Main Icon

باب:مریض کی عِیادت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 896

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: اِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، قَالَ: يَارَبِّ! كَيْفَ اَعُوْدُكَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ؟ قَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ عَبْدِيْ فُلاَناً مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ،اَمَا عَلِمْتَ اَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟ يَا ابْنَ آدَمَ اِسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، قَالَ: يَارَبِّ! كَيْفَ اُطْعِمُكَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ؟، قَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّهُ اِسْتَطْعَمَكَ عَبْدِيْ فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ اَمَا عَلِمْتَ لَوْ اَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذٰلِكَ عِنْدِيْ ؟ يَا ابْنَ آدَمَ اِسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تُسْقِنِي، قَالَ: يَارَبِّ! كَيْفَ اَسْقِيْكَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ؟ قَالَ: اِسْتَسْقَاكَ عَبْدِيْ فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ، اَمَا عَلِمْتَ اَنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجَدْتَ ذٰلِكَ عِنْدِيْ ؟

عن ابی هريرة رضي الله عنه قال، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان الله عز وجل يقول يوم القيامة:يا ابن آدم مرضت فلم تعدني، قال: يارب! كيف اعودك وانت رب العالمين؟ قال: اما علمت ان عبدي فلانا مرض فلم تعده،اما علمت انك لو عدته لوجدتني عنده؟ يا ابن آدم استطعمتك فلم تطعمني، قال: يارب! كيف اطعمك وانت رب العالمين؟، قال: اما علمت انه استطعمك عبدي فلان فلم تطعمه اما علمت لو اطعمته لوجدت ذلك عندي ؟ يا ابن آدم استسقيتك فلم تسقني، قال: يارب! كيف اسقيك وانت رب العالمين؟ قال: استسقاك عبدي فلان فلم تسقه، اما علمت انك لو سقيته لوجدت ذلك عندي ؟

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہےکہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اللّٰہتعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا:”اے ابن آدم! میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہ کی؟“ وہ عرض کرے گا:” اے میرے رب! میں تیری عیادت کیسے کرتا تُوتورَبُّ الْعَالَمِیْنہے؟“اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا:”کیا تجھے علم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہےلیکن تو نے اُس کی عیادت نہ کی اگرتُو اُس کی عِیادت کرتا تو ضرور مجھے وہاں پاتا ۔“پھراللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرمائے گا:”اے ابنِ آدم! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا لیکن تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا ؟“ وہ عرض گزارہوگا :”اے میرے رب!میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا تُوتورَبُّ الْعَالَمِیْنہے؟“اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا:” کیا تو نہیں جانتا تھا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا لیکن تو نے اُسے کھانا نہ کھلایا، کیا تجھے معلوم نہ تھاکہ اگرتو اس کوکھانا کھلا دیتا تو اس کا اجر میرے پاس پاتا۔“ پھراللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشادفرمائے گا:”اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی طلب کیا لیکن تونے مجھے پانی نہ پلایا۔“بندہ عرض کرےگا:”اےمیرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا تُو تورَبُّ الْعَالَمِیْنہے؟“اللّٰہتعالیٰ ارشاد فرمائے گا:” کیا تجھے معلوم نہیں ، میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا اور تُو نے اسے پانی نہ پلایا، اگر تو اسے پانی پلا دیتا تو ضرور اس کا اجر آج مجھ سے پاتا۔‘‘

شرح حدیث

مریض پر ربِّ کریم کی خاص عنایت:مرآۃ المناجیح میں ہے:”اس(حدیث)میں اشارۃً یہ فرمایا گیا کہ بندہ مؤمن بیماری کی حالت میں ربّ تعالیٰ سے اتنا قریب ہوتا ہے کہ اس کے پاس آنا گویا ربّ کے پاس ہی آناہے اور اس کی خدمت گویا رب کی اطاعت ہے بشرطیکہ صابر وشاکر ہوکیونکہ بیمار مؤمن کا دل ٹوٹا ہوتاہے اور ٹوٹے دل بیمار کاشانۂ یار ہیں، حدیثِ قدسی ہے:”اَنَا عِنْدَ الْمُنْکَسِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ لِاَجَلِیْمیں ٹوٹے دل والوں کے پاس ہوں۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِیْ قَارِیْ حَنَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:کل بروزِ قیامتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّانسانوں سے کلام فرمائے گا، یہ کلام یا تو فرشتے کے ذریعے ہوگا یا پھر بِلا واسطہ وحی عام کے ذریعے ہوگا یا بندے کے دل میں اِلقا کر کےہوگا۔اللّٰہتعالیٰ فرمائے گا:”میں بیمار ہوا تُو نے میری عِیادت نہ کی۔“ اِس سے بندے کا بیمار ہونا مراد ہے اور اُس بندے کا مرتبہ بیان کرنے کے لیے بیماری کی نسبت اپنی طرف کی۔ اِس سے پتا یہ چلا کہ جس نےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رِضا کے لیے کسی مریض کی عیادت کی گویا اُس نےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی زیارت کی۔ بندہ عرض کرے گا:یَااللّٰہ! تُو بیمار کیسے ہوسکتا ہے کہ مرض تو عاجز کو ہوتا ہے جب کہ تُو تو قوی ہے، مالک ہے، تُو مریض کیسے ہوسکتا ہے،میں تیری عیادت کیسے کر سکتا ہوں؟اللّٰہتعالیٰ فرمائے گا :میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تو نے اس کی عیادت کیوں نہ کی؟ کیا تو نہیں جانتا تھا کہ اگر تُو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا یعنی وہاں میری رِضا مندی پاتا۔ اِس میں اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہاللّٰہتعالیٰ کو مریض کی عجز و اِنکساری کی حالت بہت پسند ہےجیسا کہ حدیثِ قُدسی میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے فرمایا:”جودل میری خاطرٹوٹے ہوئے ہیں میں ان کے قریب ہوں۔“اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اِس حدیث میں اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عیادت کرنے کاثواب کسی کو کھانا کھلانے اور پانی پلانے سے زیادہ ہے کیونکہاللّٰہتعالیٰ نے عیادت کرنے والے کے لیے فرمایا:”اگر تو عیادت کرتا تو مجھے وہاں پاتا۔“جبکہ کھانا کھلانے اور پانی پلانے کے بارے میں فرمایا :”اگر تو کھانا کھلاتا یا پانی پلاتا تو اس کا اجر مجھ سے پاتا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 896