Main Icon

باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 112

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَعْذَرَاللّٰہُ اِلَی امْرِءٍ اَخَّرَ اَجَلَہُ حَتّٰی بَلَغَ سِتِّیْنَ سَنَۃً. ( )

عن ابی ہریرۃرضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:اعذراللہ الی امرء اخر اجلہ حتی بلغ ستین سنۃ. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاس شخص کے ‏لیے کچھ عذر باقی نہیں چھوڑ تا جس کی عمر مُؤخر کردے یہاں تک کہ وہ ساٹھ 60سال تک پہنچ جائے ۔ ‘‘

شرح حدیث

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیحدیث کامعنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ علماء کرامرَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’ یعنی جب اُسے اتنی مدت تک مہلت دیتا ہے تو اس کے ‏لیے کوئی عذر نہیں چھوڑتا۔ اوراَعْذَرَ الرَّجُلُاس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی شخص عُذر کے انتہائی مرحلے پر پہنچ جائے۔ ‘‘ ( )عُذر باقی نہ چھوڑنے کا معنی:عمدۃُالقاری میں ہے: ’’ یعنی اس عمر میںاللہ عَزَّ وَجَلَّبندے کا عُذر قبول نہیں فرماتا۔اب اسے چاہیے کہاِسْتِغْفَارکرے، طاعت وفرمانبرداری اپنائے اورمکمل طورپرآخرت کی تیاری میں مشغول ہو جائے کیونکہ اب اس کے پاساللہ عَزَّ وَجَلَّکوپیش کرنے کے ‏لیے کوئی عذر نہیں رہا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنےاسے اتنی لمبی عمراور عبادت پر قوّت دی (لیکن وہ پھر بھی فرمانبراری کی طرف نہ آیا ) تو اب اس کا کوئی عذرقبول نہیں فرمائے گا۔ ‘‘ ( )
فتح الباری میں ہے: ’’ یعنی اب وہ یہ عذر نہیں کر سکتا کہ اگر مجھے مہلت ملتی تو میں احکام ِالٰہی بجا لاتا۔
جب تمام عمر میں قدرت کے باوجود عبادت ترک کر تا رہا تو اب اس عمر میں اس کے پاس کوئی عذر نہیں بچا اب اسے چاہیے کہ
اِسْتِغْفَارکرے۔ ‘‘ ( )بڑھاپے کے بعد فقط موت ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتےہیں : ’’ اس عبارت کے دومعنی ہیں : (۱) ایک یہ ( کہ)اَعْذَرَکےمعنی ہیں ’’ عذردُور کردیتاہے۔ ‘‘ یعنی بابِ اِفعال کا ہمزہ سلب کے ‏لیے ہے۔ تب مطلب یہ ہوگا کہ بچپن اور جوانی میں غفلت کا عذرسنا جاسکے گا مگر جو بڑھاپے میںاللہ تعالٰیکی طرف رجوع نہ کرے اس کا عذر قبول نہ ہوگا ۔کیونکہ بچپن میں جوانی کی امید تھی جوانی میں بڑھاپے کی، اب بڑھاپے میں سوا موت کے اور کس چیز کا انتظار ہے؟ اگر اب بھی عبادت نہ کرے تو سزا کے قابل ہے۔اس کا کوئی بہانہ قابل سننے کے نہیں ۔ (۲) دوسرےیہ کہاَعْذَرَکے معنی ہیں ’’ معذور رکھتا ہے۔ ‘‘ یعنی جو بوڑھا آدمی بڑھاپے کی وجہ سے زیادہ عبادت نہ کرسکے مگر جوانی میں بڑی عبادتیں کرتا رہا ہو تواللہ تَعالٰیاسے معذورقرار دے کر اس کے نامۂ اعمال میں و ہی جوانی کی عبادت لکھتا ہے۔ساٹھ 60سال پورا بڑھاپا ہے۔بوڑھے نوکر کی پنشن ہوجاتی ہے وہ رؤف و رحیم ربّ بھی اپنے بوڑھے بندوں کی پنشن کردیتا ہے مگر پنشن اس کی ہوتی ہے جو جوانی میں خدمت کرتا رہے۔ ‘‘ ( )
¥
عمر کے چار حصے:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ’’ اَطِبّاء کہتے ہیں عمر کے چار حصے ہیں : (۱) ایک حصہ سِن طُفُولِیّت ہے، یہ تیس30 برس تک ہے۔ (۲) دوسراحصہ سِن شَباب ہے، یہ چالیس40برس تک ہے۔ (۳) تیسراحصہ سن کَہُولَت ہے، یہ ساٹھ60برس تک ہے۔ (۴) چوتھا حصہ سن شَیْخوخت ہے، یہ ساٹھ 60سال کے بعد ہے۔ اس میں انسان کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔جس میں نقص اور
اِنحطاط ظاہر ہونے لگتا ہے۔ اور موت سر پر منڈلاتی پھرتی ہے۔یہ
اللہکی طرف رجوع کا وقت ہے اورجوانی میںرُجُوْعْ اِلَی اللہپیغمبری شیوہ ہے۔ ترمذی میں حضرت سَیِّدُنَاابوہريرہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) سےمرفوع روایت ہے کہ سید عالَمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ میری اُمَّت کی عمریں ساٹھ60 اور ستر 70سالوں کے درمیان ہیں ۔ بہت تھو ڑے لوگ اس سے اوپر عُمر پاتے ہیں ۔ الحا صل انسان ساٹھ 60سال تک قوی رہتا ہے اس کے بعد نقص اورہَرَم (بڑھاپا) شروع ہو جاتا ہے۔اس عمرمیںاللہ تعالٰیاس کے تمام عذرناقابلِ قبو ل کر دیتا ہے کیونکہ سن بلو غ سے ساٹھ 60سال تک کافی وقت ہے جس میں وہ سوچ بچار کرسکتا ہے۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ابھی ہماری زندگی کی سانسیں باقی ہیں ، اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّبڑے بڑے گناہ گاروں کو معاف فرمادیتا ہے۔چنانچہ،بوڑھے شرابی کی توبہ:عراق کے مشہورمبلغ حضرت سیِّدُنامَنصوربن عَمارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں کہ ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ آسمان کادروازہ کھلااورایک نورانی فرشتے نے مجھ سےآ کر کہا : ’’ اے ابن عمار!خدائے جبَّار وقہَّار، دن رات کا خالقعَزَّ وَجَلَّتمہیں سلام فرماتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ کل شراب خانے میں نصیحت بھرا بیان کرنا، اس میں ہمارے بہت سے راز پوشیدہ ہیں اورہم تمہیں اپنی عجیب نشانیاں دکھائیں گے۔ ‘‘
میں گھبراکربیدارہوااوراسےاپناوہم سمجھ کر ”
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ“ پڑھااورسوچنے لگا کہ آیاتِ قرآنیہ اوراَحادیثِ مبارکہ نااہلوں کے سامنے شراب خانے میں کیسے پڑھی جاسکتی ہیں ؟ چنانچہ میں نے وضو کیا اوردو رکعت نماز پڑھی اور سو گیا۔ وہی فرشتہ دوبارہ نظر آیا اور کہنے لگا : ’’اے منصور! میںاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کے حکم سے آیا ہوں ۔اٹھو اور شراب خانے میں وعظ ونصیحت کرو ، تمہاری حفاظت ہمارے ذمۂ کرم پر ہے۔ ‘‘ میں گھبرا کر بیدار ہوا اور سوچنے لگا کہ کسی کو منبر اٹھوانے کے ‏لیے بلاتا ہوں ۔اتنے میں کسی نے دروازے پر دستک دی۔میں نے پوچھا: ’’ کون؟ ‘‘ کہا: ’’ اے محترم!میں منبر اٹھانے کے ‏لیے حاضر ہوا ہوں ۔ بتائیے آپ کا منبر شراب خانے کے درمیان میں رکھواؤں یا مٹکوں کے درمیان؟ ‘‘ میں نے پوچھا : ’’ تجھ پر یہ راز کیسے ظاہرہوا؟ ‘‘ کہا: ’’ اُسی نے ظاہر کیا ہےجو کسی شئے کو ”کُنْ“ (یعنی ہوجا) فرماتا ہےتو وہ ہوجاتی ہے۔ جوفرشتہ آج رات آپ کے پاس آیاتھا ، وہی میرے پاس بھی آیا اور مجھے حکم دیاکہ میں آپ کے ‏لیے شراب خانے میں منبر بچھا دوں ۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسے تم کہہ رہے ہو تو وہی کرو جس کاتمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ‘‘ پھرجب صبح خوب روشن ہو گئی۔تومیں نے دیکھا کہ تمام شرابی حلقہ بنائے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔ میں منبر پربیٹھ گیا کچھ دیر کے ‏لیے سر جھکايا پھر یوں بیان شروع کیا:
’’ سب خوبیاں اس ذات کے ‏لیے ہیں جس نے اپنے محبوب بندوں کے دلوں کواپنے قرب کی لذت عطا فرمائی اور انہیں اپنے مے خانۂ وصال میں داخل کیا اور اپنی شرابِِ طہور سے سیراب کر کے اپنے غیر سے بے خبر کر دیا۔ اور محب اپنے محبوب کے علاوہ کسی شے میں مشغول نہیں ہوتا۔ جب ربِّ جلیل
عَزَّ وَجَلَّنے ان پر تجلِّی فرمائی تو جمالِ قدرت کے مشاہدے کے وقت اُن کے ہوش اڑ گئے۔ اے خواہشات کی شراب میں بدمست ہونے والو! تم محبتِ الٰہی کے مے خانے میں داخل ہوجاؤاورشراب کے مٹکوں کے بجائے قُرب کے گھڑوں کا مشاہدہ کرو ، بخشنے والے ربّعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں صاحب ِوقارمَردوں کو دیکھوکہ ان پر خوشی و مسرت کے جام گردش کر رہے ہیں ، خالص شراب ِطہورکے پیالوں نے ان کو دنیا کی شراب سے بے پرواہ کر دیا ہے، ان کے پیالے اُن کی خوشی و مسرت، ان کی شراب ذِکْرِ الٰہی ، ان کی خوشبو اُن کا قرآن ، ان کی شمع ان کی سماعت اور ان کے نغمے توبہ واِسْتِغْفَارہیں ۔ جب رات تاریک ہوتی ہے اور سب لوگ سو جاتے ہیں تو ربّ ِکائناتعَزَّ وَجَلَّان پر تجلِّی فرماتا اورپردے اُٹھا دیتاہے۔اوراس کے محبوب بندے ایسے جہاں کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جس کاتصورکسی کی عقل میں آیا، نہ کسی کے ذہن میں اس کا خیال گزرا۔ اے عقل مندو!ذرا غورتوکروکہ اَخروٹ اور اس کے چِھلکے کے درمیان کتنا فاصلہ ہوتا ہے، دلوں کی ٹہنیوں کو حرکت دینے والے اورحضرت سَیِّدُنَا یعقوب و یوسفعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ملانے والے نے مجھے یہاں بیٹھنے کا اس ‏لیے حکم فرمایا ہے تاکہ وہ تمہارے گناہوں اور نافرمانیوں کو بخش دے اور عفوورضا کی دولت کا تاج تمہارے سرپررکھ دے، ماضی کے گناہوں کو مٹادے، مجرموں سے درگزر فرمائے اور دُھتکارے ہوؤں اور نافرمانوں کی توبہ قبول فرمائے۔ ( غورکرو!) حقیقی محبوب موجود ہے۔ وہ تمہیں دیکھ رہا ہےاور مصیبت تم سے ٹال دی گئی ہے، تو کیا تم میں توبہ کا عَزْمِ مُصَمَّمْ کرنے والا کوئی نہیں ؟ بے شک!صلح کے جام تمہارے اِردگرد گُھوم رہے ہیں اورتم پرسخاوت کی ہوائیں چل رہی ہیں ۔ ‘‘
حضرت سیِّدُنا مَنصور بن عمار
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں کہ میرا کلام و بیان ابھی مکمل نہ ہوا تھا کہ نشے میں مدہوش ایک نوجوان ہاتھ میں شراب سے بھراپیالہ ‏لیے میرے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: ’’ اے ابن عمار! بتائیے! کیااللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے اس حالت میں بھی قبول فرما لے گا ؟ ‘‘ میں نے کہا کہ اے میرے دوست! ضرورقبول فرمائے گا وہ خود قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ(پ۲۵، الشوریٰٰ:۲۵)ترجمۂ کنزالایمان: اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا۔
یہ سن کرنوجوان نے شراب کاجام پھینکا اورحیران وسرگرداں باہرنکل گیا۔وہ خواب غفلت سے بیدار ہو چکا تھا ۔ پھر نشے میں چُور ایک بوڑھا شخص ہاتھ میں طنبورہ (ایک قسم کا باجا) ‏لیے کھڑا ہوااور کہنے لگا: ’’ اے ابن عمار! کیا
اللہ عَزَّ وَجَلَّاس شخص کی توبہ قبول فرمائے گا جس کی تمام عمر نافرمانی اور گناہوں میں ضائع ہو گئی ہے؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اےمحترم! وہ ضروربخشے والا ہے۔کیونکہ وہ خود ارشاد فرماتاہے:وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ(پ۱۶، طہ:۸۲)ترجمۂ کنزالایمان:اوربے شک میں بہت بخشنے والا ہوں ۔
اس نے توبہ کرنے والوں کو خوشخبری دی ہے اوران کے ‏لیے رحم و کرم کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ‘‘ بوڑھے شرابی نے میرا کلام سنا تو طنبورہ پھینک دیا، اور غمگین حالت میں جدھر رُخ تھا اُدھرنکل گیا، وہ بھی غفلت کی نیند سے بیدار ہو چکا تھا۔ ( )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔آمین)
¥
آئیے!توبہ کرلیجئے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آئیے! ہم بھی توبہ کرلیں ، اپنے گناہوں پر رولیں ، یہ رونے کا ہی مقام ہے۔آئیے!اپنی محرومی کے بارے میں گریہ و زاری کرلیں ، شاید یہ رونا اور گریہ وزاری کرنا ہمارے کام آجائے، بالوں کی سفیدی پیغامِ اَجل دے رہی ہے، اے جوانی سے بڑھاپے تک عبادت و ریاضت میں پیچھے رہ جانے والے! قافلہ کوچ کرچکا ہے، تیرا دن تلاشِ معاش میں اور رات خوابِ غفلت میں گزرتی ہے، تونے جوانی کی بہاریں یونہی غفلت میں گزاردیں ، نا فرمانیوں کی خزاں چھاگئی ہے، اگر تو اب بھی نادم ہوکر توبہ کرلے تواللہ عَزَّ وَجَلَّبڑا غفور ورحیم اور معاف فرمانے والا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں معاف فرمائےاور ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔آمینصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
¥
مدنی گلدستہ
’’ غوثِ پاک ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
جس ربِّ کریم کی بے شمار عطاؤں اوراِحسانات کی وجہ سے اِنسان دنیا میں زندہ ہے اور طرح طرح کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے ، اُس کی نافرمانی کرنا بہت بڑی حماقت و محرومی ہے ۔
(2) نافرمانی کرتے جس کی عمر ساٹھ60 سال تک پہنچ جائے، اُس کے پاس بارگاہِ الٰہی میں پیش کر نے کے ‏لیے کوئی عذرنہیں بچتا۔
(3) جوانی میں عبادت وریاضت اختیار کرنا پیغمبروں کا شیوہ ہے ۔
(4) جس کی ساری عمر نافرمانیوں میں گزری ہو اسے چاہیے کہ زندگی کے بقیہ ایام کو غنیمت جان کر خوب توبہ واستغفار کرے، نیک اعمال کی طرف متو جہ ہواور اب لمحہ بھر کے ‏لیے بھی اپنے ربّ کریم کی نافرمانی نہ کرے ۔
(5)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے نیک بندوں کی زبان میں ایسی تاثیر دیتا ہے کہ ان کی باتیں سن کر بڑے بڑے گناہگاہ بھی تائب ہو جاتے ہیں ۔
(6) جب
اللہ عَزَّ وَجَلَّکسی کو توبہ کی توفیق دینا چاہتا ہےتو اس کے ‏لیے توبہ کے ذرائع بھی خود ہی مہیا فرمادیتا ہے، ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے تمام گناہوں سے توبہ کریں اور نیکیوں بھری زندگی گزاریں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی جوانی اور بڑھاپا دونوں میں گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں ایمان پر سلامتی اور ایمان پر ہی خاتمہ نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 112