Main Icon

اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 384

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخَذَ بِيَدِهِ وَقالَ : يَا مُعَاذُ ! وَاللهِ اِنِّي

لَاُحِبُّكَ ثُمَّ اُوْصِيْكَ يَا مُعَاذُ ! لَا تَدَ عَنَّ في دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ تَقُولُ : اَللّٰهُمَّ اَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ. ( )

عن معاذ رضي الله عنه : ان رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اخذ بيده وقال : يا معاذ ! والله اني

لاحبك ثم اوصيك يا معاذ ! لا تد عن في دبر كل صلاة تقول : اللهم اعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کا ہاتھ پکڑ کر ارشادفرمایا : ” اے معاذ !اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ پھر تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ کہنا ہرگز نہ چھوڑنا : ’’اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! اپنے ذکر وشکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما ۔ ‘‘

شرح حدیث

ہاتھ پکڑ کر گفتگو کرنا :حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا ہاتھ پکڑ کر اپنی محبت کا اظہار فرمایا ۔ معلوم ہوا کہ اَزراہِ شفقت ومحبت کسی کا ہاتھ تھام کر گفتگو کرنا شرعاً جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے ۔ نیز حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا ہاتھ انہیں مانوس کرنے اور ان پر لطف کرنے کے لیے پکڑا ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی اکرم نورِ مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا ہاتھ بطورِ شفقت اور انہیں مانوس کرنے کے لیے اپنے دستِ اقدس میں لیا ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا ہاتھ پکڑ کر اپنی محبت کا اظہار فرمانا گویا ان کے ساتھ عقد محبت تھا اور گویا یہ بیعت محبت تھی ۔ ‘‘ ( )
¥
بارگاہِ رسالت کا عظیم الشان انعام :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی آل ، اولاد ، مال اسباب ، گھروالوں ، بیوی بچوں بلکہ اپنی جان سے بھی زیادہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت نہ کرے ۔ تمام چیزوں سے بڑھ کر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرنا ایمان کامل کی نشانی ہے ، لیکن غور کیجئے اس معزز ہستی یعنی حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی قسمت پر جن سے خود حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممحبت فرماتے ہیں ، نہ صرف محبت فرماتے ہیں بلکہ اُن سے محبت کا اِظہار بھی فرماتے ہیں ۔ حضرت سیدنا معاذ بن جبل کو بارگاہِ رِسالت سے یہ بہت بڑا اِنعام واِکرام اور اِعزاز عطا ہوا جس پر دنیا کے تمام اِنعام واِکرام اور اِعزازات قربان ہوں ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنامُعاذ بن جَبَلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوبارگارہِ نبوی میں اتنا عظیم مرتبہ ملنا آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی عظمت وفضیلت ، استقامت اور اُمُورِ دِینیہ کے اہتما م کی واضح دلیل ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
سیدنا معاذ بن جبل کیرسولُ اللہسے محبت :نسائی اور مسند احمد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اپنی محبت کا اظہار فرمایا تو سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بھی عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اظہار محبت میں بہت زیادہ تاکید ہے ( کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لفظ ’’اِنَّ‘‘ اور لام تاکید کے ساتھ کلام فرمایا ) ۔ جبکہ حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے اظہار محبت میں تاکید نہیں ہے کیونکہ سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے یہ متصور اور ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت نہ کریں ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’بعض بزرگوں نے فرمایا کہ حضرت سیدنا معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوحضور سرورِ دوعالَم نورِمجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بہت محبت تھی ۔ چنانچہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی اُن سے محبت کا اظہار تاکید وقسم کے ساتھ فرمایا جیسا کہ کریموں

کاطریقہ ہے اورمخلو ق میں آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بڑھ کر کوئی کریم نہیں ۔ ‘‘ ( )بارگاہِ رِسالت سے مزید اِعزازات :حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا شمار ایسے جلیل القدر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں ہوتا ہے جو بارگاہِ رِسالت کے علمی فیضان سے بھی بھرپور فیضیاب ہوتے تھے ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بارگاہ سے کئی اعزازات نصیب ہوئے ، جن میں سب سے بڑا اعزاز یہی تھا کہ خود تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا ۔
اس کے علاوہ بھی آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو کئی اعزاز حاصل ہوئے جن میں سے چند یہ ہیں : ( 1 ) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو حلال وحرام کا سب سے بڑا عالِم فرمایا ۔ ( ) ( 2 ) حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو اچھا مرد ارشاد فرمایا ۔ ( ) (3 ) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جن انصاری صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے بیعت عقبہ فرمائی آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی ان میں شامل تھے ۔ ( ) (4 ) آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے ۔ ( ) (5 ) حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’کل بروزِ قیامت معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُعلما کے آگے ہوں گے ۔ ‘‘ ( ) ( 6 ) سرکارِ دوعالَم نورِمجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چار آدمیوں سے قرآن پڑھنے کا حکم دیا اُن میں سے ایک حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی ہیں ۔ ( ) (7 ) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خود

آپ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ ( ) (
8 ) جبرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو الوداع کیا تو یوں دعا دی : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری آگے ، پیچھے ، دائیں ، بائیں ، اوپر ، نیچے سے حفاظت فرمائے اور تم سے جن وانس کے شرور کو دور رکھے ۔ ‘‘ ( )
¥
ذِکر ، شکر اور اچھی عبادت سے مراد :حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ہر نماز کے بعد صبر وشکر اور حسن عبادت پر مدد کی دعا کی ترغیب ارشاد فرمائی ۔ ذکر ، صبر اورشکر سے کیا مراد ہے ؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئےعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ذکر قرآنِ پاک اور تمام اَذکار کو شامل ہے ، شکر سے مرادتمام ظاہری وباطنی ، دینی و دُنیوی نعمتوں کا شکر ہے کہ جن کا اِحاطہ ممکن نہیں اور اچھی عبادت سے مراد تمام شرائط ، اَرکان ، سُننن ، خشوع و خضوع ، اِخلاص ، دِل جمعی اور کامل توجہ سے عبادت کرنا ہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
سیدنا ’’معاذ بن جبل ‘‘ کے 9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 9مدنی پھول
(1)
کسی کااَزراہ ِشفقت ومحبت ہاتھ پکڑ کر کلام کرنا بالکل جائز اور سنت سے ثابت ہے ۔
(2) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو اپنے آپ سے مانوس رکھا کرتے تھے ۔
(3) حضور نبی اکرم شفیع معظم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے پیارے صحابی حضرت سیدنا معاذ بن جبل
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بہت زیادہ محبت تھی بلکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اپنی اس محبت کا اظہار بھی فرمایا ۔
(4)
رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا ہاتھ پکڑ کر گویا ان سے عقد محبت اور بیعت محبت فرمائی ۔
(5) جب کسی سے رضائے الٰہی کے لیے محبت ہوجائے تو محبت کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ جس سے محبت کرتا ہے اسے بتادے تاکہ دونوں میں مزید محبت والفت بڑھ جائے ۔
(6) حضرت سیدنا معاذ بن جبل
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے لیے یہ بہت بڑے اعزازکی بات ہے کہ آپ سے خوداللہ عَزَّ وَجَلَّکے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممحبت فرمایا کرتے تھے ۔
(7) حضرت سیدنا معاذ بن جبل
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بارگاہ رسالت سے کئی اعزازات حاصل ہوئے ۔
(8)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ہم پر اتنی عنایتیں اور نعمتیں ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا نا ممکن ہے ، لہذا ہمیں اس کی نعمتوں کا ہر دم شکر ادا کرنا چاہیے ۔
(9) اچھی عبادت وہ ہے جوتمام شرائط وارکان ، سنن ، خشوع وخضوع ، اخلاص و دل جمعی اور کامل توجہ کے ساتھ ادا کی جائے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اپنے مسلمان بھائیوں سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں بھی حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی پکی محبت نصیب فرمائے ، حضرت سیدنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے صدقے ہمیں بھی اپنے سچے ذکر ، شکر اور عبادت کرنے کی توفیق عطاد فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 384