اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 4

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنااَنسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جس میں یہ تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس پالے گا : ( 1 )اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کارسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں ۔ ( 2 ) صرف رضائے الٰہی کے لئے کسی سے محبت کرے اور ( 3 ) وہ جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے کفر سے نجات دے دی تو اسے دوبارہ اس کی طرف جاناآگ میں ڈالے جانے کی طرح نا پسند ہو ۔ ‘‘

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلاوَةَ الْاِيمَانِ : اَنْ يَكُونَ اللهُ وَرَسُوْلُهُ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِمَّا سَوَاهُمَا وَاَنْ يُّحِبَّ المَرْءَ لا يُحِبُّهُ اِلَّا لِلهِ وَاَنْ يَّكْرَهَ اَنْ يَّعُوْدَ فِی الْكُفْرِ بَعْدَ اَنْ اَنْقَذَهُ اللهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ اَنْ يُّقْذَفَ فِي النَّارِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 375 ، اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان

ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’سات آدمی ایسے ہیں جنہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّاس دن اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا : ( 1 ) عادل حکمران ( 2 ) وہ نوجوان جس کی جوانی عبادت الٰہی میں گزری ( 3 ) و ہ شخص جس کادل مساجد میں لگا رہے ( 4 ) وہ دو شخص جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے محبت کریں ، ا سی کی محبت پر ایک دوسرے سے ملیں اور جدا ہوں ۔ ( 5 ) وہ شخص جسے حسن وجمال والی عورت ( برائی کے لئے ) بلائے تووہ کہہ دے کہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہوں ۔ ( 6 ) وہ شخص جو اس طرح چھپا کرصدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا ہی نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے راہ خدا میں کیاخرچ کیا ۔ ( 7 ) جو تنہائی میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں ۔ ‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ في ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلُّهُ : اِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَاَ في عِبَادَةِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسَاجِدِ وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَاَةٌ ذَاتُ حُسْنٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ : اِنِّي اَخَافُ اللهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَاَخْفَاهَا حَتَّى لَاتَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 376 ، اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مَروی ہے کہ نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’بے شک !اللہ عَزَّ وَجَلَّبروزِقیامت فرمائے گا : کہاں ہیں میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھنے والے ؟ آج میں انہیں اپنے ( عرش کے ) سائے میں رکھوں گا کہ آج میرے ( عرش کے ) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہے ۔ ‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُول الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اللهَ تَعَالٰی يَقُوْلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : اَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلالِيْ؟اَلْيَوْمَ اُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلِّي. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 377 ، اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے ! تم جنت میں داخل نہ ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤ ، اور تم مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو اور کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جسے بجا لاؤ توآپس میں محبت پیدا ہوجائے ؟اپنے درمیان سلام کو عام کرو ۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتّٰى تُؤْمِنُوا وَلا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوااَوَ لَا اَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ اِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ ؟اَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 378 ، اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ایک شخص اپنے ایک مسلمان بھائی سے ملاقات کے لئے دوسری بستی کی طرف چلا تواللہ عَزَّوَجَلَّنے اس کے راستے میں ایک فرشتہ مقرر فرمادیا جب وہ اس کے پاس پہنچا تو فرشتے نے پوچھا : ’’کہاں کاا رادہ ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’اس بستی میں میرا ایک دینی بھائی ہے اس کے پاس جارہاہوں ۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’کیا تجھ پر اس کا کوئی احسان ہے جس کابدلہ د ینے جارہے ہو ۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’نہیں ، بلکہ میں اس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ فرشتے نے کہا : ’’بے شک ! میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے تیرے لیے یہ پیغام لایا ہوں کہ جس طرح تو اس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت کرتا ہے ایسے ہیاللہ عَزَّ وَجَلَّبھی تجھ سے محبت فرماتاہے ۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَنَّ رَجُلًا زَارَ اَخًا لَهُ في قَرْيَةٍ اُخْرٰى فَاَرْصَدَ اللهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكاً فَلَمَّا اَ تَى عَلَيهِ قَالَ : اَ يْنَ تُريدُ؟ قَالَ : اُرِيْدُ اَخًا لِیْ في هٰذِهِ القَريَةِ. قَالَ : هَلْ لَكَ عَلَيهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا عَلَيهِ؟ قَالَ : لَا غَيْرَ اَنِّي اَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ تَعَالٰى قَالَ : فَاِنِّي رَسُوْلُ اللهِ اِلَيْكَ بِاَنَّ اللهَ قَدْ اَحَبَّكَ كَمَا اَحْبَبْتَهُ فِيْهِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 379 ، اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان

ترجمہ : حضرت سیدنا براء بن عازبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ناپسند فرماتاہے ۔ ‘‘

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ فِی الْاَنْصَارِ : لَا يُحِبُّهُمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ اِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ اَحَبَّهُمْ اَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ اَبْغَضَهُ اللهُ . ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 380 ، اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنامعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمروی ہے کہ میں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ( بروز قیامت ) ارشاد فرمائے گا : آج میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھنے والوں کے لیے نور کے منبر ہوں گے ، انبیاءاورشہداء اُن پر رشک کریں گے ۔ ‘‘

عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ : الْمُتَحَابُّونَ في جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 381 ، اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان

ترجمہ : حضرت سیدنا ابو اِدریس خولانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں دمشق کی مسجد میں گیا تو وہاں چمکدار دانتوں والے ایک نوجوان کو دیکھا جس کے گرد بہت سے لوگ جمع تھے ، جب ان لوگوں میں اختلاف ہوتاتونوجوان کی طرف رُجوع کرتے اوراس کی رائے قبول کرتے ۔ میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ حضرت سیدنا مُعاذبن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہیں ۔ دوسرے دن میں مسجد پہنچا تو وہ مجھ سے بھی پہلے پہنچ چکے تھے اور نماز پڑھ رہے تھے ، میں انتظار کرنے لگا ۔ جب فارغ ہوئے تومیں نے سلام کے بعد عرض کی : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! میں آپ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’واقعیاللہکی

رضا کے لیے ؟ ‘‘ میں نے کہا : ’’جی ہاں ۔ “پھرفرمایا : ’’کیا واقعی
اللہکی رضا کے لیے ؟ ‘‘ میں نے کہا : ’’جی ہاں ۔ ‘‘ انہوں نے میری چادر کا کنارہ پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچ کر فرمایا : ’’خوش ہو جاؤ ! میں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سناہے کہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : میری محبت اُن کے لئے ہے جو میرے لئے باہم محبت کرتے ہیں ، میری رضا کے لئے مل بیٹھتے ہیں ، میری ہی رضا کے لئے باہم ملاقات کرتے اور میری خوشنودی کے لئے ہی مال خرچ کرتے ہیں ۔ ‘‘

عَنْ اَبي اِدْرِيْسَ الْخَولَانِی رَحِمَهُ اللهُ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَاِذَا فَتًی بَرَّاقُ الثَّنَايَا وَاِذَا النَّاسُ مَعَهُ فَاِذَا اخْتَلَفُوا في شَيْءٍ اَسْنَدُوْهُ اِلَيْهِ وَصَدَرُوْا عَنْ رَاْيِهِ فَسَاَ لْتُ عَنْهُ فَقِيْلَ : هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَل رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ هَجَّرْتُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بالتَّهْجِيرِ وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَانْتَظَرتُهُ حَتّٰى قَضٰى صَلَاتَهُ ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيهِ ثُمَّ قُلْتُ : وَاللهِ اِنِّی لَاُحِبُّكَ لِلّٰهِ فَقَالَ : اۤللّٰهِ؟فَقُلْتُ : اۤللّٰهِ فَقَالَ : اۤللّٰهِ؟ فَقُلْتُ : اۤللّٰهِ فَاَخَذَنِي بِحَبْوَةِ رِدَائِیْ فَجَبَذَنِی اِلَيْهِ فَقَالَ : اَبْشِرْ ! فَاِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : قَالَ اللهُ تَعَالٰی : وَجَبَتْ مَحَبَّتي لِلْمُتَحَابِّيْنَ فيَّ وَالْمُتَجَالِسِيْنَ فيَّ وَالْمُتَزَاوِرِيْنَ فيَّ وَالْمُتَبَاذِلِيْنَ فِيَّ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 382 ، اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان

ترجمہ : حضرت سیدناابو کریمہ مِقداد بن مَعْدِیْکَرِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جب کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔ ‘‘

عَنْ اَبِي كَرِيمَةَ الْمِقْدادِ بِنِ مَعْدِ يْكَرِبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا اَحَبَّ الرَّجُلُ اَخَاهُ فَليُخْبِرْهُ اَنَّهُ يُحِبُّهُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 383 ، اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کا ہاتھ پکڑ کر ارشادفرمایا : ” اے معاذ !اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ پھر تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ کہنا ہرگز نہ چھوڑنا : ’’اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! اپنے ذکر وشکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما ۔ ‘‘

عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخَذَ بِيَدِهِ وَقالَ : يَا مُعَاذُ ! وَاللهِ اِنِّي

لَاُحِبُّكَ ثُمَّ اُوْصِيْكَ يَا مُعَاذُ ! لَا تَدَ عَنَّ في دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ تَقُولُ : اَللّٰهُمَّ اَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 384 ، اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان

ترجمہ : حضرت سیدناانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ میٹھے میٹھے آقا ، مکی مدنی مصطفےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک شخص حاضر تھا کہ وہاں سے ایک اور شخص کاگزر ہوا تو بارگاہ رسالت میں موجود شخص نے کہا : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! بے شک ! مجھے اس سے محبت ہے ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’کیا تم نے اسے بتا دیا ہے ؟ ‘‘ عرض کی : ’’نہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’اسے بتا دو ۔ ‘‘ چنانچہ وہ اس کے پاس گیا اور کہا : ’’مجھے محض رضائے الٰہی کے لئے تم سے محبت ہے ۔ ‘‘ یہ سن کر اس نے کہا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّتجھ سے محبت فرمائے جس کی رضا کے لئے تمہیں مجھ سے محبت ہے ۔ ‘‘

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّ رَجُلٌ بِهِ فَقَالَ : يَا

رَسُولَ الله اِنِّي لَاُحِبُّ هَذَا فَقَالَ لَهُ النَّبيّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَاَعْلَمْتَهُ؟ قَالَ : لَا قَالَ : اَعْلِمْهُ ! فَلَحِقَهُ فَقَالَ : اِنِّي اُحِبُّكَ فِي اللهِ فَقَالَ : اَحَبَّكَ الَّذِي اَحْبَبْتَنِيْ لَهُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 385 ، اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان