Main Icon

باب: سونے کی دعا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 818

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ يَعِيْشَ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ اَبيْ بَيْنَمَا اَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَطْنِي اِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِيْ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: اِنَّ هٰذِهِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللهُ قَالَ: فَنَظرْتُ فَاِذَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عن يعيش بن طخفة الغفاري رضي الله عنهما قال:قال ابي بينما انا مضطجع في المسجد على بطني اذا رجل يحركني برجله فقال: ان هذه ضجعة يبغضها الله قال: فنظرت فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنایعیش بنظخفہغِفاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَااپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا:میں مسجد میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ اچانک ایک شخص نے اپنے پاؤں سے مجھے حرکت دی اور کہا:”اس طرح لیٹنااللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو نا پسند ہے۔“ میں نے دیکھا تو وہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتھے ۔

شرح حدیث

اُلٹا لیٹنا جہنمیوں کا طریقہ ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں لیٹنے کی ایک قبیح صورت یعنی پیٹ کے بل لیٹنے کا بیان ہے۔پیٹ کے بل یعنی الٹا لیٹنااللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو نا پسند ہےاور ہمیں ہر اس کام سے بچنا چاہیے جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو نا پسند ہو۔ایک حدیث پا ک میں الٹا لیٹنے کو جہنمیوں کا طریقہ کہا گیا ہے۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنا ابو اُمامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ حُضُور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو مسجد میں اُلٹا سو رہا تھا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے پاؤں سے ٹھوکر مار کر فرمایا :” اُٹھو ! یہ جَہَنَّمیوں کا لیٹنا ہے ۔“اہل غفلت کا سونا:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: یعنی اوندھے لیٹنے کواللّٰہتعالیٰ پسند نہیں کرتا بلکہ اس سے ناراض ہوتاہے کہ اس طرح سونے سے غفلت پیدا ہوتی ہے،اس طرح سونے میں سینہ اور چہرہ جو اَشرف اعضاء ہیں زمین پر رگڑتا ہے سر تو سجدہ ہی میں زمین پر رکھا جاوے نہ کسی اور کے سامنے نہ سوتے میں۔صوفیا فرماتے ہیں کہ سونا چار قسم کا ہے: پُشت پر سونا یعنی چِت یہ سونا اہل عبرت کا ہے،داہنی کروٹ پر سونا یہ اہل عبادت کا سونا ہے،بائیں کروٹ پر سونا یہ اہل اِستراحت کا سونا ہے،پیٹ کے بل سونا یہ سونا اہل غفلت کا ہے۔(صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ اوندھے سونا دوزخیوں کا (طریقہ)ہوگا اور لوطی لوگ ایسے سوتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 818