Main Icon

باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 697

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاقَالَتْ:كَانَ كَلاَمُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامًا فَصْلًا يَفْهَمُهُ كُلُّ مَنْ يَسْمَعُهُ.

عن عائشة رضي الله عنهاقالت:كان كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم كلاما فصلا يفهمه كل من يسمعه.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ سرکارِدوعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایسا صاف صاف اورجُدا جُدا کلام فرماتے تھے کہ ہر سُننے والا اُس کو سمجھ لیتا تھا۔

شرح حدیث

سر کارِمدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگفتگو اِس طر ح دِلنشین اَنداز میں ٹھہرٹھہر کر فرماتے کہ سُننے والا آسانی سے سمجھ لیتاتھااور اگر کوئی آپ کے اَلفاظ گننا چاہتا تووہ بھی گِن لیتا تھا،چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمہاری طرح جلدی جلدی بات نہیں کرتے تھے،آپ اِس طرح (ٹھہر ٹھہرکر)گُفتگوفرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص آپ کے اَلفاظ شمار کرنا چاہتا تو کرلیتا۔رسولِ خدا کے کلام کی کیفیت:مرآۃ المناجیح میں ہے:حُضورِ اَنور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا کلام شریف نہ تو لگاتار ہوتا تھا نہ جلد جلد بلکہ ایک جُملہ پر رُک جاتے تھے تاکہ سننے والا غور کرکے سمجھ لے اور ہر جُملے کے کلِمات بھی بَہت آہستگی سے اَدا ہوتے تھے کہ ہر کلمہ دل میں بیٹھ جاتا تھا کیونکہ حُضور اَنور کا ہر کلمہ تبلیغ کے لیے ہوتا تھا،اگر حُضور جلد یا مُسلسل یا بَہت زِیادہ کلام فرماتے تو لوگ بُھول جاتے، آپ کا کلام نہایت جامِع مگر مختصر ہوتا تھا کہ حضراتِ صحابہ (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)قرآن کی طرح اُسے یاد کرلیتے تھے وہ ہی حدیث کی شکل میں جمع ہوگیا،اُسی کلامِ مُبارَک سے آج دِین قائم ہے،اُسی کلامِ مُبارَک سے قرآن سمجھ میں آرہا ہے۔ایک صاحِب نے حُضورِ اَنور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے وَعظ جمع کیے وہ ایسے ہیں کہ آج واعظ حُضور کے بڑے وَعظ کو دس مِنَٹ میں کہہ سکتا ہے مگر اُن وَعظوں نے دُنیا پَلَٹ دی، ہوا کا رُخ بدل دیااَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَیْہِ۔میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!بات ہمیشہ مُخاطَب کے ظَرف اور اُس کی نفسیات کے مُطابِق کی جائے جیسا کہ کہا جاتا ہے:’’کَلِّمُواالنَّاسَ عَلٰی قَدْرِعُقُوْلِھِمْیعنی لوگو ں سے اُن کی عقلوں کے مُطابِق کلام کرو۔ اِس طرح کی باتیں نہ کی جائیں کہ دو سروں کی سمجھ میں نہ آئیں ،اَلفاظ بھی سادہ صاف صاف ہوں،مُشکِل ترین اَلفاظ بھی اِستعمال نہ کئے جائیں کہ اِس طر ح اَگلے پر آپ کی عِلمِیَّت کی دھاک تو بیٹھ جائے گی مگر مُدَّعا خاک بھی سمجھ نہ آئے گا ۔مدنی گلدستہ’’وَلِی‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) لگاتار اور جلدی جلدی نہیں بلکہ ٹھہر ٹھہر کرگُفتگو کرنی چاہیے۔
(2) لوگوں سے ان کی عقلوں کے مُطابِق بات کرنی چاہیے۔
(3) گُفتگو میں مُشکِل اَلفاظ بھی اِستعمال نہیں کرنے چاہئیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمیں گُفتگو کرنے کی سُنَّتو ں اور آداب پرعمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 697