Main Icon

باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1250

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَومِ يَوْمِ عَرَفَةَ قَالَ: يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالبَاقِيَةَ.

عن ابي قتادة رضي الله عنه قال:سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صوم يوم عرفة قال: يكفر السنة الماضية والباقية.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو قتادہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ سُلطانِ مدینہ،قرارِ قَلْب وسینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یوم عرفہ یعنی 9 ذوالحجۃ الحرام کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو ارشادفرمایا: ’’عَرفہ کا روزہ ایک سال قبل اور ایک سال بعدکے گناہ مٹادیتا ہے۔“

شرح حدیث

گناہوں کی معافی سے کیا مراد ہے؟شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”عرفہ کا ایک روزہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دیتا ہے یعنی جو گناہ اس نے اس سال کیے وہ مٹادئیے جائیں گے اور آنے والے سال گناہوں سے محفوظ رہے گایا اگربالفرض آنے والے سال میں گناہ سرزد ہوبھی گئے تو ان روزوں کی برکت سے بخش دئیےجائیں گے۔“
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” ذی الحجہ کی نو تاریخ کا روزہ اگلے پچھلے دو سال کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور اگر گناہِ صغیرہ نہ ہوں تو درجے بلندکردیتاہے،گناہ کبیرہ بغیر توبہ اور بندوں کے حق ادا کئے بغیرمعا ف نہیں ہوتے۔ بعض علما فرماتے ہیں کہ آئندہ ایک سال کے گناہ مٹانے کے معنیٰ یہ ہیں کہ اسے گناہ سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث غیر حاجیوں کے لیے ہے حاجی کے لیے عرفات میں اس دن روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔“یومِ عرفہ یومِ محمدی ہے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت میں ہےکہ اس میں دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے کیونکہ یہ یومِ محمدی ہے جبکہ عاشورہ (جس میں ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے)یومِ مُوسوی ہے نیز یومِ عرفہ سَیِّدُالایام ہےلہٰذا اس میں کیا جانے والا عمل باقی دوسرے دنوں میں کیے جانے والے عمل پر فضیلت کا تقاضا کرتا ہے۔“حاجی کے لیے یومِ عرفہ کے روزے کی ممانعت :یوم ِعرفہ کے روزے کی فضیلت غیر حاجی کے لیے ہےجبکہ حاجی کے لیے اس دن روزہ نہ رکھنا بہتر ہے ۔دعوت ِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ419 صفحات پرمشتمل کتاب”مدنی پنج سورہ“کےصفحہ352پر امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃفرماتے ہیں: ”حج کرنے والے پر جو عرفات میں ہے اسے عرفہ(یعنی ۹ذوالحجۃ الحرام)کے دن روزہ مکروہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنا ابن خزیمہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُحضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی کہ حضورپُرنور، شافع یوم النشورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عَرَفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”حاجی کو نویں بقرعید کے دن عرفات شریف میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا گیا تاکہ حاجی اس دن دعا مانگنے،نمازوں کے جمع کرنے اور حج کے د یگر کاموں سے عاجز نہ ہوجائے اور روزے کی وجہ سے اس کے اخلاق اپنے ساتھیوں کے ساتھ خراب نہ ہوجائیں،یہ ممانعت بھی تنزیہی ہے۔“مدنی گلدستہ’’عرفہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نوذی الحجہ کی نو تاریخ کا روزہ اگلے پچھلے دو سال کے صغیرہ گناہوں کو مٹا تا ہے اور اگر گناہ نہ ہوں تو درجے بلندکرتاہے۔
(2) گناہِ کبیرہ بغیر توبہ اور بندوں کے حقوق ادا کئے بغیر معا ف نہیں ہوتے۔
(3) حاجی کے لیے عرفات میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔
(4) یومِ عرفہ یومِ محمدی ہے جبکہ عاشورہ یومِ موسَوِی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہےکہ وہ ہمیں یومِ عرفہ کا روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1250