باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 2

حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاس شخص کے ‏لیے کچھ عذر باقی نہیں چھوڑ تا جس کی عمر مُؤخر کردے یہاں تک کہ وہ ساٹھ 60سال تک پہنچ جائے ۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَعْذَرَاللّٰہُ اِلَی امْرِءٍ اَخَّرَ اَجَلَہُ حَتّٰی بَلَغَ سِتِّیْنَ سَنَۃً. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 112 ، باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمجھے اَصحابِ بدرکے ساتھ بٹھایا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض بزرگوں کو یہ بات محسوس ہوئی تو انہوں نے کہا: ’’ یہ ہمارے ساتھ کیوں شریک ہوتے ہیں ؟ اِن کی عمر کے تو ہمارے بیٹے ہیں ۔ ‘‘
سَیِّدُنَا فاروق اعظم
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ یہ اُس مرتبے کی وجہ سے ہے جوآپ لوگوں کو معلوم ہے۔ ‘‘ پھر ایک دن آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مجھے بلا کران بزرگوں کے ساتھ بٹھا یا تو مجھے یہی گمان ہوا کہ آپ انہیں میرا علمی مقام دکھانا چاہتے ہیں ۔ پس آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمان: : (اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱)) (پ۳۰، النصر:۱) کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ ‘‘ بعض نے کہا : ’’ اس میں حکم دیا گیا کہ جب ہماری مددکی جائے اورفتح نصیب تو ہماللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد کریں اوراس سے مغفرت چاہیں ۔ ‘‘ کچھ حضرات خاموش رہے، انہوں نے کچھ جواب نہ دیا ۔ پھرآپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مجھ سے فرمایا: ’’ اے ابن عباس!کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ نہیں ۔ ‘‘ فرما یا: ’’ تم کیا کہتے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اس سے حضور نبی کر یمرؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکاوصال مبارک مرادہے، جس کیاللہ عَزَّ وَجَلَّنےآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو خبر دیتے ہوئے فرمایا: : (اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱)) جباللہ عَزَّ وَجَلَّکی فتح ونصرت آجائے تو یہ آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے وصال کی علامت ہے۔: (فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳))پ۳۰، النصر:۳) پس اپنے ربّ کی حمدبیان کرواوراس سے مغفرت چاہو، بے شک!وہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔ ‘‘ سَیِّدُنَا فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ میرے نزدیک بھی اس آیت کا یہی مطلب ہے جو تم نے بیان کیا ۔ ‘‘

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُدْخِلُنِیْ مَعَ اَشْیَاخِ بَدْرٍ، فَکَاَنَّ بَعْضَہُمْ وَجَدَ فِی ْ نَفْسِہٖ فَقَالَ لِمَ یَدْخُلُ ہَذَامَعَنَا وَلَنَا اَبْنَاء ٌمِثْلُہُ؟ فَقَالَ عُمَرُ : اِنَّہُ مِنْ حَیْثُ عَلِمْتُمْ. فَدَعَانِیْ ذَاتَ یَوْمٍ فَاَدْخَلَنِیْ مَعَہُمْ، فَمَارَاَ یْتُ اَنَّہُ دَعَانِیْ یَوْمَئِذٍ إِلَّا لِیُرِیَہُمْ قَالَ: مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ تَعَالَی: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) فَقَالَ بَعْضُہُمْ: اُمِرْنَا نَحْمَدُ اللّٰہَ وَنَسْتَغْفِرُہُ اِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ عَلَیْنَا. وَسَکَتَ بَعْضُہُمْ فَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا. فَقَالَ لِیْ: اَکَذَالِکَ تَقُوْلُ یَا اِبْنَ عَبَّاسٍ؟ فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَمَا تَقُوْلُ؟ قُلْتُ:ہُوَ اَجَلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَعْلَمَہُ لَہُ قَال: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) وَذٰلِکَ عَلَامَۃُ اَجَلِکَ: ( فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) ) فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: مَا اَعْلَمُ مِنْہَا اِلَّا مَا تَقُوْلُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 113 ، باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ (اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱)) (یعنی سورۂ نصر) نازل ہونے کے بعد حضورنبی کریم، رؤف ورحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کوئی نماز ایسی نہیں پڑھی جس میں یہ کلمات نہ پڑھے ہوں : ’’سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْیعنی اے ہمارے ربّ !تجھے پاکی ہے اور حمد تیرے ‏لیے ہی ہے، اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!تومیری مغفرت فرما۔ ‘‘صحیحین کی ایک اور روایت میں اُم المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاہی سے مروی ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمقرآنِ پاک پرعمل کرتے ہوئے اپنے رکوع وسجود میں کثرت سےیہ کلمات پڑھا کرتے تھے: ’’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْاے ہمارے ربّ !تجھے پاکی ہے اور حمد تیرے ‏لیے ہی ہے، اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!تومیری مغفرت فرما۔ ‘‘
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموصالِ ظاہری سے قبل یہ کلمات کثرت سے پڑھا کرتے تھے: ’’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَیعنی اےاللہ عَزَّوَجَلَّ!تجھے پاکی ہے! اور حمد تیرے ‏لیے ہی ہے، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اورتیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ ‘‘ اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’ میں نے عرض کی:یا رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ کلمات کیا ہیں ؟ میں دیکھتی ہوں آپ اب یہ پڑھنے لگے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ میرے ‏لیے میری اُمَّت کے بارے میں ایک نشانیقائم کی گئی ہے کہ جب میں وہ نشانی دیکھوں تو یہ کلمات کہوں ۔ (اور وہ نشانی یہ سورت ہے:) (اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱)) ...الخ۔
مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت
صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکثرت سے یہ کلمات پڑھتے تھے: ’’سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّپاک ہےاور میں اُس کی حمد کرتا ہوں ، اُس سےمغفرت چاہتا ہوں اوراُس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ ‘‘ اُمَّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’ میں نے عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ کثرت سے یہ کلمات پڑھتے ہیں : ’’سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ؟ ‘‘ فرمایا: ’’ مجھے میرے ربّ نے خبر دی ہے کہ عنقریب میں اپنی اُمَّت میں ایک نشانی دیکھوں گا، جب وہ نشانی دیکھوں تو ان کلمات کی کثرت کروں : ’’سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُاللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہپس میں وہ نشانی دیکھ چکا ہوں ہے۔ (اور وہ نشانی یہ سورت ہے:)(اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ (۲)ترجمۂ کنزالایمان: جباللہکی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کوتم دیکھو کہاللہکے دین میں فوج فوج داخلفَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳)(پ۳۰، سورۃ النصر)ترجمۂ کنزالایمان: جباللہکی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کوتم دیکھو کہاللہکے دین میں فوج فوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے ربّ کی ثنا کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ:مَا صَلَّی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃً بَعْدَ اَنْ نَزَ لَتْ عَلَیْہِ: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) اِلَّا یَقُوْلُ فِیْہَا:سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰہمَّ اغْفِرْلِیْ. ( )
وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِیْ الصَّحِیْحَیْنِ عَنْہَا: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکْثِرُ اَنْ یَقُوْلَ فِیْ رُکُوْعِہِ وَسُجُوْدِہِ: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ یَتَاَوَّلُ الْقُرْاٰنَ. ( )
وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ قَبْلَ اَنْ یَّمُوْتَ:سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ. قَالَتْ عَائِشَۃُ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! مَاہَذِہِ الْکَلِمَاتُ الَّتِی اَرَاکَ اَحْدَثْتَہَا تَقُوْلُہَا؟ قَالَ:جُعِلَتْ لِیْ عَلَامَۃٌ فِیْ اُمَّتِیْ اِذَا رَاَیْتُہَا قُلْتُہَا: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) اِلٰی آخِرِ السُّوْرَۃِ. ( )
وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکْثِرُ مِنْ قَوْلِ: ’’ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ ‘‘ قَالَتْ: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاکَ تُکْثِرُ مِنْ قَوْلِ: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ؟ فَقَالَ: اَخْبَرَ نِیْ رَبِّی اَنِّیْ سَاَرٰی عَلَامَۃً فِیْ اُمَّتِیْ فَاِذَارَاَیْتُہَا اَکْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ:سُبْحَانَ اللّٰہَ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ، فَقَدْ رَاَیْتُہَا: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) فَتْحُ مَکَّۃَ، ( وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ (۲) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) ) . ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 114 ، باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا اَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنےرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےوصال سے پہلے آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمپرلگاتار وحی نازل فرمائی یہاں تک کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہوگیا اور جس دن آپ کا وصال ہوا اس دن بہت مرتبہ وحی نازل ہوئی تھی۔ ‘‘

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْیَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِہِ حَتّٰی تُوُفِّیَ وَاَکْثَرُ مَا کَانَ الْوَحْیُ. ( ) (یَوْمَ تُوُفیِّ َرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 115 ، باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان

:حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضور تاجدارِ رسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ ہر شخص اُسی حالت پر اُٹھا یا جائے گا جس پر وہ مرا ۔ ‘‘

عَنْ جَابِرٍ رَضِیِ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَا مَاتَ عَلَیْہِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 116 ، باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان