Main Icon

باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1246

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَ يْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ:شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ وَاَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيْضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ.

عن ابي هر يرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: افضل الصيام بعد رمضان:شهر الله المحرم وافضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حُضورتاجدارِرِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”رمضان کےبعد افضل روزےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے۔“

شرح حدیث

اﷲکا مہینا:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں:”ظاہر یہ ہے کہ محرم سے مراد عاشورہ کا دن ہے نہ کہ سارا ماہِ محرم ورنہ نبی کریمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمشعبان کے روزے زیادہ رکھا کرتےچونکہ عاشورہ کا دن محرم میں واقع اور عاشورہ میں بڑے اہم واقعات ہوچکےہیں آدمعَلَیْہِ السَّلَامکی توبہ کی قبولیت، نوحعَلَیْہِ السَّلَامکی کشتی کا جودی پہاڑ پرٹھہرنا، یعقوبعَلَیْہِ السَّلَامکا اپنے فرزند یوسفعَلَیْہِ السَّلَامسے ملنا،فرعون کا غرق اورموسیٰعَلَیْہِ السَّلَامکی نجات،ایوبعَلَیْہِ السَّلَامکی شفا،یونسعَلَیْہِ السَّلَامکا مچھلی کے پیٹ سے باہر آنا وغیرہ عاشورہ ہی کے دن ہوئے،بعد میں شہادتِ امام حسینرَضِیَ اﷲ عَنْہُاور قیامت کا آنا اسی دن میں ہونے والا تھا اس لیے سارے محرم کوﷲ کا مہینہ فرمایا گیا یعنی ﷲکے محبوبوں کا مہینہ کہ جو ﷲ کے بندوں کا ہوجائے وہاﷲکا ہوجاتا ہے اورجس دن یا جس مہینہ میں کوئی اہم کام ہوا ہو اس میں عبادتیں کرنا بہتر ہے لہٰذا ربیع الثانی کی گیارہویں، ربیع الاول کی بارھویں،رجب کی ستائیسویں افضل تاریخیں ہیں اور ان میں عبادات،روزہ،نوافل،میلاد شریف وغیرہ کرنا بہت بہتر ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدرات کی نماز کی افضیلت کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”فرض کے بعدرات کی نماز افضل اس لئے ہےکہ اس میں ریاکاری سے دوری ہے، اخلاص سے قریب تر ہے،اس کے سبب بغیر رکاوٹ کے بارگاہِ الٰہی میں حضوری ہوتی ہے،یہ تجلیاتِ الٰہیہ کا وقت ہے اور اس وقت فیوضِ رَبَّانِیہ بانٹے جاتے ہیں۔“مدنی گلدستہ’’محرم‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) رمضان کے بعد افضل روزہ عاشورہ کا ہے ۔
(2) جن دِنوں میں کوئی دینی نعمت ملے ان میں عبادت زیادہ کرنی چاہیے۔
(3) فرائض ،واجبات اورسُننِ مُؤکَّدہ کے بعد نمازِ تہجد کا درجہ ہے۔
(4) نمازِ تہجد کی افضلیت کی وجہ یہ ہے کہ یہ ریا سے دور اور اخلاص سے قریب ہوتی ہے اس کے سبب بغیر رکاوٹ بارگاہِ الٰہی میں حضوری نصیب ہوتی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1246