Main Icon

باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1247

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُوْمُ مِنْ شَهْرٍ اَكْثَـرَ مِنْ شَعْبَانَ فَاِنَّهُ كَانَ يَصُوْمُ شَعْبَانَ كُلَّهُ.وَفِيْ رِوَايَةٍ: كَانَ يَصُوْمُ شَعْبَانَ اِلَّا قَلِيْلًا.

عن عائشۃ رضي الله عنها قالت:لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يصوم من شهر اكثـر من شعبان فانه كان يصوم شعبان كله.وفي رواية: كان يصوم شعبان الا قليلا.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ نہ رکھا کرتے بلکہ پورے شعبان ہی کے روزے رکھ لیا کرتے تھے ۔“ایک روایت میں ہے: ”تھوڑے دنوں کے علاوہ سارے شعبان کے روزے رکھتے۔“

شرح حدیث

شعبان میں کثرت سے روزے رکھنے کی وجہ :حضرت سَیِّدُنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:” میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں دیکھتا ہوں کہ جس طرح آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشعبان میں روزے رکھتے ہیں اس طرح کسی بھی مہینے میں نہیں رکھتے۔ارشاد فرمایا: ”یہ مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان میں ہے ،لوگ اس سے غافل ہیں ،اس میں لوگوں کے اَعمالاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور مجھے یہ محبوب ہے کہ میرا عمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزہ دار ہوں۔“
مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”آپ (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)رمضان کے علاوہ باقی تمام مہینوں میں روزے ضرور رکھتے تھے مگر شعبان میں زیادہ رکھتے تھے۔ کُل شعبان سے مراد قر یبًا کل ہےچونکہ شعبان رمضان کا پڑوسی ہے اس لیے وہ بھی حُرمت والا ہے،نیز اس مہینہ میں رمضانی عبادات کی تیاری کرنا چاہیے،اس لیے اس ماہ میں نفلی نماز روزے کثرت سے ادا کرنا بہتر ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1247