Main Icon

باب: سونے کی دعا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 817

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ يَقُوْلُ:اللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ اَمُوْتُ وَ اَحْيَا وَ اِذَا اسْتيْقَظَ قَالَ:اَلْحَمْدُلِلَّهِ الَّذِيْ اَحْيَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ.

عن حذيفة رضي الله عنه قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اخذ مضجعه من الليل وضع يده تحت خده ثم يقول:اللهم باسمك اموت و احيا و اذا استيقظ قال:الحمدلله الذي احيانا بعد ما اماتنا واليه النشور.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو بستر پر لیٹتے وقت دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھتے پھر فرماتے:’’اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ اَمُوْتُ وَ اَحْيَایعنی اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تیرے نام کے ساتھ مرتا اور جیتا ہوں۔‘‘(یعنی سوتا اور جاگتا ہوں)اور جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجاگتے تو فرماتے:”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِيْ اَحْيَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَآ وَ اِلَيْهِ النُّشُوْرُیعنی تمام تعریفیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے لیے ہیں کہ جس نے ہمیں مرنے(سونے)کے بعد زندہ (بیدار ) کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔“

شرح حدیث

لیٹنے کا سنت طریقہ :میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو لیٹتے وقت اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور پھر سوتےوقت کی دعا پڑھتےاور جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنیند سے بیدار ہوتے تو جاگنے کی دعا پڑھتے ،لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے معاملات سے فراغت کے بعدجب سونے لگیں تو سنت پر عمل کی نیت سےسنت کے مطابق اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھیں اور سونے کی دعا پڑھ کر سوئیں اسی طرح جب نیند سے بیدارہوں تو جاگنے کی دعا بھی پڑھیں ۔اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت، پروانہ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:’’سنّت یوں ہے کہ قُطْب(یعنی شِمال) کی طرف سَر کرے اور سیدھی کروٹ پر سوئے کہ سونے میں بھی منہ کعبے کو ہی رہے۔‘‘دنیا میں ہر جگہ قُطْب تارہ شمال کی جانب نہیں پڑے گا لہٰذادُنیا کے کسی بھی حصے میں سوئیں اور سریاپاؤں کسی بھی سَمت ہوں بس سیدھی کروٹ اس طرح سوئیں کہ چہرہ قبلے کی طرف رہے،سنّت ادا ہو جائے گی۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدموت کی تیاری :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو لیٹتے وقت دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھتے۔ ہو سکتا ہے یہ عاجزی کے اِظہار کے لئے ہو اورموت کے حال کا شعوردلانے کے لئے ہو۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ اس لیے کیا تا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی امت آپ کی اقتدا کرے اور موت سے بے خوف نہ ہو کہ نیند کی حالت میں اچانک موت آ جائے گی اور اچانک موت کے آنے پر موت کی تیاری پر ہوں ۔پس نیند، بیداری اور اپنے تمام احوال میں موت کے لیے تیار ر ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اَللّٰھُمَّ بِکَ اَمُوْتُ وَ اَحْیَاء وَ اِلَیْکَ النُّشُوْریعنی اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں تیرے نام سے مرتااور جیتا ہوں اور تیری ہی طرف آنا ہے ۔‘‘نیند موت کا نمونہ ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:حضور انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسیدھی کروٹ پر لیٹتے،داہنا ہاتھ داہنے رخسار کے نیچے رکھتے تھے۔قبر میں میت کی ہیئت بھی یہ ہی ہوتی ہے،چونکہ نیند موت کا نمونہ ہے اسی لیے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا بستر قبر کے نمونہ کا ہوتا تھا تاکہ لیٹنے کے وقت موت یاد آئے کہ کبھی قبر میں بھی لیٹنا ہے۔یہاں موت و زندگی سے مراد سونا جاگنا ہے،ربّ تعالیٰ کا نام شریفمُمِیْتبھی ہے اورمُحْیِیبھی یعنیمُمِیْتکے نام پر مروں گا اورمُحْیِیکے نام پر جیوں گا یعنی بیدار ہوں گا کہ میرے یہ دو حال تیرے ان دو ناموں کا مظہر ہیں۔ یہ جاگنا یہ کل قیامت میں اٹھنے کی دلیل ہے۔نُشُور نَشَرسے بنا بمعنی متفرق ہونا،پھیل جانا،اسی سے انتشار اور منتشر بنا،جاگنے کونُشُوراسی لیے کہتے ہیں کہ بندے جاگ کر طلبِ رزق وغیرہ کے لیے پھیل جاتے ہیں اور بکھر جاتے ہیں۔خیال رہے کہ عربی میں نیند،سکون،بے عقلی،جہالت،بھیک مانگنے،گناہ،بڑھاپے،ناگوار حالت جیسے ذلت،فقر و غیرہ کو موت کہہ دیتے ہیں اور ان کے مقابل کو حیات یعنی زندگی،یہاں موت بمعنی نیند ہے اور احیاء بمعنی بیداری،ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ﴾(پ۸،الانعام:۱۲۲) (ترجمہ ٔکنز الایمان:اور کیا وہ کہ مردہ تھا تو ہم نے اسے زندہ کیا۔)اور فرماتا ہے:﴿اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى﴾(پ۲۰، النمل:۸۰) (ترجمہ ٔکنز الایمان:بیشک تمہارے سنائے نہیں سنتے مردے۔) ان دونوں آیتوں میں موت سے مراد جہالت ہے اور میت سے مراد جاہل و کافر۔سونے کی نیتیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بلاشبہ اچھی نیت کرنا ایک ایسا عمل ہے جو محنت کے اعتبار سے بے حد ہلکا، لیکن اجروثواب کے لحاظ سے حددرجہ عظیم ہے جتنی اچھی نیتیں زیادہ ہوں گی اتنا ہی ثواب بھی زیادہ ہو گا لہٰذا ہمیں بھی چا ہیے کہ ہر نیک عمل سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرلیں حتّٰی کہ سونے سے پہلے بھی۔شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنےاپنے رسالے ’’ثواب بڑھانے کے نسخے ‘‘ صفحہ 38 پر سونے کی یہ نیتیں بیان فرمائی ہیں:(1)احتیاطاً تجدیدِ ایمان اور ہر گناہ سے توبہ کروں گا۔ (2) باوضو،سونے کی دعا،آیۃُ الْکُرسیوغیرہ پڑھ کر سب سے آخر میںسُوْرَۃُ الْکٰفِرُوْنپڑھوں گا۔(3)سوتے وقت قبر میں سونے کو یاد کرو ں گا۔(4)سیدھی کروٹ پر سیدھا ہاتھ رخسار (یعنی گال )کے نیچے رکھ کر قبلہ رو سوؤں گا۔(5)معمول کے مطابق اوراد پڑھنے کے بعد کوشش کروں گا کہ زبان پرمسلسلذِکرُاللّٰہجاری رہے اور اسی حالت میں نیند آجائے۔(6)جاگنے پر مسنون دعا پڑھوں گا ۔مدنی گلدستہ’’قیامت ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر سونا سنت مبارکہ ہے ۔
(2) نیند، بیداری اور اپنے تمام اَحوال میں موت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
(3) نیند موت کا نمونہ ہے اسی لیے حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکا بستر قبر کے نمونہ کا ہوتا تھا تاکہ لیٹنے کے وقت موت یاد آئے کہ کبھی قبر میں بھی لیٹنا ہے۔
(4) عربی میں نیند،سکون،بے عقلی،جہالت،بھیک مانگنے،گناہ،بڑھاپے،ناگوار حالت جیسے ذلت،فقر وغیرہ کو بھی موت کہہ دیتے ہیں۔
(5) سونے سےپہلے اچھی اچھی نیتیں کرلیں کہ جتنی اچھی نیتیں زیادہ اتنا ثواب بھی زیادہ ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سو نے جاگنے میں سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 817