- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی: کیا آپ پرکوئی ایسا دن آیا جواُحُدْکےدن سے بھی زیادہ سخت ہو؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا:مجھے تمہاری قوم سے جو مصیبتیں پہنچیں سو پہنچیں لیکن سب سے سخت مصیبت وہ تھی جو عقبہ کے دن پہنچی، جب میں نے عبد یا لیل بن عبد کلال کو دِین اسلام کی دعوت دی اور اُس نے میرے ارادے کے مطابق اُس دعوت کو قبول نہ کیا۔ میں وہاں سے سرجھکائے مغموم حالت میں چل پڑا۔جب میںقَرْنُ الثَّعَالِب(جگہ)پرپہنچاتو میری حالت سنبھلی، پس میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو بادل کا ایک ٹکڑا مجھ پہ سایہ کئے ہوئے تھا اور اس میں جبرائیلعَلَیْہِ السَّلاَمتھے۔ انہوں نے مجھے پکارا اور کہا:بیشکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کی اپنی قوم سےگفتگواور ان کا جواب بھی سن لیا ہے۔ لہٰذااللّٰہتعالیٰ نے پہاڑوں پر مقرر فرشتہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ اُسے ان کے بارے میں جو چاہیں حکم فرمائیں۔ پھر پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے پکارا اور سلام کیا،پھر عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!بیشکاللّٰہ تعالیٰنے آپ کی قوم کی بات کو سنا اور میں پہاڑوں پر مقرر فرشتہ ہوں اور میرے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ جو چاہیں مجھے حکم فرمائیں، اگرآپ چاہیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملادوں(تاکہ یہ ان کے درمیان پس کر ہلاک ہوجائیں)۔تونبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: (نہیں) بلکہ مجھے اُمید ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرفاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کریں گےاور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا اَنَّہَا قَالَتْ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: هَلْ اَتٰى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ اَشَدَّ مِنْ يَوْمِ اُحُدٍ؟ قَالَ: لَقَدْ لَقِيْتُ مِنْ قَوْمِكِ وَكَانَ اَشَدُّ مَا لَقِيْتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ اِذْ عَرَضْتُ نَفْسِىْ عَلَى ابْنِِ عَبْدِ يَالِيْلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِىْ اِلٰى مَا اَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَاَنَا مَهْمُوْمٌ عَلٰى وَجْهِىْ فَلَمْ اَسْتَفِقْ اِلَّا وَاَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَاْسِىْ فَاِذَا اَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ اَظَلَّتْنِىْ فَنَظَرْتُ فَاِذَا فِيْهَا جِبْرِيْلُ عَلَیْہِ السَّلَام فَنَادَانِىْ فَقَالَ: اِنَّ اللَّهَ تَعَالٰی قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَمَا رَدُّوْا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ اِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَاْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيْهِمْ فَنَادَانِىْ مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَىَّ ثُمَّ قَالَ:يَا مُحَمَّدُ!اِنَّ اللّٰہ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَاَنَا مَلَکُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِیْ رَبِّی اِلَیْکَ لِتَاْمُرَنِیْ بِاَمْرِکَ فماشِئْتَ؟اِنْ شِئْتَ اَطْبَقْتُ عَلَیْہِمُ الْاَخْشَبَيْنِ فَقَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:بَلْ اَرْجُوْ اَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ اَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَايُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 643 ، باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مَروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے ہاتھ سے کبھی کسی کو نہ مارا،نہ کسی بیوی کو نہ کسی خادم کومگر یہ کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرتے اور جب کبھی کسی سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچی تو آپ نے اس سے بدلہ نہیں لیا مگر جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے محرمات میں سے کسی حرمت کو پامال کیا جاتا تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے اس کا بدلہ لیتے ۔
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْھَا قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ وَلَا امْرَاَةً وَلَا خَادِمًا اِلَّا اَنْ يُجَاهِدَ فِيْ سَبِيْلِ اللَّهِ وَمَا نِيْلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ اِلَّااَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ تَعَالٰی فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ تَعَالٰي.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 644 ، باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِيَ اللهُ تَعَالي عَنْهُسے مروی ہےکہ میں رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جا رہا تھا اور آپ پر موٹے کناروں والی نجرانی چادر تھی۔ایک اعرابی آیا اور اس نے چادر سے پکڑ کر آپ کو زور سےکھینچا، میں نے ديكهاکہ اس اعرابی کے سختی کے ساتھ کھینچنے کی وجہ سے آپ کی گردن پر چادر کے کنارے کا نشان پڑ چکا تھا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)!اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّكا جو مال آپ کے پاس ہے میرے لئےاس میں سے حکم فرمادیں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی طرف دیکھا اورمسکرائے پھر اسے کچھ دینے کا حکم فرمایا ۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُنْتُ اَمْشِىْ مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِىٌّ غَلِيْظُ الْحَاشِيَةِ فَاَدْرَكَهُ اَعْرَابِىٌّ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيْدَةً فَنَظَرْتُ اِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِىِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَقَدْ اَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ! مُرْ لِىْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِى عِنْدَكَ فَالْتَفَتَ اِلَيْهِ فَضَحِكَ ثُمَّ اَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 645 ، باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
حضرت سَیِّدُنَا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِيَ اللهُ تَعَالٰي عَنْهسے روایت ہےکہ گویا میں اب بھی نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف دیکھ رہا ہوں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاممیں سے ایک نبیعَلَیْہِ السَّلاَمکا ذکر فرمایا کہ ان کی قوم نے ان کو مارا اور خون آلود کردیا ۔وہ نبیعَلَیْہِ السَّلاَماپنے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:”اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! میری قوم کو بخش دے وہ نہیں جانتے۔“
عَنِِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ كَاَنِّى اَنْظُرُ اِلَى رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَحْكِى نَبِيًّا مِنَ الاَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللّٰہ وَسَلَامُہُ عَلَیْھِمْ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَاَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُوْلُ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِىْ فَاِنَّهُمْ لَايَعْلَمُونَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 646 ، باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہريرہرَضِيَ اللهُ تَعَالي عَنْهُسے روایت ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑدے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے ۔“
عَنْ اَبِىْ هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الشَّدِيْدُ بِالصُّرَعَةِ اِنَّمَا الشَّدِيْدُ الَّذِىْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 647 ، باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان