Main Icon

باب:مریض کی عِیادت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 894

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُمَا قَال: اَمَرَنَا رَسُوْل ُاللہِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم بِعيَادَۃِ المَر يض، وَاتِّباعِ الْجَنَازَۃِ وَتَشْمِيْتِ الْعَاطِسِ واِبْرَارِ الْمُقْسِمِ ونَصْرِ الْمَظْلُوْمِ وَاِجَابَةِ الدَّاعي وَاِفْشَاءِ السَّلَام.

عن البراء بن عازب رضي اللہ عنهما قال: امرنا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بعيادۃ المر يض، واتباع الجنازۃ وتشميت العاطس وابرار المقسم ونصر المظلوم واجابة الداعي وافشاء السلام.

حدیث ترجمہ

حضرت براء بن عازِبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں :رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں مریض کی عیادت کرنے، جنازہ کے ساتھ چلنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، قسم والے کی قسم کو پورا کرنے، مظلوم کی مدد کرنے،دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے اور سلام کو عام کرنے کا حکم دیا۔

شرح حدیث

مریض کی عیادت کرنا سنت ہے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی حَنَفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”مریض کی عیادت کرنا سنت ہے۔ حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں ان میں سے ایک حق مریض کی عیادت کرنا ہے۔‘‘اس حدیث کے پیشِ نظر بعض علمائے کرام نے عیادت کرنے کو واجب بھی قرار دیا ہے۔ بہر حال مریض کی عیادت کرنے کی فضیلت پر بہت سی احادیث مروی ہیں:حضرتِ سَیِّدُنا ثوبانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبیِّ کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”بیشک جب مسلمان اپنے مسلمان بھا ئی کی عیادت کرتا ہے تو وہ لوٹنے تک جنت کے خُرفے میں رہتا ہے۔“ عر ض کیا گیا:”یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جنت کا خرفہ کیا ہے ؟ “فرمایا:”جنت کے پھل چننا۔“عیادت کاطریقہ:عیادت کا طریقہ یہ ہے کہ اپنا ہاتھ بیمار کی پیشانی یا ہاتھ پر رکھے اور اس کی طبیعت کے بارےمیں پوچھے،حضرت سیدناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مروی ہے:”جو مسلمان صبح کو کسی مسلمان کی عیادت کوجائےتو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اور جو شام کو مریض کی عیادت کے لئے جائے صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اس کے لئے جنت میں ایک باغ لگادیا جا تا ہے۔“حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخود مریضوں کی عِیادت کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے چنانچہ حضرتعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہے کہ جب عُبادَہ بِن صامترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیمارہوئے تو رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: تم میں سے کون عُبادَہ بِن صامت کی عیادت کرنے چلے گا؟ پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ چل دئیے ، ہم دس سے زائد صحابہ کرام تھے۔اسی طرح حضرت سیدناسعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ جب میں مکہ شریف میں بیمار ہوا تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیری عیادت کے لیے تشریف لائے اور اپنا دستِ مبارک میری پیشانی پر رکھا۔حضرت عثمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں بیمار تھا تو حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے پاس تشریف لائے اور میری عِیادت کی، پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” میں تیرے لیےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے پناہ مانگتا ہوں جو اکیلا اور بے نیاز ہے۔“حدیث کے بقیہ مسائل:”نزہۃا لقاری “میں ہے:”اس حدیث سے یہ مسائل معلوم ہوئے :*جنازے کے ساتھ جانا اور نماز و دفن میں شریک ہونا، جنازے کےساتھ جاکر نماز پڑھ کر واپس آنے پر ایک قیراط ثواب ہے اور دفن تک شریک رہنے پر دو قیراط اور تلقین تک رہنے پر تین قیراط۔* جوشخص نماز جنازہ پڑھ لے اسے اولیاءِ میت کی اجازت کے بغیر واپس نہیں ہونا چاہیے۔*دعوت قبول کرنا سنت ہے،حدیث میں یہاں تک فرمایا کہ جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے ابو القاسمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نافرمانی کی۔*جسے قدرت ہو اس پر مظلوم کی مدد واجب ہے۔حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو ظالم ہو یا مظلوم۔عرض کیا :یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مظلوم کی مدد تو کروں گا یہ ارشاد فرمائیں ظالم کی مدد کیسے کروں؟ فرمایا: ”اسے ظلم سے روک دو یہی اس کی مدد ہے۔“*کسی کی قَسم پوری کرنا بھی مَکارمِ اَخلاق (اخلاقی اچھائیوں میں)سے ہے جبکہ وہ جائز ہو اور اسے پوری کرنے پر قادر ہو نیز اس کا پورا کرنا مصلحت کے خلاف نہ ہو۔ *سلام کا جواب دینا واجب ہے اگر کسی جماعت کو سلام کیا جائے تو اس میں سے ایک کا جواب دینا کافی ہے اگرچہ وہ بچہ ہو اور اگر وہ سمجھدار ہے تو سلام کرنا سنت ہے مگر سلام کہنے میں زیادہ ثواب ہے۔*اسی طرح چھینک کا جواب دینا واجب ہے جب کسی کو چھینک آئے تو اسے چاہیے کہاَلْحَمْدُلِلّٰہکہے بہتر یہ ہے کہاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنکہے اب سننے والے پر جواب دینا واجب ہے اس کے جواب میں سننے والا یہ کہے:”یَرْحَمُکَ اللّٰہ۔“قسم پوری کرنے کا مطلب:حدیثِ مذکور میں بیان ہواکہ”قسم کھانے والے کی قسم پوری کرو۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:” یعنی اگر کوئی شخص آئندہ کے متعلق کسی ایسے کام کی قسم کھائے جوتم کرسکتے ہو تو ضرورکردو تاکہ اس کی قسم پوری ہوجائے اورکفارہ واجب نہ ہو،مثلًا کوئی کہے کہ خدا کی قسم کل تم میرے پاس ضرورآؤ گے یا اگر تم فلاں کام نہ کرو تو میری بیوی کو طلاق،ان صورتوں میں تم وہ کام ضرور کرلو،بشرطیکہ وہ کام ناجائز نہ ہو۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 894