- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- حدیث نمبر 3
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’ لَا ہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ ،وَلٰکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ ،وَاِذَااسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا۔‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ ( مسلم، کتاب الامارۃ، باب المبایعۃ بعد فتح مکۃ …الخ، ص ۱۰۳۶، حدیث:۱۸۶۴)
قَالَ النَّوَوِی : ’’ وَ مَعْنَاہُ لَا ہِجْرَۃَ مِنْ مَکَّۃَ لِاَنَّھَا صَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ
عن عائشۃ رضی اللہ تعالی عنھا قالت: قال النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم:’’ لا ہجرۃ بعد الفتح ،ولکن جہاد ونیۃ ،واذااستنفرتم فانفروا۔‘‘ متفق علیہ۔ ( مسلم، کتاب الامارۃ، باب المبایعۃ بعد فتح مکۃ …الخ، ص ۱۰۳۶، حدیث:۱۸۶۴)
قال النووی : ’’ و معناہ لا ہجرۃ من مکۃ لانھا صارت دار إسلام
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدَتُناعائِشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ جنابِ رِسالت مآبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا:’’فتحِ مکہ کے بعدہجرت نہیں البتہ جہاداورنِیَّت باقی ہے اورجب تمہیں جہادکی طرف نکلنے کوکہاجائے توچل پڑو۔‘‘
اِمام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’اس حدیث کامطلب یہ ہے کہ اب مکہ سے ہجرت نہیں کیونکہ وہ دَارُالْاِسْلام بن چکا ہے۔‘‘
شرح حدیث
ہجرت سے کیامرادہے؟علامہ میرسیدشریف جرجانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیہجرت کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ھِیَ تَرْکُ الْوَطْنِ الَّذِی بَیْنَ الْکُفَّارِوَالْاِنْتِقَالُ اِلٰی دَارِالْاِسْلامِ۔ترجمہ:جووطن کفارکے علاقوں کے درمیان ہواس کوچھوڑنااور دارُ الاسلام ( ) کی طرف مُنْتَقِل ہوناہجرت کہلاتاہے۔ (التعریفات،ص۱۷۲)’’فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ‘‘کا مطلبعلامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیعُمْدَۃُ الْقَارِی میں فرماتے ہیں :’’فتحِ مکہ کے بعد ہجرت نہیں ‘‘ اس فرمانِ عالی شان کا مطلب ہے کہ اب مکۂ مکرمہ سے ہجرت( فرض) نہیں۔ باقی وہ جگہیں جہاں دینِ اسلام کے احکام کی حفاظت نہ کی جاسکے وہاں سے ہجرت کرنا واجب ہے۔ (عمدۃ القاری، کتاب الجہاد والسیر، باب فضل الجہاد والسیر، ۱۰/۷۹، تحت الحدیث:۲۷۸۳)
جبکہ امام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ دَارُ الْحَرب سے دَارُ الْاِسلام کی طرف ہجرت قیامت تک باقی رہے گی اور حدیث مذکورکی تاویل میں دو قول ہیں :
(1) فتحِ مکہ کے بعدمَکَّۂ مُکَرَّمَہزَادَھَا اللہ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًاسے ہجرت نہیں کی جائے گی کیونکہ اب وہ دارُالاسلام بن چکا ہے اور ہجرت دارُالحرب سے کی جاتی ہے نہ کہ دارالاسلام سے اور یہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے معجزات میں سے ہے کہ آپ نے آیندہ کی خبر دے دی کہ اب مَکَّۂ مُکَرَّمَہزَادَھَا اللہ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًاہمیشہ دارُ الاسلام ہی رہے گا۔
(2) فتحِ مکہ کے بعد مَکَّۂ مُکَرَّمَہزَادَھَا اللہ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًاسے ہجرت کرنے کا ثواب اور فضیلت ویسی نہیں رہی جو فتحِ مکہ سے پہلے تھی جیسا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰)(پ۲۷، الحدید:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان :تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعدِ فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الحج، باب تحریم مکۃ وتحریم صیدھا وخلاھا وشجرھا، ۵/۱۲۳، الجزء التاسع)
مَکَّۂِ مُکَرَّمَہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاسے ہجرت میں حکمتامام ابوعبد اللہ مُحَمَّد بِنْ عَلِی بِنْ عُمَرتَمِیْمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں : اولِ اسلام میں ہجرت فرض تھی تاکہ مسلمان کافروں کے شہر میں غلبے کی وجہ سے اُن کے ظلم و سِتم سے محفوظ رہیں اور حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مُعاوِن و مددگار بنیں اور کفار کو آپ سے دور رکھیں ، پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو ہجرت فرض نہ رہی کیونکہ یہاں کے مسلمانو ں سے اَذِیت دور ہوگئی اور حضورعَلَیْہِ السَّلامکو کفار کے ضرر سے بچانے کے لئے محافظین کی ضرورت نہ رہی ۔ لیکن حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قرب پانے، آپ کی زیارت کرنے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے ہجرت مستحب ہے۔ (اکمال المعلم ،کتاب الاما رۃ ، باب ا لمبایعۃ بعد فتح مکۃ… الخ، ۶/۲۷۵)ہجرت کی اقسامعلمائے کرامرَحِمَہم اللہ السَّلامنے ہجرت کی کئی اقسام بیان کی ہیں :
(1)ہجرتِ حبشہ(2)مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت(3)ہجرت ِشام (4)مکے کے جو لوگ اسلام لائے ان کا ہجرت کرنا (5 )اللہ عَزَّوَجَلّکی منع کردہ چیزوں سے ہجرت کرنا یعنی انہیں چھوڑ دینا ۔(عمدۃ القاری، کتاب الجہاد والسیر، باب فضل الجہاد والسیر، ۱۰/۷۹، تحت الحدیث:۲۷۸۳)مکہ شریف سے ہونے والی تین ہجرتیں
(1) مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف ہجرتجب دینِ اسلام کاسورج دنیاکواپنے نورسے مُنَوَّرکرنے کیلئے مَکَّۂ مُکَرَّمَہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں طلوع ہواتوکفروشرک کے سیاہ بادَل ہرطرف سے اُمنڈآئے اوراس آفتابِ کامل کی نوربار کِرنوں کوروکنے کی بھرپورکوشش کرنے لگے۔جو خوش نصیب دامنِ اسلام سے وابستہ ہوتاکفارِبداَطواراس پرظلم وسِتم کے پہاڑتوڑدیتے۔ دینِ اسلام کے شیدائی یہ سب تکالیف ہنس کربرداشت کرلیتے۔لیکن جب ان ظالموں کاظلم وسِتم حدسے بڑھ گیا اور انہوں نے مسلمانوں پرعرصۂ حیات تنگ کردیاتورحمتِ عالَم،نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسلمانوں کو’’حبشہ‘‘کی جانب ہجرت کاحکم دیا۔اِعلانِ نُبُوَّت کے پانچویں سال رَجَبُ المُرَجَّب کے مہینے میں گیارہ مرد اور چار عورتوں کے قافلے نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ (الطبقات الکبری لابن سعد، ۱/۱۵۹)حبشہ کے بادشاہ کا نام ’’اَصْحَمَہ‘‘ اور لقب’ ’ نَجَاشی‘‘ تھا۔ عیسائی دین کا پابند تھا مگر بہت ہی انصاف پسنداوررحم دل تھا۔توراۃ واِنجیل وغیرہ آسمانی کتابوں کابہت ہی ماہرعالِم تھا۔ (سیرت مصطفی، ص۱۲۶)
جب کفارِ مکہ کومعلوم ہواتوان ظالموں نے اُن کی گرفتاری کیلئے تعاقُب کیالیکن یہ کشتی پرسوارہوکرروانہ ہوچکے تھے۔اس لئے کفارناکام واپس لوٹے۔مہاجرین کایہ قافلہ حبشہ کی سرزمین میں اُترکراَمن وامان کے ساتھ خداکی عبادت میں مصروف ہوگیا۔(الطبقات الکبری لابن سعد، ۱/۱۶۲)چنددنوں بعدناگہاں یہ خبرپھیل گئی کہ کفارِمکہ مسلمان ہوگئے ہیں۔یہ سن کرچندلوگ حبشہ سے مکہ مکرمہ لوٹ آئے مگریہاں آکرپتاچلاکہ یہ خبرغلط تھی۔چنانچہ، کچھ تودوبارہ حبشہ چلے گئے اورکچھ مکۂ مکرمہ میں ہی چھپ کررہنے لگے،لیکن کفارِمکہ نے انہیں ڈھونڈنکالااوراُن پرپہلے سے بھی زیادہ ظلم ڈھانے لگے۔نبیِ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کوپھرحبشہ چلے جانے کاحکم دیا۔چنانچہ، حبشہ سے واپس آنے والے اوران کے ساتھ دوسرے مظلوم مسلمان کل تراسی (۸۳)مرداوراٹھارہ عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ (سیرت مصطفی، ص۱۲۷)کُفارِمکہ اورنَجَاشِیتمام مہاجرین نہایت امن وسکون سے حبشہ میں رہ رہے تھے۔کفارِمکہ کوکب گواراہوسکتاتھاکہ فرزندانِ توحید کہیں امن وچین کے ساتھ رہ سکیں۔چنانچہ، ان ظالموں نے’’ عَمروبن العاص‘‘اور’’عمارہ بن ولید‘‘کوتحائف دے کر بادشاہ حبشہ کے دربارمیں اپناسفیربناکربھیجا۔(شرح المواہب، ۱/۵۰۶) انہوں نے نجاشی کے دربارمیں تحفوں کانذرانہ پیش کیااوربادشاہ کوسجدہ کر کے فریادکرنے لگے:’’ اے بادشاہ!ہمارے خاندان کے کچھ مجرم مکۂ مکرمہ سے بھاگ کرآپ کے ملک میں رہنے لگے ہیں۔ آپ انہیں ہمارے حوالے کردیجیے۔‘‘یہ سن کرنجاشی بادشاہ نے مسلمانوں کوطلب کیا تو حضرتِ سَیِّدُناعلیُّ المُرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے بھائی حضرت سَیِّدُناجعفررَضِیََ اللہ تَعَا لٰی عَنْہُمسلمانوں کے نمائندے بن کرگفتگوکیلئے آگے بڑھے آپ نے بادشاہ کوسجدہ نہیں کیابلکہ صرف سلام کرکے کھڑے ہوگئے۔ درباریوں نے ٹوکاتوآپَرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خداکے سواکسی اورکوسجدہ کرنے سے منع فرمایاہے،اس لئے میں بادشاہ کوسجدہ نہیں کرسکتا۔‘‘ پھرآپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے نَجَاشی کے دربار میں یوں تقریر فرمائی:’’اے بادشاہ!ہم ڈکیتی،ظلم وستم اورطرح طرح کی بداعمالیوں میں مبتلاتھے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ نے ہم اری قوم میں ایک شخص کواپنارسول بناکربھیجاجس کے حَسَب ونَسَب اورصِدق ودِیانت کوہم پہلے سے جانتے تھے، اس رسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں صرف اورصرف خدائے واحِدکی عبادت کاحکم دیااورہرقسم کے ظلم وستم اورتمام برائیوں اوربدکاریوں سے منع فرمایا،ہم اس رسول پرایمان لائے اورشرک وبُت پرستی چھوڑکرتمام بُرے کاموں سے تائب ہوگئے۔بس یہی ہماراجرم ہے جس پرہم اری قوم ہم اری جان کی دشمن ہوگئی اوراِن لوگوں نے ہمیں اتناستایاکہ ہم اپنے وطن کوچھوڑکرآپ کی سلطنت میں آگئے اورپُرامن زندگی بسرکرنے لگے۔اب یہ لوگ ہمیں مجبور کررہے ہیں کہ ہم پھراسی پرانی گمراہی میں واپس لوٹ جائیں۔‘‘نَجَاشِی دامنِ اسلام میںحضرتِ سَیِّدُناجعفرَرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے ایمان افروز بیان سے نجاشی بادشاہ بے حدمتاثرہوا۔یہ دیکھ کرکفارِمکہ کے سفیرعمرو بن العاص نے اپنے تَرکَش کاآخری تیربھی پھینکتے ہوئے کہا:اے بادشاہ!یہ لوگ آپ کے نبی عیسیٰ(عَلَیْہِ السَّلام)کے بارے میں ایساعقیدہ رکھتے ہیں جوآپ کے عقیدے کے بالکل ہی خلاف ہے۔نجاشی نے حضرت سَیِّدُناجعفرَرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے اس بارے میں سوال کیاتوآپ نے پارہ16،سورۂ مریم کی تلاوت فرمائی،کلامِ رَبّانی کی تاثیرسے نجاشی پررِقَّت طاری ہوگئی اورآنکھیں آنسوبہانے لگیں۔حضرت سَیِّدُنا جعفررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے فرمایا:’’ہمارے نبیِّصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں یہی بتایاہے کہ حضرت سَیِّدُناعیسیٰ(عَلَیْہِ السَّلام)خدا کے بندے اوراس کے رسول ہیں اورکنواری مریم(رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا)کے شِکم مُبارَک سے بغیرباپ کے خداکی قدرت کانشان بن کرپیداہوئے۔‘‘نجاشی نے بڑے غورسے یہ سب باتیں سنیں اورکہا:’’بلاشبہ اِنجیل مُقَدَّس اورقراٰنِ کریم دونوں ایک ہی آفتابِ ہدایت کے دونورہیں اوریقیناحضرت سَیِّدُناعیسیٰ(عَلَیْہِ السَّلام)خداکے بندے اوراس کے رسول ہیں اورمیں گواہی دیتاہوں کہ بے شک!حضرت محمد(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)خداکے وہی رَسول ہیں جن کی بِشارت حضرت سَیِّدُناعیسیٰ(عَلَیْہِ السَّلام) نے اِنجیل مُقَدَّس میں دی اور اگر میں دستورِسلطنت کے مطابق تختِ شاہی پررہنے کاپابندنہ ہوتاتومیں خودمَکَّۂ مُکَرَّمَہ جاکراس نبیِّ آخِرُالزَّماں کی نَعلَین شَرِیفَین سیدھی کرتااوران کے مبارک قدم دھوتا۔‘‘بادشاہ کی تقریرسن کر مُتَعَصِّبْ(مُتَ۔عَص۔صِب) قسم کے عیسائی ناراض وبَرْہم ہوگئے مگرنجاشی نے جوشِ ایمانی میں سب کوڈانٹ پھٹکارکر خاموش کردیااورکفارِمکہ کے تحائف بھی واپس لوٹادیئے۔کفارِمکہ کے سفیرعمروبن العاص اورعمارہ بن وَلیدکودربارسے نکلوا دیااورمسلمانوں سے کہہ دیاکہ تم لوگ میری سلطنت میں جہاں چاہواَمن وسکون سے آرام وچین کی زندگی بسرکرو،کوئی تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑسکتا۔ (شرح المواہب، ۱/۵۰۶ و مسند احمد بن حنبل، ۲/۱۸۷، حدیث:۴۴۰۰، ملخصاً)
ہمارے اَسلافرِضْوانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم اَجْمَعِیْننے دینِ اسلام کی خاطِرانتہائی سخت تکالیف برداشت کیں اورہر طرح اپنے دین کی حفاظت کی!تواللہ عزَّوَجَلَّنے انہیں آسانیاں عطافرمادیں۔نجاشی بادشاہ کے دل میں دینِ اسلام اورنبی ٔآخِرُالزماں کی محبت ڈال دی۔چنانچہ،اس نے حق کااِظہار کرتے ہوئے اپنے دِلی جذبات کوبھرے دربارمیں عَلَی الْاِعلان بیان کیا،اگرچہ اس کے کثیردرباری ناراض ہوگئے لیکن اس نے کسی کی پروا نہ کی۔پھرحق تعالیٰ نے اسے دینِ اسلام کی دولت سے مالامال کردیا۔اگرچہ وہ نبیِّ آخرُالزَّماں کی زیارت نہ کرسکے لیکن ان کا دل یادِمصطفٰے سے معمورتھا۔جب حبشہ میں اُن کاانتقال ہواتو نبیِّ غیب داں ، رحمتِ عالمیاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مدینہ شریف میں ان کی نمازِجنازہ اداکی اوردعائے مغفرت فرمائی۔ چنانچہ، عمدۃ القاری میں ہے حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمفرماتے ہیں :’’ نجاشی کا جنازہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے ظاہر کردیا گیاتھا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے دیکھا اور نماز جنازہ پڑھائی۔‘‘ (عمد ۃ القاری، کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ، ۶/ ۱۶۴، تحت الحدیث:۱۳۱۸)اللہ عزَّوَجَلَّکی ان پررَحْمَت ہواوراُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔(2) مکۂ مکرمہ سے سوئے مدینہجب مَدِیْنَۂ مُنَوََّرَہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکے قبائل بنو خَزْرج و بنواَوس کے چند افراد ایمان لائے اور انہوں نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومَدِیْنَۂ مُنَوََّرَہ آنے کی دعوت دی تو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرامرِضْوانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم اَجْمَعِیْنکوعام اجازت دے دی کہ وہ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ سے ہجرت کرکے مَدِیْنَۂ مُنَوََّرَہ چلے جائیں۔ چنانچہ، سب سے پہلے حضرتِ سَیِّدُناابوسلمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے ہجرت کی۔ان کے بعدیکے بعددیگرے دوسرے صحابۂ کرامرِضْوانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم اَجْمَعِیْنبھی مَدِینَۂ مُنَوََّرَہ روانہ ہونے لگے۔جب کفارِقریش کوپتہ چلاتوانہوں نے روک ٹوک شروع کردی مگرچھپ چھپ کرہجرت کاسلسلہ جاری رہایہاں تک کہ رفتہ رفتہ بہت سے صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانمدینہ منورہ چلے گئے۔مَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں صرف وہی حضرات رہ گئے جویاتوکافروں کی قیدمیں تھے یااپنی مفلسی کی وجہ سے مجبور تھے۔ حضورِ اَکرم، نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوچونکہ ابھی تک اپنے ربِّ کریم کی طرف سے ہجرت کاحکم نہیں ملاتھااس لئے آپ اورآپ کے حکم پر اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت سَیِّدُناابوبکرصدیق اورحضرت سَیِّدُناعلِیُّ المُرتضیٰرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما بھی مَکَّۂ مُکَرَّمَہ ہی میں ٹھہرے رہے۔ (ملخص از سیرۃلابن ہشام، ص۱۹۱)خونی منصوبہجب کفارِمکہ نے دیکھا کَّۂ مُکَرَّمَہ سے باہربھی مسلمانوں کے مددگارہوگئے ہیں اور مدینہ منورہ جانے والے مسلمانوں کوانصارنے اپنی پناہ میں لے لیاہے توکفارِمکہ کویہ خطرہ محسوس ہواکہ کہیں ایسانہ ہوکہ محمد(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)بھی مدینے چلے جائیں اوروہاں سے اپنے حامیوں کی فوج لے کرہم پرچڑھائی کردیں۔ چنانچہ، اس خطرہ کا دروازہ بندکرنے کیلئے کفارِمکہ نے اپنے دارُا لنَّدْوَہ(پنچائت گھر)میں ایسی کانفرنس منعقدکی کہ مکہ کاکوئی ایسا دانشور اور بااثرشخص نہ تھاجواس میں شریک نہ ہواہو۔بالخصوص ابوسفیان،ابوجہل،عتبہ،جُبیربن مُطْعِم،نَضربن حارث، ابوالبَخْتَرِی،زَمعہ بن اَسوَد،حکیم بن حِزام،اُمیہ بن خلف جیسے سردارتوپیش پیش تھے۔شیطانِ لعین بھی کمبل اوڑھے ایک بوڑھے کی صورت میں آگیا۔جب نام ونسب پوچھاگیاتوبولاکہ میں ’’شیخِ نجد‘‘ہوں تمہارے معاملہ میں اپنامشورہ دینے آیاہوں۔چنانچہ، اس ملعون کوبھی شامل کرلیاگیا۔کانفرنس کی کارروائی شروع ہوئی توابوالبَخْتَرِی نے یہ کہا: ’’محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کوکسی کوٹھری میں بندکرکے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دواورایک سوراخ سے کھانا پانی دے دیاکرو۔‘‘شیخ نجدی(شیطان)نے کہا:’’یہ رائے اچھی نہیں ہے، خدا کی قسم!اگرانہیں کسی مکان میں قیدکر دیا گیاتویقینااُن کے جاں نثاراَصحاب کوخبرہوجائے گی اوروہ اپنی جان پرکھیل کربھی انہیں قیدسے آزاد کرا لیں گے۔‘‘ اَبُو الْاَسْوَد،رَبِیْعَہ بِنْ عُمَراورعَامِری نے کہاکہ انہیں مَکَّۂ مُکَرَّمَہ سے نکال دوتاکہ یہ کسی دوسرے شہرمیں جاکررہیں۔ اس طرح ہمیں ان کے قراٰن پڑھنے اوران کی تبلیغِ اسلام سے نجات مل جائے گی۔شیخ نجدی نے بگڑکرکہا:’’تمہاری اس رائے پرلعنت ہو،کیاتم لوگوں کومعلوم نہیں کہ اس کے کلام میں کتنی مٹھاس اورتاثیرہے ؟خداکی قسم!اگرتم انہیں شہربدرکروگے تویہ قراٰن سناسناکرتمام قبائلِ عرب کواپناتابع بنالیں گے اورپھراپنے ساتھ ایک عظیم لشکرلے کرتم پرایسی یلغارکریں گے کہ تم ان کے مقابلہ سے عاجزو لاچار ہوجاؤگے اورپھران کے غلام بن کر رہوگے،اس لئے ان کوجِلاوطن کرنے کی توبات ہی مت کرو۔‘‘پھر ابوجہل ملعون نے کہا:’’میری رائے یہ ہے کہ ہرقبیلہ کاایک ایک مشہوربہادرتلوارلے کراٹھ کھڑاہواورسب یکبارگی حملہ کرکے محمد(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کوقتل کر ڈالیں (مَعَاذَ اللہ)اس طرح قتل کا جُرم تمام قبیلوں کے سرپرآئے گااورظاہرہے کہ خاندان بنو ہاشم اس خون کابدلہ لینے کیلئے تمام قبیلوں سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھ سکتے۔یقیناوہ خون بَہالینے پرراضی ہو جائیں گے اورہم سب مل کرآسانی سے خون بَہاکی رقم اداکردیں گے۔‘‘ابوجہل کایہ خونی منصوبہ سن کرشیخ نجدی مارے خوشی کے اُچھل پڑا اور کہا:’’ بیشک!یہ رائے سب سے بہترہے۔اس کے سوا اورکوئی تجویزقابل قبول نہیں ہوسکتی۔‘‘ چنانچہ، سب نے اتفاق رائے سے اس تجویزکومنظور کرلیااور ہرشخص یہ خوفناک عزم لئے اپنے گھر چلا گیا۔ خدائے بُزُرگ وبَر تَرنے قراٰن میں اس واقعہ کویوں بیان فرمایا:وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَؕ-وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ(۳۰)(پ۹،الانفال:۳۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند کرلیں یا شہید کردیں یا نکال دیں اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ۔اللہ عزَّوَجَلَّکی خفیہ تدبیرکیاتھی؟آگے اس کاجلوہ دیکھئے کہ کس طرح اس نے اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حفاظت فرمائی اوراس قادِرِمُطلَقعزَّوَجَلَّنے کفارکی سازش کوکس طرح خاک میں ملادیا۔ (السیرۃالنبویۃلابنِ ہشام، ص۱۹۱-۱۹۳)والیِ دوجہاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہجرتجب کفارِمکہ کانفرنس ختم کرکے اپنے اپنے گھروں کوچلے گئے توحضرت سَیِّدُناجِبریل اَمینعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامرَبُّ العالَمِین کایہ حکم لے کرنازل ہوئے کہ’’ اے محبوب!(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)آپ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں اورہجرت کرکےیمَدِینَۂ مُنَوََّرَہ تشریف لے جائیں۔‘‘چنانچہ، عین دوپہرکے وقت حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیارِغارصدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے گھرتشریف لے گئے او ر فرمایاکہ سب گھروالوں کوہٹادوکچھ مشورہ کرناہے۔صدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے عرض کی:’’یَارَسُولَﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ پر میرے ماں باپ قربان! یہاں آپ کی اہلیہ عائشہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔‘‘آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اے ابوبکر(رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ)! اللہعزَّوَجَلَّنے مجھے ہجرت کی اجازت عطافرمادی ہے۔‘‘صِدِّیقِ اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے عرض کی:’’میرے ماں باپ آپ پرقربان!مجھے بھی ہم راہی کاشرف عطافرمائیے۔‘‘آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی درخواست منظورفرما لی۔اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت سَیِّدُنا ابوبکرصدیقرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے چارمہینے سےدواونٹنیاں بَبُول کی پَتِّی کھلاکھلاکرتیارکی تھیں کہ ہجرت کے وقت یہ سواری کے کام آئیں گی،عرض کی’’یَارَسُولَﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ان میں سے ایک اونٹنی آپ قبول فرما لیں۔‘‘آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا:’’قبول ہے مگرہم اس کی قیمت ادا کریں گے۔‘‘صدیق اکبررضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمانِ رِسالت کے آگے سرِ تسلیم خَم کرتے ہوئے اس کو قبول کیا۔ حضرت سَیِّدَتُناعائِشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاچونکہ اس وقت کم عمرتھیں اس لئے ان کی بڑی بہن حضرت سَیِّدَتُنااَسماءرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے سامانِ سفرتیارکیااورتَوشہ دان میں کھانارکھ کراپنی کمرکے پَٹکے کوپھاڑکردوٹکڑے کئے، ایک سے توشہ دان باندھااوردوسرے سے مَشکیزے کامنہ باندھ دیا۔یہ وہ قابلِ فخرشرف ہے جس کی بِناپرانہیں ’’ذَاتُ النِّطَاقَیْن‘‘(یعنی دوپٹکے والی)کے مُعَزَّزلَقَب سے یادکیاجاتاہے۔حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے راستوں کے ماہر’’عَبْدُ اللہ بن اُرَیْقَطْ‘‘نامی ایک کافرکواُجرت پرلیااوراسے دواونٹنیاں دے کر فرمایا کہ ’’تین راتوں کے بعدان اونٹنیوں کو لے کر’’غارِثَوْر‘‘ کے پاس آجانا۔یہ ساراانتظام کرلینے کے بعدآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے مکانِ اَقْدَس پرتشریف لے آئے۔ (بخا ری، کتاب المناقب، باب ھجرۃ النبی…الخ، ۲/۵۹۲، حدیث:۳۹۰۵)کاشانۂ نبوت کا مُحاصَرَہکفارِمکہ نے اپنے پروگرام کے مطابق کاشانۂ نبوت کوگھیرلیااورقاتلانہ حملے کیلئے آپ کے سونے کااِنتِظار کرنے لگے۔اس وقت آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کاشانۂ نبوت میں اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت سَیِّدُنا عَلِیُّ المُرتَضٰی شیرِ خداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے سواکوئی اورنہ تھااورآپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکومعلوم تھا کہ کفَّارِمکہ نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قتل کے اِرادے سے پورے گھرکامُحاصَرَہ کیاہواہے۔کفارِمکہ اگرچہ رَحمتِ عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بدترین دشمن تھے مگراس کے باوجودنبیِّ صادق واَمین کی امانت ودیانت پر اس قدراِعتِمادتھاکہ اپنی قیمتی اشیاء آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس امانت رکھتے تھے۔اس وقت بھی بہت سیامانتیں کاشانۂ نبوت میں تھیں۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنا علی المُرتَضٰی شیرِخداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے فرمایاکہ’’تم میری سبزچادراوڑھ کرمیرے بسترپرسوجاؤاورمیرے جانے کے بعدتمام اَمانتیں ان کے مالِکوں کوپہنچاکرمَدِینَۂ مُنَوََّرَہ چلے آنا۔‘‘اگرچہ یہ بہت خوفناک اورسخت خطرے کاموقع تھا۔مگر نَبیِّ غیب دان، سَروَرِ ذِیشانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان پر کہ’’تم ساری امانتیں لوٹا کر مَدِینَۂ مُنَوََّرَہ چلے آنا‘‘آپ کویقینِ کامل تھاکہ میں زندہ رہوں گااورمَدِینَۂ مُنَوََّرَہ ضرورپہنچوں گا۔چنانچہ، آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُبسترِنبی پرصبح تک بڑے آرام سے میٹھی نیند سوتے رہے۔اپنی اس سعادت مندی پرفخرکرتے ہوئے شیر خداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے اپنے اشعارمیں فرمایا:وَقَیْتُ بِنَفْسِیْ خَیْرَمَنْ وَطِیَٔ الثَّرٰی وَمَنْ طَافَ بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ وَبِالْحَجَر
رَسُوْلُ اِلٰہٍ خَافَ اَنْ یَّمْکُرُوْابِہٖ فَنَجَّاہُ ذُوالطَّوْلِ الْاِلٰہُ مِنَ الْمَکْرترجمہ:’’میں نے اپنی جان کوخطرے میں ڈال کراس ذات گرامی کی حفاظت کی جوزمین پرچلنے والوں اورخانۂ کعبہ وحجرِ اسود کا طواف کرنے والوں میں سب سے زیادہ بہتراوربلندمرتبہ ہیں ،رسولِ خدا کویہ اندیشہ تھاکہ کُفارِمکہ ان کے ساتھ مکرکریں گے مگرخدائے رحیم وکریم نے انہیں کافروں کے مکرسے محفوظ رکھا۔‘‘ (شرح زرقانی علی المواھب للعلامۃ ا لقسطلانی، ۲/۹۵-۹۶)
حضورنبیِّ کریم،رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بسترِنبوت پر جانِ ولایت کو سُلا یااور ایک مٹھی خاک دَست مبارک میں لے کرسورۂ’’یٰسٓ‘‘کی ابتدائی آیتیں تلاوت فرماتے ہوئے باہرتشریف لائے اورمحاصرہ کرنے والے کافروں کے سروں پرخاک ڈالتے ہوئے ان کے مجمع سے صاف نکل گئے۔نہ کسی کونظرآئے نہ کسی کوکچھ خبرہوئی۔ایک دوسراشخص جواس مجمع میں موجودنہ تھااس نے انہیں بتایاکہ محمد(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) توتمہارے سروں پرخاک ڈال کریہاں سے جاچکے ہیں۔جب اُن کَوربختوں (بدنصیبوں )نے اپنے سروں پرہاتھ پھیراتوواقعی خاک اوردُھول سے ان کے سراَٹے ہوئے تھے۔(الطبقات الکبری لابن سعد، ۱/۱۷۶)
رحمتِ عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے دولت خانہ سے نکل کرمقام’’حَزْوَرَہ‘‘کے پاس کھڑے ہوگئے اوربڑی حسرت کے ساتھ کعبۂ مُعَظَّمَہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکودیکھ کرفرمایا:’’اے شہرمکہ!تومجھے تمام دنیاسے زیادہ پیاراہے،اگرمجھے یہاں سے جانے پر مجبور نہ کیا جاتا تو میں یہاں سے نہ جاتا۔‘‘(ابن ماجہ، کتاب المناسک،باب فضل مکۃ، ۳/۵۱۸، حدیث:۳۱۰۸)
حضرت سَیِّدُنا صدیقِ اکبررضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُبھی اسی جگہ آگئے اوراپنے پیارے آقاومولیٰ، دوعالَم کے داتاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواپنے کندھوں پر سوار کرلیاتاکہ قَدَمَیْن شَرِیْفَیْن زخمی نہ ہوں اورکفارِمکہ قدموں کے نشان دیکھ کرتعاقُب(پیچھا)نہ کریں۔پھرآپرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُخاردارجھاڑیوں اورنوک دارپتھروں والی پہاڑیوں کو روندتے ہوئے اسی رات’’غارِثور‘‘پہنچ گئے۔(مدارج النبوۃ، ۲/۵۸)آپرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُپہلے خودغارمیں داخل ہوئے اوراچھی طرح غارکی صفائی کی،اپنے بدن کے کپڑے پھاڑپھاڑکرغارکے تمام سوراخوں کو بند کیا۔ پھرحضورِاکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغارکے اندرتشریف لے گئے اورصدیق اکبررضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی گودمیں اپناسرِمُبارَک رکھ کرسوگئے۔صدیق اَکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے ایک سوراخ کواپنی ایڑی سے بند کر رکھا تھا، سوراخ کے اندرسے ایک سانپ نے بارباریارِغارکے پاؤں پرکاٹامگرصدیقِ جاں نثارنے اس خیال سے پاؤں نہ ہٹایاکہ رَحمتِ عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خوابِ راحت میں خَلَل نہ پڑجائے مگردردکی شدت سے آنسوؤں کے چندقطرے سرورِکائنات کے رُخسارِپُراَنوارپرنثارہو گئے۔جس سے رَحمتِ عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیدار ہوگئے اوریارِغارکوروتادیکھ کربے قرارہوکرپوچھا:’’ابوبکر! کیاہوا؟‘‘عرض کی:’’یَارَسُوْلَﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے سانپ نے کاٹ لیاہے۔‘‘یہ سن کرطبیبوں کے طبیب حبیبِ لَبِیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زخم پراپنالُعابِ دَہَن لگادیاجس سے فوراًہی سارادردجاتارہا۔حضورِاقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتین رات اس غارمیں رونق اَفروزرہے۔ (شرح زرقانی علی المواھب للعلامۃ القسطلانی، ۲/۱۲۱- ۱۲۷)جسے اللہ رَکھے اُسے کون چکھےصدیقِ اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے جوان فرزَندحضرت سَیّدُنا عبد اللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُروزانہ رات کوغارکے دَہانے پرسوتے اورصبح سویرے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ چلے جاتے اورپتہ لگاتے کہ قریش کیاتدبیریں کررہے ہیں ؟جوخبرملتی شام کوآکرحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کردیتے۔صدیق اکبررضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے غلام حضرت سَیّدُنا عامربن فُہَیْرَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُرات کوچراگاہ سے بکریاں لے آتے تودوعالَم کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماوریارِغاربکریوں کادودھ نوش فرماتے۔(شرح زرقانی علی المواھب للعلامۃ القسطلانی، ۲/۱۲۷۔۱۲۸)حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو’’غارِثور‘‘میں تشریف فرماتھے۔اُدھرکاشانۂ نبوت کامُحاصَرہ کرنے والے کفارجب صبح کومکان میں داخل ہوئے توبسترِنبوت پر اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرت سَیّدُنا علی المُرتَضٰی شیرِخداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکوپایا۔ظالموں نے تھوڑی دیرپوچھ گچھ کرکے آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکوچھوڑدیا۔پھرمکہ اوراطراف وجوانب کاچپہ چپہ چھان مارا،یہاں تک کہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے غارِثورتک جاپہنچے مگر غارکے منہ پراس وقتاللہ عزَّوَجَلَّکی حفاظت کا ایسا پہرہ لگاہواتھاکہ غارکے منہ پرمکڑی نے جالاتَن دیاتھااورکنارے پر کبوتری نے انڈے دیدئیے تھے۔یہ دیکھ کر کفارِ قریش آپس میں کہنے لگے کہ اگراس غارمیں کوئی انسان ہوتاتونہ مکڑی جالاتَنتی نہ کبوتری انڈے دیتی۔کفارکی آہٹ پاکرصدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکچھ گھبرائے اورعرض کی:’’یَا رَسُوْلَاﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اب دشمن اس قدرقریب ہیں کہ اگروہ اپنے قدموں پرنظرڈالیں توہمیں دیکھ لیں۔‘‘آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللہ مَعَنَا۔(ترجمۂ کنزالایمان:غم نہ کھابے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے)(پ:۱۰،التوبۃ:۴۰)اس کے بعداللہ عزَّوَجَلَّنے صدیقِ اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے قَلب پرایسا سکون واطمینان اُتاراکہ وہ بالکل بے خوف ہوگئے۔ یارِغارکی یہی وہ جاں نثاریاں ہیں جنہیں دَربارِنَبُوَّت(نَبُو۔وَت) کے مشہورشا عِرحضرت سَیّدُناحسّان بن ثابِت اَنصاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے شعرکی صورت میں یوں بیان فرمایا:وَثَانِیُ اثْنَیْنِ فِی الْغَارِالْمُنِیْفِ وَقَدْ طَافَ الْعَدُوُّبِہٖ اِذْصَاعَدَالْجَبَلَا
کَانَ حِبَّ رَسُوْلِ ﷲ قَدْ عَلِمُوْا مِنَ الْخَلَائِقِ لَمْ یَعْدِلْ بِہٖ بَدَلَاترجمہ:اور دومیں سے دوسرے (یعنی صدیقِ اکبر )جب کہ پہاڑ پر چڑھ کر بلند مرتبہ غار میں اس حال میں تھے کہ دشمن ان کے ارد گرد چکر لگا رہا تھا اور وہ (یعنی صدیقِ اکبر ) رَسُوْلُ اللہ کے محبوب تھے، تمام مخلوق جانتی ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی کو بھی ان کے برابر نہیں ٹھہرایا ہے ۔(شرح المواھب، ۲/۱۱۰،۱۱۴،۱۱۵،۱۲۲،۱۲۴)
بہرحال چوتھے دن یکم ربیع ُالاوَّل دوشنبہ کو( پیرکے دن)حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغارِثورسے باہر تشریف لائے۔’’عَبْدُاﷲبِنْ اُرَیْقَط‘‘بھی حسبِ وعدہ اونٹنیاں لے کرغارثورپرحاضرتھا۔ایک اونٹنی پرحضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سوارہوئے اورایک پر حضرت سیِّدُناصِدِّیق اکبر اورحضرت سیِّدُناعامر بن فُہَیْرَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمابیٹھے،جبکہ’’عَبْدُﷲ بِنْ اُرَیْقَط‘‘آگے آگے پیدل چلنے لگاوہ عام راستے سے ہٹ کرساحل سمندرکے غیرمعروف راستوں پرچل رہاتھا۔اُدھرکفارِمکہ نے اعلان کردیاکہ جوکوئی محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کو گرفتارکرکے لائے گااسے سو(100)اونٹ بطورِ انعام دئیے جائیں گے۔’’مقامِ قُدَیْد‘‘میںاُمِّ مَعْبَدعَاتِکَۃ بِنْت خَالِدخُزَاعِیَہنامی ایک بڑھیااپنے خیمے کے پاس بیٹھ کر مسافروں کوکھانا،پانی دیاکرتی تھی۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے کھاناوغیرہ خریدناچاہا توسوائے ایک لاغَربکری کے اس کے پا س کوئی چیزنہ تھی۔ رحمتِ عالمیان ، سرورِذیشانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’کیایہ دودھ دیتی ہے؟‘‘اُمِّ مَعْبَد نے عرض کی:’’نہیں ‘‘حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اگرتم اجازت دوتومیں اس کادودھ نکال لوں۔‘‘اس نے ہاں کی توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ’’بِسْمِﷲ‘‘پڑھ کراس کے تھنوں پردستِ بابرکت پھیرا تووہ دودھ سے بھرگئے اوراتنادودھ نکلاکہ سب سیرہوگئے اوراُمِّ مَعْبَدکے تمام برتن بھی بھرگئے۔اس مُعجِزے کی برکت سے اُمِّ مَعْبَداوراس کاخاونددونوں مسلمان ہوگئے ۔(شرح زرقانی علی المواھب للعلامۃ القسطلانی، ۲/۱۳۰،۱۳۱،۱۳۴)
حضرت سَیِّدَتُنااُمِّ مَعْبَدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کی یہ بکری حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دستِ مبارک کی برکت سے اٹھارہ سال تک زندہ رہی اوربرابردودھ دیتی رہی۔خلیفۂ ثانی اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت سَیِّدُناعمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے دورِخلافت میں جب’’عَامُ الرَّمَاد‘‘سخت قحط پڑا اور بہت سی مخلوق ہلاک ہو گئی تمام جانوروں کادودھ خشک ہوگیالیکن یہ بکری اس وقت بھی صبح و شام برابردودھ دیاکرتی تھی۔(مدارج النبوۃ، ۲/۶۱)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے کہاللہ عزَّوَجَلَّنے ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوکیسے کیسے معجزات عطافرمائے کہ وہ بکری جس کادودھ بالکل خشک ہوگیا تھا،آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دستِ مبارَک کی برکت سے ایسی بابرکت ہوئی کہ جب تک زندہ رہی کبھی اس کادودھ ختم نہ ہوا۔اللہ عزَّوَجَلَّان مبارک ہاتھوں کے صدقے ہمیں اِیمانِ کامل کی دولت سے مالامال فرمائے۔دین کی راہ میں جوتکالیف آئیں ان پر صبرکرنے کی توفیق اوراپنی دائمی رِضاسے مالامال فرمائے،جس وقت لوگوں کے دل مُردہ ہوں اس وقت ہمارے دِلوں کو ایمان کی سلامتی عطافرمائے،ہماراایمان سدابہاررکھے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئےجب حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرتِ سَیِّدَتُنااُمِّ مَعْبَدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھرسے روانہ ہوئے تو ایک مشہورشہسوارسُرَاقَۃ بِنْ مَالِک بِنْ جُعْشُمْ تیز رفتار گھوڑے پر سوار تعاقب کرتانظر آیا۔قریب پہنچ کر حملہ کرنے کا ارادہ کیاتو اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھوڑے سے گر پڑا مگر سو اونٹوں کا انعام کوئی معمولی چیز نہ تھی۔انعام کے لالچ میں وہ دوبارہ حملہ کی نِیَّت سے آگے بڑھا تو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا سے پتھریلی زمین میں اس کے گھوڑے کے پاؤں گھٹنوں تک دھنس گئے۔سراقہ یہ معجزہ دیکھ کر خوف و دہشت سے کانپتے ہوئے اَلْاَمَان!اَلْاَمان! پکارنے لگا۔نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دل رحم و کرم کا سمندر تھا،سُرَاقَہ کی لاچاری اور گِریہ وزاری پر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دریائے رحمت جوش میں آگیا۔دعا فرمائی تو زمین نے اس کے گھوڑے کو چھوڑ دیا۔سُرَاقَہ نے عرض کی :’’مجھے اَمن کا پروانہ لکھ دیجیے۔‘‘چنانچہ، حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم پر حضرت سَیِّدُنا عامر بن فُہَیْرَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے سُرَاقَہ کے لئے اَمن کی تحریر لکھ دی۔سُرَاقَہ نے وہ تحریراپنے تَرکش میں رکھ لی۔پھر کچھ سامانِ سفر بھی حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کیا مگر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبول نہ فرمایا۔چنانچہ، وہ واپس چلاگیا۔راستے میں جوبھی حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں دریافت کرتا تو سُرَاقَہ اُسے یہ کہہ کر لوٹا دیتا کہ میں نے بڑی دور تک بہت زیادہ تلاش کیا مگر محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اس طرف نہیں ہیں۔(بخا ری، کتاب المناقب، باب ھجرۃ النبی…الخ، ۲/۵۹۳، حدیث:۳۹۰۶) (شرح زرقانی علی المواھب للعلامۃ القسطلانی، ۲/۱۴۳)، ( مدارج النبوۃ ، ۲/۶۲ )
سُرَاقَہ اس وقت تو مسلمان نہیں ہوا مگرحُضُورِ پاک،صاحبِ لَولاک،سیّاحِ افلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عظمت ِنبوت اور اسلام کی صداقت کا سِکَّہ اس کے دل پر بیٹھ گیا۔جب حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فتحِ مکہ اور جنگِ طائف وحُنَین سے فارغ ہو کر’’جِعِرَّانَہ‘‘میں قیام فرمایا تو سُرَاقَہ اپنے قبیلے کی بہت بڑی جماعت کے ساتھ بارگاہِ نُبُوَّت میں حاضر ہوکرمُشَرَّف بَہ اسلام ہوگیا۔(مدارج النبوۃ، ۲/۶۲)کِسریٰ کے کنگن حضرتِ سیِّدُناسر ا قَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے ہاتھ میںجب سراقہ حضور کے تعاقب میں آیا تھا تو اس وقت ہمارے غیب دان آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غیب کی خبر دیتے ہوئے اُس سے فرمایا تھا:’’کَیْفَ بِکَ اِذَا لُبِِسْتَ سِوَارَیْ کِسْرٰی؟‘‘ ترجمہ:(اے سُرَاقَہ!)تیرا کیا حال ہو گا جب تجھے ’’کِسرٰی‘‘کے دونوں کَنگَن پہنائے جائیں گے؟اس اِرشاد کے بَرسوں بعد جب امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے دورِ خلافت میں ’’اِیران‘‘فتح ہوا اور کِسرٰی کے کَنگَن دربارِ خِلافت میں لائے گئے تو آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے تاجدار دو عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کی تصدیق و تحقیق کے لئے وہ کنگن حضرت سیِّدُناسُرَاقَہ بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو پہنا دیئے اور فرمایا:اے سُرَاقَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ! کہو’’ اللہ سب سے بڑا ہے تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں جس نے یہ کنگن بادشاہِ فارس کِسرٰی سے چھین کر سُرَاقہ بَدَوِی کو پہنا دیئے۔‘‘حضرت سیِّدُناسُرَاقَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عُثمان غَنیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ (شرح زرقانی علی المواھب للعلامۃ القسطلانی، ۲/۱۴۵)
اللہ عزَّوَجَلَّکی ان پر رَحْمَت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔مَدَنی جُلُوسجب نبیِّ رحمت،شفیعِ امت،مالِک کوثروجنتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَدِینَۂ مُنَوََّرَہ کے قریب پہنچے تو’’بُرَیدَہ اَسلَمِی‘‘قبیلۂ بَنِی سَہم کے70سواروں کو ساتھ لے کر قریش سے انعام پانے کے لالچ میں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی گرفتاری کے لئے آیا اور پوچھا:’’آپ کون ہیں ؟‘‘فرمایا:’’میں محمد بن عبد اللہ ہوں ا ور اللہ عَزَّوَجَل کا رسول ہوں۔‘‘شہنشاہِ خوش خِصال،سلطانِ شیریں مَقال،پیکرِ حسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ کلام سن کر اس کے دل پر جمال و جلالِ نَبُوَّت(نَ۔بُو۔وَت)کا ایسا اثر ہوا کہ فوراً ہی کلمۂ شہادت پڑھ کر دامنِ اِسلام میں آگیااورکمالِ عقیدت سے عرض گزارہوا’’یَا رَسُولَﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری تمنا ہے کہ مدینۂ منوَّرہ میں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا داخِلہ ایک جھنڈے کے ساتھ ہو۔‘‘یہ کہہ کر اپناعِمَامَہ اتارکرنیزے پر باندھا اورآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےعَلَمْبَرْدار بن کراس مَدَنی جلوس کے ساتھ مدینہ منورہ تک آگے آگے چلتے رہے۔پھر دریافت کیا کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینہ میں کہاں قیام فرمائیں گے؟ فرمایا:’’میری اونٹنی جہاں بیٹھ جائے گی وہی میری قیام گاہ ہے کیونکہ یہاللہ عزَّوَجَلَّکی طرف سے مامور ہے۔‘‘(مدارج النبوۃ، ۲/۶۲)مانع شرعی نہ ہو تو تحفہ قبول کرنا سُنَّت مُبارَکہ ہےاِس سفر میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ملاقات اپنے بعض اصحابرِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنسے ہو ئی جومُلک ِشام سے تجارت کا سامان لا رہے تھے۔انہوں نے حضورِ انورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدِّیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی خدمت میں چند نفیس کپڑے بطورِ نذرانہ پیش کئے جنہیں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبول فرما لیا۔(مدارج النبوۃ، ۲/۶۳)سرکارکی آمد ،مرحبا!سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آمد کی خبر چونکہ مدینۂ منورہ میں پہلے سے پہنچ چکی تھی اور عورتوں بچوں تک کی زبانوں پر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تشریف آوری کا چرچا تھا۔اہلِ مدینہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دیدارکیلئے انتہائی مشتاق وبے قرارتھے۔ روزانہ صبح شہر سے باہرجا کر سراپا انتظار بن کر اِستِقبَال(اِس۔تِقْ۔بَال)کیلئے تیار رہتے تھے،جب دھوپ تیز ہو جاتی تو حسرت و افسوس کے ساتھ گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔ایک دن اہل مدینہ انتظار کر کے واپس جا چکے تھے کہ اچانک ایک یہودی نے اپنے قَلعَہ (قَل۔عَہ) سے دیکھاکہ تاجداردوعالَم(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) مدینۂ منورہ کے قریب تشریف لاچکے ہیں۔تواس نے باآواز بلند پکارا:’’اے اہلِ مدینہ!تم جس کاروزانہ اِنتِظَار(اِن۔تِ۔ ظَار)کرتے تھے وہ کاروانِ رحمت آگیا۔‘‘یہ سنتے ہی تمام اَنصار ہتھیاروں سے لیس ہو کر،وَجدوشادمانی کی کیفیت میں دو عالَم کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِستِقبَال(اِس۔تِقْ۔بَال)کیلئے اپنے گھروں سے نکل پڑے اور نعرہِ تکبیر کی آوازوں سے تمام شہر گونج اُٹھا۔(مدارج النبوۃ، ۲/۶۳)
ماہِ ربیع االاوَّل میں بے چین دِلوں کے چَین،رحمتِ دارَینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم’ ’ قَبِیلَۂ عَمروبِن عَوف‘‘ کے خاندان میں حضرتِ سیِّدُنا کُلْثُوم بن ہِدمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے مکان میں تشریف فرما ہوئے۔وہ مکان مَدِینَۂ مُنَوََّرَہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاسے3میل کے فاصلہ پر وہاں تھا جہاں آج’’مَسجدِقُبَا‘‘بنی ہوئی ہے۔اہلِ خاندان نے اس فخر و شَرَف پر کہ دونوں عالَم کے میزبان،رحمتِ عالَمیانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماِن کے مہمان بنے’’ﷲ اَکْبَر‘‘کی صدائیں بلند کرنے لگے۔چاروں طرف سے اَنصار جوشِ مَسَرَّت میں آتے اور بارگاہ ِرِسالتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں صلاۃ و سلام کا نذرانۂ عقیدت پیش کرتے۔اکثر صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانجو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پہلے ہجرت کرکے آئے تھے وہ بھی اس مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات عَلیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِخداکَرَّمَ اللہ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمبھی حکمِ نَبَوی کے مطابق قریش کی امانتیں واپس لوٹا کر تیسرے دن مکّۂ مکرَّمہ سے چل پڑے تھے وہ بھی آگئے اوراِسی مکان میں قِیام فرمایا اور حضرتِ کُلْثُوم بن ہِدمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُاور اِن کے خاندان والے ان تمام مُقَدَّس مہمانوں کی مہمان نوازی میں دن رات مصروف رہنے لگے۔ (سیرت مصطفیٰ، ص۱۷۱)
حضرت سیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ جب نُورِ مجَسَّم ، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَدِینَۂ مُنَوََّرَہزَادَھَا اللہ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًاتشریف لائے تو آپ کی آمد سے دَر و دِیوار ایسے روشن ہوگئے جیسے آفتاب طلوع ہوگیا ہو اور اسی طرح جب نُبُوَّت کے آفتاب ،جنابِ رسالت ماٰبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا سے پردہ فرمایا تو عالم تاریک ہوگیا بالکل ایسے ہی جیسے سورج غروب ہونے سے اندھیرا جھا جاتا ہے۔ (مدارج النبوہ، ۲/ ۶۳)
وہ تیری تجلی دل نشیں کہ جھلک رہے ہیں فَلَک زمیں
تیرے صدْقے میرے مہِ مبیں میری رات کیو ابھی تار ہےاللہ عزَّوَجَلَّہمیں بروزقیامت نبیِّ آخرالزماں ،سروَرِذیشاں ،رحمتِ عالَمیاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے پیچھے جنتُ الفِردَوس میں جانے کی توفیق عطافرمائے اورہم اری یہ دِلی آرزوپوری فرمائے کہ
باغ جنت میں محمد مسکراتے جائیں گے
پھول رحمت کے جھڑیں گے ہم اٹھاتے جائیں گے
اورپھر : خُلد میں ہو گا ہمارا داخلہ اس شان سے
یارسولَ اللہ کا نعرہ لگاتے جائیں گے(3)وہ ہجرت جو مکۂ مکرمہ سے شام کی طرف ہوگیقربِ قیامت میں فتنوں کے ظہور سے قبل ایک ہجرت حَرَمَیْن شَرِیْفَیْن سے ملکِ’’شام‘‘کی جانب ہوگی جس کا اجمالی واقعہ کچھ یوں ہے:قیامت قائم ہونے سے قبل جب دنیا میں سب جگہ کُفر کاتَسَلُّط ہوگا اس وقت تمام اَبدال بلکہ تمام اَولیا سب جگہ سے سِمٹ کر حَرَمَیْن شَرِیْفَیْن کو ہجرت کرجائیں گے (کیونکہ) صرف وہیں اسلام ہوگا اور ساری زمین کفرِستان ہو جائے گی۔رمضان شریف کا مہینہ ہوگا اَبدال طوافِ کعبہ میں مصروف ہونگے اور حضرت اِمام مَہدی بھی وہاں ہونگے اَولیا انہیں پہچانیں گے ان سے بَیْعَت کی درخواست کریں گے وہ انکار کریں گے،دَفعۃً غیب سے ایک آواز آئے گی:’’ھَذَاخَلِیْفَۃُ اللہ الْمَہْدِیْ فَاسْمَعُوْالَہٗ وَاَطِیْعُوْہُ۔‘‘ترجمہ:’’یہاللہ عزَّوَجَلَّکا خلیفہ مَہدی ہے،اس کی بات سنو اور اس کا حکم مانو۔‘‘چنانچہ، تمام لوگ ان کے دستِ مبارک پر بَیْعَت کرینگے ،وہاں سے سب کواپنے ہم راہ لے کر ملکِ ’’شام‘‘ کو تشریف لے جائیں گے۔(بہار شریعت، ۱ /۱۲۴، حصہ ۱)مدنی گلدستہ
’’فیضِ حد یث‘‘کے7 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7 مدنی پھول(1)مَکَّۂ مُکَرَّمَہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاتا قیامت کبھی دارُالحرب نہ بنے گا اور نہ کبھی یہاں سے ہجرت فرض ہوگی۔
(2)دَارُ الْحَرب سے دَارُ الْاِسْلام کی طرف ہجرت فرض ہے ، ہاں اگر حقیقۃً مجبور ہو تو معذور ہے،دار الاسلام سے ہجرت کا حکم نہیں ،اگر کسی جگہ کسی عذرِ خاص کے سبب کوئی شخص اقامتِ فرائض سے مجبور ہو تو اسے اس جگہ کا بدلنا واجب ہے اس مکان میں معذوری ہو تو مکان بدلے محلہ میں معذوری ہو تو دوسرے محلہ چلا جائے۔ (فتاوی رضویہ، مخرجہ، ۱۴ / ۱۰۲ )
(3) مومنِ کامِل ہم یشہ حق بات کرتا ہے چاہے عام لوگوں میں ہو یا بادشاہوں کے دربار میں۔جیسا کہ صحابیِ رسول حضرت سَیِّدُناجعفررَضِیََ اللہ تَعَا لٰی عَنْہُنے نجاشی بادشاہ کے سامنے بِلا خوف وخطرحق وسچ بات بیان کی۔
(4)حضرت سَیِّدُنانَجاشیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن وہ حضو رصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبت ِ بابرکت سے فیضیاب نہ ہو سکے تھے۔
(5)جواللہ عزَّوَجَلَّکی حفاظت میں ہو پوری دنیا بھی مل کر اس کا کچھ نہیں بِگاڑ سکتی۔کفار ِمکہ نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو شہید کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کازورلگایا مگر آپ کا ایک بال بھی بِیکا نہ کرسکے۔
فانوس بن کر جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
(6)اللہ عزَّوَجَلَّبہت زیادہ کریم ہے وہ اپنے بَرگُزِیدَہ بندوں (بَرگُ۔زِی۔دَہ۔پسندیدہ بندوں )کو بہت زیادہ اختیارات عطافرماتا ہے،مَلَک وفَلَک،اَرض وسما،بَحر وبَر پر ان کی حکومت ہوتی ہے۔دنیا کی ہر چیز ان کے تابع کردی جاتی ہے۔نَبیِّ آخرُ الزَّماںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا سے حضرت سُراقَہ کا گھوڑازمین میں دھنسا اور باہر نکلا،آپ کے لعاب دہن سے صدیق اکبر کامَسمُوم(زَہرزَدہ)پاؤں فوراًدرست ہوگیا،بکری کے خشک تھن دودھ سے ایسے بھرے کہ جب تک وہ زندہ رہی کبھی اس کا دودھ ختم نہ ہوا۔
(7)تنگی کے بعد آسانی ضرور آتی ہے۔صحابۂ کرامعَلَیْھِمُ الرِّضْوَاندینِ اسلام کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دے کر بھی ہر حال میں صابر وشاکر رہے تواللہ عزَّوَجَلَّنے انہیں دنیا وآخرت میں سُرخرُوئی عطا فرمائی ،جن علاقوں سے انہیں نکالا گیا انہیں علاقوں میں فاتح بن کر داخل ہوئے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 3