- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 382
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبي اِدْرِيْسَ الْخَولَانِی رَحِمَهُ اللهُ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَاِذَا فَتًی بَرَّاقُ الثَّنَايَا وَاِذَا النَّاسُ مَعَهُ فَاِذَا اخْتَلَفُوا في شَيْءٍ اَسْنَدُوْهُ اِلَيْهِ وَصَدَرُوْا عَنْ رَاْيِهِ فَسَاَ لْتُ عَنْهُ فَقِيْلَ : هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَل رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ هَجَّرْتُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بالتَّهْجِيرِ وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَانْتَظَرتُهُ حَتّٰى قَضٰى صَلَاتَهُ ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيهِ ثُمَّ قُلْتُ : وَاللهِ اِنِّی لَاُحِبُّكَ لِلّٰهِ فَقَالَ : اۤللّٰهِ؟فَقُلْتُ : اۤللّٰهِ فَقَالَ : اۤللّٰهِ؟ فَقُلْتُ : اۤللّٰهِ فَاَخَذَنِي بِحَبْوَةِ رِدَائِیْ فَجَبَذَنِی اِلَيْهِ فَقَالَ : اَبْشِرْ ! فَاِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : قَالَ اللهُ تَعَالٰی : وَجَبَتْ مَحَبَّتي لِلْمُتَحَابِّيْنَ فيَّ وَالْمُتَجَالِسِيْنَ فيَّ وَالْمُتَزَاوِرِيْنَ فيَّ وَالْمُتَبَاذِلِيْنَ فِيَّ. ( )
عن ابي ادريس الخولانی رحمه الله قال : دخلت مسجد دمشق فاذا فتی براق الثنايا واذا الناس معه فاذا اختلفوا في شيء اسندوه اليه وصدروا عن رايه فسا لت عنه فقيل : هذا معاذ بن جبل رضي الله عنه فلما كان من الغد هجرت فوجدته قد سبقني بالتهجير ووجدته يصلي فانتظرته حتى قضى صلاته ثم جئته من قبل وجهه فسلمت عليه ثم قلت : والله انی لاحبك لله فقال : الله؟فقلت : الله فقال : الله؟ فقلت : الله فاخذني بحبوة ردائی فجبذنی اليه فقال : ابشر ! فاني سمعت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ وسلم يقول : قال الله تعالی : وجبت محبتي للمتحابين في والمتجالسين في والمتزاورين في والمتباذلين في. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سیدنا ابو اِدریس خولانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں دمشق کی مسجد میں گیا تو وہاں چمکدار دانتوں والے ایک نوجوان کو دیکھا جس کے گرد بہت سے لوگ جمع تھے ، جب ان لوگوں میں اختلاف ہوتاتونوجوان کی طرف رُجوع کرتے اوراس کی رائے قبول کرتے ۔ میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ حضرت سیدنا مُعاذبن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہیں ۔ دوسرے دن میں مسجد پہنچا تو وہ مجھ سے بھی پہلے پہنچ چکے تھے اور نماز پڑھ رہے تھے ، میں انتظار کرنے لگا ۔ جب فارغ ہوئے تومیں نے سلام کے بعد عرض کی : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! میں آپ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’واقعیاللہکی
رضا کے لیے ؟ ‘‘ میں نے کہا : ’’جی ہاں ۔ “پھرفرمایا : ’’کیا واقعیاللہکی رضا کے لیے ؟ ‘‘ میں نے کہا : ’’جی ہاں ۔ ‘‘ انہوں نے میری چادر کا کنارہ پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچ کر فرمایا : ’’خوش ہو جاؤ ! میں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سناہے کہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : میری محبت اُن کے لئے ہے جو میرے لئے باہم محبت کرتے ہیں ، میری رضا کے لئے مل بیٹھتے ہیں ، میری ہی رضا کے لئے باہم ملاقات کرتے اور میری خوشنودی کے لئے ہی مال خرچ کرتے ہیں ۔ ‘‘
شرح حدیث
حدیث پاک کی باب سے مناسبت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں باب کی مناسبت سے اِس بات کا بیان ہے کہ حضرت سیدنا ابواِدریس خولانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیحضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت فرمایا کرتے تھے البتہ مذکورہ حدیث پاک سے متعلق چند اہم اُمور یہ ہیں ۔
¥سیدنا ابوادریس خولانی کا تعارف :حضرت سیدنا ابو ادریس خولانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا اصل نامعائِذُاللہبنعُبَیْدُاللہہے ، آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہغزوہ حنین کے ایام میں سن ۸ہجری میں پیدا ہوئے ۔ بہت بڑے تابعی اور ملک شام کے جلیل القدر عالم دین تھے ۔ انہوں نے جن صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے احادیث روایت کی ہیں ان میں ان صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اسمائے گرامی سرفہرست ہیں : امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، حضرت سیدنا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، حضرت سیدنا بلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، حضرت سیدنا ابوذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، حضرت سیدنا حذیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، حضرت سیدنا عوف بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، حضرت سیدنا امیر معاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیدنا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بعد ملک شام کے بڑے عالِم تھے ، خلیفہ عبد الملک نے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو حضرت سیدنا بلال بن ابی درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بعد دمشق کا گورنر مقرر فرمایا ۔ آپ کا وصال سن ۸۰ ہجری میں ہوا ۔ ( )
¥مسجد میں علم دِین کی مجلس :مذکورہ بالا حدیث پاک میں اِس بات کا بیان ہے کہ حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور آپ کے متعلقین مسجد میں علم دِین کی مجلس لگایا کرتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسجد میں علم دِین کی مجلس لگانا اور دینی علوم حاصل کرنا بالکل جائز بلکہ بڑے اجروثواب کا باعث ہے نیز مسجد میں علم دِین سیکھنا سکھانا حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے ، صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا ایک گروہ ایسا بھی تھا جو ہر وقت مسجد میں مقیم رہتاتھا اور بارگاہ ِرِسالت کے علمی فیضان سے فیضیاب ہوتا رہتا تھا ان صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو اَصحافِ صفہ کہا جاتا تھا ۔ الغرض مسجد میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذکر کرنے ، علم دِین کی مجلس لگانے والوں کے بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔ چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں :
( 1 ) ’’مسجد میں بیٹھنے والے میں تین خصلتیں ہوتی ہیں : اِس سے فائدہ حاصل کیاجاتا ہے یاوہ حکمت بھرا کلام کرتاہے یارحمت کامنتظر ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’بے شک کچھ لوگ ( گویا ) مساجد کے ستون ہوتے ہیں ، ملائکہ ان کے ہم نشین ہوتے ہیں اگر وہ غائب ہو جائیں تو ملائکہ انہیں تلاش کرتے ہیں اور اگر بیمار ہوں توان کی عیادت کرتے ہیں اور اگر انہیں کوئی حاجت درپیش ہو توان کی مدد کرتے ہیں ۔ ‘‘ ( ) (3 ) حضرتِ سیدنا عُقْبَہ بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمباہر تشریف لائے ہم اس وقت صفہ ( مسجد نبوی شریف سے متصل چبوترے ) پر بیٹھے تھے ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ تم میں سے کون یہ پسند کرتاہے کہ وہ روزانہ صبح کو بُطحان یا عقیق کی وادیوں میں جائے اورکوئی گناہ اور قطع رحمی کئے بغیر دو بڑے کوہان والی اونٹنیاں لے کر واپس لوٹے ؟ ‘‘ تو ہم نے عرض کیا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم میں سے ہر ایک یہ پسند کرتا ہے ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ تو تم میں سے کوئی صبح کے وقت مسجد میں کیوں نہیں جاتااورکتابُ اللہکی دو آیتیں سیکھتا یا تلاوت کرتاکہ یہ تمہارے حق
میں دواونٹنیوں سے بہتر ہيں اور تین آیتیں تمہارے لئے تین اونٹنیوں سے بہتر ہيں اور چار آیتیں چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں اوراسی قدر اونٹوں سے بہتر ہیں ۔ ‘‘ ()مسجد میں دینی مسائل سکھانا :واضح رہے کہ جہاں مسجد کو بنانا ایک بہت بڑے ثواب کا کام ہے وہیں اسے آباد کرنا بھی بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہے ، مسجد میں نماز ادا کرنا ، اُس میں انفرادی یا اجتماعی طور پرذکرُاللہکرنا ، مسجد میں علم دِین کی مجلس لگانا یہ تمام صورتیں مسجد کو آباد کرنے کی ہیں ۔ حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا اپنے متعلقین یا شاگردوں کے ساتھ مسجد میں علم دین کی مجلس لگانا یقیناً مسجد کو آباد کرنا ہے ۔ مساجد کو آباد کرنے اور اُسی میں پڑے رہنے والوں کے بھی احادیث میں بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔ چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : ( 1 ) ’’بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّکے گھروں کو آباد کرنے والے ہیاللہوالے ہیں ۔ ‘‘ ( )(2 ) ’’مسجدہر پرہیز گا ر کاگھر ہے اور جس کا گھر مسجد ہواللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے راحت ، رحمت اور پل صرا ط سے باحفاظت گزار کراپنی رضا والے گھر جنت کی ضمانت دیتا ہے ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’جب کوئی بندہ ذکر ونَماز کے لئے مسجد کو ٹھکانا بنالیتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاُس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے لوگ اپنے گمشدہ شخص کی اپنے ہاں آمد پر خوش ہوتے ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥دعوت اسلامی اور مساجد کی آبادکاری :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مساجد کو آباد کرنے کی قرآن واحادیث میں بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، مسجد کو آباد کرنے والے حقیقی مؤمن ہیں ، مسجد کو آباد کرنے والےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ہیں ، جو لوگ مساجد کو اپنا ٹھکانہ بنالیتے ہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّان سے خوش ہوتا ہے ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّاِس پرفتن دور میں جہاں
لوگ دِن بدن نمازوں سے دُور ہوتے جارہے ہیں ، دعوت اسلامی نے مساجد کی آبادکاری کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ مساجد کی آبادکاری کے حوالے سے دعوت اسلامی مختلف انداز میں مدنی کاموں میں مصروفِ عمل ہے ۔ مثلاً ( 1 )اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّشیخ طریقت امیر اہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکااپنے مختلف بیانات ، مدنی مذاکروں اور مدنی مکالموں میں وقتاً فوقتاً مسجد میں نماز باجماعت کا ترغیب دلانا ( 2 ) اپنے مریدین ، طالبین ، محبین ، متعلقین وغیرہ کو عطا کیے گئے مدنی انعامات میں پانچوں نمازیں مسجد میں باجماعت پہلی صف میں تکبیر اُولیٰ کے ساتھ اداکرنے کی ترغیب ( 3 ) آپ کی جانب سے چلائی گئی مسجد بھرو تحریک ( 4 ) دعوت اسلامی کے مختلف مبلغین کا اپنے بیانات میں بھی مسجد میں نماز باجماعت کی ترغیب دلانا ( 5 ) دعوت اسلامی کے تحت راہِ خدا میں سفر کرنے والے مدنی قافلوں کا مساجد میں ہی قیام کرنا اور اس کی آبادکاری کے لیے مختلف علاقوں میں اِنفرادی واجتماعی کوششیں کرنا ( 6 ) مساجد میں ہفتہ وار اجتماعات کی ترکیب بنانا ( 7 ) مسجد درس کی ترکیب بنانا ( 8 ) مساجد میں تربیتی حلقوں کا قیام ( 9 ) مساجد میں مختلف اجتماعاتِ ذکر ونعت کا قیام ( 10 ) مساجد میں ماہ رمضان میں 30دن ، 10دن کے اجتماعی نفلی وسنت اعتکاف کا قیام ( 11 ) مساجد میں تربیتی اجتماعات کی ترکیب ( 12 ) مساجد میں مختلف علمی نشستوں کا قیام ( 13 ) مساجد میں مختلف علمی وتربیتی کورسز کا قیام ۔ وغیرہ
پیارے اسلامی بھائیو ! آپ بھی دعوت اسلامی کا ساتھ دیجئے ، مسجد بھرو تحریک میں حصہ لیجئے ، اس بات کا عہد کیجئے کہ آئندہاِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّہماری کوئی نماز قضا نہیں ہوگی ، تمام نمازیں مسجد میں باجماعت پہلی صف میں تکبیر اُولیٰ کے ساتھ ادا کریں گے ، نہ صرف خود ادا کریں گے بلکہ دیگر اسلامی بھائیوں کو بھی اس کی ترغیب دلا کر مسجد میں لائیں گے ۔ دعوت اسلامی کے تحت مساجد میں ہونے والے مختلف اجتماعات ، مدنی مذاکروں ، ودیگر تربیتی نشستوں میں بھی شرکت کی بھرپور کوشش کریں گے ۔اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّاس کی برکت سے دِین ودنیا کی بے شمار بھلائیاں ہاتھ آئیں گی ۔اللہکرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں
اے دعوت اسلامی تری دھوم مچی ہو
¥سیدنا معاذ بن جبل کا تعارف :حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجلیل القدر صحابی رسول تھے ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے احادیث مبارکہ میں بہت سے فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ، عہدفاروقی میں آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُملک شام کے مفتی تھے ، سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآپ کے علم وفضل کا اثبات کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے : ’’عورتیں معاذ جیسا شخص جننے سے عاجز آگئیں ہیں ۔ ‘‘ ( ) حضرت سیدناعبداللہبن عَمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرمایا کرتے تھے : ’’مجھے دو عقل مندوں کی باتیں سناؤ ۔ ‘‘ یوچھا جاتا کہ وہ کون ہیں؟ تو فرماتے : ’’حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا۔ ‘‘ ( ) ملک شام اور یمن میں فیضانِ علم پھیلانے کے لیے حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بہت کوششیں فرمائیں ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُخطبات میں لوگوں کو علم دِین حاصل کرنے کی ترغیب دلاتے تھے ، نیز آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے کئی ایسے اقوال بھی ہیں جو حصول علم کی ترغیبات پر مشتمل ہیں ۔ علم کی قدرومنزلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’علم سیکھو کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے علم سیکھنا خشیت ، اس کی جستجو عبادت ، اس کی تکرارتسبیح ، اس کے متعلق بحث کرنا جہاد ، جو نہیں جانتا اسے علم سکھانا صدقہ اور اسے اس کے اہل پر خرچ کرنا نیکی ہے ۔ ( ) آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی وفات ۱۷ ہجری میں ملک شام میں طاعون کے سبب ہوئی ۔ ( )اللہکے لیے محبت کرنے والوں پر اِنعام واِکرام :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضرت سیدنا مَعاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرنے والوں کے اِنعام واِکرام پر مشتمل حدیث پاک بیان فرمائی کہاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے : ’’میری محبت اُن کے لئے ہے جو میرے لئے باہم محبت کرتے ہیں ، میری رضا کے لئے مل بیٹھتے ہیں ، میری ہی رضا
کے لئے باہم ملاقات کرتے اور میری خوشنودی کے لئے ہی مال خرچ کرتے ہیں ۔ ‘‘ یقیناً جس شخص سے ربّ تعالیٰ محبت فرمائے تو وہ شخص دنیا وآخرت میں کامیاب ہوگیا ، اب اسے نہ تو دنیا کا کوئی غم ہے اور نہ ہی آخرت کا ۔ بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے مسلمان بھائیوں سے کسی دنیوی غرض کی خاطر نہیں بلکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرتے ہیں ، ان کا ملنا بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے ہوتا ہے ، وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں مال بھی اس کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے یے خوشخبری ہے کہ رب تعالیٰ ان سے محبت فرماتا ہے اور ایسے لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو اپنے مسلمان بھائیوں سے دُنیوی اغراض حاصل کرنے کے لیے محبت کرتے ہیں ، ان کا اٹھنا بیٹھنا بھی دنیوی اغراض کے لیے ہوتا ہے ، اگر وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں مال خرچ بھی کرتے ہیں تو اس لیے کہ ان کی واہ واہ ہو ، لوگ انہیں سخی تصور کریں ، ایسے لوگوں کی بدبختی ہے کہ انہیں ربّ تعالیٰ کی محبت نصیب نہیں ہوتی بلکہ اپنی واہ واہ اور سخی کہلوانے کے لیے مال خرچ کرنے والے کے لیے کل بروزِ قیامت نہایت ہی ذِلَّت ورُسوائی ہے ، اُس کے ریاکاری سے بھرپور تمام اَعمال اُس کے منہ پر مار دیے جائیں گے اور اُسے فرشتے گھسیٹتے ہوئے جہنم میں داخل کردیں گے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنی رضا کے لیے محبت کرنے ، اپنی رضا کے لیے مسلمانوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور اپنی رضا کے لیے مال خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’چل مدینہ ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)مسجد میں علم دِین کی مجلس لگانا اور علم دین حاصل کرنا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دینا جائز ہے ۔
(2) مسجدوں کو آباد کرنے والے کے احادیث میں بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔
(3) ہمارے بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنمساجد کی آبادکاری کے حوالے سے بہت مستعد رہتے ہیں ، ہمیں بھی چاہیے کہ مسجد میں پنچ وقتہ نمازِباجماعت ادا کرکے مسجد کی آبادکاری میں حصہ لیں ۔
(4) کسی مسئلے میں اختلاف ہوتو اپنے سے زیادہ علم والوں کی طرف رُجوع کرنا چاہیے ۔
(5) اپنے مسلمان بھائیوں سے دُنیوی غرض کی وجہ سے نہیں بلکہ رضائے الٰہی کے لیے محبت کرنی چاہیے ۔
(6) جس مسلمان سے رضائے الٰہی کے لئے محبت کرے اس کو بتا دینا چاہیے کہ میں تجھ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کی خاطر محبت کرتا ہوں ۔
(7) جن کی باہمی محبت ، ملاقات ، نشست و برخاست اور مال خرچ کرنا صرف رضائے الٰہی کے لئے ہو ان سےاللہ عَزَّ وَجَلَّمحبت فرماتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں آپس میں صر ف اپنی رضا کے لئے محبت کرنے کی توفیق عطافرمائے ، ہمارا حشرنیکوں کے ساتھ فرمائے اورجنت الفِردوس میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پڑوس میں جگہ عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 382