باب: سونے کی دعا کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرت سَیِّدُنابراء بن عازِبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب بستر پر تشریف لاتے تو دائیں پہلو پر آرام فرما ہوتے پھر یہ کلمات پڑھتے:”اَللّٰهُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِيْ اِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِيْ اِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِيْ اِلَيْكَ وَاَلْجَاْتُ ظَهْرِيْ اِلَيْكَ رَغْبَةً وَّرَهْبَةً اِلَيْكَ لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَا اِلَّا اِلَيْكَ اٰمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ اَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَیعنی اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں نے اپنے نفس کو تیرے حوالے کیا،اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کیا ،اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا،میں نے اپنی پشت تیری پناہ میں دی تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے،تیری بارگاہ کے سوا کوئی جائے پناہ اور کوئی جائے نجات نہیں،میں تیری اُتاری ہوئی کتاب اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لایا۔“

عَنِ الْبَراءِ بْنِ عَازِبٍ رَضيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اِذَا اَوٰى اِلٰى فِرَاشِهِ نَامَ عَلَى شِقَّهِ الْاَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ:اللّٰهُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِيْ اِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِيْ اِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِيْ اِلَيْكَ وَاَلْجَاْتُ ظَهْرِيْ اِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً اِلَيْكَ لَامَلْجَاَ وَلَا مَنْجَا اِلَّا اِلَيْكَ اٰمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ اَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِيْ اَرْسَلْتَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 814 ، باب: سونے کی دعا کا بیان

حضرت سَیِّدُنا براء بن عازِبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا:”جب اپنے بستر پر جانے کا اِرادہ کرو تو نماز جیسا وضو کرلو پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاؤ اور یہ کلمات کہو۔‘‘پھرآپ نے گزشتہ حدیث میں مذکور دعا ذکر کی اور فرمایا :’’تم ان کلمات کو (سونے سے پہلے) اپنی آخری بات بنالو۔‘‘

عَنِ الْبَراءِ بْنِ عَازِبٍ رَضيَ اللَّهُ عَنْه قَالَ:قَالَ لِي رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اِذَا اَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّاْ وُضُوْ ءَكَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الاَيْمَنِ وَقُلْ .. . وَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيْهِ: وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُوْلُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 815 ، باب: سونے کی دعا کا بیان

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات میں گیارہ رکعات پڑھتے جب صبح طلوع ہوتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے پھر دائیں پہلو پر آرام فرما ہوتے یہاں تک کہ مؤذن آکر آپ کو اِطلاع کرتا۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ اِحْدَى عَشَرَةَ رَكْعَةً فَاِذَاطَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْاَيْمَنِ حَتّٰى يَجِيْءَ الْمُؤَذِّنُ فَيُوْذِنَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 816 ، باب: سونے کی دعا کا بیان

حضرت سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو بستر پر لیٹتے وقت دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھتے پھر فرماتے:’’اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ اَمُوْتُ وَ اَحْيَایعنی اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تیرے نام کے ساتھ مرتا اور جیتا ہوں۔‘‘(یعنی سوتا اور جاگتا ہوں)اور جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجاگتے تو فرماتے:”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِيْ اَحْيَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَآ وَ اِلَيْهِ النُّشُوْرُیعنی تمام تعریفیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے لیے ہیں کہ جس نے ہمیں مرنے(سونے)کے بعد زندہ (بیدار ) کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔“

عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ يَقُوْلُ:اللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ اَمُوْتُ وَ اَحْيَا وَ اِذَا اسْتيْقَظَ قَالَ:اَلْحَمْدُلِلَّهِ الَّذِيْ اَحْيَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 817 ، باب: سونے کی دعا کا بیان

حضرت سَیِّدُنایعیش بنظخفہغِفاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَااپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا:میں مسجد میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ اچانک ایک شخص نے اپنے پاؤں سے مجھے حرکت دی اور کہا:”اس طرح لیٹنااللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو نا پسند ہے۔“ میں نے دیکھا تو وہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتھے ۔

عَنْ يَعِيْشَ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ اَبيْ بَيْنَمَا اَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَطْنِي اِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِيْ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: اِنَّ هٰذِهِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللهُ قَالَ: فَنَظرْتُ فَاِذَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 818 ، باب: سونے کی دعا کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”جو کسی مجلس میں بیٹھےاور اس میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لئےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے حسرت وخسارہ ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور ذِکرِ الٰہی نہ کرے تو اس کے لیے بھیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ندامت ہوگی۔“

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًالَمْ يَذْكُرِ اللهَ تَعَالَى فِيْهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تَعَالَى تِرَةٌ وَمَنِ اضْطَجَعَ مُضْجَعًا لَايَذْكُرُ اللهَ تَعَالَى فِيْهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تِرَةٌ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 819 ، باب: سونے کی دعا کا بیان