Main Icon

اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 375

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلاوَةَ الْاِيمَانِ : اَنْ يَكُونَ اللهُ وَرَسُوْلُهُ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِمَّا سَوَاهُمَا وَاَنْ يُّحِبَّ المَرْءَ لا يُحِبُّهُ اِلَّا لِلهِ وَاَنْ يَّكْرَهَ اَنْ يَّعُوْدَ فِی الْكُفْرِ بَعْدَ اَنْ اَنْقَذَهُ اللهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ اَنْ يُّقْذَفَ فِي النَّارِ. ( )

عن انس رضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، قال : ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الايمان : ان يكون الله ورسوله احب اليه مما سواهما وان يحب المرء لا يحبه الا لله وان يكره ان يعود فی الكفر بعد ان انقذه الله منه كما يكره ان يقذف في النار. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنااَنسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جس میں یہ تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس پالے گا : ( 1 )اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کارسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں ۔ ( 2 ) صرف رضائے الٰہی کے لئے کسی سے محبت کرے اور ( 3 ) وہ جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے کفر سے نجات دے دی تو اسے دوبارہ اس کی طرف جاناآگ میں ڈالے جانے کی طرح نا پسند ہو ۔ ‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! معلوم ہوا کہ جو ایمان کی مٹھاس کا طلبگار ہو اسے چاہیے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّا ور اس کے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنا محبوب بنالے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے اپنے مسلمان بھائیوں سے محبت کرے اور دین اسلام سے ایسی والہانہ محبت کرے کہ آگ میں جانا تو قبول کر لے مگر لمحہ بھربھی اسلام چھوڑنا پسند نہ کرے ۔ جس میں یہ تین باتیں ہو ں گی وہ خو ش نصیب ایمان کی مٹھاس پا لے گا ۔
¥
ایمان کی مٹھاس سے کیا مراد ہے ؟عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ایمان کی مٹھاس سے مراد یہ ہے کہ انسان کوعبادت ،اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خاطر مشقت برادشت کرنے میں لذت محسوس ہو ۔ اطاعتِ الٰہی بجا لاکر ، ممنوعات شرعیہ ترک کرکےاللہ عَزَّ وَجَلَّا ور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت کودنیااوراہل دنیا کی محبت پر ترجیح دے ۔ ‘‘ حضرت سیدناقاضی عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابنے فرمایا : ’’انسان کے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت اور کفر سے نفرت اسی وقت متحقق ہوتی ہے جب اس کا ایمان قوی ہو ،اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرایمان کی برکت سے اسے شرحِ صدر نصیب ہو ، اس کا نفس مطمئن ہو ، اورایمان اس کے رُوئیں رُوئیں میں سرایت کر جائے ۔ جب انسان کو یہ تمام صفات مل جائیں تو اسے ایمان کی مٹھاس نصیب ہوتی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
رب تعالٰی اور اس کے رسول سے محبت :اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کا مطلب یہ ہے کہ دلاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا پر راضی رہے ، جو کاماللہ عَزَّ وَجَلَّکو پسند ہو اسے پسند کرے ، جواللہ عَزَّ وَجَلَّکو ناپسند ہو اسے پسند نہ کرے ۔ بعض علماءکرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’انسان یا تو ان چیزوں سے محبت کرتاہے جن سے حواس کولذت حاصل ہو ، مثلاً حسین و جمیل صورتیں ، اچھی آواز ، مزے دار کھانے وغیرہ یا پھر اُن سے محبت کرتا ہے جن سے عقل کو لذت ملے جیسے : علم وحکمت کی باتیں ، تقویٰ وطہارت ، علماء و متقی حضرات وغیرہ یا پھر ان سے محبت کرتا ہے جو اس کے ساتھ حُسن سلوک کریں ، اس سے محبت کریں ، اس سے برائی اورنقصان کودور کریں ۔ جان لو کہ محبت کے

یہ تمام اَسباب ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفے ٰ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات بابرکت میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں ۔ عقل ، حواس ، حُسنِ اخلاق ودفعِ ضرر کی چاہت وغیرہ یہ تمام اُمور تقاضا کرتے ہیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ محبت حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ہو نی چاہیے ۔ حواس آپ سے محبت کرتے ہیں کیونکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممخلوق میں سب سے زیاہ حسین و جمیل ہیں ۔ عقل آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ مخلوق میں سب سے بڑے عالم اورمتقی و پرہیز گار آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی ہیں ۔ اسی طرح حُسن سلو ک اور دفع شر کی چاہت بھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممُحسنِ انسانیت ہیں ، آپ نے صراطِ مستقیم اوردائمی نعمتوں کی راہ دکھائی اورجہنم کے عذاب سے بچایا ۔ اور اِن تمام محاسن و فضائل کا مبدااللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات ہے ، اس لئے سب سے زیادہ محبتاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ہی ہونی چاہیے ۔ ‘‘ ( )
¥
سب کچھ بارگاہِ خداوندی وبارگاہِ رسالت کی عطا :فقیہ اعظم شارح بخاری حضرت علّامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جب کسی کاایمان پختہ ہوگا تو اس کو اس بات پر یقین کامل ہوگا کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے یا ملتا ہے یا ملے گا سب کا دینے والااللہہی ہے اور سب کچھ رسول (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے واسطے ہی سے ملا ہے اور ملے گا ۔ رسو ل (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہی وہ واسطۂ عظمیٰ ہیں جنہوں نےاللہکی معرفت کرائی ۔ انہیں کے ذریعے ہمیں اسلام جیسا سچا دین ملا ۔ تو لامحالہ ( یقیناً ) اس کے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت سب سے زیادہ پیدا ہوگی اور جباللہاور رسول کی اس درجہ اعلیٰ محبت پیدا ہو جائے گی تو لا محالہ اگر کسی سے محبت کرے گا تواللہہی کے لئے کرے گا ۔ یعنی اس لئے کرے گا کہ اس کے ساتھ محبت کرنے سےاللہراضی ہوگا ، اس لئے کہ یہاللہکا محبوب و مقبول بندہ ہے اور جباللہو رسول کی محبت رگ و پے میں بس جائے گی تو اس کا یہ لازمی اثر ہو گا کہ کفر سے نفرت پیدا ہو جائے گی ۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ ایمان

اور اِن تینوں چیزوں میں تلازُم ہے ۔ جب ایمان پایاجائے گا تو یہ تینوں باتیں بھی پائی جائیں گی اور جب یہ تینوں باتیں پائی جائیں گی تو ایمان بھی ضرور پایا جائے گا ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’ایمان ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سب سے زیادہ محبت رکھتا ہے ، مسلمانوں سے صرف رضائے الٰہی کے لئے محبت رکھتا ہے اور کفر سے ایسی نفرت ہو کہ اس کی طرف جانے کے بجائے آگ میں جانا منظور ہو ، تو ایسا بندۂ مومن ایمان کی مٹھاس کو پا لیتا ہے ۔
(2) سب سے بڑھ کر محبت حضور نبی کریم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کرنی چاہیے کیونکہ بندے کسی سے بھی عقل ، حواس اور مروت وغیرہ کے سبب محبت کرتا ہے ، عقل حواس ، ایمان ، مروت یہ سب اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ محبت نبیٔ آخر الزماں سرورِ ذیشاں رحمت عالَمیاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ہونی چاہے ۔
(3) مخلوق میں سبے زیادہ حسین ، انسانوں کے سب سے زیادہ خیر خواہ ، سب سے زیادہ متقی وپرہیز گار ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفے ٰ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں ۔
(4) جس کو جو بھی ملتا ہے بارگاہ الٰہی سے ملتا ہے لیکن حضور نبی رحمت ، قاسم نعمت
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے واسطے اور وسیلے سے ملتا ہے ۔
(5) جسے
اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے جتنی زیادہ محبت ہو گی اسے کفر سے اتنی ہی زیادہ نفرت ہو گی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنی اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی محبت عطا فرمائے ، اپنے مسلمان بھائیوں سے رضائے الٰہی کے لئے محبت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ، دینِ اسلام کی محبت میں مزید

پختگی اور ایمان کی مٹھاس عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 375