Main Icon

باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 643

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا اَنَّہَا قَالَتْ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: هَلْ اَتٰى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ اَشَدَّ مِنْ يَوْمِ اُحُدٍ؟ قَالَ: لَقَدْ لَقِيْتُ مِنْ قَوْمِكِ وَكَانَ اَشَدُّ مَا لَقِيْتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ اِذْ عَرَضْتُ نَفْسِىْ عَلَى ابْنِِ عَبْدِ يَالِيْلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِىْ اِلٰى مَا اَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَاَنَا مَهْمُوْمٌ عَلٰى وَجْهِىْ فَلَمْ اَسْتَفِقْ اِلَّا وَاَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَاْسِىْ فَاِذَا اَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ اَظَلَّتْنِىْ فَنَظَرْتُ فَاِذَا فِيْهَا جِبْرِيْلُ عَلَیْہِ السَّلَام فَنَادَانِىْ فَقَالَ: اِنَّ اللَّهَ تَعَالٰی قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَمَا رَدُّوْا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ اِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَاْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيْهِمْ فَنَادَانِىْ مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَىَّ ثُمَّ قَالَ:يَا مُحَمَّدُ!اِنَّ اللّٰہ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَاَنَا مَلَکُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِیْ رَبِّی اِلَیْکَ لِتَاْمُرَنِیْ بِاَمْرِکَ فماشِئْتَ؟اِنْ شِئْتَ اَطْبَقْتُ عَلَیْہِمُ الْاَخْشَبَيْنِ فَقَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:بَلْ اَرْجُوْ اَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ اَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَايُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا.

عن عائشۃ رضی اللہ عنہا انہا قالت للنبی صلی اللہ علیہ وسلم: هل اتى عليك يوم كان اشد من يوم احد؟ قال: لقد لقيت من قومك وكان اشد ما لقيت منهم يوم العقبة اذ عرضت نفسى على ابن عبد ياليل بن عبد كلال فلم يجبنى الى ما اردت فانطلقت وانا مهموم على وجهى فلم استفق الا وانا بقرن الثعالب فرفعت راسى فاذا انا بسحابة قد اظلتنى فنظرت فاذا فيها جبريل علیہ السلام فنادانى فقال: ان الله تعالی قد سمع قول قومك لك وما ردوا عليك وقد بعث اليك ملك الجبال لتامره بما شئت فيهم فنادانى ملك الجبال فسلم على ثم قال:يا محمد!ان اللہ قد سمع قول قومک لک وانا ملک الجبال وقد بعثنی ربی الیک لتامرنی بامرک فماشئت؟ان شئت اطبقت علیہم الاخشبين فقال النبى صلى الله عليه وسلم:بل ارجو ان يخرج الله من اصلابهم من يعبد الله وحده لايشرك به شيئا.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی: کیا آپ پرکوئی ایسا دن آیا جواُحُدْکےدن سے بھی زیادہ سخت ہو؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا:مجھے تمہاری قوم سے جو مصیبتیں پہنچیں سو پہنچیں لیکن سب سے سخت مصیبت وہ تھی جو عقبہ کے دن پہنچی، جب میں نے عبد یا لیل بن عبد کلال کو دِین اسلام کی دعوت دی اور اُس نے میرے ارادے کے مطابق اُس دعوت کو قبول نہ کیا۔ میں وہاں سے سرجھکائے مغموم حالت میں چل پڑا۔جب میںقَرْنُ الثَّعَالِب(جگہ)پرپہنچاتو میری حالت سنبھلی، پس میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو بادل کا ایک ٹکڑا مجھ پہ سایہ کئے ہوئے تھا اور اس میں جبرائیلعَلَیْہِ السَّلاَمتھے۔ انہوں نے مجھے پکارا اور کہا:بیشکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کی اپنی قوم سےگفتگواور ان کا جواب بھی سن لیا ہے۔ لہٰذااللّٰہتعالیٰ نے پہاڑوں پر مقرر فرشتہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ اُسے ان کے بارے میں جو چاہیں حکم فرمائیں۔ پھر پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے پکارا اور سلام کیا،پھر عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!بیشکاللّٰہ تعالیٰنے آپ کی قوم کی بات کو سنا اور میں پہاڑوں پر مقرر فرشتہ ہوں اور میرے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ جو چاہیں مجھے حکم فرمائیں، اگرآپ چاہیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملادوں(تاکہ یہ ان کے درمیان پس کر ہلاک ہوجائیں)۔تونبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: (نہیں) بلکہ مجھے اُمید ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرفاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کریں گےاور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔

شرح حدیث

یہ واقعہ کب پیش آیا ؟یہ واقعہ اعلانِ نبوت کے دسویں سال شوال کے مہینے میں پیش آیا جب نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمطائف کی طرف اس اميد پر گئے کہ شاید وہ آپ کو پناہ دیں گے۔آپ قبیلہ ثقیف کے تین سرداروں عبد یالیل ،حبیب اور مسعود کے پاس گئے یہ تینوں آپس میں بھائی اور عمرو نامی شخص کے بیٹے تھے۔آپ نے ان سے اپنی قوم کے مظالم کی شکایت کی اور ان سے پناہ طلب کی تو انہوں نے آپ کی مدد کرنے کے بجائےسخت رویہ اختیار کیا جس سے آپ کو شدید دکھ پہنچا ۔قرن الثعالب یہ مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہےاور یہ اہلِ نجد کا میقات ہے ۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا عَفْوودرگزر:میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام جہانوں کےلئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ کفارِ نا ہِنجار آپ کو بہت ستاتے کبھی سَرِ اَقدس پر کُوڑا کَرکَٹ ڈال دیا جاتا ، راستے میں کانٹے بچھائے جاتے ،سجدے کی حالت میں پُشْتِ مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی جاتی علاوہ اَزیں کفارِ بد اَطْوار آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ عظمت میں گستاخانہ جملے بکتے، پھَبْتِیاں کَستے،مَعَاذَ اللّٰہآپ کو کاہن وجادو گر کہتے۔ مگرآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر نہ صرف صبرسے کام لیتے بلکہ عفو ودرگزر سے کام لیتے، ان کے خلاف کوئی جوابی کاروائی نہ فرماتے، حالانکہ آپ چاہتے تو ان سے انتقام لے سکتے تھے، جیسا کہ حدیث پاک میں گزرا کہ پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی بارگاہ میں عرض گزار ہوا۔ لیکن آپ نے عَفْوودرگُزر کو اختیار فرمایا۔معلوم ہوا کہ شدیدتکالیف پہنچنے اور ذاتی انتقام لینے پر قدرت ہونے کے باوجود عَفْوودرگُزرسے کام لینا سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔اسی وجہ سے امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں ذِکر فرمائی۔مدنی گلدستہ’’نرمی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو قریش اور طائف کے لوگوں سے بہت تکالیف پہنچیں پھر بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے درگزر فرمایا۔
(2) نیکی کی دعوت میں اگر تکلیف پہنچے تو اُس پر صبر کرنا چاہیے۔
(3) ہمارے پیارے نبی پاک
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔
(4) رسولُ
اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدعوتِ اسلام عام کرنے کے لئے مختلف علاقوں اور مختلف قبائل کی طرف تشریف لے جایا کرتے تھے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی اپنے پیارے نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے دینِ اسلام کی راہ میں آنے والی مصیبتوں پر صبرکرنے اور لوگوں سے درگزر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 643