- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- حدیث نمبر 113
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُدْخِلُنِیْ مَعَ اَشْیَاخِ بَدْرٍ، فَکَاَنَّ بَعْضَہُمْ وَجَدَ فِی ْ نَفْسِہٖ فَقَالَ لِمَ یَدْخُلُ ہَذَامَعَنَا وَلَنَا اَبْنَاء ٌمِثْلُہُ؟ فَقَالَ عُمَرُ : اِنَّہُ مِنْ حَیْثُ عَلِمْتُمْ. فَدَعَانِیْ ذَاتَ یَوْمٍ فَاَدْخَلَنِیْ مَعَہُمْ، فَمَارَاَ یْتُ اَنَّہُ دَعَانِیْ یَوْمَئِذٍ إِلَّا لِیُرِیَہُمْ قَالَ: مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ تَعَالَی: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) فَقَالَ بَعْضُہُمْ: اُمِرْنَا نَحْمَدُ اللّٰہَ وَنَسْتَغْفِرُہُ اِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ عَلَیْنَا. وَسَکَتَ بَعْضُہُمْ فَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا. فَقَالَ لِیْ: اَکَذَالِکَ تَقُوْلُ یَا اِبْنَ عَبَّاسٍ؟ فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَمَا تَقُوْلُ؟ قُلْتُ:ہُوَ اَجَلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَعْلَمَہُ لَہُ قَال: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) وَذٰلِکَ عَلَامَۃُ اَجَلِکَ: ( فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) ) فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: مَا اَعْلَمُ مِنْہَا اِلَّا مَا تَقُوْلُ. ( )
عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال:کان عمر رضی اللہ عنہ یدخلنی مع اشیاخ بدر، فکان بعضہم وجد فی نفسہ فقال لم یدخل ہذامعنا ولنا ابناء مثلہ؟ فقال عمر : انہ من حیث علمتم. فدعانی ذات یوم فادخلنی معہم، فمارا یت انہ دعانی یومئذ إلا لیریہم قال: ما تقولون فی قول اللہ تعالی: ( اذا جآء نصر الله و الفتح (۱) ) فقال بعضہم: امرنا نحمد اللہ ونستغفرہ اذا نصرنا وفتح علینا. وسکت بعضہم فلم یقل شیئا. فقال لی: اکذالک تقول یا ابن عباس؟ فقلت: لا، قال: فما تقول؟ قلت:ہو اجل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلمہ لہ قال: ( اذا جآء نصر الله و الفتح (۱) ) وذلک علامۃ اجلک: ( فسبح بحمد ربك و استغفرهﳳ-انه كان توابا (۳) ) فقال عمر رضی اللہ عنہ: ما اعلم منہا الا ما تقول. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمجھے اَصحابِ بدرکے ساتھ بٹھایا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض بزرگوں کو یہ بات محسوس ہوئی تو انہوں نے کہا: ’’ یہ ہمارے ساتھ کیوں شریک ہوتے ہیں ؟ اِن کی عمر کے تو ہمارے بیٹے ہیں ۔ ‘‘
سَیِّدُنَا فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ یہ اُس مرتبے کی وجہ سے ہے جوآپ لوگوں کو معلوم ہے۔ ‘‘ پھر ایک دن آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مجھے بلا کران بزرگوں کے ساتھ بٹھا یا تو مجھے یہی گمان ہوا کہ آپ انہیں میرا علمی مقام دکھانا چاہتے ہیں ۔ پس آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمان: : (اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱)) (پ۳۰، النصر:۱) کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ ‘‘ بعض نے کہا : ’’ اس میں حکم دیا گیا کہ جب ہماری مددکی جائے اورفتح نصیب تو ہماللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد کریں اوراس سے مغفرت چاہیں ۔ ‘‘ کچھ حضرات خاموش رہے، انہوں نے کچھ جواب نہ دیا ۔ پھرآپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مجھ سے فرمایا: ’’ اے ابن عباس!کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ نہیں ۔ ‘‘ فرما یا: ’’ تم کیا کہتے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اس سے حضور نبی کر یمرؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکاوصال مبارک مرادہے، جس کیاللہ عَزَّ وَجَلَّنےآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو خبر دیتے ہوئے فرمایا: : (اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱)) جباللہ عَزَّ وَجَلَّکی فتح ونصرت آجائے تو یہ آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے وصال کی علامت ہے۔: (فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳))پ۳۰، النصر:۳) پس اپنے ربّ کی حمدبیان کرواوراس سے مغفرت چاہو، بے شک!وہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔ ‘‘ سَیِّدُنَا فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ میرے نزدیک بھی اس آیت کا یہی مطلب ہے جو تم نے بیان کیا ۔ ‘‘
شرح حدیث
بیٹوں کے ساتھ تمثیل کی وجہ:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو بدری صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ بٹھایا تو انہوں نے کہا کہ اِن کی مثل تو ہمارے بیٹے ہیں ۔واضح رہے کہ یہ قول حقیقت کے اظہار کے لیے تھا کہ واقعی ہمارے بیٹے اُن کی عمر کے ہیں ، نہ کہ بطورِحسد تھا۔چنانچہعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ یہ بات کہنے والے حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔ انہوں نے یہ بات حسد وغیرہ کی وجہ سے نہ کی بلکہ اظہارِ حقیقت کے لیے کہا تھا کہ ان کی عمر کے برابر تو ہمارے بیٹے ہیں ۔ ‘‘ ( )سَیِّدُنَاعبد اللہبن عباس کی فضیلت:فتح الباری میں ہے: ’’ اس حدیث پاک سے حضرت سَیِّدُنَاابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی فضیلت اوراِس دعائے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ظہور ہوتا ہےکہ: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّابن عباس کو تاویل کا علم اور دین میں سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔“یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے اوپر نعمتِ الٰہی کےاِظہار اور ناواقف لوگوں کو بتانے اور دیگر نیک مقاصد کے لیےاپنی تعریف کرنا جائز ہے۔ ہاں !فخر کرنے کےلیے جائز نہیں ۔ ‘‘ ( )اِس اُمَّت کے بہت بڑے عالم:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے، حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے وصال مبارک کے وقت آپ کی عمر 13سال تھی۔آپ اِس اُمَّت کے بہت بڑے عالم ہیں ۔نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےآپ کے لیے حکمت وفقہ کی دعا فرمائی تھی۔ آپ نے حضرت جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامکو دو2مرتبہ دیکھا ۔آخری عمر میں آپ نابینا ہوگئے۔ اِکہتر (71) سال عمر پائی اور۶۸ھ میں طائف میں وفات پائی ۔کثیر صحابہ وتابعین کرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْننے آپ سے روایات لی ہیں ۔ ‘‘ ( )بعدانتقال ملنے والا انعام واکرام:تفسیر روح البیان میں ہے: ’’ تابعی بزرگ حضرت سَیِّدُنَا سعید بن جبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَاعبد اللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکاوصال طائف میں ہوا۔ مجھے بھی ان کے جنازے میں شرکت کی سعادت ملی۔ جنازے کے بعد ایک پرندہ آیا اوران کے کفن میں داخل ہواا ورواپس نہ آیا۔پھر
جب انہیں قبر میں اتارا گیاتو ہاتفِ غیبی سے یہ آواز آئی:یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ (۲۷)ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ (۲۸)فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ (۲۹)وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ (۳۰)(پ۳۰، الفجر:۲۷تا۳۰)ترجمۂ کنزالایمان: اے اطمینان والی جان اپنے ربّ کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہواور میری جنت میں آ۔ ( )
¥(1) علم و حکمت کی دعا:حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ ایک مرتبہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے مجھے اپنے سینے سے چمٹا یا اور پھر دعا کی: ’’یا اللہعَزَّ وَجَلَّ! اسےعلم وحکمت عطا فرما ۔ ‘‘ ( )(2)رسول اللہکی خدمت گزاری:حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مکی مدنی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو میں نے آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکےلیے وضو کا پانی رکھ دیا۔ واپسی پرآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے پوچھا کہ ’’ یہ پانی کس نے رکھا ہے؟ ‘‘ بتایا گیا کہ ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے۔تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے لیے دعا کی : ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! اسے دین کا فقیہ بنادے۔ ‘‘ ( )(3) اُمَّت محمدیہ کے بڑے عالم:حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں حضورنبی کریمرؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی بارگاہ ِاقدس میں حاضر ہوا ، سَیِّدُنَاجبریلِ امینعَلَیْہِ السَّلَامبھی حاضر خدمت تھے۔
سَیِّدُنَا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے عرض کی: ’’ بے شک یہ (ابن عباس) اِس اُمَّت کےحِبْر( یعنی بڑے عالم ) ہوں گے۔آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمانہیں خیر وبھلائی کی وصیت فرمائیے۔ ‘‘ ( )(4) علم میں برکت کی دعا:حضرتِ سَیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسےمروی ہے کہ ایک مرتبہ دوعالم کے مختار مکی مدنی سرکارصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکےلیے یوں دعا فرمائی: ’’یااللہعَزَّ وَجَلَّ! اس کے علم میں برکت عطا فرما اور اس سے علم پھیلا۔ ‘‘ ( )(5) دستِ شفقت کی برکتیں :ایک مرتبہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے سرپر دستِ شفقت رکھ کر یوں دعاکی: ’’یااللہعَزَّ وَجَلَّ!اسےعلم وحکمت عطا فرمااور تاویل کے علم سے نواز ۔ ‘‘ پھر آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے اپنا دست اَقدس اُن کے سینے پر رکھا جس کی ٹھنڈک آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی پشت میں محسوس کی ، پھر فرمایا: ’’یااللہعَزَّ وَجَلَّ! علم وحکمت سے اس کا سینہ بھر دے۔ ‘‘ اِس دعا کے بعدانہیں لوگوں کے کسی مسئلے میں گھبراہٹ محسوس نہ ہوئی۔جب تک حیات رہے اِس اُمَّت کے سب سے بڑے عالم رہے۔ ( )اللہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمینلَا وَرَبِّ الْعَرْشجس کو جو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمترسول اللہکیصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ ابن عباس ‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)علم کی وجہ سے انسان کو بہت بلندمقام ملتا ہے ، دین ودنیا کی بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں ۔
(2) ہمارے اَسلافِ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَاماہل علم حضرات کو اپنی محافل میں بٹھا تے اور اَہم اُمور میں اُن سے مشاورت کیاکرتے تھے ۔
(3) بزرگوں کی خدمت کی بدولت انسان دوسروں سے فائق ہو جاتا ہے اور اُن کا سردار بن جاتا ہے ۔
(4) جب کوئی ہمارے پیارے آقامدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت کرتا توآ پصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُسے اپنی مُسْتَجَاب دعاؤں سے نوازتے۔ہمیں بھی چاہیے کہ جو ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرے، اسے اچھی دعائیں دیں ۔
(5) دعائے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی برکت سےحضرت سَیِّدُنَاعبد اللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو ایسا علم و حکمت عطا ہوا کہ وہحِبْرُ الاُمَّۃ(اِس اُمَّت کے بڑے عالم ) کہلائے۔
(6) بوقت ِضرورت اچھی نیت کے ساتھ اپنا مقام ومرتبہ لوگوں کےسامنے بیان کرنا جائز ہے ۔
(7) آخری عمر میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی خوب خوب تسبیح کرنی چاہیے اور کثرت سےاِسْتِغْفَارپڑھنا چاہیے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں فیضانِ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانعطا فرمائے، اپنی مختصر زندگی کو سنتوں کے سانچے میں ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں ایمان کی سلامتی اور اس پر استقامت عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 113