- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- حدیث نمبر 900
باب:مریض کی عِیادت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 900
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم، فَمَرِضَ فاَ تَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَعُوْدُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَاْسِهِ، فَقَالَ لَهُ:اَسْلِمْ، فنَظَرَ اِلى اَبِيْهِ وَهُوَ عِنْدَهُ فَقَالَ: اَطِعْ اَبَا الْقَاسِمِ، فَاَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم، وَهُوَ يَقُوْلُ:اَلْحَمْدُ للَّهِ الَّذِي اَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ.
عن انس رضي الله عنه قال: كان غلام يهودي يخدم النبي صلى الله عليه وسلم، فمرض فا تاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده، فقعد عند راسه، فقال له:اسلم، فنظر الى ابيه وهو عنده فقال: اطع ابا القاسم، فاسلم، فخرج النبي صلى الله عليه وسلم، وهو يقول:الحمد لله الذي انقذه من النار.
حدیث ترجمہ
حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”ایک یہودی لڑکا حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت گزاری کیا کرتا تھا ،وہ بیمار ہوا تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُس کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور اُس کے سِرہانے بیٹھ کر ارشاد فرمایا: ”اسلام قبول کرلو۔“ اُس لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تووہ بولا:”ابو القاسم (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی بات مان لو، تو اُس لڑکے نے اسلام قبول کرلیا۔ پس نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہاں سےیہ فرماتے ہوئے اٹھے:”شکر ہے اُس خدا کا جس نے اِسے دوزخ سے بچالیا۔“
شرح حدیث
خدمتِ مصطفےٰ کا عظیم صلہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس یہودی بچہ کا نام عبدالقدوس تھا جو اپنی خوشی سےحضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت کیا کرتا تھا۔معلوم ہوا کہ کفار کے بچے اگر بخوشی ہماری صحبت یا خدمت اختیارکریں تو انہیں روکنا نہ چاہیئے،بسا اوقات اس سے انہیں ایمان نصیب ہوجاتا ہے۔ اس(حدیث) سے معلوم ہوا کہ (ذمی )کافر و فاسق کی بیمار پرسی جائز ہے اوربیمار پرسی کے وقت بیمار کے سرہانے بیٹھنا سنت ہے اور کافر بچے کوبھی ایمان کی تلقین کرنا درست ہے اور کافر بچے کا ایمان قبول ہے جبکہ وہ سمجھ دار ہو اور یہ کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنے خدام کو بھولتے نہیں،مرتے وقت بھی اُن کی امدادکرتے ہیں۔اس حدیث سےہم گنہگاروں کو امید بندھتی ہے کہاِنْ شَاءاﷲحضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمہم کو مرتے وقت نہ بھولیں گے،اُس وقت ہماری دستگیری فرمائیں گے۔علما فرماتے ہیں کہ اب بھی حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنے خاص خدام کو ان کے مرتے وقت کلمہ پڑھانے تشریف لاتے ہیں،ایسے لوگ دیکھے گئےجنہوں نے مرتے وقت حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی تشریف آوری کی خبرحاضرین کو دی خود بستر مرگ پر اٹھ کھڑے ہوئے حاضرین سے کہاتعظیم کرو!حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمآگئے۔(یہ بھی) معلوم ہوا کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت رائیگاں نہیں جاتی۔دیکھو اس بچہ نے اس خدمت پاک کی برکت سے مرتے وقت ایمان پالیا۔ربّ تعالیٰ فقیر کی یہ دینی خدمات قبول فرمائے اور اس بچہ کے طفیل سے مجھے بھی مرتے وقت کلمہ نصیب کرے۔آمین! مرتے وقت کا ایمان بھی قبول ہے غرغرہ سے پہلے اور بچے کا ایمان بھی معتبر۔خیال رہے کہ مشرکین وکفار کے وہ ناسمجھ بچے جنہیں بُرے بھلے کی تمیز نہ ہو اگر اسی حال میں مرجائیں توجہنمی نہیں کہ رب بغیر قصورکسی کو عذاب نہیں دیتا لیکن باشعور بچےجہنمی ہیں،چونکہ یہ بچہ سمجھدار تھا اگربغیر ایمان مرجاتا تو دوزخ میں جاتا،لہٰذا حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا فرمان بالکل درست ہے کہ ایمان کی وجہ سےﷲنے اسے بالکل دوزخ سے بچالیا۔“حدیث سے حاصل ہونے والے مسائل:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”معلوم ہواکہ اتنا سمجھ دار بچہ جسے اِسلام اور کفر کا پتا ہو اگر ایمان نہ لائے تو عذاب کا مستحق ہے کیونکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس حدیث میں فرمایا: ”شکر ہے اُس خدا کا جس نے اِسے دوزخ سے بچایا۔“یہ بھی پتا چلا کہ ذِمّیوں کی عیادت کرنا جائز ہے خصوصاً جب کہ وہ ذمّی پڑوسی ہو اس لیے کہ اس میں اسلام کے حُسن کا اظہار ہےاور اُن کے ساتھ الفت کا اظہار ہے تاکہ وہ اسلام کی طرف راغب ہوں۔ کافروں سے اور بچوں سے خدمت لینا جائز ہے۔ نیز اِس حدیث میں کافر بچوں پر اسلام پیش کرنے کا بھی ثبوت ہے۔“مدنی گلدستہ’’فاروق‘‘کے5حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بیمار پُرسی کے وقت بیمار کے سِرہانے بیٹھنا چاہیے جبکہ ممکن ہو۔
(2) اتنا سمجھ دار بچہ جسے کفر و ایمان کی سمجھ ہو اگر ایمان قبول کئے بغیر مر جائے تو عذاب نارکا مستحق ہے۔
(3) عیادت کرنے والا ابتدائے عیادت سے واپس لوٹنے تک جنت کے پھل چنتا رہتا ہے۔
(4) عیادت کے وقت مریض کے پاس اتنی دیر تک نہیں بیٹھناچاہئےکہ اسے تکلیف یا اُ کتاہٹ ہو۔
(5) مریض کی عیادت بظاہر ایک معمولی عمل ہے مگر اس کااجر اتناعظیم ہےکہ ستر ہزار فرشتے عیادت کرنے والے کے لیے دعا کرتے ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بیمارپرسی کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 900