Main Icon

باب: سونے کی دعا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 814

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَراءِ بْنِ عَازِبٍ رَضيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اِذَا اَوٰى اِلٰى فِرَاشِهِ نَامَ عَلَى شِقَّهِ الْاَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ:اللّٰهُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِيْ اِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِيْ اِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِيْ اِلَيْكَ وَاَلْجَاْتُ ظَهْرِيْ اِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً اِلَيْكَ لَامَلْجَاَ وَلَا مَنْجَا اِلَّا اِلَيْكَ اٰمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ اَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِيْ اَرْسَلْتَ.

عن البراء بن عازب رضي الله عنهما قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اوى الى فراشه نام على شقه الايمن ثم قال:اللهم اسلمت نفسي اليك ووجهت وجهي اليك وفوضت امري اليك والجات ظهري اليك رغبة ورهبة اليك لاملجا ولا منجا الا اليك امنت بكتابك الذي انزلت ونبيك الذي ارسلت.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنابراء بن عازِبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب بستر پر تشریف لاتے تو دائیں پہلو پر آرام فرما ہوتے پھر یہ کلمات پڑھتے:”اَللّٰهُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِيْ اِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِيْ اِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِيْ اِلَيْكَ وَاَلْجَاْتُ ظَهْرِيْ اِلَيْكَ رَغْبَةً وَّرَهْبَةً اِلَيْكَ لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَا اِلَّا اِلَيْكَ اٰمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ اَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَیعنی اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں نے اپنے نفس کو تیرے حوالے کیا،اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کیا ،اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا،میں نے اپنی پشت تیری پناہ میں دی تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے،تیری بارگاہ کے سوا کوئی جائے پناہ اور کوئی جائے نجات نہیں،میں تیری اُتاری ہوئی کتاب اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لایا۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآرام فرمانے کے لیے جب اپنے مبارک بستر پر تشریف لاتے تو دائیں پہلو پر آرام فرما ہوتے ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ دائیں کروٹ پر سونا سنت مبارکہ ہے اورآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسونے سےپہلے مذکورہ کلمات پڑھتے۔خدا کے قرآن کے مومن:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: نفس سے مراد ذات یا جان ہے اور وَجْہ سے مراد چہرہ یا توجہ یا دل کا رُ خ یا ان دونوں جملوں میں اپنے ظاہر و باطن کی طرف اشارہ ہے یعنی الٰہی میر ا باطِن بھی تیرے مُطِیع ہے کہ اس میں ریا (شرک)سرکشی نہیں اور میرا ظاہر بھی تیرا فرمانبردار کہ میرا کوئی عضو باغی نہیں،غرضکہ میرا اپنا کچھ نہیں،سب کچھ تیرا ہے،سوتے وقت یہ کلمات اِس لیے عرض کیے تاکہ معلوم ہوکہ میرا سونا بھی تیرے حکم کے ماتحت ہے۔(اپنا معاملہ تیرے سپرد کیاتیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے )لہٰذا مجھے اندرونی و بیرونی آفات سے بچالے اور میری معاش و معاد اچھی کر دے،رغبت تو تفویض کے لحاظ سے ہے اور ہیبتاَلْجَاْتُکے اعتبار سے ہے،چونکہ بیداری میں انسان کچھ ذمہ دار ہوتا ہے اور بااختیار مگر سوجانے پر سب کچھ کھو بیٹھتا ہے اِسی لیے اس موقعہ پر یہ دعا بہت ہی موزوں ہے،نیز سوتے وقت یہ خبر نہیں ہوتی کہ اب سویرے کو اٹھوں گا یا قیامت میں اس لیے یہ کہہ کر سونا بہتر ہے کہ خدایا اب سب کچھ تیرے سپرد۔(تیری بارگاہ کے سوا کوئی جائے پناہ اور کوئی جائے نجات نہیں۔)یعنی تیرے غضب سے پناہ صرف تیری رحمت کے دامن میں ہی مل سکتی ہے اور تیری پکڑ سے رہائی صِرف توہی دے سکتا ہے،تیرے غضب کی آگ کو صِرف تیری رحمت ہی کا پانی بجھاسکتا ہے،اگر تو عدل کرے تو اُونچے اُونچے کانپ جائیں اگر فضل فرمائے تو گنہگاروں کی بھی اُمید بندھ جائے۔شعر
عَدْل کریں تے تَھر تَھر کَنْبَن اُچِیَاں شاناں والے
فَضْل کریں تے بخشے جاوَن میں جیہے مُنْہ کالے
(میں تیری اُتاری ہوئی کتاب اور تیرے بھیجے ہوئےنبی پر ایمان لایا۔) کتاب سے مراد قرآن شریف ہے اور نبی سے مراد حضورمحمد مصطفےٰ
صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمہیں اور یہ الفاظ ہماری تعلیم کے لیے ہیں ورنہ حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمیہ فرماتے کہ میں اپنی رسالت پر ایمان لایا۔مذکورہ کلمات کی فضیلت:حضرت سَیِّدُنا براء بن عازِبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو مذکورہ کلمات کہے پھر اسی رات مرجائے تو ایمان پر مرے گا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 814