Main Icon

باب: سونے کی دعا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 815

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَراءِ بْنِ عَازِبٍ رَضيَ اللَّهُ عَنْه قَالَ:قَالَ لِي رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اِذَا اَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّاْ وُضُوْ ءَكَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الاَيْمَنِ وَقُلْ .. . وَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيْهِ: وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُوْلُ.

عن البراء بن عازب رضي الله عنه قال:قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:اذا اتيت مضجعك فتوضا وضو ءك للصلاة ثم اضطجع على شقك الايمن وقل .. . وذكر نحوه وفيه: واجعلهن آخر ما تقول.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا براء بن عازِبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا:”جب اپنے بستر پر جانے کا اِرادہ کرو تو نماز جیسا وضو کرلو پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاؤ اور یہ کلمات کہو۔‘‘پھرآپ نے گزشتہ حدیث میں مذکور دعا ذکر کی اور فرمایا :’’تم ان کلمات کو (سونے سے پہلے) اپنی آخری بات بنالو۔‘‘

شرح حدیث

با وضو سونے کا فائدہ :عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:حدیث پاک میں سونے سے پہلے وضو کرنے کا حکم استحباب کے لیے ہے اور اس حدیث کے فوائد میں سے یہ ہے کہ بندہ طہارت اور پاکیزگی پر رات گزارے تاکہ اچانک موت آنے کی صورت میں وہ ہیئتِ کاملہ پر ہو۔ یہ بھی پتا چلا کہ موت کے لئے دل کی پاکیزگی کے ساتھ تیاری کرنا مستحب ہے کیونکہ بدن کی پاکیزگی سے دل کی پاکیزگی اولیٰ ہے۔حدیث پاک میں دائیں کروٹ پر سونے کی تخصیص ہے اس کا فائدہ یہ ہے کہ دائیں کروٹ پر سونے سے آدمی جلدی بیدار ہو جاتا ہے اور چونکہ دل بھی دائیں جانب مُعَلَّق رہتا ہے اس لیے انسان نیند سے بوجھل نہیں ہوتا ۔علامہ ابنِ جوزیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنےکہا:اَطِبّانےاس بات کی تصریح کی ہے کہ دائیں کروٹ پر سونابدن کی تندرستی کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے اور یہ بھی کہا کہ تھوڑی دیر دائیں کروٹ پر سوئے پھر بائیں کروٹ سوئے کہ سیدھی کروٹ پر لیٹنے سے کھانا نیچے اُترتا ہے اور بائیں کروٹ پر لیٹنے سے کھانا جلد ہضم ہوتا ہے۔
علامہ غلام رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:سوتےوقت وضو اور دعا کرنا مستحب ہے کیونکہ سوتے ہوئے رُوح قبض ہوجائے تو اُس کا خاتمہ وضو اور دعا پر ہوگا ۔اگر سونے سے پہلے ہی وہ شخص متوضّی(باوضو )ہو توتجدیدِ وضو ( دوبارہ وضو ) کی ضرورت نہیں کیونکہ مقصد یہ ہے کہ سونا طہارت پر ہو اور خواب سچا ہو اور شیطان اس کے ساتھ نہ کھیلے۔وضو نہ کرسکے تو تیمم کرے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:اگر سوتے وقت تمہارا وضو نہ ہو تو اس اہتمام سے وضو کرلو جس اہتمام سے نماز کے لیے کرتے ہو مع مِسواک و ادائے سنن و مستحبات،یہ حکم اِستحبابی ہے،اگر اس وقت تیمم بھی کرے جب بھیاِنْ شَآءَ اللّٰہیہ ہی فائدہ ہوگا۔نماز یا ذِکر میں شمار:امام مجاہدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ مجھ سے حضرت سَیِّدُنَا ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”تم بغیر وضو کے ہر گز نہ سونا کیونکہ روحیں اسی کیفیت پر اٹھائی جاتی ہیں جس کیفیت میں ان کو قبض کیا جاتا ہے ۔“حضرت ابوتوبہ عجلیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں جو شخص با وضو اپنے بستر پر گیایااللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر کرتے ہوئے سویا تو اس کا بستر مسجد ہو گا اور ا س کا شمار نمازپڑھنے والوں یا ذِکر کرنے والوں میں ہی ہوگا یہاں تک کہ وہ جاگ جائے۔دنیا وآخرت کی خیرملنے کا نسخہ:حضرت سَیِّدُنا معاذرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جو مسلماناللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر کرتے ہوئے با وضو سوئےپھر رات کو وہ کسی وقت اٹھے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دنیا و آخرت کی خیر کا سوال کرے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کو وہ خیر عطا فرماتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’طہارت‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکور ہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) دائیں کروٹ پر سونا سنتِ مبارکہ ہے ۔
(2) دائیں کروٹ پر سو نا صحت کے لیے مفید ہے اور اس طرح سونے سے انسان جلدی بیدار ہوجاتا ہے۔
(3) موت کے لئے دل کی پاکیزگی کے ساتھ تیاری کرنا مستحب ہے۔
(4) باوضو سونے سے خواب سچے آتے ہیں اور شیطان کے شر سے حفاظت ہوتی ہے۔
(5) سونے سے پہلے وضو کر لینا چاہیے کہ وضو کی حالت میں فوت ہونے والاروزِ محشر با وضو اٹھایا جائےگا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق با وضو سونے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 815