Main Icon

باب: سونے کی دعا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 816

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ اِحْدَى عَشَرَةَ رَكْعَةً فَاِذَاطَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْاَيْمَنِ حَتّٰى يَجِيْءَ الْمُؤَذِّنُ فَيُوْذِنَهُ.

عن عائشة رضي الله عنها قالت:كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل احدى عشرة ركعة فاذاطلع الفجر صلى ركعتين خفيفتين ثم اضطجع على شقه الايمن حتى يجيء المؤذن فيوذنه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات میں گیارہ رکعات پڑھتے جب صبح طلوع ہوتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے پھر دائیں پہلو پر آرام فرما ہوتے یہاں تک کہ مؤذن آکر آپ کو اِطلاع کرتا۔

شرح حدیث

آٹھ رکعت تہجد:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:(نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات میں گیارہ رکعات پڑھتے)اس طرح کہ آٹھ رکعت تہجد پڑھتے تھے تین رکعت و تر۔خیال رہے کہ بغیر عشاء پڑھے تہجد نہیں ہوسکتی۔( جب صبح طلوع ہوتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے پھر دائیں پہلو پر آرام فرما ہوتے) جب خوب روشنی ہوجاتی تو سنتِ فجر ادا فرماتے۔اس سے معلوم ہوا کہ فجر اجیالے میں پڑھنا سنت ہے اس طرح کہ سنتیں بھی بلکہ اذان فجر بھی اجیالے میں ہو ۔(یہاں تک کہ مؤذن آکر آپ کو اطلاع کرتا)یعنی حضرت بلال جماعت کے وقت در دولت پر حاضر ہو کر عرض کرتے کہ کیا تکبیر کہوں، آپ اجازت دیتے تب وہ صف میں پہنچ کر تکبیر شروع کرتے جب’’حَیَّ عَلَی الْفَلَاح‘‘پر پہنچتے تو آپ دروازہ شریف سے مسجد میں داخل ہوتے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ سنت فجر سے بعد داہنی کروٹ پر کچھ دیر لیٹ جانا سنت ہے بشرطیکہ نیند نہ آجائے ورنہ وضو جاتا رہے گا۔دوسرے یہ کہ سلطانِ اِسلام ،عالِمِ دین کو اذان کے علاوہ بھی نماز کی اطلاع دینا جائز ہے۔دائیں جانب کو بائیں پر فضلیت حاصل ہے :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:دائیں جانب سونا یہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہیئات میں سے ایک ہیئت ہے جو حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماختیار کیا کرتے تھے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی بہتر جانتا ہے یہ ہیئت لیٹنے میں زیادہ مناسب اور ملائم ہےیا آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس لیے دائیں پہلو پر لیٹتے کہ دائیں جانب کو بائیں جانب پر فضیلت حاصل ہے ۔سنت فجر کے بعد کچھ دیر لیٹنامستحب ہے:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:اس حدیث میں دو باتیں ہیں ۔پہلا سنت فجر کے بعد سونا اوردوسرا دائیں پہلو پر سونا۔پہلی باتکے متعلق تو یہ ہے کہ بعض ظاہریہ اس سونے کو واجب قرار دیتے ہیں اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ بعض اسے فرض نماز کی صحت کی شرط قرار دیتے ہیں کہ اگر نہ سوئے گا تو اس کی فرض نماز باطل ہوجائے گی اور ایک جماعت اس وقت سونے کو مکروہ قرار دیتی اور بدعت کہتی ہے ۔پوشیدہ نہ رہے کہ اسے بدعت کہنا حق سے بعید بات ہے کیونکہ اس وقت نیند کے بارے میں احادیث صحیحہ وارد ہیں۔لہٰذا یوں کہا جائے گا کہ اولاً سونا جائز تھا بعد میں منسوخ ہوگیایا اس وقت نیند کرنا حضورِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خصائص میں سے ہےیا اس نیند کو راحت طلب کرنے کے ارادے سے لیٹنےپر محمول کیا جائے گا نہ کہ اس وقت سونے کو عبادت قرار دیاجائے۔یوں ہی اس نیند کو واجب وضروری قرار دینا بھی بعید ہے کیونکہ اس بارے میں روایات مختلف آئی ہیں اور بعض روایات میں سونے کا ذِکرنہیں ہے صرف اس قدر آیا ہے کہ آپ سنتیں پڑھتے اور باہر مسجد کی طرف نکل آتے۔قول مختار و پسندیدہ یہ ہے کہ فجر کی سنتیں پڑھ کر کچھ دیر آرام کرنا مستحب ہے مکروہ یا واجب نہیں۔ امام ابو حنیفہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: اگر ارادے سے سوئے کہ قدر آرام حاصل کرلے اور نمازِ تہجد کے باعث جو ثقل و تھکاوٹ لاحق ہوچکی ہے دور ہوجائے تو بہتر ہے۔حضور پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی اسی ارادے کے تحت نیند کرتے تھے ۔امام مالکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکا بھی یہی مذہب ہے۔دوسری باتیعنی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکادائیں پہلو پر سونا تو یہ آپ کی ہمیشہ عادت مبارکہ تھی ۔علما نے کہا ہے کہ اس میں حکمت یہ ہے تاکہ گہری نیند میں نہ سوجائیں۔حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نیند ہلکی رکھنے اور رات کو بیداری میسر آنے کے لئے دائیں پہلو کو اختیار فرمایا اور اس مقصد کے حصول کے لئے کم کھانا بھی ضروری ہے۔
واضح ہوکہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد دائیں پہلو پر سوجاتے تھے یہاں تک کہ آپ کے خراٹوں کی آواز سنائی دیتی تھی ۔اس کے بعد اٹھتے اور تازہ وضو کئے بغیر نماز کے لئے تشریف لے جاتے ۔نیند سے وضوکا نہ ٹوٹنا حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خصوصیات میں سے ہے ۔مدنی گلدستہ’’سنت فجر‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) گھر میں فجر کی سنتیں ادا کرکے فرض پڑھنے کے لیےمسجد جانا سنت ہے۔
(2) عشاء پڑھے بغیر تہجد ادا نہیں ہوسکتی۔
(3) فجر کی نماز اُجالے میں پڑھنا سنت ہے۔
(4) بادشاہِ اسلام اور عالِمِ دِین کو اذان کے علاوہ بھی نماز کی اطلاع دینا جائز ہے۔
(5) دائیں جانب کو بائیں جانب پر فضیلت حاصل ہے۔
(6) ہمارے پیارے نبی
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا تھا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کی نیت سے گھر میں فجر کی سنتیں ادا کرکے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 816