- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 376
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ في ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلُّهُ : اِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَاَ في عِبَادَةِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسَاجِدِ وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَاَةٌ ذَاتُ حُسْنٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ : اِنِّي اَخَافُ اللهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَاَخْفَاهَا حَتَّى لَاتَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ. ( )
عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال : سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل الا ظله : امام عادل وشاب نشا في عبادة الله عزوجل ورجل قلبه معلق بالمساجد ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه ورجل دعته امراة ذات حسن وجمال فقال : اني اخاف الله ورجل تصدق بصدقة فاخفاها حتى لاتعلم شماله ما تنفق يمينه ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’سات آدمی ایسے ہیں جنہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّاس دن اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا : ( 1 ) عادل حکمران ( 2 ) وہ نوجوان جس کی جوانی عبادت الٰہی میں گزری ( 3 ) و ہ شخص جس کادل مساجد میں لگا رہے ( 4 ) وہ دو شخص جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے محبت کریں ، ا سی کی محبت پر ایک دوسرے سے ملیں اور جدا ہوں ۔ ( 5 ) وہ شخص جسے حسن وجمال والی عورت ( برائی کے لئے ) بلائے تووہ کہہ دے کہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہوں ۔ ( 6 ) وہ شخص جو اس طرح چھپا کرصدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا ہی نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے راہ خدا میں کیاخرچ کیا ۔ ( 7 ) جو تنہائی میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں ۔ ‘‘
شرح حدیث
( 1 ) عدل وانصاف کرنے والا حکمران :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! عدل و انصاف وہ خوبی ہے جس سے ایک بہترین معاشرے کانظام بنتا ہے ، حقوق کی حفاظت اورجرائم کی روک تھام ہوتی ہے ، امن وامان اوراتحاد کی فضا قائم ہوتی ہے ، دشمنوں پر
ہیبت طاری ہوتی ہے ، آپس کے جھگڑو ں اور بگاڑ سے حفاظت رہتی ہے ۔ الغرض جہاں عدل وانصاف سے کام لیا جائے وہ جگہ امن وسلامتی کاگہوارہ بن جاتی ہے ۔ عادِل بادشاہ مخلوق پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہے جس کے سائے میں مخلوق آرام پاتی ہے ، وہ اپنی رعایا کے لئے مہربان والد کی طرح ہے اس کا احترام لازم ہے ۔ احادیث مبارکہ میں عدل وانصاف کرنے والے حکمرانوں کے بہت سے فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔ چنانچہ فرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’بروزِ قیامتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ پیار ا اورسب سے زیادہ قُرب حاصل کرنے والا عادِل بادشاہ ہوگا اور سب سے زیادہ نا پسنداورسب زیادہ بعد یعنی دُوری حاصل کرنے والا ظالم بادشاہ ہوگا ۔ ‘‘ ( )
¥عادِل حکمران نورکے منبروں پر :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’جودو یا دو سے زیادہ لوگوں پر حاکم بنا اور اس نے ان کے درمیان عدل وانصاف سے کام لیا تو اسے یہ فضیلت حاصل ہوگی ۔ حدیث پاک میں ہے : تم سب نگہبان ہو اور تم سے تمہارے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ ایک اور حدیث پاک میں ہے : جو اپنی رعایااور اہل وعیال میں عدل و انصاف کریں وہ بروزِ قیامت رحمٰنعَزَّ وَجَلَّکے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے ۔ ‘‘ ( )( 2 ) جوانی میں عبادت کی فضیلت :واضح رہے کہ عبادت ہر عمر میں فضیلت والی اور باعث اَجروثواب ہے لیکن جوانی میں عبادت کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے کیونکہ جوانی میں عبادت بہت مشکل اورنفس پر بہت گراں ہوتی ہے ، اس وقت گناہوں کے مواقع کثیر ہوتے ہیں ، شہوت اور برائی کی طرف ابھارنے والی قوت کا غلبہ ہوتا ہے ۔ تو جواِن تمام رُکاوٹوں کے باوجوداپنی جوانی کو رضائے الٰہی والے کاموں میں صرف کرے اور اس کی بارگاہ میں تائب ہو تو وہ واقعی اعلیٰ فضیلت کا مستحق ہے ۔
¥زمین وآسمان کے درمیان ستر قندیلیں :مبلغ اسلام شیخ شعیب حریفیشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بندے سے محبت اس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ جوانی میں توبہ کرنے والا ہو کیونکہ نوجوان تراور سرسبزٹہنی کی طرح ہوتاہے ۔ جب وہ اپنی جوانی اور ہر طرف سے شہوات ولذات سے لطف اُٹھانے اوران کی رغبت پیدا ہونے کی عمرمیں توبہ کرتا ہے اوریہ ایسا وقت ہوتاہے کہ دُنیا اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے ۔ اس کے باوجود محض رضائے الٰہی کے لئے وہ ان تمام چیزوں کوترک کردیتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کامستحق بن جاتاہے اوراس کے مقبول بندوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے ۔ منقول ہے کہ ’’ایک نوجوان جب توبہ کرکےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف رجوع کرتاہے تواس کے لئے زمین وآسمان کے درمیان ستر 70 قندیلیں روشن کی جاتی ہیں اورملا ئکہ صف بستہ ہو کر بلند آوازسے تسبیح تقدیس کرتے ہوئے اسے مبارک باد دیتے ہیں ۔ جب ابلیسِ لعین اس کو سنتا ہے تو کہتا ہے : ’’کیا خبرہے ؟ ‘‘ آسمان سے ایک منادی ندا دیتا ہے : ’’ایک بندے نےاللہ عَزَّ وَجَلَّسے صلح کرلی ہے ۔ ‘‘ تو ابلیس ملعون اس طرح پگھلتا ہے جس طرح نمک پانی میں پگھلتاہے ۔ ‘‘ ( )
¥بارگاہِ الٰہی کا پسندیدہ نوجوان :جوانی کی عبادت رب تعالیٰ کو بہت پسند ہے ، جوانی کی عبادت بڑھاپے کی عبادت سے افضل ہے ۔ جوانی میں عبادت اور توبہ کے بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔ چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے مَحبوب ، دانائے غُیوب ،مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّاس نوجوان کو پسند فرماتا ہے جس نے اپنی جوانی اِطاعت الہی میں گزاری ۔ ‘‘ ( )جوانی میں عبادت کرلیجئے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں جہاں جوانی میں عبادت کی فضیلت بیان ہوئی وہیں
ہمیں اس بات کی طرف بھی اُبھارا جارہا ہے کہ ہم اپنی جوانی میں ہی رب تعالیٰ کی بارگاہ میں تائب ہوجائیں ، گناہوں کو چھوڑ کر نیکیوں میں مصروف ہوجائیں کیونکہ نیکیاں کرنے کی حقیقی عمر جوانی ہی ہے کہ بڑھاپے میں تو عموماً نیکیاں کرنے کی وہ ہمت ہی باقی نہیں رہتی ۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضرت علامہ مولانا محمد مصطفے ٰ رضا خان نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیجوانی میں عبادت وریاضت کی نہایت ہی خوبصورت انداز میں ترغیب دلاتے ہوئے کیا خوب ارشاد فرماتے ہیں :
ریاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمت
جو کچھ کرنا ہو اب کر لو ابھی نوری جواں تم ہومُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :
کر جوانی میں عبادت کاہلی اچھی نہیں………جب بڑھاپا آگیا پھربات بن پڑتی نہیںہے بڑھاپا بھی غنیمت جب جوانی ہوچکی ………یہ بڑھاپا بھی نہ ہوگا موت جس دم آگئی
¥( 3 ) مسجد سے قلبی لگاؤ :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مسجداللہ عَزَّ وَجَلَّکا گھر ہے ۔ مسجد میں عبادت کی نیت سے بیٹھنا بھی ثواب ہے ۔ ( ) مسجد میں پابندی سے حاضری دینے والے کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کے ایمان کی گواہی دو ۔ ( ) ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھنے والے کو نماز کا ثواب ملتا ہے ۔ ( ) فرشتوں کی صحبت نصیب ہوتی ہے ۔ ( ) فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہیں ۔ ( ) الغرض مسجد سے محبت کرنے والے کو دِین ودنیا کی بے شمار بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’جس کا دل مسجد میں لگا رہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکے گھر سے دائمی محبت کے صلے میں اسے اس دن عرشِ الٰہی کے سائے میں
جگہ دی جائے گی جس دن عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ مؤمن مسجد میں ایسے خوش رہتا ہے جیسے مچھلی پانی میں اورمنافق کی حالت مسجد میں ایسی ہوتی ہے جیسے پرند ے کی حالت پنجرے میں ۔ ‘‘ ( ) مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’صوفیاءفرماتے ہیں کہ مؤمن مسجد میں ایسا ہوتا ہے جیسے مچھلی پانی میں اور منافق ایسا جیسے چڑیا پنجرے میں ۔ اسی لیے نماز کے بعد بلاوجہ فورًا مسجد سے بھاگ جانا اچھانہیں ۔ خدا توفیق دے تو مسجد میں پہلے آؤ اور بعد میں جاؤاور جب باہر رہو تو کان اذان کی طرف لگے رہیں کہ کب اذان ہو اورمسجدکوجائیں ۔ ‘‘ ( )
¥مسجد سے متعلق مختلف اُمور کے فضائل :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مسجد کی طرف چلنا ، اس میں نماز ادا کرنا ، اسے اپنا ٹھکانا بنالینا ، مسجد سے محبت کرنا بھی عبادت ہے ، احادیث مبارکہ میں ان تمام اُمور کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ 9 فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : ( 1 ) ’’مسجد کی طرف چلنا اور اس میں نماز پڑھنا بھی عبادت ہے ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’کیا میں تمہاری ایسے عمل کی طرف رہنمائی نہ کروں جس کے سبباللہ عَزَّ وَجَلَّخطاؤں کو مٹاتا ہے اور گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے ۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’ کیوں نہیں ،یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ‘‘ تو ارشاد فرمایا : ’’ دشواری کے وقت کامل وضو کرنا اور مسجد کی طرف کثرت سے آنا اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظار کرنا ۔ ‘‘ ( ) ( 3 ) ’’مشقت کے وقت کامل وضو کرنا اور مسجد کی طرف کثرت سے آمدورفت اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظار کرنا گناہوں کو اچھی طرح دھودیتا ہے ۔ ‘‘ ( ) ( 4 ) ’’مسجد ہر پرہیز گا ر کاگھر ہے اور جس کا گھر مسجد ہواللہ عَزَّ وَجَلَّاسے راحت ، رحمت اور پل صرا ط سے باحفاظت گزار کراپنی رضا والے گھر جنت کی ضمانت دیتا ہے ۔ ‘‘ ( ) (5 ) ’’بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّکے گھروں کو آباد کرنے والے
ہیاللہوالے ہیں ۔ ‘‘ ( ) (6 ) ’’جو مسجد سے محبت کرتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اپنا محبوب بنا لیتاہے ۔ ‘‘ ( ) (7 ) ’’جب کوئی بندہ ذکر ونَماز کے لئے مسجد کو ٹھکانا بنالیتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے لوگ اپنے گمشدہ شخص کی اپنے ہاں آمد پر خوش ہوتے ہیں ۔ ‘‘ ( ) (8 ) ’’بے شک شیطان ریوڑ کے بھیڑئیے کی طرح ایک بھیڑیا ہے جوپیچھے رہ جانے والی تنہا بھیڑ کو پکڑتاہے ، لہٰذا گھاٹیوں سے بچتے رہو اور جماعت ، عام لوگو ں اور مسجدسے تعلق کواپنے اوپر لازم کرلو ۔ ‘‘ ( ) ( 9 ) ’’بے شک کچھ لوگ ( گویا ) مساجد کے ستون ہوتے ہیں ، ملائکہ ان کے ہم نشین ہوتے ہیں اگر وہ غائب ہو جائیں تو ملائکہ انہیں تلاش کرتے ہیں اور اگر بیمار ہوں توان کی عیادت کرتے ہیں اور اگر انہیں کوئی حاجت درپیش ہو توان کی مدد کرتے ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥( 4 ) مسلمانوں سے رضائے الہٰی کے لئے محبت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہر مسلمان کو اپنے کریم ربّعَزَّ وَجَلَّسے محبت ہے ۔ اس محبت کا تقاضا یہ ہے اس کے نیک بندوں سے بھی محبت کی جائے کیونکہ بندہ جس سے محبت کرتا ہے اس سے تعلق رکھنے والی ہر شے سے محبت کرتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندوں سے محبت قرب الٰہی کا باعث ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے دوستی کرنے والو ں کو بے شمار دینی و دنیوی نعمتیں عطا کی جاتی ہیں ۔ بروز قیامت وہ نور کے منبروں پر ہوں گے ، انہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی خوشنودی حاصل ہوگی ۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ امام مالکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت اور اسی کی خاطر کسی سے نفرت فرض ہے ۔ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جو دوشخص رضائے الٰہی کے لئے آپس میں محبت رکھیں اُن میں سے افضل وہ ہے جس کی محبت زیادہ ہو ۔ ‘‘ ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرتِ سَیِّدُنا ابو رَزینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ارشاد فرمایا :
’’اے رَزین ! جب تو تنہائی میں ہو تو ذکر الٰہی کر لیا کر اوراللہ عَزَّ وَجَلَّہی کے لئے محبت اور اسی کے لئے کسی سے بغض رکھ ، بے شک ! جب کوئی مسلماناللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کے لئے جاتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اسے الوداع کرتے ہیں اورکہتے ہیں : اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! اس نے تیری خوشنودی کے لئے اپنے بھائی سے اچھا سلوک کیا ہے تو بھی اس سے اچھا سلوک فرما ۔ ‘‘ ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ ’’جب کوئی اپنے بھائی کی غیر موجود گی میں اس کے لئے دعا کرتا ہے تو فرشتے اس کی دعا پر آمین کہتے ہیں ۔ ‘‘ ( )جنتی بالا خانوں کے رہائشی :سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ہم حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھے تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک ! جنت میں یَاقوت کے ستون ہیں ، جن پر زَبرجد کے بالاخانے ہیں ، جن کے دروازے کھلے ہوئے ہیں ، وہ روشن ستاروں کی طرح چمکتے ہیں ۔ ‘‘ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اِن بالاخانوں میں کون رہیں گے ؟ ارشاد فرمایا : ’’جواللہکیلئے آپس میں محبت رکھتے ہیں اور اسی کے لئے آپس میں بیٹھتے اور ملاقات کرتے ہیں ۔ ‘‘ ( )رب تعالٰی کے لیے محبت کرنے کا معنیٰ :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’جس کی محبت سے رب راضی ہو اس سے محبت کریں اور جس کی نفرت سے رب راضی ہواس سے نفرت کریں ۔ بے دین اوربدعمل اولادسے نفرت ، متقی اجنبی سے محبت عبادت ہے ۔ یونہی گہرے دوست کی بدعقیدگی پر واقف ہو کر اس سے الگ ہوجانا اور جانی دشمن کے تقویٰ پر خبردار ہو کر اس کا دوست بن جانا بہترین عمل ہے ۔ ‘‘ ( )
¥( 5 ) خوف خدا کی وجہ سے پاک دامنی :جب کوئی حسین و جمیل ، حسب نسب والی عورت کسی کوبرائی کی طرف بلائے تو برائی سے بچنا بہت
مشکل ہے کیونکہ ایسی عورت تک رسائی بہت مشکل ہوتی ہے اورجب وہ خود ہی برائی کی طرف بلائے تو اس وقت گناہ سے وہی بچ سکتا ہے جس پر خوفِ خدا کا غلبہ ہو ، جو جلوت وخلوت میں اپنے ربعَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہو ۔ ایسے متقی وپرہیز گارشخص کواللہ عَزَّ وَجَلَّبروز قیامت اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’اِس موقع پر گناہ سے وہی بچ سکتا ہے جس پراللہ عَزَّ وَجَلَّاپنا فضل وکرم اور اِحسان فرمائے اور وہ تنہائی میں بھی ا پنے رب کریم سے ڈرتاہو ۔ چنانچہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میںاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰)فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ(۴۱)(پ۳۰ ،النازعات: ۴۰ ، ۴۱ )ترجمۂ کنزالایمان: اوروہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرااورنفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنّت ہی ٹھکانا ہے ۔
ایک اور مقام پراللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶)(پ۲۷ ،الرحمن: ۴۶ )ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں ۔
حضرتِ سَیِّدُنا کعب احباررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جنت میں موتیوں سے بنا ایک گھر ہے جس میں ستر ہزار 70000محل ہیں ، ہر محل میں ستر ہزار 70000گھر اورہر گھر میں ستر ہزار 70000 کمرے ہیں ۔ اس میں صرف انبیاء ، شہداء ، صدّیقین ، عادِل حکمران اورمحکم فی النفس ہی داخل ہوں گے ۔ حضرتِ سَیِّدَتُنا سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانے حضرت سیدنا عُبَیْدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا کہ محکم فی النفس کون ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ’’وہ شخص جو بد کاری یاحرام ما ل کاطالب ہو لیکن جب بدکاری یاحرام مال پر قادر ہو جائے تو خوفِ خدا کے سبب حرا م سے باز رہے ۔ ‘‘ ( )
¥اللہتعالٰی کی بارگاہ میں حاضری کا خوف :حضرت سَیِّدُنا حسن بصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ایک فاحشہ عورت کے بارے میں کہا
جاتا تھا کہ دنیا کا تہائی حسن اس کے پاس ہے ۔ وہ اپنا آپ کسی کو سونپنے کا معاوضہ سو 100دینار لیتی تھی ۔ ایک مرتبہ ایک عابد کی نگاہ اس پر پڑ گئی اور وہ اس کا قُرب پانے کے لئے بے چین ہو کر سو 100دینار جمع کرنے میں مشغول ہو گیا ۔ جب مطلوبہ رقم پوری ہو گئی تو وہ اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ : ’’تیرے حسن نے مجھے دیوانہ کر دیا ہے ، میں نے تجھے حاصل کرنے کے لئے اپنے ہاتھ کی محنت سے یہ سو 100دینار جمع کئے ہیں ۔ ‘‘ اس فاحشہ نے کہا : ’’یہ میرے وکیل کو دے دو ، تاکہ وہ پرکھ لے ۔ ‘‘ جب وکیل نے دینار پرکھ لئے تو اس نے عابد کو اندر آنے کی اجازت دے دی ۔ جب وہ گناہ کے لئے فاحشہ کے نزدیک بیٹھا ، تو اس پراللہتعالیٰ کی بارگاہ میں پیشی کا خوف غالب آگیا اور وہ تھر تھر کانپنے لگا اور اس کی شہوت جاتی رہی ۔ اس نے فاحشہ سے کہا : ’’مجھے چھوڑ دے ، میں واپس جانا چاہتا ہوں ، اور یہ سو 100دینار بھی تو ہی رکھ لے ۔ ‘‘ عورت نے کہا : ’’یہ کیا؟ میں تجھے پسند آئی ، تو نے اتنی محنت سے یہ دینار جمع کئے اور اب جبکہ تیری خواہش پوری ہونے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی ، تو واپس جانا چاہتا ہے ؟ ‘‘ عابد نے کہا : ’’میں اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّکے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا ہوں ، اس لئے میرا تمام عیش ہوا ہو گیا ہے ۔ ‘‘
وہ طوائف یہ بات سن کر بہت متأثر ہوئی ، چنانچہ اس نے کہا کہ : ’’اگر واقعی یہ بات ہے تو میرا خاوند تیرے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ ‘‘ عابد نے کہا : ’’مجھے چھوڑ دے ، میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں ۔ ‘‘ عورت نے کہا : ’’میں تجھے صرف اس شرط پر جانے دوں گی کہ تو مجھ سے شادی کر لے ۔ ‘‘ عابد نے کہا کہ : ’’جب تک میں یہاں سے نکل نہ جاؤں ، یہ ممکن نہیں ۔ ‘‘ عورت نے کہا کہ : ’’ٹھیک ہے ! لیکن اگر میں بعد میں تیرے پاس آؤں تو کیا تو مجھ سے شادی کر لے گا ؟ ‘‘ عابد نے کہا : ’’ٹھیک ہے ۔ ‘‘ پھر اس عابد نے منہ چھپایا اور اپنے شہر کو نکل کھڑا ہوا ۔ اس عورت نے بھی توبہ کی اور اس عابد کے شہر میں پہنچ گئی ، جب وہ پتہ معلوم کرتی ہوئی عابد کے سامنے پہنچی تواِسے دیکھ کر اُس عابد نے ایک زور دار چیخ ماری اور خوف خدا کے سبب اس کی روح قفص عنصری سے پرواز کرگئی ۔ عورت نے لوگوں سے پوچھا کہ : ’’اس کا کوئی قریبی رشتہ دار ہے ؟ ‘‘ بتایا گیا کہ : ’’اس کا ایک بھائی ہے جو بہت غریب ہے ۔ ‘‘ عورت اس کے بھائی کے پاس پہنچی اور اس سے کہا کہ : ’’میں تیرے بھائی کی محبت کی بناء پر تجھ سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔ ‘‘ چنانچہ انہوں نے شادی کر لی ۔ پھر اس توبہ
کرنے والی عورت کے سات بیٹے ہوئے اور سب کے سب نیک و صالح بنے ۔ ( )
مرے اشک بہتے رہیں کاش ہردم ……… ترے خوف سے یا خدا یا الٰہی
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ ……… میں تھر تھر رہوں کانپتا یا الٰہیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمین
¥( 6 ) صدقہ وخیرات میں ریا کاری سے اجتناب :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! نفلی صدقہ اس طرح دینا چاہیے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو کہ اس میں اخلاص کی زیادتی اور ریا کاری کے اندیشے سے حفاظت ہے ۔ جو اس طرح اخلاص کے ساتھ صدقہ دے گا اسے بروز قیامت عرش الٰہی کے سائے میں جگہ نصیب ہو گی ۔ ہاں ! فرض صدقات جیسے زکوٰۃ وغیرہ اعلانیہ طور پر دینا بہتر ہے تاکہ دوسروں کو ترغیب ہو اور اسلام کے بنیادی امور لوگوں پر ظاہر ہوں ۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یہاں صدقۂ نفلی مراد ہے صدقۂ فرض اورچندے کے موقعہ پرصدقہ نفل علانیہ دینا مستحب ہے ، لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں : (αاِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَۚ-)(پ۳ ،البقرۃ:۲۷۱ )ترجمۂ کنزالایمان: اگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے ۔ ( )
¥ریاکاری اعمال کی تباہ کاری کا بڑا سبب :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کسی بھی نیک عمل کے اندر ریاکاری اس عمل کو تباہ وبرباد کرنے کا بہت بڑا سبب ہے ، ریاکاری نیک عمل کو ایسے کھاجاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو ۔ اپنے اعمال کو ریاکاری کی تباہ کاری سے محفوظ رکھیے کیونکہ ریاکاری کی تباہ کاریاں شمار سے باہر ہیں ، ریاکاری سے عمل ضائع ہوجاتاہے ، ریاکاری کرنے والوں کو شیطان کا دوست فرمایا گیا ہے ، جہنم کی ایک وادی ریاکاروں کا ٹھکانہ ہوگی ، ریاکاروں کو کل بروز قیامت بہت حسرت وندامت ہوگی ، ریاکار کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا ، جہنم میں ایک ایسی وادی ہے جس سے
خود جہنم بھی پناہ مانگتا ہے مگر ریاکاروں کو اس وادی میں داخل کیا جائے گا ، کل بروز قیامت ریاکاروں کو ذلت ورسوائی کا عذاب دیا جائے گا ،اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ریاکار پر جنت کو حرام فرمایا دیا ہے ، ریاکار تو جنت کی خوشبوبھی نہیں پائے گا ، ریاکار زمین وآسمان دونوں میں ملعون ہے ۔ الغرض ریاکاری اور دکھاوے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ کرنا یقیناً باعث اجروثواب ہے لیکن خوب غور کرلیجئے کہ کہیں اس میں ریاکاری کا عنصر تو شامل نہیں ہے ، ایسا نہ ہو کہ اجروثواب کی بجائے ذلت والے عذاب کا سامنا کرنا پڑجائے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور یاکاری کی تباہ کاریوں سے محفوظ فرمائے ۔ آمین ( )
¥چھپا کر صدقہ دینے کی فضیلت :چھپا کر صدقہ دینے کے احادیث مبارکہ میں بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔ چنانچہ چھپا کر صدقہ دینے سے متعلق تین فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’نیکیاں برائی کے دروازوں سے بچاتی ہیں اورپوشید ہ صدقہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے غضب سے بچاتاہے اور صلہ رحمی عمر میں اضافہ کردیتی ہے ۔ ‘‘ ( ) ( 2 ) ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّتین آدمیوں سے محبت فرماتا ہے اورتین کو ناپسند فرماتا ہے ۔ جن لوگوں سےاللہ عَزَّوَجَلَّمحبت فرماتاہے ، ان میں سے ایک شخص تو وہ ہے کہ کسی قوم کے پاس کوئی شخص آیا اور اپنی رشتہ دار ی کے بجائےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام پر ان سے سوال کیا لیکن انہوں نے اسے دینے سے منع کردیا ، اس کے بعد اُس کے پیچھے یہ شخص آیا اور چھپا کر اسے کچھ عطا کردیا اور اس کے عطیہ کواللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس دینے والے کے سوا کوئی نہیں جانتا اورایک قوم رات کو سفرپر نکلی یہاں تک جب نیند ان پر غالب آگئی اور وہ سوگئے تو ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اوراللہتعالیٰ کی بارگا ہ میں گڑگڑانے لگااور میری ( یعنیکلامُ اللہکی ) آیتیں تلاوت کرنے لگا ، تیسرا وہ شخص جس نے جنگ کے دوران دشمن کا سامنا کیا پھر انہیں شکست ہوئی مگر یہ شخص شہید ہونے یا فتح پانے تک پیچھے نہ ہٹا اوراللہتعالیٰ کے تین ناپسندیدہ شخص یہ ہیں : بوڑھا زانی ، متکبر فقیر اور ظالم مالدار ۔ ‘‘ ( )
( 3 ) ’’جباللہ عَزَّوَجَلَّنے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ کانپنے لگی اور الٹ پلٹ ہونے لگی تواللہ عَزَّوَجَلَّنے پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دیں تو وہ ساکن ہوگئی ۔ یہ دیکھ کر ملائکہ کو پہاڑوں کی طاقت پر تعجب ہوا اور انہوں نے عرض کیا : ’’ اے ربعَزَّ وَجَلَّ! کیا تو نے پہاڑوں سے زیادہ طاقتور کوئی چیز پیدا فرمائی ہے ؟ ‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا : ’’ ہاں ! وہ لوہا ہے ۔ ‘‘ پھر فرشتوں نے عرض کیا : ’’کیالوہے سے قوی چیز بھی پیدا فرمائی ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ’’ ہاں ! وہ آگ ہے ۔ ‘‘ پھر ملائکہ نے عرض کیا : ’’آگ سے بھی طاقتور چیز پیدا فرمائی ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ’’ ہاں ! وہ پانی ہے ۔ ‘‘ پھر ملائکہ نے عرض کیا : ’’ کیاپانی سے قوی چیز بھی پیدا فرمائی ہے ؟ ‘‘ فرما یا : ’’ہا ں ! وہ ہوا ہے ۔ ‘‘ فرشتوں نے پھر عرض کیا : ’’کیاہوا سے قوی چیز بھی پیدا فرمائی ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ’’ ( ہاں ) ابن آدم جب اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ دے اور بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو ۔ ‘‘ ( )
مِرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو ……… کر اخلاص ایسا عطا یاالٰہی
¥( 7 ) تنہائی میں خوف خدا سے رونا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں جس آخری شخص کا ذکر ہے کہ کل بروز قیامتاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بھی اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا وہ تنہائی میںذِکرُ اللہکرکے خوف خدا کے سبب رونے والا شخص ہے ۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’اس میں خوفِ خدا سے رونے کی فضیلت کا بیان ہے ۔ بندے کے لئے مستحب ہے کہ کچھ نہ کچھ وقت تنہائی میں گزارے تاکہ گناہوں پر شرمندگی ہو ، اِخلاص کے ساتھ اپنے ربّ کریم کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرسکے ، اپنی بخشش کے لئے خوب گڑگڑائے کہ مضطر کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ یہ نہ ہو کہ سارا وقت صرف اپنی ذات کے لئے غفلتوں میں صَرف ہو جیسا کہ جانور وں کی حالت ہوتی ہے جوقیامت اورساری مخلوق کے سامنے حساب کتاب جیسی ہولناکیوں سے بے خوف ہیں ۔ تو جواِن ہولناکیوں سے محفوظ نہیں اسے چاہیے کہ خلوت میں خوب روئے ، دنیوی زندگی کو قید خانہ محسوس کرے کیونکہ اسی میں گناہ سرزَد ہوتے ہیں ۔ حدیث پاک میں ہے : ’’ جو
مسلماناللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے روئے تو وہ جہنم میں داخل نہ ہوگا یہاں تک دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے ۔ ‘‘ منقو ل ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا داودعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی : ’’ا ےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! جوتیرے خوف سے روئے یہاں تک کہ آنسو اس کے چہرے پر بہہ جائیں تو تُو اسے کیا اجر عطا فرمائے گا ؟ ‘‘ ارشاد ہوا : ’’میں اس کے چہرے کو جہنم کی لپٹ سے محفوظ رکھوں گا اور اسے گھبراہٹ والے دن ( یعنی قیامت ) سے امن عطافرماؤں گا ۔ ‘‘ ( )
¥خوف خدا سے رونے کے فضائل :امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ سے رونے کے چند فضائل پیش خدمت ہیں : ’’میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو ! خوفِ خداعَزَّ وَجَلَّاورعشق مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں رونا ایک عظیم الشّان ’’نیکی ‘‘ ہے ، اِس لئے حُصولِ ثواب کی نیّت سے اِس نیکی کی ترغیب پر مبنی نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے رونے کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں ۔ کاش ! کہیں ہم بھی سنجیدَگی اپنانے اورخوفِ خداعَزَّ وَجَلَّوعشق مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں آنسو بہانے والے بنیں ۔
رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں ……… ذِکرِ مَحَبَّت عام ہے لیکن سوزِ مَحَبَّت عام نہیں
( 1 ) فرمانِ مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’جس مُؤمِن کی آنکھوں سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے آنسو نکلتے ہیں اگرچِہ مکھی کے سرکے برابر ہوں ، پھر وہ آنسو اُس کے چہرے کے ظاہِر ی حصّے کو پہنچیں تواللہ عَزَّوَجَلَّاُسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے ۔ ‘‘ ( ) ( 2 ) فرمان مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’وہ شخص جہنم میں داخِل نہیں ہوگا جواللہتعالیٰ کے ڈر سے رویا ہو ۔ ‘‘ ( ) ( 3 ) امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : ’’جب تم میں سے کسی کوخوفِ خداسے رونا آئے تو وہ آنسوؤں کو کپڑے سے صاف نہ کرے بلکہ رُخساروں پر بہہ جانے دے کہ وہ اِسی حالت میں ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں
حاضِر ہو گا ۔ ‘‘ ( ) ( 4 ) حضرت سیدنا کعب احباررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ڈر سے روئے اور اُس کے آنسوؤں کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرجائے تو آگ اُس ( رونے والے ) کو نہ چُھوئے گی ۔ ‘‘ ( ) ( 5 ) حضرت سیدناعبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے آنسو کا ایک قطرہ بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صَدَقہ کرنے سے بہتر ہے ۔ ‘‘ ( ) ( 6 ) ’’حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیمخلیلُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب نَماز کے لئے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اِس قَدَرگِریہ و زاری فرماتے ( یعنی روتے ) کہ ایک مِیل کے فاصِلے سے ان کے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی ۔ ‘‘ ( ) ( 7 ) حضرتِ سَیِّدُنا یحییعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب نَماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ( خوفِ خدا سے ) اِس قَدَر روتے کہ دَرَخت اور مِٹّی کے ڈَھیلے بھی ساتھ رونے لگتے حتی کہ آپ کے والِدِ مُحترم حضرتِ سَیِّدُنا زَکَرِ یّاعَلَیْہِ السَّلَامبھی دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہو جاتے ۔ مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سبب حضرتِ سَیِّدُنا یحییعَلَیْہِ السَّلَامکے رُخسارِ مبارَک ( یعنی با بَرَکت گالوں ) پر زَخم ہوگئے تھے ۔ ( ) ( 8 ) حضرت سیدنا یحییعَلَیْہِ السَّلَامنے اپنے والد گرامی حضرت سیدنا زکریاعَلَیْہِ السَّلَامکے حوالے سے فرمایا : ’’جنَّت اور دوزخ کے درمِیان ایک گھاٹی ہے جسے وُہی طے کر سکتاہے جو بَہُت رونے والا ہو ۔ ‘‘ ( )
جی چاہتا ہے پھوٹ کے روؤں تِرے ڈر سےاللہ! مگر دل سے قَساوَت نہیں جاتیاللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی اپنے خوف اور عشق رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں رونا نصیب فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم¥سایہ ٔعرش کس کس کو ملے گا؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ مذکورہ بالا حدیث پاک میں فقط سات ایسے افراد کا ذکر ہے جنہیں کل بروزِ قیامتاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ، لیکن ان سات افراد کے علاوہ بھی کئی ایسے افراد ہیں جنہیں کل عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائی جائے گی ۔ ان تمام افراد کی تفصیلات کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۸صفحات پر مشتمل امام جلال الدین سیوطی شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی کتاب ”تَمْھِیْدُ الْفَرْش فِی الْخِصَالِ الْمُوْجِبَۃِ لِظِلِّ الْعَرْش“ ترجمہ بنام’’سایۂ عرش کس کس کو ملے گا؟ ‘‘ کا مطالعہ کیجئے ۔مدنی گلدستہ
’’بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘‘ کے 19حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 19مدنی پھول
(1)کل بروزِ قیامتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے عرش اور اس کی رحمت کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ، کئی ایسے خوش نصیب لوگ ہوں گے جنہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے عرش کے سائے میں جگہ ملے گی ۔
(2) عدل وانصاف کی بدولت معاشرے کی اصلاح ، حقوق کی حفاظت ، جرائم کی روک تھام ، امن وامان اوراتحاد کی فضا قائم ہوتی ہے ، نیز عادل حکمران بھی کل بروز قیامت عرش الٰہی کے سائے میں ہوگا ۔
(3) عادل بادشاہ مخلوق پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہے جس کے سائے میں مخلوق آرام پاتی ہے ۔
(4) گناہوں کے مواقع میسر ہونے کے با وجود گناہوں سے بچ جانا یہ فضل خداندی کی بدولت ممکن ہے ۔
(5) عبادتِ الٰہی بہرصورت محمود یعنی پسندیدہ ہے لیکن جوانی میں کی گئی عبادت بڑھاپے میں کی جانے والی عبادت سے بہت زیادہ افضل ہے ، کیونکہ جوانی میں آزمائشیں زیادہ ہوتی ہیں ، نیز اس وقت جسمانی طور پر بھی بندہ زیادہ قوی ہوتا ہے ، جبکہ بڑھاپے میں کمزوری اور نقاہت طاری ہوجاتی ہے ۔
(6) مسجد کی طرف عبادت کی نیت سے چلنا ، اس میں عبادت کرنا ، اس کی زیارت کرنا ، وہاںذکر اللہکرنا
نیز مسجد میں ہی پڑے رہنا بھی باعث اجروثواب ہے ۔
(7) مؤمن مسجد میں ایسے ہے جیسے مچھلی پانی میں کہ اس کا پانی کے بغیر زندہ رہنا مشکل ہے ، ویسے ہی حقیقی مؤمن مسجد کے بغیر نہیں رہ سکتا ، اس کا دل مسجد میں ہی لگتا ہے ۔
(8) جس مؤمن کا دل مسجد میں ہی لگارہے اسے بھی کل بروزِ قیامت عرشِ الٰہی کا سایہ نصیب ہوگا ۔
(9) جو دو اشخاصاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے آپس میں محبت کرتے ہیں ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے آپس میں ملتے اور جدا ہوتے ہیں ایسے لوگ بھی کل بروز قیامت عرشِ الٰہی کے سائے میں ہوں گے ۔
(10)اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کا مطلب یہ ہے کہ دلاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا پر راضی رہے ، جو کاماللہ عَزَّ وَجَلَّکوپسند ہو یہ بھی اسے پسند کرے اورجواللہ عَزَّ وَجَلَّکو ناپسند ہو یہ بھی اسے ناپسند کرے ۔
(11)اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے نیک بندوں سے محبت کی جائے ۔
(12) جب کوئی اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجود گی میں اس کے لئے دعا کرے تو فرشتے اُس کی دعا پر آمین کہتے ہیں ، لہذا ایسی دعا بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوجاتی ہے ۔
(13) خلوت میں یاد الٰہی کرتے ہوئے خوف خدا سے رونا بہت سعادت کی بات ہے ، خوف خدا سے رونے والو ں کی احادیث میں بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(14) جو شخص خلوت میں ذکر الٰہی کرے اور خوف خدا کے سبب روئے اسے بھی کل بروزِ قیامت عرش الٰہی کے سائے میں جگہ نصیب ہوگی ۔
(15) یہ بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکا اپنے بندے پر اس کا بہت بڑا فضل وکرم ہے کہ گناہ پر قادر ہونے کے باوجود وہ خوفِ خدا کے سبب اسے ترک کردے ۔
(16) جسے کوئی مال وجمال والی عورت گناہ کے لیے بلائے لیکن وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے اس کے ساتھ بدکاری کرنے سے باز رہے تو ایسا شخص بھی کل بروزِ قیامت عرشِ الٰہی کے سائے میں ہوگا ۔
(17)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اخلاص کے ساتھ صدقہ کرنا اور مال ودولت خرچ کرنا باعث اجرو ثواب ہے ۔
(18) فرض صدقات اعلانیہ دینااور نفلی صدقات چھپا کر دینا افضل ہے ۔
(19) ریاکاری کی تباہ کاریوں سے بچیے کہ ریاکاری نیک اعمال کو تباہ وبرباد کردیتی ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں عدل وانصاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اپنی جوانی کو عبادتِ الٰہی میں بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارا دل مسجد میں لگائے ، مساجد سے ہمیں محبت عطا فرمائے ، ہمیںاللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لیے محبت اور اسی کے لیے ملنے وجدا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں خلوت وجلوت دونوں میں اپنے خوف سے رونے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں بدکاری جیسی موذی بیماری سے محفوظ فرمائے ، ہمیں اپنی راہ میں اخلاص کے ساتھ صدقہ کرنے اور مال ودولت خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 376