Main Icon

باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 863

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلٍ بْنِ سَعْدٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: كَانَتْ فِينَاامْرَءَ ةٌ. وَفِی رِوَايَةٍ:كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تَاْخُذُ مِنْ اُصُولِ السِّلْقِ فَتَطْرَحُهُ فِي الْقِدْرِوَتُكَرْكِرُ حَبَّاتٍ مِّنْ شَعِيْرٍ فَاِذَاصَلَّيْنَاالْجُمُعَةَ وَانْصَرَفْنَانُسَلِّمُ عَلَيْهَا فَتُقَدِّمُهُ اِلَيْنَا.

عن سهل بن سعدرضی اللہ عنہ قال: كانت فيناامرء ة. وفی رواية:كانت لنا عجوز تاخذ من اصول السلق فتطرحه في القدروتكركر حبات من شعير فاذاصليناالجمعة وانصرفنانسلم عليها فتقدمه الينا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا سہل بن سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہمارے علاقے میں ایک عورت تھی۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ ایک بوڑھی عورت تھی جو چقندر کی جڑیں اور جَو کا آٹا ہانڈی میں ڈال کر کھانا تیار کرتی۔ نمازِ جمعہ سے واپسی پر ہم اسے سلام کرتے تو وہ وہی کھانا ہمارے سامنے رکھ دیتی ۔

شرح حدیث

*****

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 863