Main Icon

باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 696

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ الله عَنْهُ:اَنَّ النَّبيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ اَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتّٰى تُفْهَمَ عَنْهُ وَ اِذَا اَتَي عَلٰى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا.

عن انس رضي الله عنه:ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا تكلم بكلمة اعادها ثلاثا حتى تفهم عنه و اذا اتي على قوم فسلم عليهم سلم عليهم ثلاثا.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروِی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کوئی بات اِرشاد فرماتے تو اُسے تین بار دُہراتے تاکہ اُسے سمجھ لیا جائے اور جب آپ کسی قوم کے پاس تشریف لے جاتے اور اُنہیں سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے۔

شرح حدیث

لوگوں کے اَذہان کے مطابق کلام:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’لوگوں کی ذِہنی صلاحیت مختلف ہوتی ہے، بعضوں کی ذِہنی اِستِعْداد اَعلیٰ قِسم کی ہوتی ہے ،بعضوں کی مُتَوَسِّط اور بعضوں کی اَدنیٰ دَرَجے کی، تو ہوسکتاہے اِسی لیے آپ تین مرتبہ بات دُہراتے ہوں(تاکہ اَدنیٰ دَرَجے کی بھی رِعایت ہوجائے)اور اِسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ جو تین مرتبہ میں بھی بات نہ سمجھ سکے وہ کبھی بھی نہیں سمجھ سکے گا۔‘‘تین بار سلام کرنے کی حکمت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی اَحمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتےہیں:’’لفظ سے مراد پوری بات ہے یعنی مَسائل بیان کرتے وقت ایک ایک مسئلہ تین تین بار فرماتے تاکہ لوگوں کے ذِہن میں اُتر جائے، ہر کلام مُراد نہیں۔(اور تین بار سلام کرتے اس کا مطلب یہ ہےکہ) ایک سلام اجازت حاصل کرنے کا،دوسرا ملاقات کا،تیسرا رخصت کا،لہٰذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور بوقتِ ملاقات ایک سلام کرتے تھےکیونکہ وہاں صرف ملاقات کا سلام مُراد ہے۔ بخاری شریف کے حاشیہ میں علامہ نورُ الدین محمد بن عبد الہادی سندھیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ظاہر یہ ہے کہ آپ عادت کے طَور پر بات کوتین بار نہیں دُہراتے تھے بلکہ جہاں حاجت ہوتی وہاں دُہراتے تھے۔“
نوٹ:اِس حدیث کی مزید شرح کیلئے اسی جلد کے باب132کی حدیث نمبر853 کامطالعہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ’’نَبِی‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جہاں موقع ہو وہاں بات کو تین مرتبہ دُہرانا چاہیے تاکہ مُخاطَب اچھی طرح بات سمجھ لے۔
(2) شرعی مَسائل بیان کرتے وقت بھی حَتَّی الاِمکان شرعی مسئلہ تین بار دُہرانا چاہیے۔
(3) کوئی بات سمجھاتے وقت اُستاذ کو کُند ذِہن طَلَبہ کی بھی رِعایت کرنی چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنی بات دوسروں کو آسان لفظوں میں سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 696