- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- حدیث نمبر 9
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ نُفَیْعِ بْنِ الْحَارِثِ الثَّقَفِیْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْہم ا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ فِی النَّارِ۔ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ ہَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ ؟ قَالَ إِنَّہُ کَانَ حَرِیْصًا عَلَی قَتْلِ صَاحِبِہٖ۔ ( بخاری ، کتاب العلم ، باب وان طائفتان من المؤمنین … الخ ، ا/ ۲۳ ، حدیث: ۳۱)
عن ابی بکرۃ نفیع بن الحارث الثقفی رضی اللہ تعالی عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال إذا التقی المسلمان بسیفیہم ا فالقاتل والمقتول فی النار۔ قلت: یا رسول اللہ ہذا القاتل فما بال المقتول ؟ قال إنہ کان حریصا علی قتل صاحبہ۔ ( بخاری ، کتاب العلم ، باب وان طائفتان من المومنین … الخ ، ا/ ۲۳ ، حدیث: ۳۱)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکرہ نُفَیْع بن حَارِث ثَقَفِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جب دو مسلمان تلواریں لئے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں توقاتل ومقتول دونوں آگ میں ہیں۔‘‘ (راوی فرماتے ہیں ) میں نے عرض کی :’’یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقاتل تو واقعی اس کاحق دار ہے مگر مقتول کا کیا قصور ہے؟ ‘‘ ارشاد فر مایا:’’ وہ بھی تواپنے مُقابِل کو قتل کرنا چاہتا تھا۔‘‘
شرح حدیث
قاتل ومقتول کب جہنمی ہونگے ؟حضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمرقاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : حرام فعل کا ارادہ کرنا ان افعال میں سے ہے جن پرمواخذہ ہے۔ اوریہ ( قاتل ومقتول دونوں کے جہنمی ہونے کا حکم ) اس وقت ہے جب دونوں ہی ایک دوسرے کے قتل کے ارادے سے حملہ آور ہوں۔ اگر ان میں سے ایک نے دِفاع کا ارادہ کیا اور اُس کی طرف سے پہل بھی نہ ہوئی مگر صرف دوسرے کے مارنے کی وجہ سے اس نے اس کو قتل کردیاتو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا،کیونکہ اس کو(اپنی جان بچانے کی) شرعااجازت دی گئی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الدیات، باب قتل اہل الردۃ ، ۷/۱۰۴، تحت الحدیث:۳۵۳۸)
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیعمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں : علمائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامنے فرمایا کہ قاتل و مقتول دونوں آگ میں ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ وہ دونوں آگ کے مستحق ہیں ،لیکن ان دونوں کا معاملہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے ذِمَّۂ کرم پر ہے اگر وہ چاہے تو دونوں کو دَوزخ کا عذاب دے اور اگر چاہے تودونوں کو معاف فرما کر بالکل ہی عذاب نہ دے۔(ملخصاًعمدۃ القاری، کتاب الفتن، باب اذا التقی المسلمان بسیفھما، ۱۶/ ۴۹۔۳۴۸، تحت الحدیث:۷۰۸۳)دنیا کی وجہ سے قتلعَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فَتْحُ الْبَارِیمیں فرماتے ہیں : علامہ بَزَّارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارنے اس حدیث پاک کی مراد بیان کرتے ہوئے فرمایا :یعنی جب تم دنیا کی وجہ سے ایک دوسرے کو قتل کرو تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں اور اس کی تائید مسلم شریف کی اس حدیث سے ہوتی کہ ’’قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک لوگوں پر ایسا زمانہ نہ آجائے کہ قاتل کو معلوم نہ ہو کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو یہ معلوم نہ ہو کہ اسے کیوں قتل کیا گیا ہے۔‘‘ عرض کی گئی کہ ایسا کیسے ہوگا؟ فرمایا کہ بکثرت خون ریزی ہوگی اور قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہونگے ۔
عَلَّامَہ قُرْطُبِی عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْقَوِینے فرمایا: اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ جو لڑائی جہالت کی بنا پر دنیاوی غرض کے لئے ہو یا نفسانی خواہش کی پیروی میں ہوتوقاتل ومقتول دونوں جہنمی ہیں۔(فتح الباری ، کتاب الفتن، باب اذا التقی المسلمان بسیفہم ا، ۱۴/۳۰، تحت الحدیث:۷۰۸۳)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں کہ:جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو ناحق قتل کرنے کے ارادے سے کسی بھی ہتھیارمثلاََتلوار، خنجر بندوق وغیرہ سے حملہ آور ہوں اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کردے توقاتل و مقتول دونوں کی سزا جہنم ہے ،قاتل تو ناحق قتل کرنے کی وجہ سے اور مقتول قتل کے پختہ ارادے کی وجہ سے کیونکہ اگرپہلے اس کا وار چل جاتا تویہ اسے قتل کر دیتا ،لہٰذا اسے بھی قتل ہی کا گناہ ملے گا،لیکن یہ حکم اس وقت ہے جب دونوں باطل پر ہوں اگر کوئی ایک حق پر ہو تو صرف باطل والاہی گناہ گار ہوگا ، جیسے کوئی مسلمان اپنا مال ،عزت یا جان بچانے کے لئے کسی چور ، ڈاکو سے مزاحمت ومقابلہ کرتے ہوئے قتل ہوجائے تو چور ،ڈاکو ہی جہنمی ہونگے جبکہ یہ قتل ہونے والاشہید کا مرتبہ پائے گا ۔ (ملخص ازمراٰۃ المناجیح ، ۵/۲۶۵)قتلِ ناحق کا عذابمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے ۔قراٰن وحدیث میں اس گناہ پر بہت سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(۹۳)(پ۵، النساء :۹۳)
ترجمۂ کنزالایمان :اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کابدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے:مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ(پ ۶، المائدۃ:۳۲) ترجمۂ کنزالایمان:جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا (بچایا) اس نے سب لوگوں کو جِلالیا۔قتل ناحق کی مذمت میں 3 روایات(1)حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ بروزِ قیامت قاتل کو ہزار مرتبہ قتل کیا جائے گا ۔ عاصم بن اَبِی النَّجُوْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے کہا :’’اے ابو زُرعہ ہزار مرتبہ ؟‘‘ ابو زُرعہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے فرمایا:’’جس آلہ سے اس نے قتل کیا اس کی ہزار ضربیں۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الفتن، باب من کرہ الخروج فی الفتنۃ وتعوذ عنھا، ۸/۶۴۴، حدیث:۳۳۰)
(2)حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بن عَمْرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہماسے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ کے نزدیک ایک مومن کا قتل دنیا کے زوال سے بڑھ کر ہے۔ (ترمذی،کتاب الدیات، باب ماجاء فی تشدید قتل مؤمن،۳/۹۸، حدیث:۱۴۰۰)
(3)حضرتِ سَیِّدُناابن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ نبیِّ حاشِر،رسولِ صابِر و شاکِرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!اللہ عزَّوَجَلَّکے ہاں ایک مومن کا قتل دنیا کے زوال سے بڑھ کر ہے۔ (شعب الإیمان، باب فی تحریم النفوس والجنایات علیہا، ۴/۳۴۴، حدیث:۵۳۴۱)
دنیا میں سب سے پہلے حضرتِ سَیِّدُنا ہابیلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکوا ن کے سگے بھائی قابیل نے ناحق قتل کیا تھا۔مختصر واقعہ یہ ہے کہدنیا میں سب سے پہلا قَتل’’قابیل و ہابیل دونوں حضرتِ سَیِّدُناآدمعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے فرزندتھے ، حضرتِ سَیِّدَتُناحوّاءرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاکے ہر حمل میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے۔ قابیل کے ساتھ’’ اِقْلِیْمَا ‘‘ اور ہابیل کے ساتھ’’ لیوذا‘‘پیدا ہوئی، اس وقت یہ دستور تھا ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح کیا جاتا تھا۔چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُناآدمعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ہابیل کا نکاح ’’ اِقْلِیْمَا ‘‘سے کرنا چاہا مگر قابیل اس پر راضی نہ ہوا کیونکہ’’ اِقْلِیْمَا‘‘ زیادہ خوبصورت تھی اس لئے وہ اس کا طلب گار ہوا۔حضرتِ سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلامنے اسے سمجھایا کہ ’’ اِقْلِیْمَا ‘‘تیرے ساتھ پیدا ہوئی ہے اس لئے وہ تیری بہن ہے تیرا اس سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ مگر قابیل اپنی ضد پر اَڑا رہا۔ بالآخر حضرتِ سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلامنے یہ حکم دیا کہ تم دونوںاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں اپنی اپنی قربانیاں پیش کرو، جس کی قربانی مقبول ہو گی وہی’’اِقْلِیْمَا ‘‘کا حق دار ہو گا۔ اس زمانے میں قربانی کی مقبولیت کی یہ نشانی تھی کہ آسمان سے ایک آگ اترتی اور اسے جلاڈالتی ۔ چنانچہ، قابیل نے گیہوں کی کچھ بالیں اور ہابیل نے ایک بکری قربانی کے لئے پیش کی۔ آسمانی آگ نے ہابیل کی قربانی کو کھالیا اور قابیل کے گیہوں کو چھوڑ دیا۔ اس پر قابیل کے دل میں بغض و حسد پیدا ہو گیا اور اس نے ہابیل کو قتل کردینے کی ٹھان لی اور ہابیل سے کہا کہ میں تجھے قتل کروں گا۔ ہابیلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے کہا کہ قربانی قبول کرنااللہ عزَّوَجَلَّکا کام ہے اور وہ اپنے مُتَّقِی(مُتْ۔تَ۔ قِی) بندوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اگر تو مُتَّقِی ہوتا تو ضرور تیری قربانی قبول ہوتی۔ ساتھ ہی حضرت ہابیل نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر تو میرے قتل کے لئے ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھ پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ میںاللہ عزَّوَجَلَّسے ڈرتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ تجھ ہی پرپڑے اور توہی جہنمی ہو کیونکہ بے انصافوں کی یہی سزا ہے۔ آخر قابیل نے اپنے بھائی حضرتِ سَیِّدُناہابیلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو قتل کردیا۔ بوقتِ قتل ان کی عمر 20برس تھی اور قتل کا یہ حادثہ م کَّۂ مُکَرَّمَہ میں جَبَلِ ثور کے پاس یا جَبَلِ حِرا کی گھاٹی میں ہوا۔ بعض کا قول ہے کہ شہر بصرہ میں جس جگہ مسجد ِ اعظم بنی ہوئی ہے وہاں بروز منگل یہ سانحہ رونما ہوا۔وَ اللہ تَعَالٰی ٰاَعْلَم وَرَسُوْلُہُ اَعْلَم عزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(ملخصاً روح البیان، پ۶، المائدۃ، تحت الایۃ:۲۸،۲/۳۷۹)انسان کومُردہ دفن کرناکس نے سکھایا؟حضرتِ سَیِّدُنا ہابیلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے پہلے دنیا میں کوئی آدمی نہ مرا تھا اس لئے قابیل پریشان تھا کہ بھائی کی لاش کا کیا کرے ۔ چنانچہ، کئی دن تک وہ لاش کو اپنی پیٹھ پر لادے پھرتارہا۔ پھر اس نے دو کوّے لڑتے دیکھے جن میں سے ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔ پھر اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کرید کر ایک گڑھا کھودا اور مَرے ہوئے کوّے کو اس میں ڈال کر مٹی سے دبا دیا۔ یہ منظر دیکھ کر قابیل کو معلوم ہوا کہ مردے کی لاش کو زمین میں دفن کرنا چاہئے۔ چنانچہ، اُس نے قبر کھودی اوربھائی کی لاش کو دفن کردیا۔ (مدارک التنزیل، پ۶، المائدۃ، تحت الایۃ:۳۱، ص۲۸۲)
قراٰنِ کریم میں حضرتِ سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلامکے دو بیٹوں کاواقعہ پارہ 6 سورہ ٔمائدہ آیت نمبر 27تا31میں بیان کیا گیاہے۔سات دن تک زلزلہقابیلبہت ہی گورا اور خوبصورت تھا مگربھائی کا خون بہاتے ہی اس کا چہرہ بالکل سیاہ و بدصورت ہو گیا۔ سات دن تک زمین میں زلزلہ رہا، وُحوش و طُیُور(درندوں اور پرندوں ) میں اِضْطِرَاب اور بے چینی پھیل گئی ،حضرتِ سَیِّدُناآدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو اپنے فرزند اَرجُمَند حضرتِ سَیِّدُناہابیلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی موت کا بہت رَنج ہوا یہاں تک کہ ایک سو برس تک کبھی آپ کو ہنسی نہ آئی اور آپعَلَیْہِ السَّلامنے سُریانی ز بان میں شعر پڑھا جس کا عربی ترجمہ یہ ہے:تَغَیَّرَتِ الْبِلَادُ وَمَنْ عَلَیْھَا فَوَجْہُ الْاَرْضِ مُغْبَرٌ قَبِیْحٗ
تَغَیَّرَ کُلُّ ذِیْ لَوْنٍ وَطَعْمٍ وَقَلَّ بَشَاشَۃُ الْوَجْہِ الصَّبِیْحٗترجمہ: تمام شہروں اور اُن کے باشندوں میں تغیر پیدا ہو گیا اور زمین کا چہرہ غبار آلود اور قبیح ہو گیا۔ ہر رنگ اور مزہ والی چیز بدل گئی اور گورے چہرے کی رونق کم ہو گئی۔ ( روح البیان، پ۶،المائدۃ تحت الایۃ: ۲۷۔۳۰، ۲/۳۸۱)
قتل ناحق ایسا قَبِیْح (بُرا) فعل ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کا دین وایمان بھی برباد ہو سکتا ہے۔ قابیل بھی اس گناہ کی وجہ سے کفر کی دلدل میں پھنس کر دائمی عذاب کا مستحق ہوا۔ چنانچہ، منقول ہے کہآگ کاسب سے پہلا پجاریحضرتِ سَیِّدُنا ہابیلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے قتل کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلامنے شدید غضب ناک ہو کرقابیل کو اپنے دربار سے نکال دیا،تو وہ بدنصیب اِقْلِیْمَا کو ساتھ لے کر یمن کی سرزمین ’’عدن‘‘ میں چلا گیا۔ وہاں ابلیس لعین اس کے پاس آیااور کہاکہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے اس لئے کھالیا کہ وہ آگ کی پوجا کیا کرتا تھا، لہٰذا تو بھی ایک مَندَر بناکر آگ کی پوجاشروع کردے ۔ چنانچہ،اس نے ایسا ہی کیا اوریہی وہ شخص ہے جس نے آگ کی سب سے پہلے پوجاشروع کی۔ ( روح البیان، پ۶، المائدۃ تحت الایۃ:۲۷۔۳۰، ۲/۳۸۲)روئے زمین پر سب پہلا نافرمان انسانروئے زمین پر سب سے پہلےاللہ عزَّوَجَلَّکی نافرمانی قابیل ہی نے کی کہ سب سے پہلے زمین پر قتلِ ناحق کیا اور یہی و ہ پہلا مجرم ہے جسے سب سے پہلے جہنم میں ڈالا جائے گا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ روئے زمین پر قیامت تک جو بھی قتلِ ناحق ہو گا قابیل اس میں حصہ دار ہو گا کیونکہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا دستور نکالا۔(بخاری کتاب احادیث الانبیاء، باب خلق آدم وذریتہ، ۲/۴۱۳، حدیث:۳۳۳۵) قابیل نے حسد وبغض کی وجہ سے اپنے بھائی کو ناحق قتل کرکےاللہ عزَّوَجَلَّکی نافرمانی کی ،اپنے والدین کا دل دُکھایا، زمین پر فساد پھیلایاتو اسے بڑی بھیانک سزا ملی ۔قابیل کاعبرتناک انجامقابیل کا ایک لڑکا اندھا تھا اس نے قابیل کو پتھر مار کر قتل کردیا اور یوں یہ بدبخت آگ کی پَرَسْتِش کرتے ہوئے کفر و شرک کی حالت میں اپنے لڑکے کے ہاتھوں مارا گیا۔ ( روح البیان، پ۶، المائدۃ تحت الایۃ:۲۷۔۳۰، ۲/۳۸۲)حضرتِ سَیِّدُنا شِیْثعَلٰی نَبِیِّنَا وعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامہابیلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے قتل کے پانچ برس بعد حضرتِ سَیِّدُنا شِیْثعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی ولادت ہوئی جب کہ حضرتِ سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلامکی عمر شریف ایک سو تیس برس کی ہوچکی تھی۔ آپ نے اپنے اس ہونہار فرزند کا نام ’’شیث‘‘ رکھا۔ یہ سُریانی زبان کا لفظ ہے اور عربی میں اس کا معنی ہے ’’ھِبَۃُ اللہ‘‘ یعنی ’’ اللہ عزَّوَجَلَّ کا عطیہ‘‘۔ حضرتِ سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلامپرجو پچاس صحیفے نازل ہوئے تھے آپ نے حضرتِ سَیِّدُنا شیثعَلَیْہِ السَّلامکوان سب کی تعلیم دی اور ان کو اپنا وصی و خلیفہ اور سجادہ نشین بنایا اور ان کی نسل کو خیر و برکت کی دعائیں دیں۔ہمارے پیارے نبی،نبیِّ آخر الزماں ،سرورِ ذیشاں ،رحمت ِ عالمیاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرتِ سَیِّدُناشِیثعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ والسَّلامکی اولاد میں سے ہیں۔ (روح البیان، پ۶، المائدۃ تحت الایۃ:۳۰، ۲/۳۸۲)دنیامیں پہلا’’ ناحق قتل‘‘ کس وجہ سے ہوا؟دنیا میں سب سے پہلا ’’ناحق قتل ‘‘ ایک عورت کے معاملہ میں حسد کی وجہ سے ہوا۔ لہٰذا عورت کے فتنے میں مبتلا ہونے سے خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔حَسَد کی تباہ کاریقابیل نے حسد کی بیماری میں مبتلا ہو کر اپنے سگے بھائی کو قتل کردیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حسد انسان کی کتنی بری اور خطرناک قلبی بیماری ہے۔ اسی لئے قراٰن مجید میں’’وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠(۵)‘‘ (پ۳۰، الفلق:۵) (ترجمۂ کنز الایمان : اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے ) فرما کر حکم دیا گیا کہ حاسد کے حسد سے خدا کی پناہ مانگتے رہو۔
حَسَدکی تعریف:’’ کسی کی نعمت کے چھن جانے کی آرزو کی جائے (یہ حسد ہے )۔(فتا وی رضویہ،۲۴/۴۲۸ )
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی’’مِنْہَاجُ العْابِدِین‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’اپنے مسلمان بھائی سے ایسی نعمت چھن جانے کے ارادے کا نام حسد ہے جس میں اس مسلمان کے لئے بہتری اور بھلائی ہو اور اگر چھن جانے کا ارادہ نہ ہو بلکہ یہ ارادہ ہو کہ ایسی ہی نعمت مجھے بھی مل جائے تو یہ حسد نہیں بلکہ اسے غِبطہ کہتے ہیں۔‘‘ (مِنْہَاجُ العْابِدِین، ص۷۹)بُراطریقہ رائج کرنے کاوَبالقتلِ ناحق کتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے حضرتِ سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلامکا بیٹا اپنے باپ کے دربار سے راندۂ درگا ہ ہوا اورکفر و شرک میں مبتلا ہو کر مرا۔ اور قیامت تک ہونے والے ہر خونِ ناحق میں حصہ دار بن کر عذاب جہنم میں گرفتار رہے گا۔ معلوم ہوا کہ جو شخص کوئی بُرا طریقہ ایجاد کرے تو قیامت تک جتنے لوگ اس برے طریقے پر عمل کریں گے سب کے گناہ میں وہ برابر کا شریک اور حصہ دار بنے گا۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں اور ہم اری آنے والی نسلوں کو سچا پکا مسلمان بنائے۔ ہماری اولاد کو ہمارے لئے ذریعہ مغفرت بنائے ہم سب کو قتل وغارت گری، فتنہ وفساد اور دیگر بُری عادتوں سے محفوظ رکھے اور دین ودنیاکی بھلائیلاں عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَدَنی گلدستہ
’’ہَابِیْل‘‘ کےحروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کو ر اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1) یہ حدیث اس قتال (لڑائی) پر محمول ہے جو بلا وجہ شرعی ہو یا دیانت کے ساتھ تاویل واجتہاد کی بنا پر نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ باغی خواہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو اس سے لڑناجائز ہے۔ (فیوض الباری، ۱/۲۲۲)
(2)گناہ کا پختہ ارادہ بھی گنا ہ ہے ۔ہاں گناہ کا صرف خیال آنا گناہ نہیں۔ چور چوری کرنے نکلا مگر اتفاقاً نہ کرسکا گنہگار ہو گیا، فقہائے کِرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامفرماتے ہیں کہ ارادۂ کفر بھی کفر ہے۔
(3) جو بُرائی رائج کرے تو جتنے بھی لوگ اس بُرائی میں مبتلا ہونگے سب کا گناہ اسے ملے گا اور ان کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی ۔
(4) عورت کا فتنہ بہت برا ہے۔ انسان اگر اس فتنے میں مبتلا ہوجائے تو اس کا دین وایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
(5)حسد کی بیماری میں مبتلا انسان بڑے بڑے گناہ کرنے سے بھی نہیں چوکتا ، حاسد کاانجام ہمیشہ بُرا ہوتا ہے ۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں بُری سوچ ،برے افعال اور بُری صحبت سے محفوظ رکھے اور ہمارا حشر اپنے نیک بندوں کے ساتھ فرمائے اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 9