Main Icon

باب:مریض کی عِیادت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 898

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ :” اِنَّ الْمُسْلِمَ اِذَا عَادَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتّٰى يَرْجِعَ “ قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ! وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ :”جَنَاهَا“.

عن ثوبان رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال :” ان المسلم اذا عاد اخاه المسلم لم يزل في خرفة الجنة حتى يرجع “ قيل : يا رسول الله! وما خرفة الجنة ؟ قال :”جناها“.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سیدنا ثوبانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضورنبی کریم، رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”بیشک جب مسلمان اپنے مسلمان بھا ئی کی عیادت کرتاہے تو واپس آنے تک جنت کے خُرفے میں رہتا ہے۔“عرض کی گئی :”یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جنت کا خُرفہ کیا ہے؟“فرمایا:”جنت کے پھل چننا۔“

شرح حدیث

جنتی میوے جمع کرنے والا:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی حَنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:” خُرفہ کے معنی باغ ہے یا پھل چننا۔ یعنی عیادت کرنے والا جنت کے باغات میں میوے کھاتا رہتا ہے یا پھر جنت کے پھلوں کو چنُتا رہتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے :”عیادت کرنے والا جنت کے باغات میں میوے کھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ عیادت کرکے لوٹ آئے۔“ یعنی عیادت کرنے والا ثواب کو اس طرح جمع کرتا ہے جیسے کوئی شخص کھجور کے باغ میں اس کا پھل جمع کرتا ہے۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”خرفہ باغ کو بھی کہتے ہیں اور باغ سے چنے ہوئے پھلوں کوبھی اور خود چننے کوبھی،یعنی چونکہ بیمار پُرسی کا ثواب جنت ہے اس لیے جو بیمار پرسی کرنے گیا گویا جنت ہی میں چلا گیا جیسے کہا جاتا ہے کہ جو ریل میں بیٹھ گیا گویا منزل پرپہنچ گیا۔“مریض کی عیادت کے8آداب:(1)…مریض کے پاس تھوڑی دیربیٹھے۔(2)…کم سوالات کرے۔(3)…نرمی کا اظہار کرے۔(4)… اس کی تندرستی کی دعا کرے۔(5)…بدنگاہی سے خود کو بچائے۔(6)…اجازت لیتے وقت دروازے کے سامنے کھڑا نہ ہو۔(7)…اس کے گھر کا دروازہ آہستہ کھٹکھٹائے۔(8)…جب پوچھا جائے کون؟تو یہ نہ کہے ’’میں ہوں‘‘(بلکہ نام بتائے)اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی تسبیح وتحمید بجالائے۔عیادت کی فضیلت پر 4فرامین مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)مریض کی کامل عیادت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اس کی پیشانی یا اس کے ہاتھ پر رکھے اور اس سے اس کی طبعیت کے بارے میں پوچھے اور تمہارے سلام کی تکمیل مصافحہ ہے۔(2)جو مریض کی عیادت کرتاہےوہ جنت کے باغات میں بیٹھتاہے یہاں تک کہ جب وہ کھڑا ہوتاہے تو 70 ہزار فرشتے رات تک اس کے لئےدعا کرتے ہیں۔(3)جب بندہ مریض کی عیادت کرتا ہے تو وہ رحمت الٰہی کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے اور جب مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو رحمت الٰہی اس میں قرار پکڑتی ہے۔(4)جب مسلمان اپنے بھائی کی عیادت یا اس کی زیارت کو جاتا ہے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتا ہے:تواچھا ہے،تیرا چلنا بھی اچھا ہے اور تو نے جنت میں گھر بنا لیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 898