Main Icon

باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 647

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِىْ هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الشَّدِيْدُ بِالصُّرَعَةِ اِنَّمَا الشَّدِيْدُ الَّذِىْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.

عن ابى هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال ليس الشديد بالصرعة انما الشديد الذى يملك نفسه عند الغضب.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہريرہرَضِيَ اللهُ تَعَالي عَنْهُسے روایت ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑدے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے ۔“

شرح حدیث

بڑا بہادر پہلوان:حدیثِ پاک کا مفہوم یہ ہے کہ جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے اور غصے کو اپنے آپ سے روکے اصل میں پہلوان وہی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ نفس سے جہاد کرنا دشمن سے جہاد کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ اسی لئے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غصے پر قابو پانے والے کو اُس سے بھی بڑا پہلوان کہا جو لوگوں پر غالب ہو کر انہیں پچھاڑدیتا ہو۔مسلم شریف کی روایت میں یوں ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے پوچھا:”تم کسے پہلوان کہتے ہو؟“صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: پہلوان وہ ہے جسے لوگ پچھاڑ نہ سکتے ہوں۔ فرمایا:”نہیں اصل پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس کی شرح میں فرماتے ہیں:” تم یہ سمجھتے ہو کہ پہلوان وہ ہے جو بہت طاقتور ہو اوراُس کو کوئی پچھاڑ نہ سکے؟حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ شریعت کو محبوب و مطلوب تووہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھےاور ایسے لوگ کم ہی ہیں جو اس خُلق کو اپنانے کی قدرت رکھتے ہیں۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”غصہ نفس کی طرف سے ہوتا ہے اور نفس ہمارا بدترین دشمن ہے،اس کا مقابلہ کرنا،اسے پچھاڑ دینا بڑی بہادری کا کام ہےنیز نفس قوّتِ روحانی سے مغلوب ہوتا ہے اور آدمی قوّتِ جسمانی سے پچھاڑا جاتا ہے، قوّتِ روحانی قوّتِ جسمانی سے اعلیٰ و افضل ہے لہٰذا اپنے نفس پر قابو پانے والا بڑا بہادر پہلوان ہے۔“جنت میں جلدی جانے والے:رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا تو ایک پکارنے والا پکارے گا:” فضیلت والے لوگ کہاں ہیں؟ توتھوڑے سے لوگ کھڑے ہوں گے اور جلدی جلدی جنت کی طرف چل دیں گے۔ فرشتے پوچھیں گے:ہم تمہیں بہت تیزی کے ساتھ جنت کی طرف جاتا دیکھ رہے ہیں، تم کون ہو؟وہ کہیں گے:ہم فضیلت والے ہیں۔فرشتے پوچھیں گے:تمہاری کیا فضیلت ہے؟ وہ جواب دیں گے: جب ہم پر ظلم کیا جاتا تو ہم صبر کرتے ،جب ہم سے بُرا سلوک کیا جاتا تو ہم معاف کر دیا کرتےاور جب ہم سے جہالت کا برتاؤ کیا جاتا تو ہم بُردباری سے کام لیتے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ ،کیا ہی اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا۔“عفوودرگزر سے متعلق تین حکایات:*∞حضرتِ سَیِّدُنا امام زین العابدینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو کسی نے گالی دی تو آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے اپنا مبارک کُرتا اور ایک ہزار درہم دینے کا حکم دیا۔ کسی نے کہا: آپ نے ايسا كرکے پانچ نیک باتيں جمع کر لی ہیں:(1) بُردباری(2) تکلیف نہ دینا (3) اس شخص کوایسی بات سے نجات دینا جو اسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دور کردیتی (4) اسے توبہ وندامت کی طرف راغب کرنا (5) بُرائی کے بعداُسےتعریف کرنے پر مجبور کرنا۔ آپ نے معمولی دنیا کے ساتھ یہ تمام عظیم چیزیں خرید لیں۔*∞حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُاللّٰہبِن عَبَّاسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکوایک شخص نے بُرا بھلا کہا، جب وہ خاموش ہوا تو آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرتِ سَیِّدُناعِکْرِمَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا: اے عِکْرِمَہ! اس شخص کی اگر کوئی حاجت ہو تو اسے پورا کر دو۔جب اس شخص نے یہ سنا تو شرمندہ ہوکر سر جُھکا لیا۔*∞امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نشہ کرنے والے ایک شخص کو سزادینے کا ارادہ فرمایا تواس نے آپ کو گالی دی۔ آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے چھوڑ دیا۔ لوگوں نے عرض کی :اےاَمیرُالْمُؤمِنِیْن!جب اس نے آپ کو گالی دی تو آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا ؟ فرمایا : اس لئے کہ ا س نے مجھے غصہ دِلایا تھا اب اگر میں اسے سزا دیتا تو یہ میری اپنی ذات کے لئے غصہ ہوتا اور میں نہیں چاہتا کہ کسی مسلمان کو اپنے غصہ کی وجہ سے کوئی سزا دوں۔مدنی گلدستہ’’بُردباری‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) حقیقی پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو پا لے ۔
(2) غصہ نفس کی طرف سے ہوتا ہے اور نفس ہمارا بدترین دشمن ہے۔
(3) نفس روحانی قوّت سے مغلوب ہوتا ہے۔
(4) اپنے نفس سے جہاد کرنا دشمن سے جہاد کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔
(5) حُسنِ اَخلاق اِصلاح کا بہترین ذریعہ ہے ۔
(6) ظلم پر صبر کرنے والے،بُرے سلوک پر معاف کرنے والے اور جہالت کے برتاؤ پر بُردباری سے کام لینے والے جنت میں جلدی جانے والے ہیں۔
(7) ہمارے اَسلاف بُرا سلوک کرنے والوں کے ساتھ اچھائی کیا کرتے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نفسانی غصے پرقابو رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 647