- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- حدیث نمبر 537
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: لَيْسَ الْمِسْكِيْنُ الَّذِي يَطُوْفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَكِنِ الْمِسْكِيْنَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيْهِ وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَايَقُوْمُ فَيَسْاَلُ النَّاسَ.
عن ابي هريرة رضي الله عنه:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: ليس المسكين الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان ولكن المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن له فيتصدق عليه ولايقوم فيسال الناس.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’مسکین وہ نہیں جو ایک دو لقمے یا ایک دوکھجوروں کے لیے لوگوں کے پاس جائے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اسے ان چیزوں سے بے پرواہ کر دےجن کی اسے ضرورت ہے اور نہ ہی اس کا محتاج ہونامعلوم ہوتا ہو کہ اسے صدقہ دیا جائے اور نہ ہی وہ لوگوں سے مانگنے کے لیے کھڑا ہو۔‘‘
شرح حدیث
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ حقیقی مسکین وہ نہیں کہ جو پیشہ ور بھکاری ہے کیونکہ پیشہ ور بھکاری اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہیں بلکہ مال جمع کرنے کی غرض سے بھیک مانگتا ہے جبکہ حقیقی مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہیں پھر بھی وہ کسی سے سوال نہیں کرتا اور نہ ہی وہ اپنا ظاہری حال ایسا بناتا ہے کہ لوگ دیکھ کر سمجھیں کہ یہ مسکین ہے اور اس پر صدقہ کریں اور نہ ہی وہ اپنی غربت لوگوں پر ظاہر کر کے ان سے مدد کا طلبگار ہوتا ہے ۔کامل مسکین وہ ہے جو لوگوں سے نہیں مانگتا :عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَہَابُ الدِّیْن اَحْمَدْ قَسْطَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانیِمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’کامل مسکین وہ نہیں جو لوگوں کےپاس اس لیے چکر لگائے تاکہ انہیں اپنے اوپر صدقہ کرنے کا کہے اور لوگ اسے لقمہ دو لقمہ یا ایک دو کھجور دے کر واپس لوٹا دیں بلکہ کامل مسکین وہ ہےجو اپنے پاس ایسی چیز نہ پائے جس سے اس کی حاجت پوری ہو اور نہ ہی اس کا حال دیکھ کر اسے پہچان لیا جائے کہ یہ مسکین ہےتاکہ لوگ ا س پر صدقہ کریں اور نہ ہی وہ لوگوں سے مانگنے کے لیے کھڑا ہو۔‘‘عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’معنیٰ یہ ہے کہ کامل مسکین وہ ہے جو اپنی ضروریات و محتاجی کی وجہ سے صدقے کا زیادہ مستحق ہے، اس کے باوجود وہ(لوگوں کے گھروں میں بھیک مانگنے کے لیے)چکر نہیں لگاتا،یہاں تک کہ وہ اپنے پاس کوئی ایسی چیز بھی نہیں پاتا کہ جو اُس کی ضروریات کو پورا کرد ے اور نہ ہی اُس کا محتاج ہونا کسی کو معلوم ہوتا ہے اور نہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہے۔یہاں اُس مسکین کی نفی نہیں جو لوگوں کے گھروں میں چکر لگائے بلکہ یہاں کامل مسکین مراد ہے ۔‘‘حاجت مند ہونے کے باوجودحاجت ظاہر نہ کرنا :مُفَسِّر شہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ’’یعنی جس مسکینیت پر ثواب ہے اور صابروں کے زمرے میں داخل ہے وہ یہ بھکاری فقیر نہیں ہے بلکہ یہ تو عام حالات میں اسی سوال پر گنہگار ہےکہ جب وہ بھیک مانگنےکے لیے اتنی دوڑ دھوپ کرسکتا ہے تو وہ کمانے کے لیے بھی کرسکتا ہے۔ہاں صابر وہ مسکین ہے جو حاجتمند ہو مگر پھر کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہ کرے، اپنے فقر کو چھپانے کی کوشش کرے،اسی مسکین کی ربّ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں تعریف فرمائی ہے کہ فرمایا:( α لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ(الآیۃ(پ۳،البقرۃ:۲۷۳)(ترجمۂ کنزالایمان:’’اُن فقیروں کے لیے جو راہِ خدا میں روکے گئے۔)یہ خیال رہے کہ جس مسکینیت کی دعا حضور ِانورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے مانگی ہے وہ مسکینیت دل ہے یعنی دل میں عجز واِنکسار ہونا،تکبر وغرور نہ ہونا،ایسا شخص اگر مالدار بھی ہو تو مبارک مسکین ہےاور جن احادیث میں فقر و مسکینیت سے پناہ مانگی گئی ہے وہ ایسی تنگدستی ہے جو فتنے میں مبتلا کردے۔ لہٰذا اَحادیث میں تعارض نہیں اور نہ یہ اعتراض ہے کہ حضورِ اَنورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے تومسکینیت کی دعا کی مگر ربّ تعالیٰ نے حضورِ اَنورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو بادشاہ بنادیا یہ دعا قبول نہ ہوئی۔‘‘بلاسوال ملنے والا مال قبول کرنے کے آداب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں کامل مسکین کی ایک نشانی یہ بھی بیان کی گئی کہ وہ خود لوگوں سے مال طلب نہیں کرتالیکن بغیر سوال کیے جو مال ملے اسے قبول کرلینا نہ صرف جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔ چنانچہ ایک بار حضور نبی اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو کچھ مال عطا فرمایا تو انہوں نے اپنے سے زیادہ حاجت مند کو دینے کی عرض کی تو ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! اسے لے لو، اب تمہاری مرضی اپنے پاس رکھو یا صدقہ کردو، اگر تمہارے پاس ایسا مال آئے جو تم نے طلب نہ کیا ہو اور نہ ہی اس کی چاہت ہوتو اسے رکھ لیا کرو اور جو نہ ملے اس کی طلب مت کرو۔‘‘( )مگر واضح رہے کہ بلاسوال ملنے والے مال کو قبول کرنے کے بھی امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِینے چند آداب بیان فرمائے ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’فقیر کو چاہیے کہ بغیر سوال کے ملنے والی چیز کے بارے میں تین باتوں پر غور کرے: (۱)ملنے والے مال کے بارے میں۔(۲) دینے والے کی غرض کیا ہے؟ (۳) قبول کرنے میں کیا نیت ہے؟(1)ملنے والے مال کے بارے میں:اس کے حلال اور تمام شُبہات سے خالی ہونے پر غور کرے، اگر اس میں کسی قسم کا شبہ ہو تو لینے سے احتراز کرے۔(2)دینے والے کی غَرَض میں غورکرے:اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:(۱) اگرغرض یہ ہو کہ جسے دے رہا ہے اس کا دل خوش کرے اور اس کی محبت حاصل کرے تو یہ ہدیہ ہے جس کے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ہدیہ بھی ایسا قبول کرنا چاہیے کہ جس میں کسی کا احسان مند نہ ہونا پڑے۔ (۲)اگرحصولِ ثواب پیشِ نظر ہوتو یہ صدقہ یازکوٰ ۃ ہے اگر زکوٰۃ ہو تو پھر فقیر کو اپنے بارے میں غور کرنا چاہئے کہ میں زکوٰۃ کا مستحق ہوں یا نہیں۔اگر یہ بات اس پر مشتبہ ہوجائے کہ میں مستحق زکوٰ ۃ ہوں یا نہیں تو یہ شبہے کا مقام ہےیا (۳)مقصودفقط اپنی واہ واہ کروانا،دکھانا اور سناناہوگااور اس کے ساتھ دیگر فاسد اغراض بھی پیشِ نظرہوں گی۔اگرغرض لوگوں کو دکھانا،سنانا اور شہرت کا حصول ہوتو پھر فقیر کو چاہیے کہ اس کا مال قبو ل نہ کرے کیونکہ قبول کرنے کی صورت میں وہ اس کے فاسد مقصد میں مددگار ثابت ہوگا۔(3)تحفہ قبول کرنے میں نیت کیا ہو؟قبول کرنے میں اپنی نیت پرغور کرے اور دیکھے کہ کیا بنیادی ضروریات کے لئے اسے قبول کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں،اگر ضرورت ہواوریہ مال شُبَہ اور ان آفات سے محفوظ ہو جن کا بیان دینے والے کے ذکر میں ہوا تو پھر فقیر کےلئے لینا افضل ہے۔زمین کے خزانے دکھانے والا فقیر:مکۂ مکرمہزَادَھَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکے رہنے والے ایک شخص کا بیان ہے کہ میرے پاس کچھ درہم تھے جنہیں میں نے راہِ خدا میں خرچ کرنے کے لئے رکھا ہوا تھا۔ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک فقیر طوافِ کعبہ سے فارغ ہوکرغلافِ کعبہ سے لِپَٹ کر آہستہ سے کہہ رہا ہے:’’اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!اے وہ ذات جو سب کو دیکھتی ہے لیکن اسے نہیں دیکھا جاسکتا!تودیکھ رہا ہے کہ میں بھوکااور بے لباس ہوں۔اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!اب تو کیا فرماتا ہے؟‘‘اس فقیر کا لباس پھٹا پرانا تھا جو پوری طرح اس کے جسم کو بھی نہیں چھپا رہا تھا۔میں نے دل میں سوچا کہ اپنے درہم خرچ کرنےکا اس سے اچھا موقع مجھے نہیں ملے گا۔چنانچہ میں نے وہ دراہم لا کر اس کے سامنے رکھ دئیے۔ فقیر نے ان میں سے پانچ درہم لئے اور کہا:’’چار درہم میں دو چادریں آجائیں گی اور ایک درہم تین دن کے کھانے کے لئے کافی ہے،اس سے زیادہ کی مجھے ضرورت نہیں۔‘‘یہ کہہ کر اس نے باقی دراہم واپس کردئیے۔اگلی رات میں نے دیکھا کہ وہ فقیر دو نئی چادریں اوڑھ کر طواف کررہا ہے،یہ دیکھ کر میرے دل میں اس کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوئی۔وہ شخص فوراً میرے پاس آیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر طواف کے سات چکر لگائے،ہر پھیرے میں زمین کے خزانوں میں سے کوئی خزانہ ظاہر ہوتا اور ہمارےٹخنوں تک آجاتاجو سونا ، چاندی،یاقوت اور ہیرے جواہرات پرمشتمل ہوتا لیکن وہاں موجود دیگر لوگوں پر ہماری یہ کیفیت ظاہر نہ ہوئی۔فقیر نے مجھ سے کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّنےمجھے یہ سب کچھ عطا فرمایا ہے لیکن میں نے اسے چھوڑ دیا کیونکہ یہ بوجھ اور آزمائش ہے اورمیں لوگوں سے اس لئے لیتا ہوں کہ اس میں لوگوں کے لئے رَحمت اور نِعْمَت ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ’’مِسکین‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کامل مسکین وہ ہے جس کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ ہو پھر بھی وہ لوگوں سے سوال نہ کرے ۔
(2) جن احادیث میں فقر و مسکینیت سے پناہ مانگی گئی ہے وہ ایسی تنگدستی ہے جو فتنے میں مبتلا کردے۔
(3) دل کی مسکینیت یہ ہے کہ دل میں عجز و انکساری ہو، غرور و تکبر نہ ہو ۔
(4) جو حاجتمند ہو مگر پھربھی کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہ کرے، اپنے فقر کو چھپانے کی کوشش کرے،ایسے مسکین کی ربّ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تعریف فرمائی ہے۔
(5) بغیر سوال کیے جو مال ملے اسے قبول کرلینا نہ صرف جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں قناعت کی دولت عطا فرمائے اوربلاضرورت سوال کی نحوست سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 537