Main Icon

باب:مریض کی عِیادت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 895

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ :”حَقُّ الْمُسلِمِ عَلَى الْمُسلِمِ خَمْسٌ رَدُّ السَّلام وَعِيَادَةُ المَريْضِ وَاِتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ وَاِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَتَشْمِيْتُ الْعَاطِسِ.“

عن ابی هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال :”حق المسلم على المسلم خمس رد السلام وعيادة المريض واتباع الجنائز واجابة الدعوة وتشميت العاطس.“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”مسلمان پر دوسرے مسلمان کے پانچ حقوق ہیں۔سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا،دعوت قبول کرنا، چھینکنے والے کا جواب دینا۔“

شرح حدیث

حدیث کی وضاحت:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”بیمارکی عیادت اور خدمت یوں ہی جنازے کے ساتھ جانا عام حالات میں سنت ہے لیکن جب کوئی یہ کام نہ کرے تو فرض ہے،کبھی فرضِ کفایہ،کبھی فرضِ عین،یوں ہی دعوت میں شرکت کھانے کے لیے یا وہاں انتظام و کام و کاج کے لیے سنت ہے،کبھی فرض لیکن اگر خاص دسترخوان پرناجائز کام ہوں جیسے شراب کا دَور یا ناچ گانا تو شرکت ناجائزہے۔چھینکنے والا”اَلْحَمْدُﷲ“ کہے تو سننے والے سب یا ایک جواب میں کہیں ”یَرْحَمُكَ اﷲ“ پھر چھینکنے والاکہے”یَھْدِیْکُمُ اﷲُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ“اور اگر وہ حمد نہ کرے یا اسے زکام ہےکہ بار بار چھینکتا ہے تو پھر جواب ضروری نہیں۔سلام کرنا سنت ہے اور جواب دینا فرض مگر ثواب سلام کا زیادہ ہے،یہ ان سنتوں میں سے ہے جس کا ثواب فرض سے زیادہ ہے۔“مدنی گلدستہ’’ بیتاللّٰہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہاور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) عیادت کا طریقہ یہ ہے کہ اپنا ہاتھ بیمار کی پیشانی یا ہاتھ پر رکھ کر اس کی طبیعت پوچھے ۔
(2) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخود مریضوں کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے اور دوسروں کوبھی ساتھ چلنے کی ترغیب دیتے۔عیادتِ مریض اور جنازے میں شرکت کرناسنت ہے۔
(3) جو قدرت رکھتا ہو اسے مظلوم کی مدد کرنا واجب ہے۔
(4) دعوت قبول کرنا سنت ہے جبکہ جانتا ہوکہ وہاں کوئی غیر شرعی کام یعنی ناچ گانا وغیرہ نہ ہوگا۔
(5) سلام کرنے والے کو اتنی آواز سے جواب دینا واجب ہے کہ وہ خود سُن لے۔
(6) جنازے کے ساتھ جانا اور نماز و دفن میں شریک ہونے پر دو قیراط ثواب ملتا ہے۔
(7) جنازے کے ساتھ جانا عام حالات میں سنت ہے لیکن جب کوئی یہ کام کرنے والا نہ ملے تو فرض ہے،کبھی فرضِ کفایہ،کبھی فرضِ عین۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق اداکرنےکی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 895