- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حدیث نمبر 325
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِيْ بَكْرِ الصِّدِّيْقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَيَّ اُمِّي وَهِيَ مُشرِكَةٌ فِيْ عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : قَدِمَتْ عَلَيَّ اُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ اَفَاَصِلُ اُمِّي؟ قَالَ : نَعَمْ صِلِيْ اُمَّكِ.( )
وعن اسماء بنت ابي بكر الصديق رضي الله عنهما قالت : قدمت علي امي وهي مشركة في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستفتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت : قدمت علي امي وهي راغبة افاصل امي؟ قال : نعم صلي امك.( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدَتُنااسماء بنت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےروایت ہے ، فرماتی ہیں : رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں میرے پاس میری ماں آئی اور ا س وقت وہ مشرکہ تھی تو میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کرتے ہوئے عرض کی : ’’میری ماں میرے پاس آئی ہے اوراسے کچھ طمع ہے ، کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں ؟ ‘‘ارشادفرمایا : ’’ ہاں ، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو۔ “
شرح حدیث
کافروالدین سےبھی صلہ رحمی لازم ہے:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے
تحت فرماتے ہیں : ’’معلوم ہوا کہ کافرومشرک ماں باپ کی بھی خدمت اولاد پر لازم ہے۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ مشرک باپ کو بت خانہ لے نہ جائے مگر جب وہاں پہنچ چکا ہو تو وہاں سے گھر لے آئے کہ لے جانے میں بت پرستی پر مدد ہے اور لے آنے میں خدمت ہے ، دوسرے عزیز و قرابت داربھی اگر مشرک و کافر ہوں مگر محتاج ہوں تو ان کی مالی خدمت کرے۔ ‘‘( )علامہ سید محموداحمدرضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے واضح ہوا کہ کافر ماں باپ سے صلہ رحمی کرنا جائز ہے بلکہ بعض علماء نے اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ والدین اگر کافر ہوں اور محتاج ہوں تو ان کا نان نفقہ مسلمان بیٹے پر واجب ہے۔ ‘‘( )مشرک والدین سے ہدیہ قبول کرناجائز ہے:حضرت عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ اسی موقع پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت نازل فرمائی :لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْؕ-(پ۲۸ ، الممتحنۃ : ۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو۔
مشرک والدین اور عزیز و اقارب سے تحفے تحائف قبول کرنا اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا جائز ہے یعنی مجرد معاملت ، دنیا داری اور خون کے رشتہ کے میلِ طبعی کی بنا پر سلوک کرنا جائز ہے۔ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ریشمی حُلّہ بطور ہدیہ عطا فرمایا ، حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ حُلّہ اپنے رضاعی کافر بھائی کو بھجوادیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ اپنے کافر و مشرک بھائی بہن ، ماں باپ کو ہدیہ دینا جائز ہے۔ واضح ہوکہ مجرد معاملت ہر کافر سے جائز ہے یعنی اگر کسی قسم کا دینی و دنیوی نقصان کا اندیشہ نہ ہو اور نہ ہی اس میں اعانت کفر ہو اور نہ نقصانِ اسلام و شریعت ہو۔کافر والدین کی اطاعت کا حکم:کافر والدین سے بھی بہر حال نیک سلوک کرنا واجب ہے لیکن ان معصیت و شرک میں ان کی اطاعت
نہیں کی جائے گی ، قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌۙ-فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘-(پ۲۱ ، لقمٰن : ۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے۔
اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر والدین کفر و شرک کا حکم کریں تو ان کی اطاعت نہ کی جائے کیونکہ خالق کی نافرمانی کرنے میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے البتہ کافر مشرک والدین کے ساتھ حسنِ اخلاق ، حسن سلوک ، احسان و تحمل کے ساتھ پیش آنا لازم ہے۔ امام نخعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ جائز بات میں کافر و مشرک والدین کی اطاعت بھی واجب ہے۔ ماں باپ ، اولاد ، بھائی بہن سے طبعی اور قدرتی لگاؤ ہوتا ہے اگرچہ وہ کافر و مشرک ہی کیوں نہ ہوں۔ چونکہ یہ انسان کے اختیار کی بات نہیں اس لیے اس پر مؤاخذہ نہیں ہوگا اور اس میلِ طبعی کی بنا پر انہیں ہدیہ وغیرہ دینا اور نیک سلوک کرنا جائز ہے۔ غزوۂ بدر میں دوسرے قیدیوں کے ساتھ حضرت سَیِّدُنَا عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی قیدیوں میں شامل تھے۔ (جو اس وقت مسلمان نہ ہوئے تھے)حضرت سَیِّدُنَاعباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کراہ سن کر حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات کو آرام نہ فرماسکے ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے جب حضور کی یہ کیفیت دیکھی تو حضرت سَیِّدُنَا عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی گرہ کھول دی تب جاکر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سکون ہوا۔ حضرت سَیِّدُنَا عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ رویہ خون کے رشتے کا تقاضا تھا۔کفارسےدوستی ومحبت حرام ہے:واضح ہو موالات ، محبت و دوستی ہر کافر و مشرک سے حرام ہے اگرچہ ذمی مطیع اسلام ہو حتی کہ اپنا باپ ، بیٹا ، بیوی ، بہن یا بھائی ہی کیوں نہ ہو ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْترجمۂ کنزالایمان : تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نےاللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان
عَشِیْرَتَهُمْؕ-(پ۲۸ ، المجادلۃ : ۲۲)
کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کُنبے والے ہوں۔
مطلب یہ کہ مؤمنین کی یہ شان نہیں کہ وہ اللہ و رسول کی شان میں گستاخی کرنے والوں سے محبت رکھیں۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا کردار اور اُن کی سیرت اس آیت مبارکہ کی سچی تصویر تھی۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا ابو عُبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنگ اُحد میں اپنے باپ جراح کو قتل کیا ، مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بھائی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا ، حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو روزِ بدر قتل کیا اور حضرت علی بن ابو طالب و حمزہ و ابو عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے رَبیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں قتل کیاجو ان کے رشتہ دار تھے۔ ( )حدیث پاک سے ماخوذ چند فوائد:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سے چند فوائد حاصل ہوئے : (1) جس طرح مسلمان ماں سے صلہ رحمی کرنا جائز ہے اسی طرح کافرہ ماں کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرنا جائز ہے۔ (2) یہ حدیث پاک اُن علماء کی مستدل ہے کہ جو مسلمان بیٹے پر کافر ماں باپ کا نفقہ واجب کرتے ہیں۔ (3) رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے سفر کرنا جائز ہے۔ (4) اِس حدیث پاک میں سَیِّدتُنا اسماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی فضیلت ہے کہ انہوں نے کافر ماں سے صلہ رحمی کرنے کے بارے میں غورو فکر کیا اور یہی آپ کی شانِ عظیمی کے لائق تھا کہ آپ سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیٹی اور حضرتِ سَیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ ہیں۔‘‘( )مدنی گلدستہ
’’بغداد‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)دِین اسلام میں کافر والدین کے ساتھ بھی نیک سلوک کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
(2)کافر و مشرک ماں باپ سے ہدیہ قبول کرنا جائز ہے نیز کفار سے ایسا لین دین جائز ہے جس سے دینی اور
دنیاوی نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔
(3)کافر والدین اگر محتاج ہوں تو مسلمان بیٹے پر ان کی کفالت کرنا لازم ہے۔
(4)ماں باپ کے علاوہ اگر رشتہ داروں میں سے بھی کو ئی کافر اور محتاج ہو تواس کی بھی مالی خدمت کی جائے۔
(5)دینی مخالفت کے باوجود رشتہ داری کا لحاظ رکھنا لازم کیاگیا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ ہمیں اپنے والدین کی خدمت کرنے اور رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 325