- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 385
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّ رَجُلٌ بِهِ فَقَالَ : يَا
رَسُولَ الله اِنِّي لَاُحِبُّ هَذَا فَقَالَ لَهُ النَّبيّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَاَعْلَمْتَهُ؟ قَالَ : لَا قَالَ : اَعْلِمْهُ ! فَلَحِقَهُ فَقَالَ : اِنِّي اُحِبُّكَ فِي اللهِ فَقَالَ : اَحَبَّكَ الَّذِي اَحْبَبْتَنِيْ لَهُ. ( )
عن انس رضي الله عنه : ان رجلا كان عند النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ، فمر رجل به فقال : يا
رسول الله اني لاحب هذا فقال له النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : ااعلمته؟ قال : لا قال : اعلمه ! فلحقه فقال : اني احبك في الله فقال : احبك الذي احببتني له. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سیدناانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ میٹھے میٹھے آقا ، مکی مدنی مصطفےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک شخص حاضر تھا کہ وہاں سے ایک اور شخص کاگزر ہوا تو بارگاہ رسالت میں موجود شخص نے کہا : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! بے شک ! مجھے اس سے محبت ہے ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’کیا تم نے اسے بتا دیا ہے ؟ ‘‘ عرض کی : ’’نہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’اسے بتا دو ۔ ‘‘ چنانچہ وہ اس کے پاس گیا اور کہا : ’’مجھے محض رضائے الٰہی کے لئے تم سے محبت ہے ۔ ‘‘ یہ سن کر اس نے کہا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّتجھ سے محبت فرمائے جس کی رضا کے لئے تمہیں مجھ سے محبت ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
صحابہ کرام کی بارگاہِ رسالت میں حاضری :حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممعلم کائنات ہیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اصحاب کی تربیت فرمائی اور پھر ان کے ذریعے پورے عالَم میں اسلامی اَحکامات کی ترویج واِشاعت ہوئی ، صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی یہ عادت مبارکہ تھی کہ وہ ہر وقت حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں اسلامی تعلیم وتربیت کے لیے حاضررہا کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ آج ہم تک صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے واسطے سے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرتِ طیبہ کا ہر ہر پہلو بالکل واضح ہو کر پہنچا ہے ، یقیناً یہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا اُمَّتِ مسلمہ پر احسان عظیم ہے ۔
¥صحابہ کرام ذاتی اُمور بھی بتادیتے تھے :حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمَّت کے تمام اَحوال سے واقف ہیں ، جو لوگ آپ کے پاس موجود ہوتے یا غائب ہوتے تمام کے ظاہری وباطنی اَحوال سےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو مطلع فرمایا ہے لیکن صحابہ کرام آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بہترین راہنمائی لینے کے لیے اپنے ذاتی معاملات بھی بتادیا
کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ حدیث پاک میں بھی صحابی نے اپنا ذاتی معاملہ بارگاہِ رسالت میں پیش کیا تاکہ بہتر راہنمائی ملے اور پھر ویسا ہی ہوا کہ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں اپنی محبت اپنے مسلمان بھائی کو بتانے کا حکم دیا جو ان دونوں کے درمیان مزید محبت اور محبت میں پختگی کا سبب بنے گی ۔
¥صحابہ کرام کا اتباع رسول :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جب حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رضائے الٰہی کے لیے محبت کرنے والے صحابی کو یہ حکم دیا کہ جاؤ اور اپنے بھائی کو اپنی محبت کے بارے میں بتادو تووہ صحابی فی الفور گئے اور سرکاردوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم پر عمل کرتے ہوئے انہیں اپنی محبت کی اطلاع دے دی ۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی اکرم نورِ مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اتباع کے لیے ہردم مستعد رہا کرتے تھے ، ادھر حکم جاری ہوا اور ادھر اتباع ہوئی ۔ کاش ہم بھی صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے والے بن جائیں ،اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے احکامات پر کما حقہ عمل کرنے والے بن جائیں ، اپنی زندگی کو گناہوں میں گزارنے کی بجائے نیکیوں میں بسر کرنے والے بن جائیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
¥محبت کا اظہار کرنا مستحب ہے :حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس صحابی کو حکم دیا کہ جا کر اس سے اپنی محبت کے بارے میں بتادو ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ حکم دینا یا تو ندب یعنی استحباب کے طور پر تھا یعنی تمہارے لیے بہتر یہ ہے کہ تم جاکر اسے اپنی محبت کے بارے میں بتادو یا یہ حکم خاص ان صحابی رسول کے حق میں واجب تھا ۔ ‘‘ ( )
¥محبت کا اظہار کرنے کا فائدہ :حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے محبت کا اظہار کرنے والے صحابی کو اپنے بھائی کو بتادینے کا
حکم اس لیے ارشاد فرمایا تاکہ دونوں کے درمیان مزید محبت پیدا ہوچنانچہ مسند احمد کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ ’’حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ ” جاؤ اور اسے بتادو کہ تم اس سے محبت کرتے ہو ، تم دونوں کے درمیان محبت مزید پختہ ہوجائے گی ۔ ‘‘ ( )
¥جس کے ساتھ محبت اسی کے ساتھ حشر :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جو شخص دنیا میں جس سے محبت کرتا ہوگا کل بروزِ قیامت اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا ۔ اگر نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوگا تو نیکوں کے ساتھ حشر ہوگا ، اگر برے لوگوں سے محبت کرتا ہوگا تو اس کا حشر برے لوگوں کے ساتھ ہوگا ۔ جس کا حشر اچھے لوگوں کے ساتھ ہوگا یقیناً کل بروزِ قیامت اسی کو فائدہ ہوگا اور وہ نجات پائے گا ۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے جب وہ صحابی اپنے اس مسلمان بھائی کو اپنی محبت کا اظہار کرکے واپس بارگاہ رسالت میں آئے تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے ارشاد فرمایا : ’’تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے تو محبت کرتا ہے ۔ ‘‘ ( )یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہم تجھ سے محبت کرتے ہیں ، تیرے تمام انبیائے کرامعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے محبت کرتے ہیں ، تیرے پیارے حبیب ، حبیب لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتے ہیں ، تمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت کرتے ہیں ، اہل بیت عظام سے محبت کرتے ہیں ، اُمہاتُ المؤمنین سے محبت کرتے ہیں ، حسنین کریمین سے محبت کرتے ہیں ، تابعین ، تبع تابعین سے محبت کرتے ہیں ، چاروں ائمہ کرام سے محبت کرتے ہیں ، غوثِ اعظم سے محبت کرتے ہیں ، داتا گنج بخش ، خواجہ غریب نواز ، اعلی حضرت ، امیر اہلسنت اور تیرے دیگر پسندیدہ بندوں اور تمام نیک لوگوں سے محبت کرتے ہیں ۔ تو ہمارا حشر بھی ان تمام مقدس ہستیوں کے ساتھ فرما ، ہمیں ان کی شفاعت نصیب فرما ، جنت میں بھی ہمیں ان کا پڑوس نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مدنی گلدستہ
’’محبت حق ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُمَّت کے تمام اَحوال سے واقف ہیں لیکن صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبہترین راہنمائی کے لیے اپنی چھوٹی سی چھوٹی بات اور ذاتی اُمور بھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بتادیا کرتے تھے ۔
(2) سرکارِ دوعالَم ، نورِمجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمَّت پر کمال مہربان ہیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی ہر ہر معاملے میں راہنمائی فرمایا کرتے تھے ۔
(3) جب کوئی شخص کسی اچھی بات کا اظہار کرے تو اسے اچھا مشورہ دینا چاہیے ۔
(4) جو شخص اپنے مسلمان بھائی سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرے تو اسے چاہیے کہ وہ جس سے محبت کرتا ہے اسے بتادے کہ اس سے ان دونوں کے درمیان مزید الفت ومحبت پیدا ہوگی ۔
(5) جس سے اس کا مسلمان بھائیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کا اظہار کرے تو اسے بھی چاہیے کہ وہ اس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرے اور محبت کرے تو اس کا اظہار بھی کردے ۔
(6) اگر کوئی شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کا اظہار کرے تو اس کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ یہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے ثابت ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرت طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 385