- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروِی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کوئی بات اِرشاد فرماتے تو اُسے تین بار دُہراتے تاکہ اُسے سمجھ لیا جائے اور جب آپ کسی قوم کے پاس تشریف لے جاتے اور اُنہیں سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ الله عَنْهُ:اَنَّ النَّبيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ اَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتّٰى تُفْهَمَ عَنْهُ وَ اِذَا اَتَي عَلٰى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 696 ، باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ سرکارِدوعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایسا صاف صاف اورجُدا جُدا کلام فرماتے تھے کہ ہر سُننے والا اُس کو سمجھ لیتا تھا۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاقَالَتْ:كَانَ كَلاَمُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامًا فَصْلًا يَفْهَمُهُ كُلُّ مَنْ يَسْمَعُهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 697 ، باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان