- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- حدیث نمبر 114
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ:مَا صَلَّی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃً بَعْدَ اَنْ نَزَ لَتْ عَلَیْہِ: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) اِلَّا یَقُوْلُ فِیْہَا:سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰہمَّ اغْفِرْلِیْ. ( )
وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِیْ الصَّحِیْحَیْنِ عَنْہَا: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکْثِرُ اَنْ یَقُوْلَ فِیْ رُکُوْعِہِ وَسُجُوْدِہِ: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ یَتَاَوَّلُ الْقُرْاٰنَ. ( )
وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ قَبْلَ اَنْ یَّمُوْتَ:سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ. قَالَتْ عَائِشَۃُ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! مَاہَذِہِ الْکَلِمَاتُ الَّتِی اَرَاکَ اَحْدَثْتَہَا تَقُوْلُہَا؟ قَالَ:جُعِلَتْ لِیْ عَلَامَۃٌ فِیْ اُمَّتِیْ اِذَا رَاَیْتُہَا قُلْتُہَا: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) اِلٰی آخِرِ السُّوْرَۃِ. ( )
وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکْثِرُ مِنْ قَوْلِ: ’’ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ ‘‘ قَالَتْ: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاکَ تُکْثِرُ مِنْ قَوْلِ: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ؟ فَقَالَ: اَخْبَرَ نِیْ رَبِّی اَنِّیْ سَاَرٰی عَلَامَۃً فِیْ اُمَّتِیْ فَاِذَارَاَیْتُہَا اَکْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ:سُبْحَانَ اللّٰہَ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ، فَقَدْ رَاَیْتُہَا: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) فَتْحُ مَکَّۃَ، ( وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ (۲) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) ) . ( )
عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت:ما صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ بعد ان نز لت علیہ: ( اذا جآء نصر الله و الفتح (۱) ) الا یقول فیہا:سبحانک ربنا وبحمدک اللہم اغفرلی. ( )
وفی روایۃ فی الصحیحین عنہا: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکثر ان یقول فی رکوعہ وسجودہ: سبحانک اللہم ربنا وبحمدک ، اللہم اغفر لی یتاول القران. ( )
وفی روایۃ لمسلم: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکثر ان یقول قبل ان یموت:سبحانک اللہم وبحمدک استغفرک واتوب الیک. قالت عائشۃ: قلت: یارسول اللہ! ماہذہ الکلمات التی اراک احدثتہا تقولہا؟ قال:جعلت لی علامۃ فی امتی اذا رایتہا قلتہا: ( اذا جآء نصر الله و الفتح (۱) ) الی آخر السورۃ. ( )
وفی روایۃ لہ:کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکثر من قول: ’’ سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ ‘‘ قالت: قلت یا رسول اللہ! اراک تکثر من قول: سبحان اللہ وبحمدہ استغفراللہ واتوب الیہ؟ فقال: اخبر نی ربی انی ساری علامۃ فی امتی فاذارایتہا اکثرت من قول:سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ، فقد رایتہا: ( اذا جآء نصر الله و الفتح (۱) ) فتح مکۃ، ( و رایت الناس یدخلون فی دین الله افواجا (۲) فسبح بحمد ربك و استغفرهﳳ-انه كان توابا (۳) فسبح بحمد ربك و استغفرهﳳ-انه كان توابا (۳) ) . ( )
حدیث ترجمہ
اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ (اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱)) (یعنی سورۂ نصر) نازل ہونے کے بعد حضورنبی کریم، رؤف ورحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کوئی نماز ایسی نہیں پڑھی جس میں یہ کلمات نہ پڑھے ہوں : ’’سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْیعنی اے ہمارے ربّ !تجھے پاکی ہے اور حمد تیرے لیے ہی ہے، اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!تومیری مغفرت فرما۔ ‘‘صحیحین کی ایک اور روایت میں اُم المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاہی سے مروی ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمقرآنِ پاک پرعمل کرتے ہوئے اپنے رکوع وسجود میں کثرت سےیہ کلمات پڑھا کرتے تھے: ’’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْاے ہمارے ربّ !تجھے پاکی ہے اور حمد تیرے لیے ہی ہے، اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!تومیری مغفرت فرما۔ ‘‘
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموصالِ ظاہری سے قبل یہ کلمات کثرت سے پڑھا کرتے تھے: ’’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَیعنی اےاللہ عَزَّوَجَلَّ!تجھے پاکی ہے! اور حمد تیرے لیے ہی ہے، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اورتیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ ‘‘ اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’ میں نے عرض کی:یا رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ کلمات کیا ہیں ؟ میں دیکھتی ہوں آپ اب یہ پڑھنے لگے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ میرے لیے میری اُمَّت کے بارے میں ایک نشانیقائم کی گئی ہے کہ جب میں وہ نشانی دیکھوں تو یہ کلمات کہوں ۔ (اور وہ نشانی یہ سورت ہے:) (اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱)) ...الخ۔
مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکثرت سے یہ کلمات پڑھتے تھے: ’’سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّپاک ہےاور میں اُس کی حمد کرتا ہوں ، اُس سےمغفرت چاہتا ہوں اوراُس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ ‘‘ اُمَّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’ میں نے عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ کثرت سے یہ کلمات پڑھتے ہیں : ’’سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ؟ ‘‘ فرمایا: ’’ مجھے میرے ربّ نے خبر دی ہے کہ عنقریب میں اپنی اُمَّت میں ایک نشانی دیکھوں گا، جب وہ نشانی دیکھوں تو ان کلمات کی کثرت کروں : ’’سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُاللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہپس میں وہ نشانی دیکھ چکا ہوں ہے۔ (اور وہ نشانی یہ سورت ہے:)(اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ (۲)ترجمۂ کنزالایمان: جباللہکی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کوتم دیکھو کہاللہکے دین میں فوج فوج داخلفَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳)(پ۳۰، سورۃ النصر)ترجمۂ کنزالایمان: جباللہکی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کوتم دیکھو کہاللہکے دین میں فوج فوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے ربّ کی ثنا کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
شرح حدیث
رکوع و سجود میں دعائیں :عمدۃُالقاری میں ہے:حضورنبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحالت ِنما ز اور وہ بھی رکوع وسجود میں یہ کلمات اس لیے پڑھتے تاکہ حکم قرآنی کو اَحسن انداز سے بجا لا ئیں کیونکہ حالتِ نماز دیگر حالتوں سے افضل ہے اور رکوع وسجود میں دیگر اَرکان کی نسبت زیادہ عجزوانکساری ہے ۔ ‘‘ ( )
مِرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ وفات شریف کے قریب جب یہ آیت کریمہ اتری: (فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-) تو آپ نوافل خصوصاً تہجد کے رکوع، سجدے میں یہ پڑھا کرتے تھے، ظاہر یہی ہے کہ یہ دعائیں نوافل میں تھیں ، کیونکہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرائض مسجد میں پڑھاتے تھے، اس وقت عائشہ صدیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) آپ سے بہت دور ہوتی تھیں ۔ ہاں !تہجد وغیرہ نوافل گھر میں پڑھتے تھے اس لیے آپ بخوبی یہ سب کچھ سن لیتی تھیں ۔ ‘‘ ( )حضور کےاِسْتِغْفَارفرمانے کی وجہ:یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تمام انبیائے کرامعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممعصوم ہیں اور اُن سے گناہ کا صدورمُتَصَوَّرنہیں ۔ تو پھرحضورِ اَکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجوتمام نبیوں کے سرداراورسَیِّدُ الْمَعْصُوْمِیْنہیں ،اِسْتِغْفَارکیوں فرماتے تھے؟ علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکااِسْتِغْفَارفرمانا اِظہارِ بندگی اور بارگاہِ خداوندی میں عاجزی وانکساری کے لیے تھا۔ ‘‘ ( )
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا اپنے لیے دعائے بخشش کرنا تعلیم ِاُمَّت کے لیے تھا، یا اس لیے کہاِسْتِغْفَاربھی عبادت ہے اور بلندی درجات کا ذریعہ۔ورنہ آپ گناہوں سے معصوم ہیں ۔ ‘‘ ( )دلیل الفالحین میں ہے: ’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْیعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری مغفرت فرما۔ ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اعلیٰ مقام و مرتبہ کے اعتبار سے جو کام خلافِ اَولیٰ ہیں ، انہیں معاف فرما ، اگر چہ حقیقت میں وہ گناہ نہیں ۔ کیونکہ انبیائے کرام گناہوں سے مطلقاً پاک ہیں ۔ ‘‘ ( )
نوٹ:سرکارِ دوعالم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاِسْتِغْفَارفرمانے کی مزید توجیہات جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۵۶صفحات پر مشتمل کتاب ’’ فیضان ریاضُ الصَّالحین“ جلد اول صفحہ 167کا مطالعہ فرمائیے۔موت پر تنبیہ:تفسیرِکبیر میں ہے: ’’ جب کسی مسافر کی روانگی کا وقت قریب آتاہے تو وہ اپنے سفر کی تیاری کرتاہے ۔ اس آیت میں تنبیہ کی گئی ہے کہ جب عقل مند شخص کی موت کا وقت قریب آتا ہےتو وہ کثرت سے توبہ کرتاہے۔ ‘‘ ( )تسبیح واستغفار سے متعلق چند احادیث:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ اس حدیث پاک میں تسبیح و استغفار کا بیان ہے اس لیے ان سے متعلق چند احادیث ِمبارکہ ملاحظہ فرمائیے۔تسبیح و تحمید کی برکتیں :حضرت سَیِّدُنا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہخاتمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین،جنابِ صادق و امینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”بے شک!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے جلال کو یاد کرنے کے لیے تم جوتسبیح (سُبْحَانَ اللہِ) وتہلیل (لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ) اور تحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ) کرتے ہو وہ عرش کے گرد گھومتی ہیں ، ان کی آواز شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طر ح ہوتی ہے اوریہ اپنے پڑھنے والوں کا تذکرہ کرتی ہیں ۔“ (پھر فرمایا:) ’’ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تمہارا تذکرہ ہمیشہ ہوتا رہے ؟ “ ( )
¥اُحُد پہاڑ کے برابر عمل:حضرتِ سَیِّدُنا عمران بن حَصِینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہسَیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ کیا تم میں سے کوئی روزانہ اُحُد پہاڑ کے برابر عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! روزانہ اُحد پہاڑ کے برابر عمل کرنے کی طاقت کون رکھ سکتاہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ تم میں سے ہر ایک اس کی طاقت رکھتا ہے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ وہ کیسے؟ ‘‘ فرمایا: ’’سُبْحَانَ ﷲ، لَااِلٰہ اِلَّاﷲ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِاوراَللہُ اَکْبَرُکہنا اُحُد پہاڑسے زیاد ہ عظمت والا ہے۔ ‘‘ ( )¥روزانہ ایک ہزار1000 نیکیاں :حضرتِ سَیِّدُنا مُصْعَب بن سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی کریم، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ کیا تم میں سے کوئی رو زانہ ایک ہزار نیکیا ں کرنے سے عا جز ہے؟ ‘‘ ایک شخص نے عرض کی: ’’ کوئی ایک ہزار نیکیا ں کیسے کما سکتا ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ اگروہ سو مرتبہسُبْحَا نَ اللہِکہے تو اس کے لیے ایک ہزار نیکیا ں لکھی جا تی ہیں یا ایک ہزار گناہ مٹا دئیے جا تے ہیں ۔ ‘‘ ( )میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح و تحمید کو اپنا معمول بنالیجئے، ایسا نہ ہو اچانک موت آجائے اور پھر نیکیاں کرنے کی مہلت نہ ملے۔ ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت کو موت سے پہلے موت کی تیاری کا حکم دیا اور اَعمالِ صالحہ کی ترغیب دلائی ۔چنانچہ،
¥موت کی تیاری :منقول ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ اے لوگو! یقیناً دنیا تمہارے لیے جائے عمل ہے تواپنے اعمال کوبخوبی پوراکرو۔اور تمہارا ایک انجام (موت) ہےتو اپنے انجام کی تیاری کرو۔مسلمان دو 2خوفوں کے درمیان رہتاہے: (۱) اُس مدت کاخوف جو گزر چکی، وہ نہیں جانتا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے بارے کیافیصلہ فرمایاہے۔ (۲) اوراس مدت کاخوف جو ابھی باقی ہے ، وہ نہیں جانتا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے ساتھ کیامعاملہ فرما ئے گا۔ پس بندے کوچاہیے کہ اپنی دنیا سے آخرت کے لیے زادِ راہ اکٹھا کرلے۔ جوانی میں بڑھاپا آنے سے پہلے اور تندرستی میں بیماری سے پہلے۔کیونکہ تم آخرت کے لیے پیداکیے گئے ہواور دنیا تمہارے لیے بنائی گئی ہے۔قسم ہے اس ذات کی! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! موت کے بعد (عبادت کے لیے) تھکنے کاکوئی موقع نہیں اوردنیا کے بعد جنت اوردوزخ کے علاوہ کوئی گھرنہیں ۔ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے اپنے اورتمہارے لیےاِسْتِغْفَارکرتا ہوں ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ مدینہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اَحکامات کو سب سے بہتر انداز میں پورا کرنے والے ہمارے پیارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں ۔
(2) بڑھاپے میں مزید عمر کی امید نہیں ہوتی۔لہٰذااب انسان کو استغفار کی کثرت کرنی چاہیے کہ اب موت بالکل قریب ہے۔
(3) نماز میں پڑھے جانے والے اَذکار اُن اَذکار سے افضل ہیں جو نماز کے علاوہ ہوں ۔
(4) حضور سید عالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری سے پہلے اِسلام اکثر خطۂ عرب میں پہنچ چکا تھا ۔ لوگ دور دراز سے فوج در فوج آکر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے لگے تھے۔
(5) اُمہات المؤمنین اور دیگر صحابۂ کرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شب و روز کی عبادت کوپیش نظر رکھتے۔ جب بھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کوئی نیا عمل کرتے ہوئے پاتے، اس کےمتعلق ضرور پوچھتے اور پھر اس پر عمل پیرا ہونے کی حتی الامکان کوشش کرتے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کثرت سے استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 114