Main Icon

باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 563

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِتَّقُوا الظُّلْمَ، فَاِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَاِنَّ الشُّحَّ اَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، حَمَلَهُمْ عَلٰی اَنْ سَفَكُوْا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوْا مَحَارِمَهُمْ.

عن جابر رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اتقوا الظلم، فان الظلم ظلمات يوم القيامة، واتقوا الشح، فان الشح اهلك من كان قبلكم، حملهم علی ان سفكوا دماءهم واستحلوا محارمهم.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ظلم سے بچو!کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکی ہے اور بخل ولالچ سے بچو! کیونکہ بخل ولالچ ہی نے تم سے پہلےلوگوں کو ہلاک کیااور اِسی نے اُنہیں خون بہانے اور حرام کو حلال کرنے پر آمادہ کیا۔‘‘

شرح حدیث

بروزِ قیامت تاریکی:حدیثِ مذکور میں ظلم اور بخل سے بچنے کا حکم دیا گیاہے ۔یہ دونوں بہت مذمو م صفات ہیں اور ان پر سخت سزا کی وعید ہے۔ظلم بروزِ قیامت تاریکی ہے اور بخل پہلی قوموں کی ہلاکت کا باعث بنا، اس ایک گناہ کی وجہ سے وہ مزید کئی گناہوں میں پڑ گئے اور انہیں ہلاک کردیا گیا۔مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(ظلم سے بچو!)ظلم کی بہت سی قسمیں ہیں: گناہ کرنا اپنی جان پر ظلم ہے، قرابت داروں یا قرض خواہوں کا حق نہ دینا اُن پر ظلم،کسی کو ستانا اِیذا دینا اُس پر ظلم ہے۔‘‘ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’ظلم کالفظ گناہوں کی تمام اَقسام واَنواع کو شامل ہے،اِسی وجہ سےاگلےجملےمیں ظلمات جمع آیاہے۔یایہ مرادہے کہ ایک ظلم بھی قیامت کے دن بہت سی تہہ بہ تہہ ہولناک تاریکیوں اور شِدَّتوں کا سبب بنےگا۔‘‘ظالم کے لیے قیامت کی مختلف تاریکیاں:شرح طیبی میں ہے:’’یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پرہے۔یعنی جوشخص دنیامیں کسی پرظلم کرے گا، بروزِقیامت ظلم اُس کے سامنے اندھیروں کی صورت میں ہوگاجس کی وجہ سے وہ نجات کاراستہ نہ پا سکے گا۔یہ بھی احتمال ہے کہ یہاں ظلمات(تاریکیوں ) سے قیامت کی سختیاں مراد ہوں۔ حدیث مذکور میں فرمایا گیا” ظلم سے بچو۔“یعنی ہر قسم کے ظلم سے بچو!کیونکہ ظلم جتنا زیادہ ہوگا بروزِ قیامت اتنی ہی تاریکیوں کا سبب بنے گا۔ قیامت کے میدان میں کھڑا ہونا، حساب وکتاب کی سختی ، پل صراط سے گزرنا اور جہنم میں مختلف اَقسام کے عذابات یہ سب قیامت کی تاریکیاں ہیں۔ اس حدیث میں بخل سے بچنے کا بھی حکم دیا گیا ہے کیونکہ بخل نے پہلی قوموں کو ہلاک کیا اسی نے انہیں خون بہانےاور حرام کو حلال ٹھہرانے پر اُبھارا کیونکہ مال خرچ کرنے میں بھائی چارہ،محبت اور صلہ رحمی ہے جبکہ بخل میں نفرت اور قطع رحمی ہے جولڑائی جھگڑے ، فتنہ فساد اورحرام کو حلال ٹھہرانے کی طرف لے جاتی ہے ۔‘‘بخل ولالچ کی تعریف:حدیقہ ندیہ میں ہے:”بخل کے لغوی معنی کنجوسی کے ہیں اور جہاں خرچ کرنا شرعاً، عادتا ً یا مروتاً لازم ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے، یا جس جگہ مال واَسباب خرچ کرنا ضروری ہو وہاں نہ خرچ کرنا بھی بخل کہلاتاہے۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ’’بخل سےمرادیہ ہےکہ اپنا مال کسی کو نہ دینا اورشُحّ ( لالچ)سےمرادیہ ہےکہ اپنا مال کسی کونہ دینا اور دوسرے کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا۔‘‘بخل کی مَذمَّت پرتین فرامین مصطفےٰ:(1)”بخیل، دھوکے باز، خیانت کرنے والا اور بداَخلاق جنت میں نہیں جائے گا۔“(2) ’’تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں:ایسا بخل جس کی پیروی کی جائے، نفسانی خواہش جس کی اِطاعت کی جائے اور انسان کا اپنے آپ کو اچھا جاننا۔‘‘(3)’’مؤمن میں دوعادتیں جمع نہیں ہوتیں: ایک بخل اور دوسری بداَخلاقی۔‘‘بخل کی مَذمَّت پربزرگانِ دِین کے4اَقوال:(1) حضرت سَیِّدُنَا محمد بن منکدررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’کہا جاتا ہے کہ جباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکسی قوم کو برائی میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو اُن کے بُرے لوگوں کو اُن کا حاکم بنادیتا ہے اور اُن کا رزق بخیلوں کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے۔‘‘(2)حضرت سَیِّدُنَا کعب الاَحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَفَّارفرماتے ہیں: ’’ہرصبح پردو فرشتے مقرر ہیں جو پکار کر کہتے ہیں: اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! روک کر رکھنے والے (یعنی بخیل ولالچی) کا مال جلدضائع فرما اور خرچ کرنے والے کو جلد اس کا بدلہ عطا فرما۔‘‘(3)حضرت سَیِّدُنَا بشر حافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَافِیفرماتے ہیں: ’’بخیل کو دیکھنے سے دل سخت ہوتا ہے اور بخیلوں سے ملاقات مومنین کے دلوں کو تکلیف پہنچاتی ہے۔‘‘(4)حضرت سَیِّدُنَا یحییٰ بن مُعاذ رازِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ’’سخیوں کے بارے میں دل میں محبت ہی ہوتی ہے اگرچہ وہ فاسق وفاجر ہوں جبکہ بخیل لوگوں سے نفرت اور عداوت ہی ہوتی ہے اگرچہ وہ نیک ہوں۔‘‘مجھے موت قبول ہے:منقول ہے کہ بصرہ میں ایک مال داربخیل تھا،ایک مرتبہ اس کے ایک پڑوسی نے اس کی دعوت کی اور اس کے سامنے انڈوں سمیت بھنا ہوا گوشت رکھا۔اس نے اس میں سے بہت زیادہ کھالیا اور پھر اس پر پانی بھی پی لیا چنانچہ اس کا پیٹ پھول گیا اور وہ سخت تکلیف میں مبتلا ہوگیا اورموت اس کے سر پر منڈلانے لگی حتّٰی کہ وہ تکلیف کے باعث پیچ وتاب کھانے لگا، جب معاملہ زیادہ بگڑ گیا تو طبیب کوبلایا گیا،اس نے کہا :’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں جو کچھ کھایا ہے اسے قے کردو ۔‘‘یہ سن کر اس مال دار بخیل نے کہا:’’ہائےافسوس! انڈوں کے ساتھ کھائے ہوئے اس عُمدہ بھنے ہوئے گوشت کو میں کیسے قے کروں ؟مجھے موت تو قبول ہے لیکن میں قےنہیں کروں گا۔‘‘بخل کے پانچ اَسباب اور اُن کا علاج:مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۵۲صفحات پر مشتمل کتاب’’باطنی بیماریوں کی معلومات‘‘صفحہ۱۳۱ سے بخل کے پانچ5 اَسباب اور اُن کے علاج کا خلاصہ پیش خدمت ہے:(1)بخل کاپہلا سبب تنگ دستی کاخوف ہے۔ اِس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اِس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھے کہ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے سے کمی نہیں آتی بلکہ اِضافہ ہوتا ہے۔(2)بخل کا دوسرا سبب مال سے محبت ہے۔اِس کا علاج یہ ہے کہ بندہ قبر کی تنہائی کو یاد کرے کہ میرا یہ مال قبر میں میرے کسی کا م نہ آئے گابلکہ میرے مرنے کے بعد ورثاء اُسے بے دردی سے تصرف میں لائیں گے۔(3)بخل کا تیسرا سبب نفسانی خواہشات کا غلبہ ہے۔اِس کا علاج یہ ہے کہ بندہ خواہشاتِ نفسانی کے نقصانات اور اُس کے اُخروی انجام کا باربار مطالعہ کرے۔ اِس سلسلے میں امیر اہل سنت کارسالہ’’ گناہوں کا علاج ‘‘پڑھنا حد درجہ مفیدہے۔ (4)بخل کا چوتھا سبب بچوں کے روشن مستقبل کی خواہش ہے۔اِس کا علاج یہ ہےکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ رکھنے میں اپنے اِعتقاد ویقین کو مزید پختہ کرے کہ جس ربّعَزَّ وَجَلَّنے میرا مستقبل بہتر بنایا ہے وہی ربّعَزَّ وَجَلَّمیرے بچوں کے مستقبل کو بھی بہتر بنانے پر قادر ہے۔(5)بخل کا پانچواں سبب آخرت کے معاملے میں غفلت ہے۔اِس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اِس بات پر غور کرے کہ مرنے کے بعد جو مال ودولت میں نے راہِ خدا میں خرچ کی وہ مجھے نفع دے سکتی ہے،لہٰذا اِس فانی مال سے نفع اُٹھانے کے لیے اِسے نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا ہی عقل مندی ہے۔مدنی گلدستہ’’بغداد ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بخل سے ہرمسلمان کو بچنا چاہیے کہ یہ ایک قبیح ، مذموم اور مہلک باطنی مرض ہے۔
(2) بخل ولالچ نے پہلی قوموں کو ہلاک کیا ۔
(3) بخیل اپنے بخل کے سبب دیگر کئی گناہوں میں مبتلا ہوجاتاہے۔
(4) بخیل جنت میں نہ جائے گا۔
(5) بخل سے بچنے کیلئے سب سے پہلے اس کے اسباب کو دور کرنا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں بخل ولالچ سےبچنے کی توفیق عطافرمائے اور ہمیں سخاوت جیسی عظیم دولت سے مالا مال فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 563