Main Icon

باب:مریض کی عِیادت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 899

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِىٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْلُ :” مَا مِنْ مُسْلِم يَعُوْدُ مُسْلِمًا غُدْوَةً اِلَّا صَلَّی عَلَيْهِ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَكٍ حَتّٰى يُمْسِيَ،وَ اِنْ عَادَهُ عَشِيَّةً اِلَّا صَلَّی عَلَيْهِ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَكٍ حَتّٰى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيْفٌ فِي الْجَنَّةِ .“

عن على رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول :” ما من مسلم يعود مسلما غدوة الا صلی عليه سبعون الف ملك حتى يمسي،و ان عاده عشية الا صلی عليه سبعون الف ملك حتى يصبح، وكان له خريف في الجنة .“

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیرخداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ”جو مسلمان کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو ستّر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کو عیادت کرے تو ستّر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور عیادت کرنے والے کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا ۔“

شرح حدیث

معمولی سی نیکی لا تعداد فرشتوں کی دعا کا سبب:”خریف‘‘چنے ہوئے پھلوں کو بھی کہتے ہیں اور باغ کو بھی،یہاں دوسرے معنی مراد ہیں یعنی بیمار پُرسی معمولی سی نیکی معلوم ہوتی ہے مگر یہ لاتعداد فرشتوں کی دعا ملنے کا ذریعہ ہے اور جنت ملنے کا سبب بشرطیکہ صرف رضائے الٰہی کے لیے ہو۔( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی حَنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”معلوم ہواکہ رات میں بھی مریض کی عیادت کر سکتے ہیں(جبکہ مریض کو پریشانی نہ ہو)۔یہ حدیث اُس حدیث کی طرح ہے جس میں فرمایا کہ عیادت کرنے والا جنت کے باغوں میں ہے۔مطلب یہ ہے کہ عیادت کرنے والا اپنی اِس کوشش کی وجہ سے جنت اور اُس کے پھلوں کا مستحق بن جاتا ہے۔“مریض کی عیادت کب کی جائے؟نورکے پیکر،تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’مریض کی عیادت وقفہ کے ساتھ کرو(یعنی پہلے دن کی عیادت کےبعد)دودن چھوڑ کرچوتھے دن عیادت کرو۔“حضرت سیِّدُنا طاؤسرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:”افضل عیادت وہ ہے جس میں تخفیف ہو۔“حضرت سیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَانےفرمایا:”ایک بار مریض کی عیادت کرنا سنت اور ایک سے زیادہ مرتبہ نفل ہے۔“ایک بزرگ فرماتے ہیں:”مریض کی عیاد ت تین دن کے بعدہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 899