Main Icon

باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 644

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْھَا قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ وَلَا امْرَاَةً وَلَا خَادِمًا اِلَّا اَنْ يُجَاهِدَ فِيْ سَبِيْلِ اللَّهِ وَمَا نِيْلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ اِلَّااَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ تَعَالٰی فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ تَعَالٰي.

عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت ما ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا قط بيده ولا امراة ولا خادما الا ان يجاهد في سبيل الله وما نيل منه شيء قط فينتقم من صاحبه الاان ينتهك شيء من محارم الله تعالی فينتقم لله تعالي.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مَروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے ہاتھ سے کبھی کسی کو نہ مارا،نہ کسی بیوی کو نہ کسی خادم کومگر یہ کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرتے اور جب کبھی کسی سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچی تو آپ نے اس سے بدلہ نہیں لیا مگر جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے محرمات میں سے کسی حرمت کو پامال کیا جاتا تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے اس کا بدلہ لیتے ۔

شرح حدیث

کبھی بھی اپنی ذات کے لئے بدلہ نہ لیا :اِکمالُ المعلم میں ہے:”اِس حدیث پاک میں حضورنبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاَخْلَاقِ حَسَنَہصبرو حلم کو بیان کیا گیا ہے اور یہ کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسختی کے ساتھحقوقُ اللّٰہکی پاسداری کیا کرتے تھے۔رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی بھی اپنی ذات کے لئے کسی سے بدلہ نہیں لیالیکن وہحُقُوقُ اللّٰہاورحُدُوْدُ اللّٰہجن کو چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے ان حقوق کی پامالی پر آپ نے ضرور بدلہ لیا ہے ۔ادب سکھانے کے لئے بیوی اورغلام کو مارنا جائز ہے لیکن اہل ِفضل اور اہلِ مَروت کو اس سے بھی بچنا چاہیے۔“حُقُوقُاللّٰہمیں رعایت:امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتےہیں:”اِس حدیث پاک میں در گزر کرنے، دوسروں کی طرف سے ملنے والی تکلیف پر صبر کرنے اوراللّٰہکے دِین کی مدد کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔اِسی طرح ائمہ،قاضی اور حکمران کو رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس اعلیٰ خُلق کو اپناتے ہوئے اپنی ذات کے لئے کسی سے کوئی انتقام نہیں لینا چاہیے اورحقوق اللّٰہمیں کسی کے لئے کوئی رعایت بھی نہیں کرنی چاہیے۔“اُبی بن خلف کا قتل:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیحدیثِ مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں:” آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی کسی انسان کونہ مارا البتہ سواری کے جانوروں کو (ضرورتاً) مارنا ثابت ہے۔ حدیثِ پاک میں بیوی اور خا دم کو اس لئے ذکر کیا کہ انسان کو اپنی بیوی اور خادم سے کام وغیرہ کے حوالے سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے اور عموماًانہی کو مارا بھی جاتاہے اور مار کی حاجت بھی پیش آتی ہے اگر چہ شرائط کی پابندی کے ساتھ انہیں مارنے کی اجازت ہے لیکن افضل یہی ہے کہ انہیں مارا نہ جائے۔جہاد میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کافر کو مارنا ثابت ہے مثلاًغزوۂاحُدْمیں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاُبَیْ بِنْ خَلَفْکافر کواپنے ہاتھوں سے قتل کیا اسی طرح شرعی سزائیں بھی آپ نے مجرموں پر جاری کی ہیں۔مدنی گلدستہ’’ولی‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) رسولُ
اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی بھی اپنی ذات کی خاطر کسی سے بدلہ نہ لیا۔
(2) ادب سکھانے کے لئے بیوی اور غلام کوبقدرِ ضرورت مارنا جائز ہے لیکن نہ مارنا افضل ہے۔
(3) خاص طور پر ائمہ،حکمران اور قاضی کو اپنی ذات کی خاطر کبھی کسی سے کوئی بدلہ نہیں لینا چاہئے اور نہ ہی کسی کے لئے
حُقُوْقُ اللّٰہمیں کسی بھی طرح کی کوئی رعایت کرنی چاہئے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اُسوۂ حسنہ پر چلتے ہوئے اپنی ذات کے لیے دوسروں سے انتقام لینے سے بچائے اورحُقُوْقُ اللّٰہاورحُدُوْدُ اللّٰہکی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 644