Main Icon

باب : اخلاص و نیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 6

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ مَالِِکِ بْنِ اُھَیْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُھْرَۃَ بْنِ کِلابِ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّالْقُرَشِيِّ الزُّہْرِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، اَحَدِالْعَشَرَۃِ الْمَشْھُوْدِ لَہم بِالْجَنَّۃِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم ۔قَالَ:جَائَ نِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعُوْدُنِیْ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اِشْتَدَّبِیْ فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّيْقَدْ بَلَغَ بِیْ مِنَ الْوَجَعِ مَاتَرٰی،وَاَنَا ذُوْمَالٍ وَلَایَرِثُنِيْ اِلَّا ابْنَۃٌ لِیْ،اَفَاَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِیْ؟قَالَ:لَا،قُلْتُ:فَالشَّطْرُ یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:لَا،قُلْتُ:فَالثُّلُثُ یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ اَوْ کَبِیْرٌ اِنَّکَ اَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ اَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِنْ اَنْ تَذَرَہم عَالَۃً یَتَکَفَّفُوْنَ النَّاسَ، واِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِیْ بِہَا وَجْہَ اللہِ اِلَّا اُجِرْتَ عَلَیْہَا حَتّٰی مَا تَجْعَلُ فِیْ فِیِّ امْرَاَتِکَ،قَالَ: فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللہِ اُخَلَّفُ بَعْدَ اَصْحَابِیْ؟قَالَ اِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِیْ بِہٖ وَجْہَ اللہِ اِلَّاازْدَدْتَّ بِہٖ دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً۔وَلَعَلَّکَ اَنْ تُخَلَّفَ حَتّٰی یَنْتَفِعَ بِکَ اَقْوَامٌ وَیُضَرَّبِکَ اٰخَرُوْنَ، اللہم اَمْضِ لِاَصْحَابِیْ ہِجْرَتَہم ،وَلَا تَرُدَّہم عَلٰی اَعْقَابِہم ،لٰکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ۔یَرْثِیْ لَہٗ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ ( بخاری، کتاب الجنائز، باب رثی النبی سعد بن خولۃ، ۱ / ۴۳۸ ، حدیث: ۱۲۹۵ ، بتغیر قلیل / مسلم،کتاب الوصیۃ،باب الوصیۃ بالثلث، ص ۸۸۳ ، حدیث: ۱۶۲۸)

عن ابی اسحاق سعد بن ابی وقاص مالک بن اھیب بن عبد مناف بن زھرۃ بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لويالقرشي الزہري رضی اللہ عنہ، احدالعشرۃ المشھود لہم بالجنۃ رضی اللہ عنہم ۔قال:جائ نی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یعودنی عام حجۃ الوداع من وجع اشتدبی فقلت:یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انيقد بلغ بی من الوجع ماتری،وانا ذومال ولایرثني الا ابنۃ لی،افاتصدق بثلثی مالی؟قال:لا،قلت:فالشطر یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فقال:لا،قلت:فالثلث یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال:الثلث والثلث کثیر او کبیر انک ان تذر ورثتک اغنیائ خیر من ان تذرہم عالۃ یتکففون الناس، وانک لن تنفق نفقۃ تبتغی بہا وجہ اللہ الا اجرت علیہا حتی ما تجعل فی فی امراتک،قال: فقلت:یارسول اللہ اخلف بعد اصحابی؟قال انک لن تخلف فتعمل عملا تبتغی بہ وجہ اللہ الاازددت بہ درجۃ ورفعۃ۔ولعلک ان تخلف حتی ینتفع بک اقوام ویضربک اخرون، اللہم امض لاصحابی ہجرتہم ،ولا تردہم علی اعقابہم ،لکن البائس سعد بن خولۃ۔یرثی لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مات بمکۃ۔متفق علیہ ( بخاری، کتاب الجنائز، باب رثی النبی سعد بن خولۃ، ۱ / ۴۳۸ ، حدیث: ۱۲۹۵ ، بتغیر قلیل / مسلم،کتاب الوصیۃ،باب الوصیۃ بالثلث، ص ۸۸۳ ، حدیث: ۱۶۲۸)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو اسحاق سَعْد بن اَبی وقَّاص مالک بن اُھَیْب بِنْ عَبْد مَنَاف بِنْ زُہْرَہ بِنْ کِلَاب بِنْ مُرَّہ بِنْ کَعْب بِنْ لُؤَیّ قُرَشِی زُھْرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُجو اُن دس حضرات میں سے ہیں جنہیں جنت کی خوشخبری دی گئی فرماتے ہیں : حَجَّۃُالوَدَ اع کے موقع پررَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیری عِیادت کے لئے تشریف لائے مجھے سخت دردتھا میں نے عرض کی: یَا رَسُوْ لَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میری بیماری شدت اختیار کرچکی ہے جیسا کہ آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں ، میں ایک مالدار شخص ہوں اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ، کیا میں دوتہائی مال صَدَقہ کردوں ؟فرمایا: نہیں ، میں نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!نصف مال صَدَقہ کر دوں ؟ فرمایا:نہیں۔ میں نے عرض کی: ایک تہائی ؟فرمایا: ایک تہائی ٹھیک ہے اور تہائی بھی زیادہ ہے،(سنو!)تمہارا اپنے وارثوں کومالدار چھوڑ جاناان کو مفلس چھوڑنے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِسوال دراز کرتے پھریں ، بے شک تم جوکچھ بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے خرچ کرو گے اس کاثواب پاؤ گے یہاں تک کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ،اس کا بھی اجر ہے۔ فرماتے ہیں :میں نے عرض کی :’’یَا رَسُوْ لَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا میں اپنے اصحاب سے (ہجرت کے معاملہ )میں پیچھے چھوڑدیا جاؤنگا‘‘؟ فرمایا:’’ تم ہرگز پیچھے نہ چھوڑے جاؤگے کیونکہ تم اللہعزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے جو بھی عمل کرو گے اس سے تمہارا مرتبہ بڑھے گا اور پھر تم یقینا لمبی عمر دئیے جاؤگے یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو تم سے فائدہ پہنچے گا جب کہ کچھ لوگ تمہاری وجہ سے نقصان اٹھائیں گے۔‘‘ (پھرحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ دعا کی): یا اللہعزَّوَجَلَّ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور انہیں ان کی حاجت سے نہ پھیر! البتہ سعد بن خولہ کی حالت قابلِ رحم ہے۔ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاحضرت سَعَدبن خَولہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے لئے اظہارِ افسوس کر نا اس لئے تھاکہ وہ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں ہی فوت ہوئے ۔

شرح حدیث

وصیت سے کیا مراد ہے؟علامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیعمدۃُ القاری میں وصیت کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’تَمْلِیْکُ مُضَافٍ اِلٰی مَا بَعْدَ الْمَوْتِ‘‘ یعنی کسی کو اپنے مرنے کے بعد اپنے مال کا مالک بنانا ۔ (عمدۃ القاری، کتاب الوصایا، ۱۰/۳ )
بہارِ شریعت میں ہے :’’بطورِاحسان کسی کو اپنے مرنے کے بعد اپنے مال یا منفعت کا مالک بنانا وصیت کہلاتا ہے۔ وصیّت کرنا مستحب ہے جب کہ اس پر حقوقُ
اللہکی ادائیگی باقی نہ ہو،اگر اس پر حقوقاللہکی ادائیگی باقی ہے جیسے اس پر کچھ نمازوں کا ادا کرنا باقی ہے یااس پر حج فرض تھا ادا نہ کیا یا روزہ رکھنا تھا نہ رکھا تو ایسی صورت میں ان کے لئے وصیّت کرنا واجب ہے۔‘‘ (ملخصاًبہارشریعت، ۳/۹۳۶، حصہ۱۹ )وصیت کی اقسامعلامہ محمد اَمِیْن اِبنِ عَابِدِیْن شامیقُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِیفتاوی شامی میں فرماتے ہیں : وصیت کی چار اقسام ہیں :
(1)واجب: فرائض و واجبات میں سے جن چیزوں کو ادا نہ کرسکا ان کی وصیت کرنا اس پر واجب ہے مثلاً زکوٰۃ ادا نہیں کی یا حج نہیں کیا تو ان کے متعلق وصیت کرے (یا اس نے نمازیں اور روزے چھوڑدئیے تھے اور ان کی قضا نہیں کی تھی ان کے بارے میں وصیت کرے)یا مالی کفارے ادا نہیں کئے تھے ان کے لئے وصیت کرے اسی طرح بندوں کے جو حقوق ادا نہیں کر سکا ان کے متعلق وصیت کرے مثلاً کسی کا قرض دینا ہے جس کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں ، کسی کی امانت دینی ہے یاکسی کی کوئی چیز غصب کرلی تھی اس کو واپس کرنا ہے اس قسم کی وصیت کرنا واجب ہے ۔
(2)مستحب: مدرسوں ، مساجد، علمائے کرام ، دینی طلبہ، غریب قرابت داروں اور دیگر امورِ خیر میں خرچ کرنے کی وصیت کرنا مستحب ہے۔
(3) مباح : اپنے رشتہ داروں اور غیروں میں سے امیروں کے لئے وصیت کرنا مباح ہے ۔
(4)مکروہ : فاسق و فاجر لوگوں کے لئے وصیت کرنا مکروہ ہے ۔ (رد المحتار، ۱۰/۳۵۴، ملخصاً)
بہار شریعت میں ہے کہ: جس کے پاس تھوڑا مال ہو اس کے لئے افضل وصیت نہ کرنا ہے ۔ (بہار شریعت، ۳/۹۳۸، حصہ ۱۹)
وصیت لکھنا مستحب ہےعلامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں : وصیت کی مشروعیت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے لیکن ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ وصیت مستحب ہے واجب نہیں۔ لیکن اگر انسان پر کسی کا قرض ہو یا کسی کا حق ہو یا امانت ہو تو اس کی وصیت کرنا لازم ہے۔ اگر انسان کے پاس وصیت کے لائق کوئی چیز ہو تو احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی ہو اور مستحب یہ ہے کہ وصیت جلدی لکھ لے اور اپنی تندرستی میں لکھے اور کسی کو گواہ بھی بنا لے ۔ (شرح مسلم للنووی، کتاب الوصیۃ،۶ /۷۴، الجزء الحادی عشر )وصیت تہائی مال میں جاری ہوگیعلامہ بَدْرُالدِّیْن مَحْمُوْد بِنْ اَحْمَد عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیعُمْدَۃُ الْقَارِی میں حضرتِ سَیِّدُنا سَعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُوالی حدیث کے تحت فرماتے ہیں : جمہور فقہائے کرامرَحِمَہم اللہ السَّلَامنے اس حدیثِ پاک کو مقدارِ وصیت کے بارے میں اصل قرار دیا ہے اور اہلِ علم کا اس پر اتفاق ہے کہ وصیت ثُلُث(یعنی تہائی 1/3) مال سے مُتَجَاوِز (زیادہ) نہیں ہونی چاہیے ، علمائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکے نزدیک ثُلُث ( تہائی مال) سے زیادہ وصیت کرنا جائز نہیں بلکہ مستحب یہ ہے کہ ثُلُت مال سے کم وصیت کی جائے۔(عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب رثاء النبی سعد بن خولۃ، ۶/ ۱۲۴،تحت الحدیث:۱۲۹۵)
بہارِ شریعت میں ہے:’’ادائیگیٔ قرض کے بعد وصیت کا نمبر آتا ہے۔ قرض کے بعد جو مال بچا ہو اس کے تہائی سے وصیتیں پوری کی جائیں گی۔ ہاں اگر سب وُرَثہ بالغ ہوں اور سب کے سب تہائی مال سے زائد سے وصیت پوری کرنے کی اجازت دے دیں تو جائز ہے۔‘‘ (بہارِ شریعت، ۳/۱۱۱۱، حصہ۲۰ )
رَء ُوْفٌ رّحیم آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام مخلوق میں سب سے زیادہ بااَخلاق اورمومنین پر سب سے زیادہ رء وف رحیم ہیں۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)(پ۲۹، القلم :۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک تمہاری خوبو (خُلق) بڑی شان کی ہے ۔
دوسرے مقام پرارشادہوتا ہے:
عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)(پ۱۱، التوبۃ :۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔
بیماروں کی عِیادت کرنا ہمارے پیارے پیارے آقا مدینے والے مصطفیٰ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتِ مبارکہ ہے جب بھی آپ کاکوئی صحابی بیمارہو تا آپ عِیادت کے لئے تشریف لے جاتے اور مقبول دعاؤں سے نوازتے۔
ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود
ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام
حَجَّۃُالوَدَ اع کے موقع پرجب آپ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے پیارے صحابی حضرتِ سَیِّدُنا سَعد بن اَبی وقَّاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی بیماری کی خبر ملی تو عِیادت کے لئے تشریف لے گئے ۔انہیں بہت شدت کا درد ہورہا تھا،اللہ عزَّوَجَلَّکے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے پاس دیکھ کراپنا حال بیان کیا پھر عرض کی : ’’یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !اللہ عزَّوَجَلَّنے مجھے بہت مال دیا ہے ،ایک لڑکی کے علاوہ میری کوئی اولاد نہیں ، میں چاہتا ہوں کہ راہِ خدا میں اپنا دوتہائی مال خرچ کردوں ؟‘‘ارشاد فرمایا:’’ نہیں ‘‘ انہوں نے نصف مال صَدَقہ کرنے کی اجازت چاہی، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر منع فرمادیا،پھر تہائی مال کی اجازت چاہی تو اجازت دیتے ہوئے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے اور تمہارا اپنے اہل و عیال کو مالدار چھوڑنا بہتر ہے اس سے کہ انہیں مفلس چھوڑدو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں،ایسانہیں کہ اپنے گھر والوں پر خرچ کرنے سے ثواب نہیں ملتا بلکہ اچھی نِیَّت سے اگر تم اپنی زوجہ کو کھانا کھلاؤ اور لباس پہناؤ تو اس کا بھی ثواب ہے۔ پھر انہوں نے عرض کی: میرے جو ساتھی فوت ہوگئے وہ تو اپنی منزل
مقصود کو پہنچ گئے لیکن میں پیچھے رہ گیا؟ ارشاد فرمایا :’’تمہاری عمر درازہو گی پھر تم جو بھی نیک عمل رضائے الٰہی کے لئے کرو گے تمہیں نیکی ملے گی اور تمہارا درجہ بلند ہوگا لوگ تم سے فائدہ اٹھائیں گے اور کچھ نقصان اٹھائیں گے۔‘‘پھر حضورنے ان کے لئے دعا فرما ئی آپ کی دعا قبول ہوئی تو ان کا مرض جاتا رہا خوب لمبی عمراور اولادکی کثرت نصیب ہوئی۔
اللہ عزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔رشتہ داروں پر مال خرچ کرنے کا ثواباپنے اہل وعیال پر خرچ کرنا اور انکے نان و نَفَقَہ ( یعنی روٹی کپڑے وغیرہ کے خرچ ) کا انتظام کرنا باعثِ اجر وثواب ہے بشرطیکہ نِیَّت یہ ہو کہ ان کا نَفَقَہاللہ عزَّوَجَلَّنے مجھ پر فرض کیاہے لہٰذا میں اس کے حکم کی تعمیل کررہا ہوں ،اسی طرح اولادکے لئے حلال مال چھوڑ جانابھی گناہ نہیں بلکہ اگر مال موجود ہو تو حاجت مند اولاد کے لئے چھوڑ نا ضروری ہے تاکہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔ قریبی رشتہ داروں پر نَفْلی صَدَقات خرچ کرنا بہت بڑی سعادت وباعث ِمغفرت ہے ۔ اس ضمن میں 5 فرامین ِمصطفیٰ ملاحظہ فرمائیے:
(1) رشتہ دار پر کئے جانیوالے صَدَقے کا ثواب دوگنا کردیا جاتاہے۔ (معجم کبیر، ۸ / ۲۰۶، حدیث: ۷۸۳۴)
(2)مسکین پر خرچ کرنے میں ایک صَدَقہ جبکہ رشتہ دار پر خرچ کرنے میں دو صدقے ہیں ،صَدَقہ اور صلہ رحمی۔ (ابن خزیمۃ، ۴/۷۷،حدیث: ۲۳۸۵)
(3) جوثواب کی نِیَّت سے اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کرے تو یہ بھی صَدَقہ ہے ۔(مسلم ،کتاب الزکاۃ، باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین …الخ، ص ۵۰۲، حدیث: ۱۰۰۲)
(4) بندے کے میزان میں سب سے پہلے اہل وعیال پر خرچ کئے گئے مال کو رکھاجائے گا۔ (معجم الاوسط، ۴/ ۳۲۸، حدیث: ۶۱۳۵)
(5) سب سے افضل دینا ر وہ ہے جسے بندہ اپنے گھروالوں پر خرچ کرے ، راہ ِ خدامیں اپنے جانور پر خرچ کرے اور اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ (مسلم کتاب الزکاۃ،باب فضل النفقۃ علی العیال … الخ، ص۴۹۹، حدیث: ۹۹۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدآقائے دو جہاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا علمِ غیبمفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی’’نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری ‘‘ میں فرماتے ہیں : حضرتِ سعد کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ کیا اسی مرض میں میری موت مقدر ہے، کیا میں یہیں دفن ہونگا یہ سوال اس لئے کیا تھاکہ یہ چیز ان کو پسند نہ تھی کہ ہجرت کے بعد مکے ہی میں دفن ہوں۔ جیسا کہ دوسری روایتوں میں ہے:’’مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اسی سرزمین میں نہ مروں جہاں سے ہجرت کر چکا ہوں ‘‘حضور دانائے غیوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ایسا نہ ہوگا(بلکہ) تم اس مرض سے شفا پاؤگے اور اسکے بعد زندہ رہوگے اور اعمال صالحہ کرو گے جس سے تمہارا درجہ اور بلند ہوگا،تم سے ایک قوم کو فائدہ پہنچے گا اور ایک کو نقصان پہنچے گا۔‘‘آپ کی صاحبزادی عائشہ سے مروی ہے کہ حضورِ اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا دستِ مبارک پیشانی پر رکھا پھر حضرتِ سعد کے چہرے اور پیٹ پر َملا اور یہ دعا فرمائی :’’اے اللہ ! سعد کو شفا عطا فرمااور انکی ہجرت کو پوری فرما! ‘‘ حضرت سعد فرماتے ہیں کہ دست مبارک کی ٹھنڈک میں ہمیشہ محسوس کرتا ہوں حتی کہ اس وقت بھی جب حضورِ اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ د عا قبول ہوئی اورغیب کی خبر سچی ہوئی، اس واقعے کے بعد حضرتِ سعد 45یا 47سال زندہ رہے، یہ واقعہ 10 سنِ ہجری کا ہے اور ان کا وصال 55سن ہجری یا 57 سن ہجری میں ہوا اللہ عزوجل نے انہیں کے ہاتھ ایران فتح فرمایا جس سے ایرانیوں کو نقصان پہنچا اور مسلمانوں کو نفعِ عظیم پہنچا ۔نیز جب یہ عراق کے والی تھے توکچھ بد نصیب مرتدہوگئے یہ پکڑ کر ان کی خدمت میں پیش کئے گئے انہوں نے ان کو توبہ کا حکم دیا، کچھ نے توبہ کی، انہوں نے دارَین کا خیر حاصل کیا ، کچھ اَڑے رہے جنہیں قتل کرا دیا۔یہ بھی ایک قوم کو نفع پہنچانا اور ایک قوم کو نقصان پہنچا نا ہے۔حَجَّۃُ الْوَداع کے موقع پرحضرتِ سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی صرف ایک ہی صاحبزادی حضرتِ عائشہ تھیں یہ صحابیہ ہیں اس کے بعد اور اولاد ہوئی، حضرتِ سعد کے 17لڑکے اور 17لڑکیاں ہوئیں جن میں سے دو کے نام عائشہ ہیں ان میں ایک صحابیہ اور دوسری تابعیہ ہیں جن سے امام مالک (عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْخَالِق)روایت کرتے ہیں۔ (ملخصاً نزھۃ القاری، ۲/۸۰۰۔۸۰۲)دنیا ہی میں جنت کی خوشخبریحضرتِ سَیِّدُنا سَعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُعَشَرَہ مُبَشَّرہمیں سے ہیں ، حضوررَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے بہت سے صحابہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمکو مختلف اوقات میں جنت کی بِشارَت دی اوردنیا ہی میں ان کے جنتی ہونے کااعلان فرمادیامگردس ایسے جَلِیلُ القَدَر اورخوش نصیب صحابۂ کرامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمہیں جن کو آ پ نے مسجد ِنبوی کے منبر شریف پر کھڑے ہوکرایک ساتھ ان کا نام لے کر جنتی ہونے کی خوش خبری سنائی ۔ تاریخ میں ان خوش نصیبوں کا لقب عَشَرَہ مُبَشَّرہہے ۔(کراماتِ صحابہ،ص۵۳)جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں :(∞۱)∞حضرت سیدنا ابو بکرصدیق(∞۲)∞حضرت سیدناعمر فاروق(∞۳)∞حضرت سیدنا عثمان غنی(∞)∞حضرت سیدنا علی المرتضیٰ(∞۵)∞حضرت سیدنا طلحہ بن عبید اللہ(∞۶)∞حضرت سیدنا زبیر بن العوام(∞۷)∞حضرت سیدنا عبدالرحمن بن عوف(∞۸)∞حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص(∞۹)∞حضرت سیدناسعید بن زید(∞۱۰)∞حضرت سیدناابو عبیدہ بن الجراح (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم اَجْمَعِیْن∞) (ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقبِ عبدالرحمن بن عوف، ۵/۴۱۶، حدیث:۳۷۶۸)اللہ عزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔حضرتِ سَیِّدُنا سَعَد بن خَولہرَضِیَ اللہ تَعَا لٰی عَنْہُحدیث مذکور میں حضرت سَیِّدُنا سَعَد بن خَولہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکا ذکر ہوا۔ آپ یمن کے رہنے والے عَجَمِیُ النَّسْل اورسَابِقِیْن اَوَّلِیْن صحابہعَلَیْھِمُ الرِّضْوَانمیں سے تھے ۔ غزوہ ٔ بَدَر، اُحُد،خَنْدَق،صُلَح حُدَیْبِیَہ میں شریک ہوئے۔اللہ عزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے اپنا وطن مَکَّۂ مُکَرَّمَہ چھوڑ کر پہلے حبشہ پھر مَدِینَۂ مُنَوََّرَہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکی جانب ہجرت کی۔ حَجَّۃُ الْوَدَاع کے موقع پر مَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں وفات پائی۔انہیں بلکہ تمام مہاجرین بلکہ خودحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مَکَّۂ مُکَرَّمَہ سے ہجرت کے بعد یہاں دفن ہونا پسند نہ تھا۔ اسی لئے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں انتقال پر اِظہار افسوس کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’سَعد بن خَولہ قابلِ رحم ہے۔‘‘معلوم ہوا کہ کسی کے مرنے پر اظہارِ افسوس جائز ہے، نوحہ جائز نہیں۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں صحابۂ کرام
عَلَیْہم الرِّضْوَانکی سچی محبت عطا فرمائے ،ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ا ن کے صَدْقے دین متین کی خوب خوب خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ان جیسا دینی جذبہ عطافرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَدَ نی گُلد ستہاَنْبِیأ(عَلَیْھِمُ السَّلَام) کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6 مدنی پھول
(1)مریض کی عِیادت کرنا سنت ِمبارکہ ہے ۔
(2) کوئی کام کرنے سے پہلے کسی صاحبِ علم سے شرعی رہنمائی لے لینی چاہئے ۔
(3) کوئی مباح کام کرتے وقت اگر رضا ئے الٰہی کی نِیَّت کرلی جائے تو وہ مباح کام بھی طاعت ونیکی بن جاتا ہے اور اس پر ثواب ملتا ہے ۔
(4) بیوی بچوں پر خرچ کرنا اور انکے نان نفقے کا انتظام کرنا بھی باعثِ اجر وثواب ہے بشرطیکہ نِیَّت یہ ہو کہ ان کا نفقہ
اللہ عزَّوَجَلَّنے مجھ پر فرض کیاہے، لہٰذا میں اس کے حکم کی تعمیل کررہا ہوں۔اسی طرح اولادکے لئے حلال مال چھوڑ جانابھی گناہ نہیں بلکہ اگر انہیں حاجت ہو تو ان کے لئے مال چھوڑ نا ضروری ہے تاکہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔
(5) حلال طریقے سے جمع کیا ہوا مال اگر اچھے کاموں میں خرچ کیا جائے تو ایسا مال اچھا ہے اورجو مال گناہوں اورناجائز امور کا باعث بنے وہ بُراہے ۔
(6)جس کے وارث ہوں اُسے ایک تِہائی (1/3)مال سے زیادہ کی وَصِیَّت کرنا جائز نہیں اور اگر کوئی وارث نہ ہو تو پھرکُل مال کی وصیت کر سکتا ہے۔ جیسا کہ فیوض البارِی میں ہے:اگر مسلمان ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو یہ وصیت جائز و نافذ ہوگی اور اگر اس کے وارث ہوں تو وصیت نافذ نہ ہوگی الَّا یہ کہ اس کے وُرَثا اجازت دیدیں تو پھر تہائی سے زیادہ کی وصیت بھی نافذ و جائز ہوگی۔(فیوض الباری کتاب الوصایا، ۱۱/ ۶۲)
اللہ عزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی دین و دنیا کی بھلائیاں نصیب فرمائے اورعَشَرَہ مُبَشَّرہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمکے صدْقے ہمیں بھی جنتُ الفِرْدَوْس میں پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پڑوس عطافرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم٭٭٭٭٭٭

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 6