Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 312

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَاَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَيُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَى اللهِ تَعَالىٰ؟ قَالَ : اَلصَّلَاةُ عَلٰى وَقْتِهَا ، قُلْتُ : ثُمَّ اَيُّ؟ قَالَ : بِرُّ الوَالِدَيْنِ ، قُلْتُ : ثُمَّ اَيُّ؟ قَالَ:اَلْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.( )

عن ابي عبد الرحمن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال : سالت النبي صلى الله عليه وسلم: اي العمل احب الى الله تعالى؟ قال : الصلاة على وقتها ، قلت : ثم اي؟ قال : بر الوالدين ، قلت : ثم اي؟ قال:الجهاد في سبيل الله.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدنا ابو عبد الرحمٰن عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کونسا عمل زیادہ پسندیدہ ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’وقت پر نماز ادا کرنا۔ ‘‘ میں نے عرض کی : “ پھر کونساہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’پھر کونسا ہے ؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ‘‘

شرح حدیث

افضل اَعمال اور اُن کی اہمیت:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’یہ تینوں(یعنی وقت پر نماز ادا کرنا ، والدین کے ساتھ نیکی کرنا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا) ایمان کے بعد افضل اعمال میں سے ہیں اور جس نے نماز کو جو کہ دِین کا

ستون ہے ، اس کی فضیلت جانتے ہوئے ضائع کیاتو وہ ا س کے علاوہ دینی امور کوبہت زیادہ ضائع کرنے لگے گا ، اسی طرح جس نے والدین کی خدمت کرنا تر ک کر دیا تو وہ اس کے علاوہ یعنی اللہتعالیٰ کے حقوق کو بہت زیادہ ترک کرنے لگے گا ، یونہی جس نے قدرت کے باوجود اور جہاد کے لیے متعین ہونے کی صورت میں اسے ترک کیاتو وہ اِس کے علاوہ اُن اعمال کو بہت زیادہ چھوڑنے لگے گا جن کے ذریعے اللہتعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ جوان تین اعمال کی حفاظت کرے گاوہ ان کے علاوہ اعمال کی بھی حفاظت کرے گااور جو ان تینوں کو ضائع کرے گاوہ دوسرے اعمال کو زیادہ ضائع کرے گا۔ ‘‘( )
والدین کے حقوق کی اہمیت:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’والدین یا دونوں میں سے ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کے ساتھ بھلائی کرے اور حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے اس ارشاد میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے : )αوَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-( (پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۲۳) (ترجمۂ کنزالایمان : اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ )اسی لیے کہا گیا کہ جو شخص پانچ نمازیں ادا کرے اور ہر نماز کے بعد والدین کے لیے مغفرت کی دعا کرے تو اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور والدین کا حق ادا کردیا (بشرطیکہ وہ شخص اللہتعالیٰ اور والدین کے دیگر حقوق ادا کرتا ہو)۔ ( ) یاد رہے کہ بعض احادیث میں بارگاہِ الٰہی کے پسندیدہ اعمال کی ترتیب مذکورہ حدیث پاک کی ترتیب سے برعکس لکھی ہوئی ہےاور ترتیب کا یہ اختلاف حالات ، اوقات اور حاضرین کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہے اورمذکورہ حدیث پاک میں جس ترتیب سے بارگاہ ِ الٰہی میں پسندیدہ اعما ل کا ذکر ہوا ، اس میں حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حال کا لحاظ کیاگیاہے۔مدنی گلدستہ
’’ماں‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)والدین کے ساتھ نیکی کرنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی پسندیدہ عمل ہے۔
(2)وقت میں نماز ادا کرنا ،والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور راہِ خدا میں جہاد کرنا اہم ترین نیک اَعمال ہیں،جو انہیں بجا لائے گا تو وہ دوسرے نیک اعمال بدرجہ اولیٰ بجا لائے گااور جو انہیں ضائع کرے گا تو دوسرے نیک اعمال زیادہ ضائع کرے گا۔
(3)جو شخص نماز پنج گانہ ادا کرے اور ہر نماز کے بعد اپنے والدین کے لیے دعائے مغفرت کرے تو گویا اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور والدین کا حق ادا کردیا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ
ہمیں نماز پنجگانہ پابندی وقت کے ساتھ ادا کرنے، والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی اور شرعی اُصول وقوانین کی روشنی میں راہ خدا میں جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 312