Main Icon

باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 115

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْیَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِہِ حَتّٰی تُوُفِّیَ وَاَکْثَرُ مَا کَانَ الْوَحْیُ. ( ) (یَوْمَ تُوُفیِّ َرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)

عن انس رضی اللہ عنہ قال: ان اللہ عز وجل تابع الوحی علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبل وفاتہ حتی توفی واکثر ما کان الوحی. ( ) (یوم توفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا اَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنےرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےوصال سے پہلے آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمپرلگاتار وحی نازل فرمائی یہاں تک کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہوگیا اور جس دن آپ کا وصال ہوا اس دن بہت مرتبہ وحی نازل ہوئی تھی۔ ‘‘

شرح حدیث

کثرت سے وحی نازل ہونے کی وجہ:علامہ ابن حجر عسقلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے وصال کے زمانے میں نزولِ وحی کا سلسلہ بڑھادیا۔اس میں جو راز پوشیدہ ہے وہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد کثرت سے مختلف قبیلوں سے وفود آنا شروع ہوگئے تھے اور وہ لوگ اَحکامِ شریعت کے بارے میں بہت سےسوالات کرتے تھے اس ‏لیےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے کثرت سے وحی نازل فرمائی۔ ‘‘ ( )
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ تمام عالَم کے دُنیوی اور اُخروی نظام سے متعلق جواَحکام نازل ہونے تھے جب وہ نازل ہو گئے تو
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ آیت مبارَکہ نازل فرمائی: (اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ)(پ۶، المائدۃ:۳) (ترجمۂ کنزالایمان: آج میں نے تمہارے ‏لیے تمہارا دین کامل کردیا۔ ) اس کے چند ماہ بعد ہی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا سے ظاہری پردہ فرماگئے۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور میں بیان کیا گیا کہ سرکارِ دوعالَم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر آخری عمر میں بکثرت وحی نازل ہوئی اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآخری عمر میں بکثرت دین کے احکام لوگوں تک پہنچاتے رہےیہاں تک کہ آپ نے دنیا سے پردہ فرما لیا ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ نیک کاموں میں صَرف کریں ۔ ہمیں اپنی موت کا علم نہیں کیا خبر آج اور ابھی موت آجائے اور پھر نیکیاں کرنے کا موقع ہی نہ ملے ۔اسی ‏لیے جو وقت مل رہا ہے اسے غنیمت جانتے ہوئے خوب خوب نیکیوں کی کثرت کرنی چاہیے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنی حفظ وامان میں رکھے اور مرتے دم تک نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے، ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔آمینمٹادے ساری خطائیں مری مٹا یاربّ………بنا دے نیک بنا نیک دے بنا یاربّصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
¥
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ جبریل ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آخری عمر میں بہت زیادہ اَحکامِ شَرْعِیَّہ لوگوں کو سکھائے۔
(2) آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری سے پہلے عرب قبائل کے وُفُود بکثرت بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر دین اِسلام کے اَحکام سیکھنے لگے، اُن کی رہنمائی کے ‏لیےقرآن نازل ہوتا رہا اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُنہیں اَحکامِ شرعِیَّہ سکھاتے رہے ۔
(3) قرآنِ کریم میں دینا وآخرت میں کامیابی کے بہترین اُصول موجود ہیں ، اُن پر عمل کرنے والا دونوں جہاں میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔
(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکےمقبول بندے جب عمر کے آخرے حصے میں پہنچ جاتے ہیں تو ان کی عبادات و ریاضات مزید بڑھ جاتی ہیں ۔
(5) سمجھ دار اورکامیاب شخص وہی ہےجو آنے والے وقت سے پہلے اس کی تیاری کر لے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن وسنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے موت سے قبل آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیا خدا میری مغفرت فرما………باغِ فردوس مرحمت فرما
دین اسلام پر مجھے یاربّ………استقامت تو مرحمت فرما
تو گناہوں کو کر معاف
اللہ………میری مقبول معذرت فرماصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 115