Main Icon

باب:مریض کی عِیادت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 900

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم، فَمَرِضَ فاَ تَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَعُوْدُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَاْسِهِ، فَقَالَ لَهُ:اَسْلِمْ، فنَظَرَ اِلى اَبِيْهِ وَهُوَ عِنْدَهُ فَقَالَ: اَطِعْ اَبَا الْقَاسِمِ، فَاَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم، وَهُوَ يَقُوْلُ:اَلْحَمْدُ للَّهِ الَّذِي اَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ.

عن انس رضي الله عنه قال: كان غلام يهودي يخدم النبي صلى الله عليه وسلم، فمرض فا تاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده، فقعد عند راسه، فقال له:اسلم، فنظر الى ابيه وهو عنده فقال: اطع ابا القاسم، فاسلم، فخرج النبي صلى الله عليه وسلم، وهو يقول:الحمد لله الذي انقذه من النار.

حدیث ترجمہ

حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”ایک یہودی لڑکا حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت گزاری کیا کرتا تھا ،وہ بیمار ہوا تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُس کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور اُس کے سِرہانے بیٹھ کر ارشاد فرمایا: ”اسلام قبول کرلو۔“ اُس لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تووہ بولا:”ابو القاسم (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی بات مان لو، تو اُس لڑکے نے اسلام قبول کرلیا۔ پس نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہاں سےیہ فرماتے ہوئے اٹھے:”شکر ہے اُس خدا کا جس نے اِسے دوزخ سے بچالیا۔“

شرح حدیث

خدمتِ مصطفےٰ کا عظیم صلہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس یہودی بچہ کا نام عبدالقدوس تھا جو اپنی خوشی سےحضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت کیا کرتا تھا۔معلوم ہوا کہ کفار کے بچے اگر بخوشی ہماری صحبت یا خدمت اختیارکریں تو انہیں روکنا نہ چاہیئے،بسا اوقات اس سے انہیں ایمان نصیب ہوجاتا ہے۔ اس(حدیث) سے معلوم ہوا کہ (ذمی )کافر و فاسق کی بیمار پرسی جائز ہے اوربیمار پرسی کے وقت بیمار کے سرہانے بیٹھنا سنت ہے اور کافر بچے کوبھی ایمان کی تلقین کرنا درست ہے اور کافر بچے کا ایمان قبول ہے جبکہ وہ سمجھ دار ہو اور یہ کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنے خدام کو بھولتے نہیں،مرتے وقت بھی اُن کی امدادکرتے ہیں۔اس حدیث سےہم گنہگاروں کو امید بندھتی ہے کہاِنْ شَاءاﷲحضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمہم کو مرتے وقت نہ بھولیں گے،اُس وقت ہماری دستگیری فرمائیں گے۔علما فرماتے ہیں کہ اب بھی حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنے خاص خدام کو ان کے مرتے وقت کلمہ پڑھانے تشریف لاتے ہیں،ایسے لوگ دیکھے گئےجنہوں نے مرتے وقت حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی تشریف آوری کی خبرحاضرین کو دی خود بستر مرگ پر اٹھ کھڑے ہوئے حاضرین سے کہاتعظیم کرو!حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمآگئے۔(یہ بھی) معلوم ہوا کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت رائیگاں نہیں جاتی۔دیکھو اس بچہ نے اس خدمت پاک کی برکت سے مرتے وقت ایمان پالیا۔ربّ تعالیٰ فقیر کی یہ دینی خدمات قبول فرمائے اور اس بچہ کے طفیل سے مجھے بھی مرتے وقت کلمہ نصیب کرے۔آمین! مرتے وقت کا ایمان بھی قبول ہے غرغرہ سے پہلے اور بچے کا ایمان بھی معتبر۔خیال رہے کہ مشرکین وکفار کے وہ ناسمجھ بچے جنہیں بُرے بھلے کی تمیز نہ ہو اگر اسی حال میں مرجائیں توجہنمی نہیں کہ رب بغیر قصورکسی کو عذاب نہیں دیتا لیکن باشعور بچےجہنمی ہیں،چونکہ یہ بچہ سمجھدار تھا اگربغیر ایمان مرجاتا تو دوزخ میں جاتا،لہٰذا حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا فرمان بالکل درست ہے کہ ایمان کی وجہ سےنے اسے بالکل دوزخ سے بچالیا۔“حدیث سے حاصل ہونے والے مسائل:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”معلوم ہواکہ اتنا سمجھ دار بچہ جسے اِسلام اور کفر کا پتا ہو اگر ایمان نہ لائے تو عذاب کا مستحق ہے کیونکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس حدیث میں فرمایا: ”شکر ہے اُس خدا کا جس نے اِسے دوزخ سے بچایا۔“یہ بھی پتا چلا کہ ذِمّیوں کی عیادت کرنا جائز ہے خصوصاً جب کہ وہ ذمّی پڑوسی ہو اس لیے کہ اس میں اسلام کے حُسن کا اظہار ہےاور اُن کے ساتھ الفت کا اظہار ہے تاکہ وہ اسلام کی طرف راغب ہوں۔ کافروں سے اور بچوں سے خدمت لینا جائز ہے۔ نیز اِس حدیث میں کافر بچوں پر اسلام پیش کرنے کا بھی ثبوت ہے۔“مدنی گلدستہ’’فاروق‘‘کے5حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بیمار پُرسی کے وقت بیمار کے سِرہانے بیٹھنا چاہیے جبکہ ممکن ہو۔
(2) اتنا سمجھ دار بچہ جسے کفر و ایمان کی سمجھ ہو اگر ایمان قبول کئے بغیر مر جائے تو عذاب نارکا مستحق ہے۔
(3) عیادت کرنے والا ابتدائے عیادت سے واپس لوٹنے تک جنت کے پھل چنتا رہتا ہے۔
(4) عیادت کے وقت مریض کے پاس اتنی دیر تک نہیں بیٹھناچاہئےکہ اسے تکلیف یا اُ کتاہٹ ہو۔
(5) مریض کی عیادت بظاہر ایک معمولی عمل ہے مگر اس کااجر اتناعظیم ہےکہ ستر ہزار فرشتے عیادت کرنے والے کے لیے دعا کرتے ہیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بیمارپرسی کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 900