- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- حدیث نمبر 1
حدیث مبارکہ
عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:’’ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِءٍ مَّانَویٰ‘ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ لِدُنْیَایُصِیْبُہَااَوْاِمْرَاَۃیَنْکِحُہَافَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَاہَاجَرَ اِلَیْہِ۔( بخا ری،کتاب بدء ا لوحي،باب کَیْفَ کَانَ بَدْئُُ الْوَحْي…الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴، حدیث۵۴)
عن عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:’’ انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی‘ فمن کانت ہجرتہ الی اللہ ورسولہ فہجرتہ الی اللہ ورسولہ، ومن کانت ہجرتہ لدنیایصیبہااوامراۃینکحہافہجرتہ الی ماہاجر الیہ۔( بخا ری،کتاب بدء ا لوحي،باب کیف کان بدئ الوحي…الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴، حدیث۵۴)
حدیث ترجمہ
اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروقِ اَعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ،سردارِمَکَّۂِ مُکَرَّمَہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اعمال نِیَّت ہی پرہیں ،ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت کی،جس کی ہجرتاللہاور رَسول کی طرف ہوتواس کی ہجرتاللہاوررسول ہی کی طرف ہے اورجس کی ہجرت حُصُولِ دنیایاکسی عورت کے لئے ہوجس سے وہ نکاح کرناچاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔‘‘
شرح حدیث
جیسی نِیَّت ویسا صِلَہمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس فرمانِ مصطفٰیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ دَرس ملاکہ اعمال کاثواب نِیَّتوں پرموقوف ہے،جواللہ عزَّوَجَلَّکی خوشنودی کے لئے عمل کرے گاوہ دنیاوآخرت میں کامیاب ہوگااورجس کاعمل دنیاکے لئے ہوگااسے کچھ ثواب نہ ملے گابلکہ یہ عمل بعض صورتوں میں اس کیلئے وَبال بن جائے گا۔جیسا کہ شرح مسلم میں ہے: جس نےاللہ عزَّوَجَلَّکی خوشنودی کیلئے ہجرت کی اس کاثواباللہ عزَّوَجَلَّکے ذِمّۂ کرم پرہے اورجس نے دنیا یاکسی عورت کے لئے ہجرت کی تو وہی اس کا حصہ ہے، اسے آخرت میں کچھ ثواب نہ ملے گا۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الامارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم انما الاعمال بالنیۃ، ۷/۵۴، الجزء الثالث عشر)جس نے دِکھاوے کیلئے نمازپڑھی اوراللہ عزَّوَجَلَّکی رِضاکی نِیَّت نہ کی تووہ گناہگارہوگا۔الغرض’’ جیسی نِیَّت ویساصلہ۔‘‘ایک تِہائی اِسلامحضرتِ سَیِّدُناامام شافعی اور دوسرے آئمہ کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامفر ماتے ہیں کہ یہ حدیث ثُلُث اسلام(یعنی دین کاتہائی حصہ)ہے۔(شرح مسلم للنووی،کتاب الامارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم انما الاعمال بالنیۃ، ۷/۵۳، الجزء الثالث عشر)علامہ بَدْرُ الدِّیْن مَحْمُوْد بِنْ اَحْمَد اَلْعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِینے فرمایا: کیونکہ اس حدیث میں نیَّت کابیان ہے اوراسلام کے اَحکام کی بجاآوری تین طرح سے ہوتی ہے(۱)قول سے(۲) فعل سے(۳) نِیَّت سے، لِہٰذا نِیَّت ایک تہائی اسلام ہے۔ (عمدۃالقاری،کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی،۱/۴۹،تحت الحدیث:۱)نِیَّت کبھی خود بھی مُستَقِل عبادت ہوتی ہے جبکہ دوسرے اَعمال اس کے محتاج ہوتے ہیں اسی لئے فرمایا گیا کہ ’’نِیَّۃُ الْمُوْمِن خَیْرٌمِنْ عَمَلِہٖ‘‘ یعنی مومن کی نِیَّت اس کے عمل سے بہترہے۔(معجم کبیر، ۶/۱۸۵، حدیث:۵۹۴۲)دِین کوکِفایت کرنے والی چارحدیثیںحضرتِ سَیِّدُنااِمام ابوداؤدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَدُوْدفرماتے ہیں :انسان کے دِین کے لئے یہ چارحدیثیں کافی ہیں:(۱)اَلأَعْمَالُ بِالنِِّیَات۔(یعنی ا عمال کادارومدارنِیَّتوں پرہے)(۲)اَلْحَلالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ۔(حلال بھی ظاہرہے اورحرام بھی ظاہرہے)(۳)مِنْ حُسْنِ إسْلامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَالایَعْنِیْہ( فضول باتوں کوچھوڑدینا انسان کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے ) (۴)لا یَکُوْنُ الْمُؤمِنُ مُؤمِنًا حَتّٰی یَرْضٰی لِاَخِیْہِ مَا یَرْضَاہٗ لِنَفْسِہِ(بندہ اس وقت تک کامِل مومن نہیں ہوسکتاجب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جواپنے لئے پسندکرتاہے۔ (تاریخ بغداد، سلیمان بن أشعث،۹/۵۸، حدیث:۴۶۳۸)فِقہ کے ستر(70) ابوابحضرتِ سَیِّدُناامام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِیفرماتے ہیں :اس حدیث میں فِقہ کے سَتَّراَبواب موجود ہیں۔ (شرح مسلم للنووي،کتاب الامارۃ باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم انما الاعمال بالنیۃ، ۷/۵۳، الجزء الثالث عشر)نِیَّت کی تعریف’’نِیَّت دل کے پختہ اِرادے کوکہتے ہیں خواہ وہ کسی چیزکاہواورشریعت میں عبادت کے ارادے کونِیَّت کہتے ہیں۔‘‘ (نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری، ۱ / ۲۲۴)خالص عمل ہی قُبول ہوگاتاجدارِ مَدِیْنَۂ مُنَوَّرَہ،سُلطَا نِ مَکَّۂ مُکَرَّمَہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:بروزِقیامت کچھ مُہربندصحیفےاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں نَصْب(پیش)کئے جائیں گے تواللہ عزَّوَجَلَّفرشتوں سے فرمائے گا:یہ چھوڑدواوریہ قبول کرلو۔ فرشتے عرض کریں گے : یاربّعزَّوَجَلَّ!تیری عزت کی قسم!ہم تواس میں خیرہی دیکھتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّجوسب سے زیادہ جاننے والاہے ارشادفرمائے گا:یہ اعمال میرے غیرکیلئے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گاجومیری رِضاکے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ۱/۷۳، حدیث:۱۲۹)زیادہ عمل والا پھنس گیا کم عمل والا بخشا گیاحضرتِ سَیِّدُنااِبنِ مبارَکرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ:ملائکہاللہ عزَّوَجَلَّکے بندوں میں سے کسی بندے کے عمل کوزیادہ سمجھتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے یہاں تک کہاللہ عزَّوَجَلَّاپنی سلطنت میں جہاں چاہے گاوہ وہاں پہنچ جائیں گے،پھراللہ عزَّوَجَلَّان کی طرف وحی فرمائے گاکہ’’تم میرے بندے کے عمل لکھنے پرمامورہواورمیں اس کے دل سے باخبرہوں ،میرایہ بندہ میرے لئے عمل کرنے میں مُخلِص نہیں تھالہٰذااسیسِجِّیْن(ساتویں زمین کے نیچے ایک مقام کانام ہے جوشیطان اوراس کے لشکروں کاٹھکانا ہے)میں سے لکھ دو۔‘‘اسی طرح فرشتے ایک بندے کے عمل کوکم اورحقیرجانتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے یہاں تک کہاللہ عزَّوَجَلَّاپنی سلطنت میں جہاں چاہے گاوہ فرشتے وہاں پہنچ جائیں گے تواللہ عزَّوَجَلَّان کی طرف وحی فرمائے گا:’’تم میرے بندے کے عمل لکھنے پرمامورہواورمیں اس کے دل سے باخبرہوں ، میرایہ بندہ میرے لئے عمل کرنے میں مخلص ہے لہٰذااِسیعِلِّیِّینمیں سے لکھ دو(عِلِّیِّینساتویں آسمان میں عرش کے نیچے ایک مقام کانام ہے یہ نیک لوگوں کا ٹھکانہ ہے )۔‘‘ (الزہد لابن المبارک، باب ذم الریاء والعجب، ص۱۵۳، حدیث:۴۵۲)
میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو
کر اِخلاص ایسا عطا یا الٰہیصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدبغیرعمل کے ثواب وعذاباچھی نِیَّت کی وجہ سے انسان بغیرعمل کے بھی ثواب کامستحق ہوجاتاہے اوراسے وہی ثواب ملتاہے جواس وقت ملتاجب وہ عمل کرتااسی طرح گناہ کاپُختہ اِرادہ کرنے پربھی انسان گناہ گارہوجاتاہے اگرچہ اس نے وہ گناہ نہ کیاہو،چنانچہ ، صاحبِ بہارِ شریعت صدرُ الشریعہ، بدرُ الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’ اگر گناہ کے کام کا بالکل پکا ارادہ کرلیا جس کو عزم کہتے ہیں تو یہ بھی ایک گناہ ہے اگرچہ جس گناہ کا عزم کیا تھا اسے نہ کیا ہو۔‘‘( بہارِ شریعت ، ۳/ ۶۱۵، حصہ ۱۶)اس ضمن میں تین رِوایات مُلاحَظَہ ہوں :(۱)چارطرح کے لوگسرکارِاَبد ِقرار،شافعِ روزِشمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا:اس امت کے لوگ چار طرح کے ہیں :(۱) جسےاللہ عزَّوَجَلَّنے علم ومال دیااوروہ اپنے مال کو اس کے مصرف میں خرچ کرتاہے (۲) جسےاللہ عزَّوَجَلَّنے علم دیا مال نہ دیا وہ کہتا ہے اگر میرے پاس اس کی طرح مال ہوتاتو میں بھی اس جیساعمل کرتا۔ پس یہ دونوں ثواب میں برابر ہیں۔ (۳) جسےاللہ عزَّوَجَلَّنے مال دیاعلم نہ دیاتووہ اپنی جہالت کی وجہ سے مال کوفضول کاموں میں خرچ کرتاہے(۴) جسےاللہ عزَّوَجَلَّنے نہ علم دیا نہ مال وہ کہتاہے اگرمیرے پاس بھی اس کی طرح مال ہوتاتومیں بھی اس کی طرح خرچ کرتا،پس یہ دونوں گناہ میں برابرہیں۔ (ابن ماجہ،کتاب الزہد، باب النیۃ، ۴/۴۸۱، حدیث:۴۲۲۷)(۲)صرف نِیَّت پرکا مِل نیکی کاثواباللہ عزَّوَجَلَّ کےمَحبوب،دانائے غُیُوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جونیکی کاارادہ کرے لیکن اس پرعمل نہ کرسکے تواللہ عزَّوَجَلَّاس کے نامۂ اعمال میں ایک کامِل نیکی کاثواب لکھ دیتاہے۔‘‘ (مسلم،کتاب الایمان،باب اذا ہم العبد بحسنۃ کتبت…الخ، حدیث:۱۳۱، ص۸۰)(۳)نِیَّت کی وجہ سے جنت ودوزخحضرتِ سَیِّدُناحَسَن بصریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ جنتی جنت میں اورجہنمی جہنم میں اپنی نِیَّتوں کی وجہ سے ہمیشہ رہیں گے۔ (احیاء العلوم،۵/۸۹)
حضرت عَلَّامَہسَیِّد مُحَمَّد بِنْ مُحَمَّد الحُسَیْنِی الزَّبِیْدِیاپنی مشہور و معروف کتاب ’’اتحاف الساد ۃ المتقینشرح احیاء علوم الدین‘‘ میں حضرتِ سَیِّدُناحَسَن بصریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے قول کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ اس لئے کہاللہ عزَّوَجَلَّکسی بندے کو اس کے عمل کی وجہ سےہمیشہ جنت میں نہیں رکھے گا بلکہ اس کی نیت کی وجہ سے جنت میں رکھے گا، اگر بندہ اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں جاتا تو وہ اپنے عمل کی مدت کے مطابق جنت میں رہتا یا اس سے دگنی مدت تک ، لیکناللہ عزَّوَجَلَّاُسے نیت کے مطابق جزا دے گا اس لئے کہ اس نے یہ نیت کی کہ جب تک میں زندہ رہوں گااللہ عزَّوَجَلَّکی اطاعت کرونگا پس جب موت نے اس کے عمل کو ختم کر دیا تو اسے اس کی نیت کے مطابق جزا دی گئی ۔ اسی طرح کافر کا معاملہ ہے اگر کافر کو اس کے عمل کی وجہ سے جہنم میں ڈالا جاتا تو وہ ہمیشہ جہنم میں نہ رہتا بلکہ اپنے عمل کی مدت کے مطابق جہنم میں رہتا لیکن چونکہ اس نے یہ نیت کی تھی کہ ہمیشہ کفر پر رہے گا اسی لئے اسے اس کی نیت کے مطابق جزا دی گئی ۔‘‘ (اتحاف السادۃ المتقین شرح احیاء علوم الدین، ۱۳/۲۱)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدنیکی کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیجئےہماراپاک پَروَردگارعزَّوَجَلَّکتناکریم ہے کہ اگراس کابندہ کسی نیک کام کی نِیَّت کرلے لیکن عمل نہ کرپائے تب بھی اسے عمل کاثواب عطافرماتاہے،ہمیں چاہیے کہ ثواب کاکوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں جتناہوسکے نیکیوں کی نِیَّت کرلیں کیونکہ ہمارارحیم وکریم پروَردگارعزَّوَجَلَّ اچھی نیتوں پر بھی بہت زیادہ ثواب عطافرمانے والا ہے ۔اچھی نِیَّت پراِنعامِ ربُّ ا لاناممنقول ہے کہ بنی اسرائیل کاایک شخص قَحْط کے زمانے میں ریت کے ایک ٹیلے کے قریب سے گزراتودل میں کہا:’’اگر یہ رَیت غَلَّہ ہوتی تومیں اسے لوگوں پرصَدَقہ کردیتا۔اللہ عزَّوَجَلَّنے اس دَورکے نبیعَلَیْہِ السَّلامپر وَحی بھیجی کہ ’’اس سے فرماؤ!اللہ عزَّوَجَلَّنے تیرا صَدَقہ قبول کرلیاہے اوراچھی نیت کے بدلے تجھے اتناثواب دیاکہ جتنااس وقت ملتاجب یہ ریت غَلَّہ ہوتی اورتواسے صَدَقہ کردیتا۔‘‘(قوت القلوب لابی طالب المکی، ۲/۲۷۱)
رحمت دا دریا الٰہی ہر دم وگدا تیرا جے اِک قطرہ بخشیں مینوں کم بن جاوے میرادنیاکی چاہت باعثِ فقرہےجواپنی آخرت سنوارنے کی نِیَّت کرے اسے دنیاوآخرت کی بھلائی نصیب ہوتی ہے،دنیاخودبخوداس کے قدموں میں آتی ہے اورجوآخرت کی فکرچھوڑکرصرف دنیاہی کاطلبگارہوتووہ اپنی نِیَّت کی وجہ سے فَقر میں مبتلا ہوجاتا ہے،وہ دنیاکے پیچھے جتنادوڑتاہے دنیااس سے اتناہی دوربھاگتی ہے، اسے صرف وہی ملتا ہے جواسکے مقدرمیں لکھاجاچکا،نصیب سے زیادہ ایک دانہ بھی نہیں مِل سکتا جیساکہ نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ذیشان ہے : ’’جوآخرت کاطلبگارہواللہ عزَّوَجَلَّاس کادل غنی کردیتاہے اوراس کے بکھرے ہوئے کاموں کوجمع کردیتاہے اوردنیااس کے پاس ذلیل وخوارہوکرآتی ہے اورجودنیاکاطلبگارہوتواللہ عزَّوَجَلَّاس کافقراس کی آنکھوں کے سامنے کردیتاہے اوراس کے جمع شدہ کاموں کومُنْتَشِر کر دیتاہے اوردنیاکا(مال)بھی اسے اتناہی ملتا ہے جتنااس کے لئے مقدرہے۔‘‘(ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب ماجاء فی صفۃ اوانی ا لحوض، ۴/۲۱۱، حدیث:۲۴۷۳)بہترین عملاَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُناعمرفاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں : اللہ عزَّوَجَلَّ کے فرائض کی ادائیگی،حرام اشیاء سے اجتناب اوراللہ عزَّوَجَلَّکے ہاں نِیَّت کاسچا(خالِص)ہونابہترین عمل ہے۔ (قوت القلوب لابی طالب المکی، ۲/۲۶۷)جتنا اخلاص زیادہ اتنی مددِ الٰہی زیادہانسان کومددِالٰہی اس کے اِخلاص کے مطابق ملتی ہے،جس کے نیک اَعمال میں جتنا زیادہ اِخلاص ہوگااسے اتنی ہی زیادہ مددِالٰہی نصیب ہوگی۔نِیَّت ہی کی وجہ سے اعمال اچھے یابُرے اورمرتبے کے لحاظ سے چھوٹے یابڑے ہوتے ہیں اوراچھی نِیَّت کی وجہ سے انسان کوکبھی نہ کبھی اچھے عمل کی توفیق ضرورمل جاتی ہے۔اس ضمن میں 5روایات ملاحظہ ہوں :(1)خالص عمل تھوڑا بھی زیادہ ہےحضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ تورا ت شریف میںاللہ عزَّوَجَلَّکایہ فرمان لکھا ہے:’’جس عمل سے میری رِضا مطلوب ہووہ تھوڑابھی زیادہ ہے اورجس عمل سے میرے غیرکاقَصدکیاگیاہووہ زیادہ بھی تھوڑاہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۵/۸۹)(2)جیسی نِیَّت وَیسی مددحضرتِ سَیِّدُناسالِم بن عَبْدُ اللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے حضرتِ سَیِّدُناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْدکولکھ کربھیجاکہ’’جان لوبے شک!بندے کواللہ عزَّوَجَلَّکی طرف سے مدداس کی نِیَّت کے مطابق ملتی ہے،جس کی نِیَّت مکمل(یعنی خالص)ہواس کے لئےاللہ عزَّوَجَلَّکی مددبھی مکمل ہوتی ہے اورجس کی نِیَّت میں کمی ہواسے مددبھی کم ملتی ہے۔‘ـ∞‘(یعنی انسان کی مدداسکے اِخلاص کے مطابق کی جاتی ہے) (احیاء العلوم، ۵/۸۹)(3)عمل کاچھوٹایابڑاہونابزرگانِ دینرَحِمَہم اللہ الْمُبِیْنسے منقول ہے :’’اکثرچھوٹے اَعمال کونِیَّت بڑاکردیتی ہے اوربہت سے بڑے بڑے اعمال نِیَّت کی وجہ سے چھوٹے ہوجاتے ہیں۔‘‘ (قوت القلوب لابی طالب المکی، ۲/۲۶۸)(4)عمل نِیَّت کا محتاج ہےحضرتِ سَیِّدُناامام محمد بن محمدغزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیفرماتے ہیں :نِیَّتیں اعمال کاستون ہیں عمل تونِیَّت کامحتاج ہے کیونکہ عمل نِیَّت ہی کی وجہ سے اچھاہوتاہے جبکہ نِیَّت ذاتی طورپراچھی ہے اگرچہ کسی مجبوری کی وجہ سے عمل نہ ہوسکے۔ (احیاء العلوم،۵/۸۹)(5)اچھی نِیَّت اچھے عمل کی طرف لاتی ہےحضرتِ سَیِّدُناداؤدطائیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ جس نیک بندے کی نِیَّت تقویٰ کی ہو(پھر اگرکسی وجہ سے)اس کے تمام اعضاء دنیا سے متعلق ہوبھی جائیں تب بھی کسی نہ کسی دن اس کی نیت اسے اچھے عمل کی طرف لے آئے گی جبکہ جاہل کاحال اس سے مختلف ہے۔ (احیاء العلوم، ۵/۸۹)عمل سے پہلے نِیَّت سیکھئے!کوئی بھی نیک عمل کرنے سے پہلے اچھی اچھی نِیَّتیں ضرورکرلینی چاہئیں ہمارے اَسلافرَحِمَہم اللہ تَعَالٰیعمل سے پہلے نِیَّت سیکھا کرتے تھے۔حضرتِ سَیِّدُناسُفیان ثَوری عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْقَوِینے فرمایا: پہلے کے لوگ عمل کے لئے اس طرح نِیَّت سیکھتے تھے جس طرح عمل سیکھتے تھے۔بعض علمائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامنے فرمایا:’’عمل سے پہلے اس کی نِیَّت سیکھواورجب تک تم نیکی کی نِیَّت پررہوگے بھلائی پررہوگے۔‘‘(قوت القلوب لابی طالب المکی، ۲/۲۶۸)کوئی بھی لمحہ نیکی سے خالی نہ گزرےایک طالبِ علم نے علمائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکی خدمت میں عرض کی:’’مجھے کوئی ایساعمل بتایئے جس کے باعث میں ہر وقتاللہ عزَّوَجَلَّکے لئے عمل میں مشغول رہوں کیونکہ مجھے یہ پسندنہیں کہ رات دن میں کوئی ایسا وقت گزرے جس میں ،میں نےاللہ عزَّوَجَلَّکے لئے عمل نہ کیاہو۔‘‘علمائے کرامرَحِمَہم اللہ السَّلَامنے اس سے فرمایا: ’’تواپنے مقصدکوپہنچ گیاجس قدرممکن ہونیک اعمال بَجالا،جب توتھک جائے یاکوئی عمل چھوڑدے توآیندہ اسے کرنے کی نِیَّت کرلیاکرکیونکہ نِیَّت کرنے والابھی عمل کرنے والے کی طرح نیک عمل کررہاہوتاہے۔‘‘ (قوت القلوب لابی طالب المکی، ۲/۲۶۸)اچھی نِیَّت کی وجہ سے بخششخلیفہ ہارون الرشید کی زوجہ زُبَیْدَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہماکوکسی نے خواب میں دیکھ کرپوچھا:’’مَا فَعَلَ اللہ بِکِیعنیاللہ عزَّوَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا؟‘‘کہا:’’∞ اللہ عزَّوَجَلَّنے مجھے بخش دیا۔‘‘پوچھا کیامغفرت کاسبب وہی سڑک بنی جسے آپ نے بہت زیادہ مال خرچ کرکے مکۂ مکرمہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکی طرف بنوایاتھا؟کہا:نہیں ،اس سڑک کاثواب توکام کرنے والوں کوملا،مجھے تواللہ عزَّوَجَلَّنے میری اچھی نِیَّتوں کی وجہ سے بخشاہے۔ (ا لرسالۃا لقشیریۃ،ص۴۲۲)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہمَد ِینَہ مُنَوََّرَہ کے10 حروف کی نسبت سے حد یث مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 10 مدنی پھول
(1)اعمال کے ثواب کادارومدارنِیَّتوں پرہے جیسی نِیَّت ویساہی ثواب۔
(2)ہرنیک کام سے پہلے اچھی اچھی نِیَّتیں ضرورکرلینی چاہئیں تاکہ اس عمل کاثواب بڑھادیاجائے۔
(3)جس عمل سےاللہ عزَّوَجَلَّکی خوشنودی مقصودنہ ہووہ وَبال بن جاتاہے۔
(4)اگرکسی نیک عمل کوبَجالانے کی طاقت نہ ہوتواس عمل کاثواب پانے کے لئے یوں نِیَّت کر لی جائے’’اگراس عمل کو کرنے کی طاقت ہوتی توضرورکرتایاجب بھی مجھے موقع ملا تو ضرورعمل کروں گا۔‘‘
(5)جوآخرت کاطلبگارہودنیااس کے پاس ذلیل وخوارہوکرآتی ہے اورجوفقط دنیاہی کاطلبگارہووہ خسارے میں رہتاہے۔
(6)مددِالٰہی نِیَّت کے خُلُوص کے مطابِق ملتی ہے نِیَّت میں جتناخُلُوص ہوگااتنی زیادہ مددکی جائے گی۔
(7)نیک کام کی صرف نِیَّت پربھی ثواب ہے اگرچہ بعد میں کسی مجبوری کی وجہ سے عمل نہ ہوسکے۔
(8) جو تقویٰ و پرہیز گاری کی نیت کرے پھر اگر وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر دنیا کی طرف مائل ہو بھی جائے تو وہ اپنی نیت کی برکت سے نیکی کی طرف لوٹ آئے گا۔
(9)اللہ عزَّوَجَلَّاپنے بندوں پربہت رحیم وکریم ہے کہ صرف نیت پربھی ثواب عطافرمادیتاہے اورنہ جانے کتنے لوگوں کوصرف اچھی نِیَّتوں کی وجہ سے بخش دیتاہے۔
(10)نِیَّت علیٰحِدہ ایک مستقل عبادت ہے جبکہ عمل نِیَّت کامحتاج ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو!ہمیں چاہیے کہ ہرنیک وجائزکام سے پہلے اچھی اچھی نِیَّتیں کرلیاکریں اس طرح ہمارے اعمال کاثواب بہت زیادہ بڑھ جائے گا کہ جتنی اچھی نِیَّتیں زیادہ اتنا ثواب بھی زیادہ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عزَّوَجَلَّتبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک’’دعوتِ اسلامی‘‘کے مدنی ماحول میں جہاں دیگرنیک اَعمال کی ترغیب دلائی جاتی ہے وہیں نِیّتوں کی اصلاح اورہرجائزکام سے پہلے اچھی اچھی نِیَّتیں کرنے کابھی خوب ذہن دیاجاتاہے۔شیخِ طریقت،امیرِ اَہلسنت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانامحمدالیاس عطّارؔقادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَہنے مسلمانوں کی خیرخواہی کے مُقَدَّس جذبے کے تحت مختلف کاموں کی بہت سی نِیَّتیں مُرَتَّب فرمائی ہیں ،جیسے کھانے کی40نِیَّتیں ، مِل کرکھانے کی نِیَّتیں ،پانی پینے کی14نِیَّتیں ،چائے پینے کی6نِیَّتیں ،خوشبولگانے کی47نِیَّتیں ،ان کے علاوہ بھی نِیَّتوں کے بہت سے مدنی پھول مُرَتَّب فرمائے ہیں۔آپدَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃکے عطاکردہ’’مَدَنی انعامات‘‘میں پہلا مَدَنی اِنعام ہی یہ ہے کہ’’کیاآج آپ نے کچھ نہ کچھ جائزکاموں سے پہلے اچھی اچھی نِیَّتیں کیں ؟نیزکم ازکم دوکواس کی ترغیب دلائی؟‘‘اللہ عزَّوَجَلَّہمیں ہرجائزونیک کام سے پہلے اچھی اچھی نِیَّتیں کرنے کی توفیق عطافرمائے اوراِخلاص واِستِقَامَت کی دولت سے مالامال فرمائے!ہم سب کاخاتمہ ایمان پرفرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم٭٭٭٭٭٭٭∞
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 1