باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 643
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا اَنَّہَا قَالَتْ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: هَلْ اَتٰى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ اَشَدَّ مِنْ يَوْمِ اُحُدٍ؟ قَالَ: لَقَدْ لَقِيْتُ مِنْ قَوْمِكِ وَكَانَ اَشَدُّ مَا لَقِيْتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ اِذْ عَرَضْتُ نَفْسِىْ عَلَى ابْنِِ عَبْدِ يَالِيْلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِىْ اِلٰى مَا اَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَاَنَا مَهْمُوْمٌ عَلٰى وَجْهِىْ فَلَمْ اَسْتَفِقْ اِلَّا وَاَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَاْسِىْ فَاِذَا اَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ اَظَلَّتْنِىْ فَنَظَرْتُ فَاِذَا فِيْهَا جِبْرِيْلُ عَلَیْہِ السَّلَام فَنَادَانِىْ فَقَالَ: اِنَّ اللَّهَ تَعَالٰی قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَمَا رَدُّوْا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ اِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَاْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيْهِمْ فَنَادَانِىْ مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَىَّ ثُمَّ قَالَ:يَا مُحَمَّدُ!اِنَّ اللّٰہ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَاَنَا مَلَکُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِیْ رَبِّی اِلَیْکَ لِتَاْمُرَنِیْ بِاَمْرِکَ فماشِئْتَ؟اِنْ شِئْتَ اَطْبَقْتُ عَلَیْہِمُ الْاَخْشَبَيْنِ فَقَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:بَلْ اَرْجُوْ اَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ اَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَايُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا.
عن عائشۃ رضی اللہ عنہا انہا قالت للنبی صلی اللہ علیہ وسلم: هل اتى عليك يوم كان اشد من يوم احد؟ قال: لقد لقيت من قومك وكان اشد ما لقيت منهم يوم العقبة اذ عرضت نفسى على ابن عبد ياليل بن عبد كلال فلم يجبنى الى ما اردت فانطلقت وانا مهموم على وجهى فلم استفق الا وانا بقرن الثعالب فرفعت راسى فاذا انا بسحابة قد اظلتنى فنظرت فاذا فيها جبريل علیہ السلام فنادانى فقال: ان الله تعالی قد سمع قول قومك لك وما ردوا عليك وقد بعث اليك ملك الجبال لتامره بما شئت فيهم فنادانى ملك الجبال فسلم على ثم قال:يا محمد!ان اللہ قد سمع قول قومک لک وانا ملک الجبال وقد بعثنی ربی الیک لتامرنی بامرک فماشئت؟ان شئت اطبقت علیہم الاخشبين فقال النبى صلى الله عليه وسلم:بل ارجو ان يخرج الله من اصلابهم من يعبد الله وحده لايشرك به شيئا.
حدیث ترجمہ
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی: کیا آپ پرکوئی ایسا دن آیا جواُحُدْکےدن سے بھی زیادہ سخت ہو؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا:مجھے تمہاری قوم سے جو مصیبتیں پہنچیں سو پہنچیں لیکن سب سے سخت مصیبت وہ تھی جو عقبہ کے دن پہنچی، جب میں نے عبد یا لیل بن عبد کلال کو دِین اسلام کی دعوت دی اور اُس نے میرے ارادے کے مطابق اُس دعوت کو قبول نہ کیا۔ میں وہاں سے سرجھکائے مغموم حالت میں چل پڑا۔جب میںقَرْنُ الثَّعَالِب(جگہ)پرپہنچاتو میری حالت سنبھلی، پس میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو بادل کا ایک ٹکڑا مجھ پہ سایہ کئے ہوئے تھا اور اس میں جبرائیلعَلَیْہِ السَّلاَمتھے۔ انہوں نے مجھے پکارا اور کہا:بیشکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کی اپنی قوم سےگفتگواور ان کا جواب بھی سن لیا ہے۔ لہٰذااللّٰہتعالیٰ نے پہاڑوں پر مقرر فرشتہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ اُسے ان کے بارے میں جو چاہیں حکم فرمائیں۔ پھر پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے پکارا اور سلام کیا،پھر عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!بیشکاللّٰہ تعالیٰنے آپ کی قوم کی بات کو سنا اور میں پہاڑوں پر مقرر فرشتہ ہوں اور میرے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ جو چاہیں مجھے حکم فرمائیں، اگرآپ چاہیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملادوں(تاکہ یہ ان کے درمیان پس کر ہلاک ہوجائیں)۔تونبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: (نہیں) بلکہ مجھے اُمید ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرفاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کریں گےاور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔
شرح حدیث
یہ واقعہ کب پیش آیا ؟یہ واقعہ اعلانِ نبوت کے دسویں سال شوال کے مہینے میں پیش آیا جب نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمطائف کی طرف اس اميد پر گئے کہ شاید وہ آپ کو پناہ دیں گے۔آپ قبیلہ ثقیف کے تین سرداروں عبد یالیل ،حبیب اور مسعود کے پاس گئے یہ تینوں آپس میں بھائی اور عمرو نامی شخص کے بیٹے تھے۔آپ نے ان سے اپنی قوم کے مظالم کی شکایت کی اور ان سے پناہ طلب کی تو انہوں نے آپ کی مدد کرنے کے بجائےسخت رویہ اختیار کیا جس سے آپ کو شدید دکھ پہنچا ۔قرن الثعالب یہ مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہےاور یہ اہلِ نجد کا میقات ہے ۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا عَفْوودرگزر:میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام جہانوں کےلئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ کفارِ نا ہِنجار آپ کو بہت ستاتے کبھی سَرِ اَقدس پر کُوڑا کَرکَٹ ڈال دیا جاتا ، راستے میں کانٹے بچھائے جاتے ،سجدے کی حالت میں پُشْتِ مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی جاتی علاوہ اَزیں کفارِ بد اَطْوار آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ عظمت میں گستاخانہ جملے بکتے، پھَبْتِیاں کَستے،مَعَاذَ اللّٰہآپ کو کاہن وجادو گر کہتے۔ مگرآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر نہ صرف صبرسے کام لیتے بلکہ عفو ودرگزر سے کام لیتے، ان کے خلاف کوئی جوابی کاروائی نہ فرماتے، حالانکہ آپ چاہتے تو ان سے انتقام لے سکتے تھے، جیسا کہ حدیث پاک میں گزرا کہ پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی بارگاہ میں عرض گزار ہوا۔ لیکن آپ نے عَفْوودرگُزر کو اختیار فرمایا۔معلوم ہوا کہ شدیدتکالیف پہنچنے اور ذاتی انتقام لینے پر قدرت ہونے کے باوجود عَفْوودرگُزرسے کام لینا سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔اسی وجہ سے امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں ذِکر فرمائی۔مدنی گلدستہ’’نرمی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو قریش اور طائف کے لوگوں سے بہت تکالیف پہنچیں پھر بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے درگزر فرمایا۔
(2) نیکی کی دعوت میں اگر تکلیف پہنچے تو اُس پر صبر کرنا چاہیے۔
(3) ہمارے پیارے نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔
(4) رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدعوتِ اسلام عام کرنے کے لئے مختلف علاقوں اور مختلف قبائل کی طرف تشریف لے جایا کرتے تھے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی اپنے پیارے نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے دینِ اسلام کی راہ میں آنے والی مصیبتوں پر صبرکرنے اور لوگوں سے درگزر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 643