگاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے ہیں لہٰذا اسے چاہیےکہ بلا ضرورت ان کے سامنے خود کو ذلت پر پیش نہ کرے۔ (3)تیسری آفت: جس شخص سے سوال کیا جاتا ہے سائل اکثر اس کی ایذا کا باعث بنتا ہے کیونکہ بعض اوقات اس کا دل دینے پر آمادہ نہیں ہوتا لیکن وہ سائل سے شرم کرتے ہوئے یا لوگوں کے دکھانے کے لیے دیتا ہے ،ایسی صورت میں سائل کے لیے لینا حرام ہے ۔اگر وہ نہ دے تو اسے شرم آتی ہے اور یہ منع کرنا اس کے لیے قلبی تکلیف کا سبب بنتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں نے کنجوسی کی ہے۔دینے کی صورت میں مال کا جبکہ نہ دینے میں عزت کا نقصان ہوتا ہے،یہ دونوں باتیں تکلیف دہ ہیں اور اس تکلیف کا سبب سوال کرنے والا بنتا ہے جبکہ بلا ضرورت کسی مسلمان کو تکلیف دینا حرام ہے۔‘‘بلخ کے فقرا ءکی حالت:حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَمجب خُراسان سے حضرت سَیِّدُنَاشقیق بلخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیکے پاس تشریف لائے تو انہوں نے اِسْتِفْسَارْ فرمایا:’’آپ نے اپنے فقراء دوستوں کو کس حال میں پایا؟‘‘انہوں نےفرمایا:’’میں نے اُنہیں اِس حال میں چھوڑاہے کہ اگر انہیں بغیر سوال کے دیا جائے تو شکر ادا کرتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو صبر کرتے ہیں ۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَمکا گمان تھا کہ سوال نہ کرنے کا وصف بیان کر کے انہوں نے خراسان کے فقرا ءکی تعریف کی ہے لیکن یہ سن کر حضرت سَیِّدُنَا شقیق بلخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِینے فرمایا:’’یہ حال تو بلخ کے کتوں کا ہے۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَمنے استفسار فرمایا :’’اے ابو اسحاق!بلخ کے فقراءکی کیا کیفیت ہے؟‘‘فرمایا :’’ہمارے فقراء کی حالت یہ ہے اگر انہیں نہ دیا جائے تو شکر کرتے ہیں اور اگر دیا جائے تو ایثار کردیتے ہیں۔‘‘یہ سن کر حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَمنے حضرت سَیِّدُنَا شقیق بلخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیکے سر کا بوسہ لیا اور کہا:’’اے استادِ محترم ! آپ نے سچ فرمایا۔‘‘رسولُاللہسے مانگنا باعث فخر ہے:واضح رہے کہ جن احادیث میں حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خود سے مانگنے سے منع فرمایا ہے وہاں کثرت سوال کی قباحت اور اُن تمام ممنوعہ صورتوں کا بیان کرنا مقصود ہےجن میں سوال کرنا شرعاً ممنوع ہے، ورنہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو قاسم نعمت ہیں، آپ سے مانگنا تو ہر ایک کے لیے باعثِ فخرہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’یہاں مانگنے سے مراد ذِلَّت و خواری کا مانگنا ہے یعنی بھیک مانگنا لہٰذاباپ کا اولاد سے یا آقا کا غلام سے یا اس کے برعکس یا ان سے کچھ مانگنا جن سے مانگنے میں عار نہ ہو جائز ہے۔حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے شفاعت اور اِنعامِ اِلٰہیّہ اور اُخروی نعمتوں کی بھیک مانگنا بادشاہوں کے لیے فخروعزت ہے۔اس پر علماء کا اتفاق ہے کہ بلاضرورت مانگنا ممنوع ہے ،اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ ہے یا حرام ،حق یہ ہے کہ حرام ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’جبل نور ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جس نے کسی چیز کو ایسا مقصد ظاہر کر کے لیا جو واقع میں نہیں تو اس چیز کے لینے پر اُس سے مؤاخذہ ہوگا اور اس چیز کو استعمال میں لانا اس کے لیے باطل ہے۔
(2) سوال کرنے کی ایک آفت یہ بھی ہے کہ وہ مسئول عنہ یعنی جس شخص سے سوال کیا جارہا ہے اس کے لیے ایذا ءکا باعث ہے۔
(3) سوال کرنے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی شکایت کرنا پایا جاتا ہے کیونکہ سوال کرنے والا اپنے فقر کا اظہار اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کی کمی کا تذکرہ کرتا ہے۔
(4) جو بھکاری ضد یا اڑی بازی سے بھیک وصول کرے اور دینے والا دینا نہ چاہے تو اس بھیک میں سخت بے برکتی ہوگی جس کا بھکاری کو بھی کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
(5) جو فقیر یہ جانتے ہوئے بھیک لے کہ دینے والا محض شرم و ندامت کی وجہ سے دے رہا ہے اس کا دل دینے کو نہیں چاہتا تو بھکاری کے لیےاس مال کا لينا حرام ہے۔
(6) جن اَحادیث میں مانگنے سے منع فرمایا گیا ان میں کثرتِ سوال کی قباحت کو بیان کرنا مقصود ہے ورنہ بارگاہِ رسالت سے مانگنا اور اس سے لینا بڑے بڑے بادشاہوں کے لیے فخر کا باعث ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قناعت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کے سامنے سوال کرنے سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 528