Main Icon

باب : اخلاص و نیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 10

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’ صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ تَزِیْدُ عَلَی صَلَا تِہِ فِی سُوْقِہِ وَبَیْتِہِ بِضْعًاوَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً وَذَالِکَ أَنَّ أَحَدَہم إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ لَا یُرِیْدُ إِلَّا الصَّلَاۃَ، لَا یَنْہَزُہُ إِلَّا الصَّلَاۃُ ، فَلَمْ یَخْطُ خَطْوَۃً إِلَّا رُفِعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃٌ وَحُطَّ عَنْہُ بِہَا خَطِیْئَۃٌ حَتّٰی یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِی الصَّلَاۃِ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ ہِیَ تَحْبِسُہُ،وَالْمَلٰئِکَۃُ یُصَلُّوْنَ عَلٰی أَحَدِکُمْ مَادَامَ فِی مَجْلِسِہِ الَّذِی صَلّٰی فِیْہِ یَقُوْلُوْنَ:اللہم ارْحَمْہُ اللہم اغْفِرْ لَہُ اللہم تُبْ عَلَیْہِ مَا لَمْ یُوْذِ فِیْہِ مَا لَمْ یُحْدِثْ فِیْہِ۔
( مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل صلوۃ الجماعۃ وانتظار الصلاۃ، ص ۳۳۳ ، حدیث: ۶۴۹)

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’ صلاۃ الرجل فی جماعۃ تزید علی صلا تہ فی سوقہ وبیتہ بضعاوعشرین درجۃ وذالک ان احدہم إذا توضا فاحسن الوضوئ ثم اتی المسجد لا یرید إلا الصلاۃ، لا ینہزہ إلا الصلاۃ ، فلم یخط خطوۃ إلا رفع لہ بہا درجۃ وحط عنہ بہا خطیئۃ حتی یدخل المسجد فإذا دخل المسجد کان فی الصلاۃ ما کانت الصلاۃ ہی تحبسہ،والملئکۃ یصلون علی احدکم مادام فی مجلسہ الذی صلی فیہ یقولون:اللہم ارحمہ اللہم اغفر لہ اللہم تب علیہ ما لم یوذ فیہ ما لم یحدث فیہ۔
( مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل صلوۃ الجماعۃ وانتظار الصلاۃ، ص ۳۳۳ ، حدیث: ۶۴۹)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:مرد کی باجماعت نماز کا ثواب اس کی گھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز کے مقابلے میں بیس اور اس سے کچھ زیادہ درجے ہے اور یہ اس لئے ہے کہ جب ان میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرکے صرف نماز ہی کی نِیَّت سے مسجد کی طرف چلتا ہے اور نماز کے علاوہ اس کاکوئی اور مقصد نہیں ہوتا تو مسجد میں پہنچنے تک ہر ہر قدم کے بدلے اس کا درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ۔ مسجدمیں داخل ہونے کے بعد جب تک وہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے نماز ہی میں شمار ہوتا ہے اور جب تم میں سے کوئی شخص نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے توجب تک کسی کو تکلیف نہ دے یا بے وضو نہ ہوتو فرشتے اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں :’’یا اللہ عَزَّوجَلَّ! اِس پر رحم فرما،یا اللہ عَزَّوجَلَّ! اِسے بخش دے، یَا اللہ عَزَّوجَلَّ ! اِس کی توبہ قبول فرما ۔‘‘

شرح حدیث

چار دَرَجاتعَلَّامَہ اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ ذِی الْجَلَالشرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’ بعض روایات میں ستائیس درجے زیادہ بعض میں پچیس گنا زیادہ کے الفاظ آئے ہیں یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کا ثواب کئی گنا زیادہ ہے ۔وہ درجات و اجزاء جو مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے والے کو نصیب ہوتے ہیں اور تنہا نماز پڑھنے والا ان سے محروم رہتا ہے و ہ چار ہیں : (1) باجماعت نماز پڑھنے کی نیت (2) ہر قدم کے بدلے ایک درجہ کی بلندی اور ایک گناہ کی معافی (3) فرشتوں کا اس کے لئے استغفار کرنا (4) نماز کے انتظار پر نماز کا ثواب ملنا ‘‘۔(شرح بخاری لابن بطال، کتاب الاذان، باب فضل صلوۃ الجماعۃ، ۲/۲۷۲)
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیعمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں : مسجد میں با جماعت نماز کا ثواب گھر یا بازار میں اکیلے یاباجماعت نماز پڑھنے سے زیادہ ہے ۔ہاں !جو لوگ مسجد کے علاوہ کہیں اور جماعت سے نماز پڑھ لیں تو ان کا ثواب اکیلے نماز پڑھنے والے سے زیادہ ہوگا لیکن پھر بھی وہ مسجد کی جماعت کی فضلیت کو نہ پاسکیں گے۔ (عمدۃ القاری، کتاب الاذان، باب فضل صلوۃ الجماعۃ، ۴/۲۳۳، تحت الحدیث:۶۴۷)جماعت کی فضیلت کے بارے میں مختلف روایات کی وضاحتباجماعت نماز کی فضیلت بعض روایات میں پچیس اور بعض میں ستائیس درجے بیان کی گئی ہے ۔ علامہ بدر الدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیاس اختلاف کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ایک قول یہ ہے کہ ستائیس کا ذکر پچیس کے بعد آیا ہے گویا کہاللہ عزَّوَجَلَّنے پہلے پچیس کی خبر دی پھر یہ ثواب بڑھا کر ستائیس گنا کردیا گیا ۔ایک قول یہ ہے کہ وہ نماز جس میں کم چَلاگیا ہو اور نماز کا انتظار نہ کیا گیا ہواس کا ثواب پچیس گنا ہے اور جس نماز میں زیادہ چلا گیا ہو اور زیادہ دیر نماز کا انتظار کیا گیا ہو اس کا ثواب ستائیس گنا ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ ثواب کا کم یا زیادہ ہونا نماز ی اور نماز کے بدلنے کی وجہ سے ہوتا ہے پس جو نماز کو اچھے طریقے سے ادا کرے اور اس کی حفاظت کرے اور پورے دھیان سے پڑھے تو اس کا ثواب زیادہ ہوتا ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ عشا اور فجر کی نماز میں ثواب زیادہ ہے کیونکہ ان نمازوں میں دن اور رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔ اس قول کی تائید اس حدیث پاک سے ہوتی ہے کہ ’’ باجماعت نماز تم میں سے کسی ایک کے تنہا نماز سے پچیس گنا افضل ہے اور فجر کی نماز میں رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔‘‘ (ملخصا عمدۃ القاری، کتاب الصلٰوۃ، باب الصلوۃ فی مسجد السوق، ۳/۵۴۶، تحت الحدیث:۴۷۷)عظیم الشان اِنعاماللہ عزَّوَجَلَّکے فضل و کرم سے ہمیں جوبے شمار اِنعامات عطا ہوئے ہیں ، اِنہیں انعامات میں سے نماز بھی بِلاشبہ ایک عظیم الشّان اِنعام ہے، اس میںاللہ عزَّوَجَلَّنے ہمارے لئے جہاں کی بھلائیاں رکھ دی ہیں۔ اسی طرح نمازِ باجماعت کی دولت بھی کوئی معمولی اِنعام نہیں ، یہ بھی ہمارے لئے بے شُمار نیکیاں حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ حدیث مذکور سے باجماعت نماز کی فضیلت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے باجماعت نماز پڑھنے والا کتنا خوش نصیب ہے کہ اسے پچیس یا ستائیس گنازیادہ ثواب ملتا ہے۔ جب وہ نماز کی نیت سے مسجد کی طرف چلتا ہے اور کوئی دنیوی غرض پیش نظر نہیں ہو تی تواس کے ہر قدم پر نیکیاں ، درجات کی بلندی ، گناہوں کی مغفرت جیسی عظیم سعادتیں ملتی ہیں پھر جب تک نماز کے انتظار میں بیٹھارہے نماز ہی کا ثواب ملتا ہے اور معصوم فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے پاس جو مال ہے وہ اپنے شہر میں ایک روپے کا بِکے گا اور اگراسے سُمندر پار جا کر فروخت کریں تو 25یا27 روپے میں بِکے گا، تو شاید ہر شخص سمندر پار جا کر ہی اپنا مال فروخت کرے، کیونکہ25یا27 گنانفع چھوڑنا کوئی بھی گوار ا نہیں کرے گا۔ مگر کس قدر حیرت ہے کہ گھر سے صِرف چند قدم چل کر مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے میں ایک نماز پر ستائیس نماز کا ثواب ملتا ہے، مگر پھر بھی بہت سے لوگ جماعت کی پرواہ نہیں کرتے اور بِلاعذر گھروں میں نماز پڑھ لیتے ہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہئے! موت کا کوئی پتہ نہیں کب آجائے اور ہم کفِ ِافسوس مَلتے رہ جائیں۔زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو!فرما نِ مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے: ’’زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الرقاق، الفصل الاول، ۳/۱۰۸، حدیث:۵۱۷۴)اس فرمانِ عالیشان کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی زندگی سے پُورا پورا فائدہ اٹھانا چاہئے !جتنا ہوسکے باجماعت نمازیں ادا کرکے زیادہ سے زیادہ ثواب کا ذخیرہ کرلیناچاہئے، ورنہ یاد رکھئے! مرنے کے بعد جماعت کا ثواب لوٹنے کا موقع نہیں مِل سکے گا اور پھر بے حد نَدامَت ہوگی اور افسوس بھی ہوگا کہ کاش ! میں دُنیا میں تھوڑی سی سُستی اُڑا کر زیادہ سے زیادہ جماعت کا ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوتا۔
کچھ نیکیاں کما لے جلد آخرت بنا لے
کوئی نہیں بھروسہ اے بھائی زندگی کا
اچھی نیت کے بھی کیا کہنے کہ اس کی وجہ سے انسان ایک ہی عمل پر بہت سارے اعمال کا ثواب پاسکتا ہے جیسا کہ نماز کے لئے جانا ایک عمل ہے اگر کوئی صرف نماز ہی کی نیت سے مسجد کی طرف جائے تو اسے اسی نیت کا ثواب ملے گا لیکن جو اس کے ساتھ دیگر اعمالِ صالحہ کی بھی نیت کر لے تو اسے ان کا بھی ثواب مل جائے گا۔
نماز کے لیے مسجد جانے کی چالیس نیتیںسرکارِ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت ،مجدِدِ دین وملت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : بے شک جو علمِ نیت جانتا ہو تو اپنے ایک ایک فعل میں اپنے لیے کئی نیکیاں کرسکتا ہے، مثلاً جب نماز کے لیے مسجد کو چلے اور یہی قصد کیا ہے نماز پڑھوں گا، توا س کا چلنا محمود ہے، ہر قدم پر(فرشتے) ایک نیکی لکھیں گے اور دوسرے پر گناہ محو کریں گے ۔ مگر عالمِ نیت اس ایک ہی فعل میں اپنے لیے ۴۰ نیتیں کرسکتا ہے۔مثلاََ
{1}… اصل مقصد یعنی نماز کو جاتا ہوں۔{2}… خانہ خدا کی زیارت کروں گا۔{3}… شعارِ اسلام ظاہر کروں گا۔{4}… داعِی اِلَی اللہ یعنی (مُؤذِّن)کی اِجابت ( دعوت قبول) کرتا ہوں۔ {5}… تحیۃُ المسجد پڑھنے جاتا ہوں۔{6}… مسجد سے خس و خاشاک ( تنکے )وغیرہ دور کروں گا۔{7}…اعتکاف کرنے جاتا ہوں کہ مذہب مُفْتٰی بِہٖپر اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں اور ایک ساعت کا بھی ہوسکتا ہے جب سے داخل ہو یا باہر آنے تک اعتکاف کی نیت کرلے انتظارِ نماز وا دائے نماز کے ساتھ اعتکاف کا بھی ثواب مل جائے گا۔{8}… امرِ الٰہی ( حکمِ قرآنی) خُذُوْازِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (ترجمۂ کنزالایمان :اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ۔ (پ ۸ ، الاعراف:۳۱) کے اِمْتِثَال (یعنی تکمیلِ حکم) کو جاتا ہوں۔{9}… جو وہاں علم والا ملے گا اس سے مسائل پوچھوں گا، دین کی باتیں سیکھوں گا۔ {10}… جونہیں جانتے ان کو مسئلہ بتاؤں گا، دین سِکھا ؤں گا۔ {11}…جو علم میں میرے برابر ہوگا اس سے علم کی تکرار کروں گا۔{12}… علماء کی زیارت {13}…نیک مسلمان کا دیدار{14}…دوستوں سے ملاقات {15}… مسلمانوں سے مَیل( ملاپ
ـ∞) {16}… جو رشتہ دار ملیں گے ان سے بَکُشادہ پیشانی مل کر صلۂ رحم کرنے کا ثواب کماؤں گا۔{17}… اہلِ اِسلام کو سَلام ۔{18}… مسلمانوں سے مصافحہ کروں گا ۔{19}… ان کے سلام کا جواب دوں گا۔{20}… نمازِ جماعت میں مسلمانوں کی برکتیں حاصل کروں گا۔{22۔21}… مسجد میں جاتے نکلتے حضور سَیِّدِ عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمـ∞ پر سلام عرض کروں گا۔بِسْمِ اللہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہـ∞{24،23}… دُخُوْل وخُرُوْج میں ( یعنی مسجد کے اندر داخل ہوتے وقت اور باہر نکلتے وقت) حضور و آلِ حضور واَزواجِ حضور پر درود بھیجوں گا۔وہ درود شریف یہ ہے۔اللھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اَزْوَاجِ سَیِّدِنَا مُحَمَّد {25}… بیمار کی مِزاج پُرسی کروں گا۔{26}… اگر کوئی غمی والا ملا تعزیت کروں گا۔{27}… جس مسلمان کو چھینک آئی اور اس نےاَلْحَمْدُ لِلّٰہـ∞ کہا تو اُسے یَرْحَمُکَ اللہ کہوں گا۔{29۔28}…اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرـ∞( یعنی نیکی کا حکم دوں گا اور برائی سے منع ) کروں گا۔{30}… نمازیوں کو وضوکے لیے پانی دوں گا۔(یہ نیت وہاں ہوسکتی ہے جہاں لوٹے سے وضو کیا جاتا ہو){32۔31}… خود مؤذن ہے یا مسجد میں کوئی مؤذن مقرر نہیں تو نیت کرے کہ اذان و اقامت کہوں گا۔اب اگر یہ کہنے نہ پائے دوسرے نے کہہ دی تاہم اپنی نیت پر اذان و اقامت کا ثواب پا چکا۔فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللہیعنی اس کا ثواباللہ عزَّوَجَلَّـ∞کے ذمہ پر ہو گیا ۔ { 33}… جو راہ بھولا ہوگا راستہ بتاؤں گا۔ {34}… اندھے کی دستگیری کروں گا( یعنی ہاتھ پکڑوں گا)۔{35}…جنازہ ملا تو نماز پڑھوں گا۔{36}… موقع پایا تو ساتھ دفن تک جاؤں گا۔ {37}… دو مسلمانوں میں نِزاع (یعنی لڑائی) ہوئی تو حَتّٰی الْوَسْع (جہاں تک ہوسکا)صلح کراؤں گا۔ {39۔38}… مسجد میں جاتے وقت داہنے اور نکلتے وقت بائیں پاؤں کی تَقْدِیْم (یعنی پہل) سے اِتِّبَاعِ سنت کروں گا۔{40}… راہ میں جو لکھا ہوا کاغذ پاؤں گا اُٹھا کر ادب سے رکھ دوں گا۔اِلٰی غَیْرِ ذَالِکَ مِنْ نِّیَاتٍ کثِیْرَۃٍ(اس کے علاوہ بہت ساری نیتیں )۔ تو دیکھئے کہ جو اِن اِرادوں کے ساتھ گھر سے مسجد کو چلا صرف حسنۂ نماز (یعنی نماز کی نیکی) کے لیے نہیں جاتا بلکہ ان چالیس حَسَنات کیلئے جاتا ہے تو گویاا س کا یہ چلنا چالیس طرف چلنا ہے، اور ہر قدم چالیس، قدم پہلے ایک نیکی تھا اب چالیس نیکیاں ہوگا۔ (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ، ۵ / ۶۷۳ تا ۶۷۵)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدـ∞
اچھی نیتوں کی وجہ سے انسان بہت سی نیکیاں حاصل کر سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر عمل سے پہلے جتنی ممکن ہو اچھی اچھی نیتیں کر لیں تاکہ ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوتا رہے ۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اچھے اچھے اعمال کرنے کی توفیق عطافرمائے !
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمـ∞باجماعت نماز کے فضائلحدیث مذکور میں با جماعت نمازکی فضیلت بیان کی گئی، لہٰذا جماعت کے فضا ئل اور ترکِ جماعت کی وعیدیں بیان کی جاتی ہیں۔ اللہ عزَّوَجَلَّ قراٰن مجید میں اِرشاد فرماتا ہے :وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَـ∞(۴۳)(پ۱، البقرۃ:۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔
تفسیر خازن میں ہے:’’
فِیْہِ حَثٌّ عَلٰی إِقَامَۃِ الصَّلَاۃِ فِی الْجَمَاعَۃِ فَکَأَنَّہُ قَالَ صَلُّوْا مَعَ الْمُصَلِّیْنَ فِی الْجَمَاعَۃِ‘‘ ترجمہ: اس آیت میں نماز باجماعت ادا کرنے پر ابھارا گیا ہے گویا کہ فرمایا: جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھو ۔(تفسیر الخازن، پ۱، البقرۃ، تحت الایۃ:۴۳، ۱ /۴۹ )
امام فخر الدین رازی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِیفرماتے ہیں :اس سے مراد یہ ہے کہ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھو، اس طرح تکرار بھی ختم ہو جائے گی اس لئے کہ اس سے پہلے قول (اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ)میں نماز قائم کرنے کا حکم ہے اور دوسرے قول (وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ)میں نمازکو جماعت سے ادا کرنے کا حکم ہے ۔ (تفسیر کبیر، پ۱، البقرۃ، تحت الایۃ:۴۳، ۱/۴۸۷)دوآزادیاںحضرتِ سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : جواللہ عزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے چالیس دن باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ نَماز پڑھے گا اس کے لئے دوآزادیاں لکھی جائیں گی،ایک جہنم سے دوسری نفا ق سے۔
(ترمذی، کتاب ابواب الصلاۃ، باب ماجاء فی فضل التکبیرۃ الاولٰی، ۱/۲۷۴، حدیث: ۲۴۱)
تکبیرِ اُولیٰ کسے کہتے ہیں ؟:پہلی تکبیر کو تکبیرِ اُولیٰ کہتے ہیں اِس کو تکبیر تحریمہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا ثواب پانے کے لئے ہمارے لیے ایک رِعایت یہ بھی موجود ہے کہ اگر امام کے ساتھ پہلی رکعت کا رکوع بھی مل جائے تب بھی تکبیر اُولیٰ کاثواب مل جاتاہے جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کی1360 صفحات پر مشتمل کتاب ’’ بہارِ شریعت‘‘جلد اول صفحہ 509 پر ہے: ’’پہلی رکعت کا رکوع مل گیا، تو تکبیرِ اولیٰ کی فضیلت پاگیا۔‘‘(بہارِ شریعت، ۱/ ۵۰۹، حصہ ۳ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدسنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گےحضرتِ سَیِّدُناابن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرما تے ہیں کہ جسے یہ پسند ہو کہ وہ قیامت کے دن اللہ عزَّوَجَلَّ سے مسلمان ہوکر ملے اسے چاہیے کہ جب اذان ہوتو اپنی نَمازوں کو پابندی سے ادا کیا کرے کیونکہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے تمہارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ہدایت والے طریقے عطا فرمائے ہیں اور بے شک یہ نَمازیں انہی میں سے ہیں۔ اگر تم اپنے گھر میں نَماز پڑھو گے جیسے اس نَماز سے پیچھے رہنے والے شخص نے اپنے گھر میں نَمازادا کی تو بے شک تم نے اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت کو چھوڑ دیا اور اگر تم اپنے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو شخص اچھے طریقے سے وضو کرے پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کی طر ف آئے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے لئے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھے گا اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گااور اس کا ایک گنا ہ معاف فرما دے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ کھلا منافق ہی جماعت سے پیچھے رہتا ہے اور ہدایت یا فتہ شخص کسی دوسرے کو ہا تھ سے پکڑ کر مسجد میں لاتا اور صف میں موجود ہوتا ہے۔ (مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب صلوۃ الجماعۃ من سنن الھدی، ص ۳۲۸، حدیث: ۶۵۴)ستائیس مرتبہ نماز دہرائیحضرتِ سَیِّدُناعُبَیْدُ اللہ بِنْ عُمَرقَوَارِیْرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الغَنِیفرماتے ہیں : میں نے ہمیشہ عشاء کی نماز باجماعت اداکی، مگر افسوس! ایک مرتبہ میری عشاء کی جماعت فوت ہوگئی۔ اس کاسبب یہ ہواکہ میرے ہاں ایک مہمان آیا،میں اس کی خاطر مُدَارَات (مہمان نوازی) میں لگا رہا ۔ فراغت کے بعد مسجد پہنچا توجماعت ہو چکی تھی۔ اب سوچنے لگا کہ ایسا کون سا عمل کروں جس سے اس نقصان کی تلافی ہوجائے۔ یکایک مجھےاللہ عزَّوَجَلَّکے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانِ عالیشان یاد آیا کہ ’’باجماعت نماز، منفرد کی نماز پر اکیس درجے فضیلت رکھتی ہے۔اسی طرح پچیس اور ستا ئیس درجے فضیلت کی حدیث بھی مروی ہیں ‘‘۔میں نے سوچا، اگر میں ستائیس مرتبہ نماز پڑ ھ لوں تو شاید جماعت فوت ہوجانے سے جوکمی ہوئی ہے وہ پوری ہوجائے ۔ چنانچہ، میں نے ستائیس مرتبہ عشاء کی نمازپڑھی ، پھر مجھے نیند آگئی ۔ میں نے اپنے آپ کو چند گُھڑ سواروں کے ساتھ دیکھا، ہم سب کہیں جارہے تھے ،اتنے میں ایک گھڑ سوار نے مجھ سے کہا: تم اپنے گھوڑے کو مَشَقَّت میں نہ ڈالو ،بے شک تم ہم سے نہیں مل سکتے۔ میں نے کہا:’’ کیوں ؟‘‘ کہا : ’’اس
لئے کہ ہم نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی ہے۔‘‘ (عیون الحکایات،ص، ۲۵۹)
اللہ عزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمترکِ جماعت کی وعیدیںجہاں باجماعت نماز ادا کرنے کے بے شمار فضائل ہیں وہیں بِلا کسی شرعی مجبوری کے جماعت ضائع کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں بھی ہیں ، سستی و غفلت کی وجہ سے جماعت ترک کردینا عقل مند مسلمان کا کام نہیں کہ ایسا کرنا ڈھیروں ثواب سے محرومی بھی ہے اور اِس سنت عظیمہ(یعنی سنت واجبہ)کا ترک اللہ عزَّوَجَلَّ ورسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے غضب شدید کے اُبھارنے کا سبب بھی۔‘‘ چنانچہ، اس ضمن میں 3 روایات ملاحظہ ہوں :(1)تارکِ جماعت پرقہر وغضبحضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے کہ نبیِّ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ منافقین پر سب نَمازوں سے بھاری فجر اور عشاء کی نَماز ہے، اگر جان لیتے کہ ان دونوں نَماز وں میں کیا ہے تو ضرور حاضرہوتے اگرچہ گھسٹتے ہوئے آتے اور بیشک میں نے ارادہ کیا کہ میں نَماز قائم کرنے کاحکم دوں اور کسی شخص کو نَماز پڑھانے پر مقرر کروں پھر کچھ لوگو ں کو اپنے ساتھ چلنے کیلئے کہوں جو لکڑیاں اٹھائے ہوئے ہوں پھر ان لوگوں کی طر ف جا ؤں جو نَماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔‘‘(بخاری، کتاب الاذان، باب فضل العشاء فی الجماعۃ، ۱/۲۳۵، حدیث :۶۵۷)
(2)حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ عالی وقار، دوجہاں کے مالک ومختار،حبیب ِپرورد گار
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو نماز عشاء قائم کر تا اور جوانوں کو حکم دیتا کہ جو لوگ گھروں میں ہیں ( یعنی جماعت میں حاضر نہیں ہوئے )ان کے گھروں کو آگ سے جَلادیں۔‘‘ (مسند امام احمد، ۳/۲۹۶، حدیث: ۸۸۰۴)(3)کان میں پگھلا ہوا سیسہجس نے اذان سُنی مگر بغیر کسی شرعی مجبوری کے مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے نہ آیا اس کے کان میں اگر پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جائے تو یہ جماعت ضائع کرنے سے آسان تھا۔ چنانچہ ،حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں :’’ اگر ابنِ آدم کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ بھردیا جائے یہ اِس بات سے بہتر ہے کہ اذان سُنے مگر مسجد میں نہ آئے۔ ‘‘(مکاشفۃ القلوب،ص۲۶۸)تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمَدَ نی گُلد ستہ
’’نماز‘‘ کے
4حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول(1) جواپنی دکان یا مکان میں تنہا نماز پڑھ لیتا ہو یا جماعت بھی کروالے تب بھی مسجد کے ثواب سے محروم ر ہے گا اور جماعت واجب ہونے کی صورت میں گناہ گار بھی ہوگا ۔
(2) گھر سے وضو کرکے مسجد جانا ثواب ہے کیونکہ یہ چلنا عبادت ہے اور عبادت باوضو افضل ہوتی ہے بعض نیک خصلت لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ کسی مریض کی عِیادت کر نے بھی باوضو جاتے ہیں کیونکہ عِیادت کرنا نیک عمل ہے اور ہرنیک عمل باوضو بہتر ہے۔
(3) جماعت کو جاتے ہوئے ہر قدم پر ایک نیکی ملنا اور ایک گناہ مٹنایہ گنہگاروں کے لئے ہے جبکہ نیکوں کے لیے تو ہر قدم پر دو نیکیاں اور دو درجے بلندی ہے کیونکہ جس چیز سے گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اس سے نیکوں کے درجے بڑھتے ہیں۔(ملخصاََازمراٰۃ المناجیح ، ۱/ ۴۳۶)
(4)مسجدمیں نماز کے انتظار میں بیٹھنے والے خوش نصیب کے لئے اللہ عزَّوَجَلَّ کے معصوم فرشتے دعائیں کرتے ہیں۔ ہمیں بھی چاہئے کہ نماز سے پہلے ہی مسجد میں جانے کی عادت بنا لیں تاکہ دیگر برکتوں کے ساتھ فرشتوں کی دعاؤں میں بھی شامل ہوجائیں ، یہ خیال رہے کہ فرشتے اس وقت تک دعائیں کرتے ہیں جب تک یہ کسی نمازی کو ستائے نہیں اور مسجدمیں ریح وغیرہ خارج نہ کرے ،کیونکہ غیرِمعتکف کو مسجد میں ریح خارج کرنا منع ہے ہاں معتکف چونکہ مسجد ہی میں رہتا ہے اسے رخصت دی گئی ہے۔ (ملخصاََازمراٰۃ المناجیح ، ۱/ ۴۳۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! باجماعت نمازوں کا پابند بننے کا ایک بہترین ذریعہ’’ دعوت اسلامی‘‘ کے مدنی قافلوں میں سفر کرنا بھی ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَلَّ دعوت اسلامی کے مدنی قافلوں میں سفرکرنے کی برکت سے دیگر اعمال صالحہ کے ساتھ ساتھ نماز باجماعت کی دولت نصیب ہوتی ہے اور ہم یشہ باجماعت نماز پڑھنے کا ذہن بنتاہے۔ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے ناجانے کتنے بے نمازی نہ صرف خود نماز پنجگانہ کے پابند بن گئے بلکہ دوسروں کو بھی نماز کے لئے جگانے والے بن گئے ہیں۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں ہم یشہ باجماعت نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْن
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 10