Main Icon

باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1253

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ بَقِيْتُ اِلٰى قَابلٍ لَاَصُوْمَنَّ التَّاسِعَ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لئن بقيت الى قابل لاصومن التاسع.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ بھی روزہ رکھوں گا۔“

شرح حدیث

نویں محرم کا روزہ اور اہل کتاب کی مخالفت:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ محرم کی صرف نویں تاریخ کو یا نویں اور دسویں دونوں تاریخوں کو روزہ رکھوں گا۔دوسرا معنیٰ زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اس میں اہل کتاب سے مخالفت کا اظہار پایا جاتا ہے مگر حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآئندہ محرم تک دنیا میں تشریف فرما نہ رہے بلکہ اسی سال کے ماہِ ربیع الاول شریف میں وصال فرما گئے۔اس سے ثابت ہوا کہ محرم کی نویں تاریخ کو روزہ رکھنا سنت ہے اگرچہ خود حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس دن کا روزہ نہ رکھ سکے مگر آپ نے اس کا ارادہ کرلیا تھا پھر محرم شریف کے روزوں کے تین مرتبے ہیں سب سے افضل مرتبہ یہ ہے کہ محرم کی نویں ،دسویں اور گیارہویں تینوں تاریخوں کو روزے رکھے۔امام احمدرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہکی حدیث میں اسی طرح آیا ہے اور محدث بزار نے حضرت ابن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے نویں دسویں کا اورصرف دسویں کا روزہ بھی روایت کیا ہے۔“
مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”فقہا فرماتے ہیں کہ اب سنت یہی ہے کہ عاشورے کے دو روزے رکھے،سنتِ قولی تو صراحۃً ہے اور سنتِ فعلی اِرادۃً۔ “مدنی گلدستہ’’محرم‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) پہلے عاشورا کا روزہ فرض تھا پھر رمضان کے روزوں سے اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔
(2) علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عاشورا کا روزہ رکھنا سنت ہے۔
(3) عاشورے کے روزے سے 9ذی الحجہ کا روزہ افضل ہےکیونکہ عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے جبکہ 9ذی الحجہ کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ۔
(4) افضل یہ ہے کہ محرم کی نویں،دسویں اور گیارہوں تینوں تاریخوں کو روزے رکھے جائیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں فرض روزوں کے ساتھ ساتھ نفلی روزے رکھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1253